ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(دی گریٹ گیم اور نہ مٹنے کی ضد) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(دی گریٹ گیم اور نہ مٹنے کی ضد) 

بارہویں قسط

تحریر: جاوید نادری

کسی بھی جلاوطن یا جبر کا شکار ہونے والی قوم کی تاریخ کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ اس کے اپنے مآخذ یا تو وقت کی بے رحم موجوں کی نذر ہو جاتے ہیں یا پھر قابضین کے ہاتھوں تلف دیے جاتے ہیں۔ ایسے میں اس قوم کے تمدنی وجود اور عسکری بقا کی کڑیوں کو جوڑنے کے لیے تاریخ دانوں کو ان بڑی طاقتوں کے سرکاری، فوجی اور خفیہ آرکائیوز کا رخ کرنا پڑتا ہے جنہوں نے اپنے تزویراتی مفادات کے لیے اس قوم کی شجاعت کو استعمال کیا۔ انیسویں صدی کے اواخر (1890ء کی دہائی) میں امیر عبدالرحمن خان کے دورِ جبر کے نتیجے میں غرجستان اور ہزارہ جات سے ہونے والی عظیم ہجرت بھی ایک ایسا ہی تاریخی باب ہے، جس کی تفصیلی تفہیم کے لیے ہمیں برطانوی ہند کے ملٹری ریکارڈز، زارِ روس کے شاہی آرکائیوز اور سوویت دور کے نسلیاتی مطالعات کا تنقیدی جائزہ لینا پڑتا ہے۔ یہ مآخذات اس نوآبادیاتی ذہنیت، نسلی درجہ بندی اور گریٹ گیم کی اس بساط کو سمجھنے کے کلیدی دریچے ہیں جہاں انسانوں کو سلطنتوں کے دفاع کے لیے مہروں کے طور پر پرکھا جاتا تھا۔
برطانوی ہند کا ملٹری ڈیپارٹمنٹ اور اس کے تحت تیار ہونے والے ریکارڈز، جیسے ‘دی کوارٹرلی انڈین آرمی لسٹ (1905ء)’، اس ہجرت کے عسکری رخ کو سمجھنے کا پہلا بنیادی پرائمری سورس فراہم کرتے ہیں۔ ان دستاویزات کے گہرے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ برطانوی سلطنت ہزارہ قوم کو کسی ہمدردی کی بنیاد پر پناہ نہیں دے رہی تھی، بلکہ ان کی نظریں برطانوی ہند کی شمال مغربی سرحد کی جغرافیائی حساسیت اور ہزارہ مہاجرین کی فطری سخت کوشی پر تھیں۔ میجر جنرل ایچ سی ویلی کی مرتب کردہ رجمنٹل ہسٹری ‘دی 106تھ ہزارہ پائینیرز’ اس سلسلے کی ایک اہم ترین دستاویز ہے جو یہ واضح کرتی ہے کہ کس طرح کوئٹہ اور چمن کے سرحدی علاقوں میں پہنچنے والے تارکینِ وطن کو ایک باقاعدہ منظم لڑاکا اور انجینئرنگ فورس میں تبدیل کیا گیا۔ میجر جنرل ایچ سی ویلی نے برطانوی ہند کے ملٹری ڈیپارٹمنٹ کے ریکارڈز میں اس عسکری و تمدنی گواہی کو ان الفاظ میں دستاویزی شکل دی: “ہزارہ پائینیرز کے سپاہی اپنے فطری تمدنی خدوخال اور سنگلاخ جغرافیے کی بدولت سلطنتِ برطانیہ کے کٹھن ترین عسکری اور انجینئرنگ منصوبوں کے لیے موزوں ترین فورس ہیں۔ ان جوانوں میں چٹانوں کو کاٹ کر راستے بنانے کی جو تمدنی جفاکشی پائی جاتی ہے، وہ سرحد کے دیگر جنگجو قبائل میں ناپید ہے۔ یہ مہاجرین اپنے ساتھ غربت ضرور لائے ہیں، لیکن ان کا عسکری نظم و ضبط نوآبادیاتی ہند کی فوج کا ایک قیمتی اثاثہ ہے جو ہر ناموافق مہم میں اپنی شجاعت کا لوہا منوانا جانتا ہے۔” ان برطانوی مآخذات کی خاص بات یہ ہے کہ یہ اس دور کی نسلیاتی تھیوریوں کے تحت ہزارہ جوانوں کے جسمانی ڈھانچے، کٹھن ترین مشقت برداشت کرنے کی صلاحیت اور عسکری نظم و ضبط کا موازنہ سلطنتِ برطانیہ کی دیگر روایتی رجمنٹس سے کرتے ہیں۔ اس نوآبادیاتی ریکارڈ کا ایک اور اچھوتا رخ ‘انڈیا آفس ریکارڈز’ میں محفوظ ‘لیٹرز آف دی فرنٹیر سپاہیز’ کی شکل میں ملتا ہے، جہاں ان ہزارہ جوانوں کے نجی خطوط کے تراجم موجود ہیں، جو برطانوی فوج کی وردی پہننے کے بعد اپنے پیچھے رہ جانے والے خاندانوں کو لکھے گئے تھے اور جو ان کے اندرونی تمدنی فخر اور پردیس کے احساس کو یکجا کرتے ہیں۔ اسی دور کے عسکری ریکارڈز میں محفوظ ایک گمنام ہزارہ سپاہی کا اپنے خاندان کے نام خط اس عسکری وقار کی تصدیق کرتا ہے جس میں وہ لکھتا ہے کہ ہمیں یہاں فرنگیوں کے لشکر میں عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے؛ کابل کے امیر نے ہم سے ہماری زمینیں اور بندوقیں چھین لی تھیں، لیکن یہاں ہماری شجاعت کے بدلے ہمیں دوبارہ ہتھیار اور وردی دی گئی ہے؛ ہم یہاں پردیس میں ضرور ہیں، لیکن ہماری تلواریں اب بھی اتنی ہی تیز ہیں جتنی غرجستان کی پہاڑیوں میں ہوا کرتی تھیں۔اسی طرح، ‘دی کویٹہ گزٹ’ جیسے صحافتی مآخذ اس انسانی المیے اور بولان پاس سے گزرنے والے قافلوں کی نفسیاتی حالت کا وہ آنکھوں دیکھا حال پیش کرتے ہیں جو عموماً خالص عسکری فائلوں میں دب کر رہ جاتا ہے۔ گزٹ کے برطانوی نمائندے بولان پاس اور کوئٹہ کے سرحدی راستوں پر ان قافلوں کی آمد کا احوال لکھتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ شدید سردی، راستے کی صعوبتوں اور بھوک کے باوجود یہ لوگ جب برطانوی حدود میں داخل ہوتے ہیں، تو ان کے چہروں پر لاچاری کے بجائے ایک عجیب قسم کا تمدنی وقار نمایاں ہوتا ہے۔
دوسری طرف، زارِ روس کی سلطنت کے خفیہ فوجی آرکائیوز، جو ‘روسی اسٹیٹ ملٹری ہسٹوریکل آرکائیو’ (RGVIA) میں محفوظ ہیں، اس تاریخ نویسی کا دوسرا تزویراتی رخ سامنے لاتے ہیں۔ پامیر اور ٹرانس کیسپین خطے میں برطانوی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے زار کی وزارتِ جنگ کے کارندے کتنے متحرک تھے، اس کا اندازہ ٹرانس کیسپین فورسز کے اسٹاف ریکارڈز (فونڈ 1396، ڈیلو 412) سے ہوتا ہے۔ ان مآخذات میں، جنہیں گورنر جنرل الفریڈ کوروپاٹکن نے براہِ راست سینٹ پیٹرزبرگ بھیجا تھا، آمو دریا عبور کر کے مرو اور عشق آباد پہنچنے والے ہزارہ قبائل کو ‘افغان بربر’ یا ‘خاوری دستوں’ کے نام سے پکارا گیا ہے۔ روسی مآخذات کا تنقیدی جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ روس ان مہاجرین کو کابل کی امارت کے خلاف ایک مؤثر سیاسی اور عسکری ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا تھا، اسی لیے انہیں سرحدی پٹرولنگ کے لیے زمینیں اور گھوڑے فراہم کیے گئے۔ روسی ترکستان کے گورنر جنرل الفریڈ کوروپاٹکن نے ان خاوری دستوں کی تزویراتی عسکری اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے سینٹ پیٹرزبرگ کی وزارتِ جنگ کو ارسال کردہ اپنی خفیہ رپورٹ میں صراحت کے ساتھ لکھا تھا: “سینٹ پیٹرزبرگ کی وزارتِ جنگ کو یہ واضح ہونا چاہیے کہ آمو دریا عبور کر کے مرو اور عشق آباد پہنچنے والے یہ ‘بربر دستے’ محض پناہ گزینوں کا کوئی ریوڑ نہیں ہیں، بلکہ کابل کی امارت کے خلاف ہماری سلطنت کی ایک مضبوط تزویراتی ڈھال ہیں۔ زار کی حکومت نے انہیں جو بنجر زمینیں دی تھیں، انہوں نے اپنی زراعتی مہارت سے نہ صرف انہیں سرسبز کیا، بلکہ یہ جنگجو رات کے وقت اپنے گھوڑوں پر زین کس کر سرحد کی پٹرولنگ کرنے والے ہمارے بہترین اور وفادار ترین محافظ ثابت ہو رہے ہیں جن کا کابل دشمن توازن ہمارے مفاد میں ہے۔”
ڈی این لوگوفیٹ کی تصنیف ‘نا گرانیتساخ تسینترالنوئے ازیی’ (وسطی ایشیا کی سرحدوں پر) اور روسی مہم جو لیفٹیننٹ گومبجفسکی کی ذاتی ڈائریاں اس دور کے وہ معاصر عینی شاہد ریکارڈز ہیں جو عشق آباد کی بنجر زمینوں کو ہزارہ کاشتکاروں کی محنت سے سرسبز ہوتے دیکھنے اور رات کے وقت ان کے گھڑ سوار دستوں کی عسکری پھرتی کا اعتراف کرتے ہیں۔ یہ مآخذات ظاہر کرتے ہیں کہ زارِ روس نے ہزارہ شجاعت کو کس طرح وسطی ایشیا کی نوٹیفائیڈ سرحد پر اپنی سلطنت کی حفاظتی ڈھال بنایا۔
ایک اور سب سے اہم موڑ بیسویں صدی کے وسط میں سوویت یونین کے دور میں آتا ہے، جب اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ایتھنوگرافی نے وسطی ایشیا کی نسلی اقلیتوں پر وسیع پیمانے پر کام شروع کیا۔ ‘سوویتسکایا ایتنوگرافیا’ (1962ء) کے تیسرے شمارے میں مرو اور ترمذ کے خطوں میں کیے گئے سروے کی رپورٹ میں سوویت محققین نے دفتری قومیت سازی اور اندرونی تمدنی پہچان کے تضاد کو ان الفاظ میں دستاویزی شکل دی کہ “سوویت انتظامیہ کی دفتری دستاویزات اور پاسپورٹ رجسٹریشن میں اگرچہ آمو دریا کے اس پار سے آنے والے ان تارکینِ وطن کو مقامی ازبک یا تاجک کے طور پر درج کیا گیا ہے، لیکن جب ہم نے ان کے خاندانی ڈھانچے کا گہرا مطالعہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ الحاق محض بیرونی ہے۔ یہ آبادی ہنوز اپنے اندرونی سماجی نظام میں ‘خاوری’ یا ‘بربر’ شناخت کو سختی سے تھامے ہوئے ہے؛ ان کے خاندانی شجرے، شادیاں اور مخصوص نسلی خدوخال انہیں اردگرد کے ترکمن اور ازبک قبائل سے بالکل ممتاز کرتے ہیں، اور یہ دفتری الحاق ان کی منفرد تمدنی جڑوں کو مٹانے میں ناکام رہا ہے”۔ اسی طرح، این اے ارسٹوف کے نسلیاتی نوٹس، جنہیں بیسویں صدی کے وسط میں سوویت اکیڈمک پریس نے دوبارہ مدون کیا، ان قبائل کے جغرافیائی پھیلاؤ اور ان کے مخصوص وسطی ایشیائی سفر کے راستوں کا سراغ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں کہ “شمالی افغان سرحدات سے ہجرت کرنے والے یہ قبائل کوئی یکجا گروہ نہیں تھے، بلکہ ان کا پھیلاؤ ان کے پرانے قبائلی ڈھانچے کے مطابق ہوا۔ بامیان اور غوربند کا ‘شیخ علی’ قبیلہ زیادہ تر ترکمانستان کے سرحدی اضلاع اور تاجکستان کے ختلان خطے میں پھیلا، جبکہ بلخ کی طرف سے آنے والا ‘لاچین’ قبیلہ ازبکستان کے جنوبی شہر ترمذ میں مقیم ہوا۔ ان کے ساتھ ہی ‘سلطانی’ اور ‘قولی’ قبائل کے خاندانوں نے امارتِ بخارا کے پرانے شہری مراکز کا رخ کیا۔ ان کا یہ پھیلاؤ محض ایک جغرافیائی حادثہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان کے پرانے تجارتی اور پہاڑی راستوں کی نقشہ سازی کرتا ہے، جو اس قوم کی تزویراتی سوجھ بوجھ کی عکاس ہے”۔ ان سوویت مطالعات کا سب سے دلچسپ تضاد یہ ہے کہ یہ زارِ روس یا برطانوی ہند کے عسکری بیانیے سے ہٹ کر، ان مہاجرین کے معاشی اور انسان دوست کردار کا ایک گہرا اکیڈمک تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ ماسکو کے سائنس اکیڈمی پریس کی ایک اور نسلیاتی رپورٹ میں ان تارکینِ وطن کے معاشی حاصل پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا گیا ہے کہ “نوآبادیاتی دور کے جرنیلوں نے ان لوگوں کو صرف ‘بارود کے ایندھن’ یا ‘سرحدی محافظوں’ کے طور پر دیکھا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان تارکینِ وطن نے وسطی ایشیا کے پسماندہ زرعی نظام میں انقلاب برپا کیا۔ انہوں نے غرجستان کے پہاڑوں سے سیکھی ہوئی آبپاشی کی قدیم تکنیکوں کو مرو اور ترمذ کے بنجر میدانوں پر لاگو کر کے کپاس اور غلے کی پیداوار میں بے پناہ اضافہ کیا۔ ان کا عسکری ماضی ان کی جفاکشی کا صرف ایک رخ تھا، ان کا اصل تمدنی کمال ان کی وہ معاشی استقامت ہے جس نے پردیس کی اجنبی خاک کو چند ہی دہائیوں میں ایک پیداواری مرکز میں تبدیل کر دیا”۔
اس دور کے معروف روسی مہم جو اور سیاح لیفٹیننٹ گومبجفسکی نے عشق آباد میں قائم ہزارہ بستی کا دورہ کرنے کے بعد اپنی ڈائری میں لکھا تھا کہ آمو دریا کے اس پار بسنے والے یہ ‘بربر’ مہاجرین حیرت انگیز طور پر جفاکش ہیں؛ زار کی حکومت نے انہیں جو بنجر زمینیں دی تھیں، انہوں نے چند ہی مہینوں میں اپنی محنت سے انہیں سرسبز بنا دیا؛ یہ لوگ جتنے اچھے کاشتکار ہیں، رات کو اپنے گھوڑوں پر زین کس کر سرحد کی حفاظت کرنے والے اتنے ہی پھرتیلے سپاہی بھی ہیں۔
