ہزارہ گی زبان کی طاقت ۔۔۔ اسحاق محمدی

ہزارہ گی زبان کی طاقت

تحریر: اسحاق محمدی

آسٹریلیا کی حالیہ مردم شماری اگست 2026ء میں آسٹریلین ہزارہ کے “ہزارہ اور ہزارہ گی” کے اندراج کے حوالے سے سوشل میڈیا میں جو مباحثہ قوم کے درمیان جاری ہے، اس سے مجھے یاد آیا کہ 2000ء کے ابتدائی سالوں کے دوران “ناصری” نامی ایک قوما نے انڈونیشیا کے ایک مہاجر کیمپ سے مجھ سے بھی رابطہ کیا تھا اور میں نے ہزارہ ڈاٹ نیٹ کے ایڈمن کے تعاون سے کافی عرصے تک اس کی تشہیری مہم میں حصہ بھی لیا تھا۔ اس بابت جب میں نے ہزارہ ڈاٹ نیٹ کے ایڈمن سے رابطہ کیا تو انہوں نے نہ صرف اس کمپین کا لنک بھیجا بلکہ اس میں شورای جھانی ہزارہ کے موجودہ چیئرمین اور معروف ہزارہ رائٹس کے داعی جناب محمد اکرم گیزابی کے کلیدی کردار کا ذکر بھی کیا۔

اس ضمن میں، مورخہ 14 جولائی 2026ء کو میں نے انجنیئر گیزابی صاحب سے رابطہ کیا اور اس مسئلے پر معلومات شیئر کرنے کی استدعا کی۔ گیزابی صاحب کا بے حد شکریہ کہ کافی مصروفیت کے باوجود ایک طویل گفتگو کے دوران پوری تفصیل بتا دی جس کا اختصار قارئین کی نذر ہے۔

گیزابی صاحب نے بتایا

 “2004ء کے دوران جب میں وائس آف امریکہ سے وابستہ تھا، ایک روز ناصری نامی ایک قوماکا فون آیا جو انڈونیشیا کے جزیرہ لُمبوک میں پھنسے ہزارہ مہاجرین کی طرف سے بول رہا تھا۔ میں نے  تعجب سے پوچھا کہ اسے میرا نمبر کہاں سے ملا ہے؟ ناصری نے کہا کہ میں نے آپ کا نمبر شیخ رجب ابوعادل سے لیا ہے، جسے میں اپنے بیروت کے دور سے جانتا تھا اور کبھی کبھارہم فون پر بات بھی کرلیتے تھے۔ خیر، اطمینان حاصل کرنے کے بعد میں نے اس کے فون کرنے کی وجہ پوچھی تو ناصری نے بتایا کہ ہم کئی ہزار ہزارہ مہاجرین انڈونیشیا کے مختلف جزیروں میں اس لئے پھنسے ہوئے ہیں کیونکہ آسٹریلیا نے مزید “بوٹ مہاجرین” کو آسٹریلیا کی سرزمین میں قبول کرنے پر پابندی لگا دی ہے اور یہاں انڈونیشیا میں کیسز کے پروسیس کے دوران پشتون، تاجیک، دری اور ایرانی فارسی مترجمین پہلے تعصب اور پھر ہزارہ گی نہ سمجھنے کے باعث غلط یا نادرست ترجمہ کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ہزارہ مہاجرین زیادہ تر مسترد ہو رہے ہیں اور اس ضمن میں ہمیں آپ کی مدد کی فوری اور شدید ضرورت ہے۔”

موصوف نے جو تفصیلات اور تصاویر مجھے بھیجیں، اس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ سینکڑوں کی تعداد میں ہزارہ مہاجرین مرد، عورت، چھوٹے بڑے بے یار و مددگار مہاجر کیمپوں میں پڑے ہوئے تھے، جن میں سے ایک بڑی تعداد نے اپنی بے سرنوشتی سے تنگ آ کر احتجاجاً اپنے منہ سلوا رکھے تھے۔ یہ صرف جزیرہ لُمبوک کی حالتِ زار تھی، باقی کئی دیگر جزائر میں بھی یہی حالات تھے۔ اتفاق سے یو این ایچ سی آر آفس اسلام آباد میں میرا ایک جاننے والا مسٹر روپرٹ کول ویل ایک اچھی پوسٹ پر تھا۔ میں نے ان سے رابطہ کرکے اور تصاویر شیئر کرکے مدد کرنے کی اپیل کی۔ جواب میں موصوف نے حامی بھرتے ہوئے کہا کہ میں پہلے اپنے آفس والوں سے مشورہ کرلوں، اس کے بعد کچھ کہہ سکتا ہوں کہ ہم کیا کرسکتے ہیں۔ چند روز بعد مسٹر روپرٹ نے رابطہ کرکے بتایا کہ ان ہزارہ مہاجرین کے کیسز ری اوپن ہوسکتے ہیں اور اس ضمن میں وہ خود انڈونیشیا جانے پر تیار ہے، البتہ اسے میری مدد کی ضرورت ہے۔

میں نے ان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ مصروفیت کی وجہ سے میرا جانا قدرے مشکل ہے، لیکن میں کسی مناسب بندے کا بندوبست کرسکتا ہوں۔ وہ مان گیا۔ بعد ازاں میں نے آسٹریلیا میں اپنے اچھے پرانے دوست جناب حسن غلام سے رابطہ کیا، تمام تفصیلات بتائیں اور مدد کرنے کی درخواست کی۔ وہ نہ صرف مدد کرنے پر آمادہ ہوا بلکہ ایک آسٹریلین امیگریشن وکیل کو بھی ساتھ لے جانے کی حامی بھری۔ میں نے یہ سب صورتحال مسٹر روپرٹ کو بتایا تو وہ بھی بہت خوش ہوا۔ چند دن بعد یہ تینوں انڈونیشیا پہنچے۔

