
بے صدا سسکیاں
تحریر: نسیم جاوید
مریم بی بی کے بڑے دالان میں اب صرف دو ہی چیزیں مستقل رہ گئی تھیں۔ دیوار پر لگی پرانی گھڑی کی ٹک ٹک اور باہر صحن میں کھڑے شہتوت کے درخت اور اس کی شاخوں پر بیٹھے چڑیوں کی چہچہاہٹ ! کبھی یہ گھر چار بیٹوں کے قہقہوں سے گونجتا تھا، مگر اب تین بیٹے سات سمندر پار، ترقی یافتہ ملکوں کی چکا چوند میں ایسے کھوئے کہ پیچھے صرف ڈالروں کے چند بے جان نوٹ اور ہفتے میں ایک آدھ بار آنے والی رسمی ویڈیو کالز ہی رہ گئیں تھیں۔ چوتھا بیٹا، جو سب سے چھوٹا تھا، چند سال پہلے ہزارہ برادری پر ہونے والے ایک خودکش دھماکے کی نذر ہو گیا تھا، جس کا غم مریم بی بی کی کمر کو جھکا گیا اور اس کا چہرہ مزید پژمردہ سا ہوگیا۔ اب وہ اس بڑے مکان میں بالکل اکیلی، اپنی یادوں اور تنہائی کے کفن میں لپٹی زندگی کے دن پورے کر رہی تھیں۔ اس کی بہترین مصروفیت مسجد میں با جماعت نمازیں پڑھنا، گھر میں ہمیشہ مصلا بچھائے عبادت کرنا اور کبھی کبھار ہمسائے کے گھروں میں صلواۃ کی محفلوں میں شرکت کرنا۔
محرم الحرام کا مقدس مہینہ شروع ہوتے ہی کوئٹہ کے مضافات میں فضا سوگوار ہو گئی۔ ہر طرف یا حسینؑ کی صدائیں اور علم لہرانے لگے۔ مریم بی بی نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی کچھ الگ کرنے کا سوچا۔ انہوں نے اپنے بڑے فرزند سے مشورہ کر کے گھر کے باہر دیگیں چڑھا کر محلے کے کھاتے پیتے لوگوں کو دکھاوے کی نیاز کھلانے سے بہتر سمجھا کہ کسی دینی مدرسے میں غریبوں کے لیے کچھ انتظام کر دیا جائے۔ انہوں نے عاشورا سے دو دن قبل اپنی جمع پونجی سے دو موٹے تازے دنبے خریدے اور محلے کے مدرسے کے منتظمین کے حوالے کر دیے۔ شرط صرف یہ تھی کہ عاشورا کے دن جب یہ گوشت پکے، تو یہ خالصتاً مستحقین، مسکینوں اور یتیم بچوں میں بانٹا جائے۔ بوڑھی ماں کا دل اپنے بیٹوں کی سلامتی اور مرحوم بیٹے کی روح کے ایصالِ ثواب کے لیے دعاؤں سے لبریز تھا۔ مدرسے کا حال یہ تھا کہ مریم بی بی کی طرح شہر کے دیگر امیر اور اثر و رسوخ والے لوگوں نے بھی ثواب اور نذر اللہ نیاز حسین کی خاطر دسیوں دنبے اور کئی گائے مدرسے کو عطیہ کر رکھی تھیں۔ مدرسے کا وسیع احاطہ ذبح کیے گئے جانوروں کی کھالوں، گوشت کے انبار اور چربی کی بو سے بھرا ہوا تھا۔ دیگوں کی ایک طویل قطار تھی جو ابل رہی تھی اور ہر طرف گوشت اور چاول کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔
نویں محرم کی شام، ہزارہ ٹاؤن سے مریم بی بی کی دو بیوائیں بہنیں ان سے ملنے چلی آئیں، جن میں سے ایک بہن پاؤں سے معذور تھی اور بیساکھی کے سہارے چلتی تھی۔ وہ دونوں خود انتہائی کسمپرسی اور تنگدستی کی زندگی گزار رہی تھیں۔ ان دونوں کی مالی مدد بھی مریم بی بی کے بیٹے کرتے تھے۔ محرم کو بہنیں اکٹھی ہوئیں تو گھر میں کچھ رونق سی لگی۔ دسویں محرم یعنی عاشورا کا سورج طلوع ہوا تو گرمی اپنے عروج پر تھی۔ حبس اور پیاس سے زبانیں تالوؤں سےچپک رہی تھیں۔ مریم بی بی نے اپنی معذور بہن کی حالت دیکھی تو سوچا کہ وہ خود مدرسے جائیں گی اور وہاں سے اپنے ہی دیے ہوئے دنبوں کی نیاز کا تھوڑا سا کھانا لے آئیں گی، تاکہ گھر آئی مہمان بہنوں کو تبرک بھی مل جائے اور ان کا پیٹ بھی بھر جائے۔ وہ سٹیل کا ایک چھوٹا سا برتن ہاتھ میں لیے، چادر اوڑھ کر مدرسے کی طرف نکل پڑیں۔ ایک دن پہلے بتایا گیا تھا کہ بارہ بجے نیاز تقسیم کیا جائے گا وہ بارہ بجے مدرسہ پہنچ گئی جہاں اندر برآمدے میں اور صحن کے کونوں میں مردوں کا جم غفیر بیٹھے ہوئے تھا تاکہ دیگ کھلے اور وہ کھانا کھا سکے۔ مگر عورتوں اور بچوں کو مدرسے کے بڑے لوہے کے گیٹ سے اندر آنے کی اجازت نہیں تھی کیونکہ ان کے ہاتھوں میں پلاسٹک کے کٹورے اور سلور کے پتیلے تھے۔ یہ منظر دیکھ کرمریم بی بی کا دل دہل گیا۔ وہاں غریب، نادار، پرانے کپڑوں کپڑوں میں ملبوس عورتیں، گود میں بلکتے ہوئے بچے اور بوڑھے نیاز لینے کے لئے جمع اور گھنٹوں سے کھڑے تھے۔ گرمی کی شدت سے ان کے چہرے جھلس رہے تھے، لیکن پیٹ کی آگ اور تبرک کا احترام انہیں وہاں روکے ہوئے تھا۔ اندر گائے اور دنبوں کے گوشت کی درجنوں دیگیں تیار تھیں، مگر باہر کھڑے انسانوں کو کوئی نہیں پوچھ رہا تھا پہلے بتایا گیا کہ نماز کے بعد نیاز تقسیم ہوگی۔ دو بج گئے پھر کہا گیا کہ دعا کے بعد دیگیں کھلیں گی۔ اسی طرح تقریبا تین بجنے لگے تو نیاز کی دیگیں کھلیں، وہاں ایک عجیب نفسا نفسی کا عالم پیدا ہو گیا۔ بھوکے انسانوں کا ہجوم آگے بڑھنے لگا۔ اسی دوران مدرسے کی انتظامیہ کا ایک بھاری بھرکم، غصیلا آدمی، جس کے ہاتھ میں ایک موٹی لکڑی تھی، آگے بڑھا۔ وہ ان غریبوں کو انسان نہیں، بلکہ بھیڑ بکریاں سمجھ رہا تھا۔
“پیچھے ہٹو! پیچھے ہٹو تم لوگ! کوئی تمیز نہیں ہے تم بھوکوں کو؟” اس کی آواز دالان میں گونجی۔ وہ بار بار عورتوں کو دھکے دے کر پیچھے دھکیل رہا تھا۔
مریم بی بی، جو اب تک ایک کونے میں خاموش کھڑی اس منظر کو دیکھ کر خون کے آنسو رو رہی تھیں، وہ تھوڑا آگے بڑھیں تاکہ اس آدمی کو بتا سکیں کہ یہ کھانا انہی کے دیے ہوئے دنبوں کا ہے اور گھر پر ایک معذور بہن ان کا انتظار کر رہی ہے۔ انہوں نے دھیمی آواز میں کہا، “بیٹا! میری بہنیں گھر پر…”
مگر اس سنگدل انسان کو نہ تو اس بوڑھی ماں کے سفید بال نظر آئے، نہ اس کی کمزوری۔ اس نے بغیر دیکھے ایک زوردار دھکا دیا۔ “بڑھیا! پیچھے ہٹ، کہا نا ہجوم مت بناؤ!”
مریم بی بی کا بوڑھا اور کمزور جسم اس وحشیانہ دھکے کی تاب نہ لا سکا۔ وہ اوندھے منہ تپتی ہوئی سڑک کے کنارے تھڑے پر جا گریں۔ ایک ہلکی سی کڑاک کی آواز آئی— شاید ان کی کمر کی ہڈی ٹوٹ چکی تھی۔ ان کے ہاتھ سے سٹیل کا برتن چھوٹ گیا اور دور جا گرا، وہ تڑپ کر رہ گئیں۔ ارد گرد کھڑے کچھ رحم دل آدمیوں اور غریبوں نے جب یہ دیکھا، تو وہ انتظامیہ پر چلائے۔ چند نوجوانوں نے آگے بڑھ کر مریم بی بی کو اٹھایا۔ وہ درد کی شدت سے نیم بے ہوش ہو رہی تھیں اور ان کے منہ سے صرف “یا اللہ… یا حسینؑ” کی سسکیاں نکل رہی تھیں۔
کسی نے ایک موٹر سائیکل والے کو روکا اور انہیں موٹر سائیکل والے کے پیچھے سوار کر کے چادر سے اچھی طرح باندھ دیا اور انہیں شہر کے بڑے سرکاری ہسپتال پہنچادیا گیا۔ مگر افسوس! عاشورا کا دن تھا، پورے شہر میں امن و امان کے سخت انتظامات اور عام تعطیل تھی۔ ہسپتال کے زیادہ تر شعبے بند تھے اور ایمرجنسی میں صرف ایک دو جونیئر عملے کے لوگ موجود تھے۔ ایکسرے روم بند تھا اور عملہ بے بس تھے۔
مریم بی بی کو ہسپتال کے ٹھنڈے، بدبودار فرش پر ڈال دیا گیا۔ ان کے تینوں بیٹے اس وقت شاید دنیا کے کسی مہنگے ترین ریستوران میں بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہوں گے اور یہاں ان کی ماں، جس نے ہزاروں روپے کی نیاز غریبوں کے لیے دی تھی، خود ایک نوالے اور ایک مرہم کے لیے بے یار و مددگار پڑی تھی۔ گھر پر بیٹھی معذور بہن بیساکھی تھامے، مریم بی بی اور اس تبرک کے کھانے کی راہ تک رہی تھی، جس کی قیمت مریم بی بی نے اپنی ریڑھ کی ہڈی تڑوا کر چکائی تھی۔
ہسپتال کے فرش کی اس ٹھنڈک میں، درد سے کراہتی ہوئی اس بوڑھی ماں کی آنکھوں سے بہنے والے آنسو پوچھنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ بے کس، بے سہارا اور اپنے ہی وطن میں اجنبی بنی، معاشرے کی اس سب سے بڑی منافقت پر خاموش ماتم کر رہی تھی، جہاں مذہب کے نام پر گائے اور دنبے تو ذبح کیے جاتے ہیں، مگر انسانیت کا جنازہ اٹھا دیا جاتا ہے۔
- شرط کا مرغا (افسانہ)۔۔۔ نسیم جاوید - Aug 12, 2026
- بابائے فن و فلسفہ ۔۔۔ نسیم جاوید - Aug 5, 2026
- بے صدا سسکیاں۔۔۔ نسیم جاوید - Jul 17, 2026