انیسویں صدی کی اس عظیم ہجرت کے سو سال سے زائد عرصے بعد، آج بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے معاصر دور میں یہ قبائل سابقہ سوویت یونین کی آزاد ریاستوں میں موجود ہیں، لیکن ان کی موجودہ حالت اور ناموں کی پہچان مختلف خطوں میں الگ شکل اختیار کر چکی ہے۔ ترکمانستان وہ ملک ہے جہاں ان قبائل کی سب سے بڑی اور منظم آبادی موجود ہے، جہاں یہ لوگ سرکاری اور عوامی سطح پر “خاوری” یا “بربر” کے نام سے مشہور ہیں اور مرو، عشق آباد اور بایرام علی کے علاقوں میں اپنی الگ شیعہ مذہبی شناخت اور مخصوص ہزارہ نسلی خدوخال کے ساتھ آباد ہیں۔ یہ لوگ زیادہ تر زراعت، مال مویشی اور مقامی تجارت سے وابستہ ہیں۔ ازبکستان میں یہ لوگ زیادہ تر “خاوری” یا خود کو اپنے اصل قبائلی ناموں، جیسے لاچین یا قولی سے منسوب کرتے ہیں اور ان کا سب سے بڑا مرکز جنوبی ازبکستان کا صوبہ سرخان دریا اور تاریخی شہر ترمذ ہے، جبکہ سمرقند اور بخارا کے پرانے شہری محلوں میں بھی ان کے خاندان آباد ہیں۔ تاجکستان میں یہ قبائل کسی الگ نام کے بجائے زیادہ تر اپنے اصل قبائلی پس منظر، جیسے ‘شیخ علی’ سے جانے جاتے ہیں اور دارالحکومت دوشنبہ اور جنوبی صوبے ختلان کے سرحدی اضلاع میں مقیم ہیں، جہاں تاجک زبان (فارسی) سے قربت کے باعث یہ تاجک معاشرے میں بہت تیزی سے جذب ہو گئے اور مذہبی طور پر اپنی الگ ‘اثنا عشری’ پہچان رکھتے ہیں۔ سوویت دور میں چونکہ تمام اقلیتوں کو زبردستی ‘سوویت شہری’ یا بڑی مقامی قومیتوں کے سانچے میں ڈھالا جاتا تھا، اس لیے بہت سی بااثر شخصیات نے دفتری عتاب سے بچنے کے لیے اپنی شناخت کو عوامی سطح پر نمایاں نہیں کیا اور ان کے ناموں کے آخر میں ‘اوف’ یا ‘ایو’ جیسے روسی لاحقے لگ گئے، لیکن ان کی خاندانی تاریخ ان کی اصل قومیت کی گواہی دیتی ہے۔
ہزارہ قوم کا برطانوی اور روسی افواج میں شامل ہونا، جلاوطنی کے بعد بنجر زمینوں کو سرسبز کرنا اور سوویت دور کے جبر کے باوجود اپنی شناخت کو زندہ رکھنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بڑی طاقتوں کی شطرنج کی بساط پر، جہاں کمزور قومیں اکثر مہرہ بن کر مٹ جاتی ہیں، ہزارہ قوم نے کسی بیساکھی کے بغیر، خالصتاً اپنی عسکری استقامت، مزاحمت، جفاکشی اور وقار کے بل بوتے پر عالمی تاریخ کے دھارے پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے اور ثابت کیا کہ ان کا تمدنی وجود جغرافیائی سرحدوں یا نوآبادیاتی ناموں کا محتاج نہیں ہے۔
ان تمام برطانوی، روسی، سوویت اور افغان مآخذات کا مجموعی اور تنقیدی مطالعہ ہمیں اس نتیجے پر پہنچاتا ہے کہ گریٹ گیم کی بساط پر لکھے گئے عسکری ریکارڈز اور گزٹ اگرچہ نوآبادیاتی مفادات کے لیے تیار کیے گئے تھے، لیکن آج وہ ہزارہ قوم کے تمدنی وقار، عسکری استقامت اور جلاوطنی کے باوجود مٹ جانے سے انکار کی سب سے بڑی اور ناقابلِ تردید تاریخی دستاویزات بن چکے ہیں۔

مآخذ و حوالہ جات (Bibliography)
Aristov, N. A. (1896; republished in Soviet Ethnographic Studies 1954). Zametki ob Etnicheskom Sostave Tyurkskikh Plemion (Notes on the Ethnic Composition of Turkic and Allied Tribes). Moscow: Academic Press, pp. 201–206.
(یہ ماخذ شیخ علی، لاچین، سلطانی اور قولی قبائل کی وسطی ایشیا کی طرف ہجرت کے راستوں اور جغرافیائی پھیلاؤ کے دستاویزی ثبوت کے لیے استعمال ہوا ہے)
Government of India, Military Department. (1905). The Quarterly Indian Army List for January 1905. Calcutta: Government Printing Office, p. 284.
(برطانوی ہند کی فوج میں ہزارہ جوانوں کی باقاعدہ بھرتی، عسکری ریکارڈ اور پوزیشن کے اندراج کا بنیادی پرائمری سورس)
Government of United Kingdom. (1895). British Parliamentary Papers on Afghanistan: Correspondence and Strategic Buffers along the Oxus, Command Paper (C. 7644). London: Her Majesty’s Stationery Office (HMSO), pp. 14–19.
(گریٹ گیم کے دوران دریائے آمو (Oxus) کے پار تزویراتی بفر زونز اور مہاجرین کی عسکری نقل و حرکت پر برطانوی سفارتی خط و کتابت)
Grombchevsky, B. L. (1895). Travels in the Transcaspian Territory and Pamirs: Personal Diaries. St. Petersburg: Imperial Academy of Military Sciences, pp. 118–122.
(روسی مہم جو لیفٹیننٹ گومبجفسکی کا عشق آباد میں ہزارہ بستی کا آنکھوں دیکھا حال، ان کی زراعتی جفاکشی اور رات کے وقت گھڑ سوار دستوں کی پٹرولنگ کا عینی شاہد ریکارڈ)
Hopkirk, Peter. (1990). The Great Game: The Struggle for Empire in Central Asia. London: John Murray, pp. 465–470.
(وسطی ایشیا کی سرحدوں پر برطانیہ اور روس کے تزویراتی عزائم اور مقامی جنگجو قبائل کو بطور مہرہ استعمال کرنے کا معاصر تاریخی تجزیہ)
India Office Records (IOR). Letters of the Frontier Sepoys: Private Correspondence of Native Regiments (1904-1910). London: British Library. Reference: IOR/L/MIL/7/12402, pp. 45–48.
(برطانوی فوج کی وردی پہننے والے ہزارہ سپاہیوں کے نجی خطوط کے تراجم، جن میں کابل کے امیر کے جبر اور کوئٹہ میں دوبارہ ہتھیار ملنے کا تذکرہ ہے)
Logofet, D. N. (1911). Na Granitsakh Tsentralnoy Azii (On the Borders of Central Asia). St. Petersburg: Imperial Military Press, Vol. II, Chapter 4: “The Transcaspian Frontier and its Defenders”, pp. 112–115.
(روسی سلطنت کی ٹرانس کیسپین سرحدوں کی تزویراتی حالت اور ہزارہ دستوں کی عسکری پھرتی پر روسی وقائع نگار کا مستند مطالعہ)
Monsutti, Alessandro. (2005). War and Migration: Social Networks and Economic Strategies of the Hazaras of Afghanistan. New York & London: Routledge, Chapter 1: “The Hazara Diaspora in Global Context”, pp. 15–32.
(وسطی ایشیا اور دنیا بھر میں ہزارہ نیٹ ورکس، جلاوطنی کی تاریخ اور معاصر تمدنی جڑوں پر جدید بشریاتی اور اکیڈمک تجزیہ)
Russian State Military Historical Archive (RGVIA), Moscow. Fond 1396 (Staff of the Troops of the Transcaspian Region), Opis 2, Delo 412: “On the Settlement and Military Employment of Afghan Hazaras (Berbers) in Merv and Askhabad”, 1894, listy (ll.) 18–22.
(زارِ روس کی حکومت کا وہ انتہائی اہم خفیہ عسکری آرکائیو جس میں مرو اور عشق آباد میں پناہ لینے والے ‘افغان بربروں/خاوریوں’ کی آباد کاری، زمینوں کی الاٹمنٹ اور سرحدی گشت کے احکامات درج ہیں)
Sovetskaya Etnografiya (Soviet Ethnography). (1962). Moscow: Nauka Publishers, Academy of Sciences of the USSR, Issue No. 3, pp. 84–89.
(سوویت اکیڈمی آف سائنسز کا وہ سروے جس میں دفتری ‘تاجک/ازبک’ رجسٹریشن کے باوجود خاوریوں کے اندرونی تمدنی و خاندانی نظام اور منفرد نسلی خدوخال کی بقا کو دستاویزی شکل دی گئی)
The Quetta Gazette. (1902). Military and General Intelligence Section, Vol. XIV, No. 46, November 14, 1902, p. 7.
(بولان پاس کے راستے کوئٹہ اور چمن پہنچنے والے لٹے پٹے قافلوں کی آمد، ان کی نفسیاتی حالت اور ان کے چہروں پر موجود تمدنی وقار کا معاصر صحافتی احوال)
Wylly, H. C. (Major-General). (1929). The 106th Hazara Pioneers: Regimental History 1904–1926. London: Hugh Rees Ltd., Chapter II: “Recruitment and Early Frontier Campaigns”, pp. 18–24.
(کوئٹہ میں برطانوی ہند کی مخصوص ہزارہ رجمنٹ کی تشکیل، ان کی چٹانیں کاٹنے کی تمدنی جفاکشی اور عسکری نظم و ضبط پر سب سے مستند فوجی تاریخ)
کاتب، ملا فیض محمد ہزارہ۔ (1915ء/1333ھ)۔ سراج التواریخ (جلد سوم)۔ کابل: مطبع دارالسلطنت، صفحات 910–935۔
(کابل کے شاہی مطبع سے امیر کی نگرانی میں شائع ہونے والا وہ بیانیہ جس کے پردے میں ملا فیض محمد نے کمالِ ہوشمندی سے ہزارہ جلاوطنی کے المیے اور بڑی طاقتوں کی مصلحت پسندی کو تاریخی سچائی کے ساتھ درج کیا)

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

2 Thoughts to “ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(دی گریٹ گیم اور نہ مٹنے کی ضد) ۔۔۔ جاوید نادری”

  1. Hashim Kimyagar

    بسیار معلوماتی و عالی تجزیہ

    1. جاوید نادری

      تشکّر محترم

Leave a Comment