جب مسترد شدہ ہزارہ مہاجرین کے کیسز کی دوبارہ شنوائی انہی تاجیک، پشتون اور ایرانی مترجمین کے توسط شروع ہوئی تو حسن غلام کو پتہ چلا کہ ہزارہ مہاجرین کے خدشات بالکل درست تھے۔ یہ مترجمین ان کے بیانات کا غلط ترجمہ کر رہے تھے۔ جب حسن غلام، جو ایک آبزرور کے طور پر انٹرویو پروسیس میں شامل تھے، نے یو این ایچ سی آر کے حکام کو یہ حقیقت بتلا دی تو سب شاک ہوگئے اور انٹرویوز کا سلسلہ روک دیا گیا۔

جناب حسن غلام اور ہزارہ مہاجرین کے نمائندوں کی طویل ملاقاتوں کے دوران “ہزارہ ترجمان” لانے کا مطالبہ یو این ایچ سی آر کے سامنے رکھا گیا، جو مسٹر روپرٹ کول ویل کی حمایت سے منظور ہوا۔ پہلے ہزارہ مترجمین کا بندوبست کیا گیا، پھر ہزارہ مہاجرین کے انٹرویوز کا سلسلہ دوبارہ چل پڑا اور درست ترجمانی کی وجہ سے ان کی قبولیت ہوتی گئی۔

انجنیئر گیزابی کے مطابق، ہزارہ گی زبان کی طاقت کی بدولت اگلے چند مہینوں کے دوران ہزاروں ہزارہ مہاجرین کی دوبارہ آبادکاری مختلف مغربی ممالک بشمول آسٹریلیا میں ہوتی گئی۔ خود ناصری صاحب کی قبولیت کینیڈا میں ہوئی۔ یوں ہزاروں ہزارہ مہاجرین کا مسئلہ بخیر و خوبی پایہ تکمیل کو پہنچا۔ لیکن گیزابی صاحب کو صرف اس بات کا ملال ہے کہ ناصری سمیت ہزارہ مہاجر ین کے تمام وقتی رہنما اس دن سے آج تک اس طرح غائب ہیں “جیسے گدھے کے سر سے سینگ”، حالانکہ اس کے بعد انہیں اپنے ان مہاجر بہن بھائیوں کی مدد کے لئے آگے آنا چاہئے تھا جو خود ان کی طرح اب تک انڈونیشیا کے مختلف جزائر میں بے یار و مددگار پڑے رہنے پر مجبور ہیں۔

قارئین کرام:

اُس وقت یہی صورتحال خود آسٹریلین مہاجر کیمپوں میں بھی تھی۔ وہاں بھی پشتون، تاجیک دری اور فارسی و ایرانی مترجمین کی طرف سے اسی طرح کے تعصبات کا سامنا ہزارہ مہاجرین کر رہے تھے۔ انڈونیشیا ہزارہ مہاجرین کے نقشِ قدم پر چل کر انہوں نے بھی “ہزارہ مترجمین” لانے کا مطالبہ کیا، جو بالآخر آسٹریلین حکومت نے قبول کرلیا۔ یہاں بھی بڑی تعداد میں ہزارہ مہاجرین قبول ہوتے گئے، جو آگے چل کر غالباً 2012ء میں “ہزارہ گی” بطور ایک جداگانہ زبان کی قبولیت کی صورت سامنے آئی۔

اس کے بعد سینکڑوں ہزارہ مختلف پبلک محکموں میں مترجم بن کر کام کرنے لگ گئے۔ عام ہزارہ جن کو دری اور فارسی کی دقت تھی، اب وہ اپنی پیاری ہزارہ گی میں ترجمان کی سہولت سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ بدقسمتی سے اس وقت جو لوگ اس کی مخالفت پر کمر بستہ ہیں، ان کی بڑی تعداد غیر ہزارہ اور ہزارہ قوم سے مخاصمت رکھنے والوں کی ہے۔ جبکہ ایک قلیل تعداد قوم کے اندر سے مخالفت میں کود پڑی ہے، جنہیں ہزاروں مہاجرین قوم کی ان طویل آلام و مصائب اور چند مخلص افرادِ قوم، بطور خاص انجنیئر محمد اکرم گیزابی اور جناب حسن غلام کی بے لوث کوششوں کی خبر ہی نہیں۔ ایسے افراد کے لئے بہتر یہی ہے کہ وہ خاموش رہیں۔

جہاں تک ہزارہ گی کی جداگانہ زبان یا لہجہ کا تعلق ہے، اس کو لسانی ماہرین (لینگویسٹس) ،وقت اور حالات پر چھوڑ دینا بہتر ہوگا۔ آخر میں اتنا بتانا شاید بے فائدہ نہ ہو کہ ہزارہ گی کی ترقی سے ہزارہ قوم کا تشخص مزید مستحکم ضرور ہوگا، البتہ اس کی ترقی سے فارسی، دری یا تاجیکی کو کسی قسم کے نقصان پہنچنے کا اندیشہ

بالکل نہیں ہوگا۔

ہزارہ ڈاٹ نیٹ کا لنک: https://www.hazara.net/2004/02/167/

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment