سوال؟ ۔۔۔ عارف چنگیزی

 سوال؟

تحریر: عارف چنگیزی
ہمارے معاشرے کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ ہم “سوال” نہیں کرتے۔ سوال کرنا تو گویا گناہِ کبیرہ ہے۔ چاہے سامنے خودساختہ عالمِ دین بیٹھا ہو یا سیاستدان، استاد ہو یا والدین، بیٹا ہو یا بیٹی، کاروباری شخص ہو یا سرکاری ملازم , سب کو ہم نے “معصوم فرشتہ” سمجھ رکھا ہے۔ سوال کرنا تو دور کی بات، سوال سوچنے کی بھی جرات نہیں کرتے۔اگر کوئی شخص کوئی بیان دے، تو ہم اس پر سوال نہیں کرتے۔ کیوں؟ کیونکہ سوال کرنے کا رواج ہی نہیں۔ چند دن پہلے ایک خودساختہ عالمِ دین منبر پر بیٹھ کر گالیاں بانٹ رہا تھا، جیسے صدقہ خیرات بانٹ رہا ہو۔ مگر سینکڑوں سامعین میں سے کسی نے یہ نہ پوچھا کہ:
حضور! یہ گالیوں کا نصاب کس کتاب میں پڑھایا جاتا ہے؟کیا منبرِ امام پر بیٹھ کر گالی دینا سنت ہے؟یا یہ کہ گالیوں کا درس دینے کا حق کس نے آپ کو عطا فرمایا ہے؟پچھلے سال بھی یہی صاحب کلچر ڈے میں شریک لوگوں کو گالیاں دے رہے تھے۔ مگر سامعین نے کانوں میں روئی ڈال لی اور دل میں کہا: “چلو، گالی بھی عبادت ہی ہوگی!
“چند ماہ پہلے جب ایران کا ایک ڈکٹیٹر فوت ہوا تو ایک اور خود ساختہ عالمِ دین نے پریس کانفرنس میں امریکہ اور اسرائیل کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور یہ بھی کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ہمارے آقا کو مارنے کے بعد امام مہدی (ع) کو بھی شہید کر دےگا مگر کسی نے یہ نہ پوچھا کہ:
حضرت! آپ خود جہاد پر کب روانہ ہوں گے؟
والدین بھی کمال کے ہیں۔ بچوں کو موبائل اور موٹرسائیکل دیتے ہیں مگر سوال نہیں کرتے کہ:موبائل پر کیا دیکھتے ہو؟موٹرسائیکل کہاں لے جاتے ہو؟کس دوست کے ساتھ جاتے ہو اور کیا پیتے ہو؟
پھر جب پولیس دروازہ کھٹکھٹاتی ہے تو والدین حیران ہو کر پوچھتے ہیں: “ہائے! یہ ہمارے بیٹے نے کیا گل کھلایا؟”
اسی طرح اسکول میں بھی والدین انتظامیہ سے سوال نہیں کرتے کہ استاد کلاس لیتے ہیں یا نہیں، کورس مکمل ہوا یا نہیں۔ بس خوش ہیں کہ بچے چار پانچ گھنٹے اسکول میں “مصروف” ہیں۔ باقی کیا پڑھتے ہیں، کیا کرتے ہیں — یہ سوال کرنا توہینِ والدین سمجھا جاتا ہے۔

ہمارے گلی محلوں میں دیگر علاقوں سے آنے والے اجنبی اور مشکوک افراد کا بلاوجہ گھومنابھی ایک سنگین مسئلہ ہے، مگر افسوس کہ دکاندار، تھڑوں پر بیٹھے لوگ یا راہ گیر ان سے کوئی سوال نہیں کرتے۔ یہی خاموشی اور بےحسی جرائم پیشہ افراد کو حوصلہ دیتی ہے کہ وہ موٹرسائیکل چوری کریں یا اغواء کی کوشش کریں اور پھر آسانی سے فرار ہو جائیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے “سوال” کرنے کی روایت کو ختم کر دیا ہے۔ اگر کوئی اجنبی گلی میں گھوم رہا ہے تو یہ بالکل فطری بات ہے کہ اس سے پوچھا جائے: آپ کہاں جا رہے ہیں؟ کس سے ملنا ہے؟ یہاں آنے کا مقصد کیا ہے؟ مگر ہم یہ ذمہ داری ادا نہیں کرتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جرائم بڑھتے ہیں اور معاشرہ مزید غیر محفوظ ہوتا ہے۔
یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ ہم نے اپنی اجتماعی ذمہ داری کو ترک کر دیا ہے۔ اگر ہر فردزراسا بھی  شعور دکھائے اور سوال کرنے کی جرات کرے تو نہ صرف جرائم کم ہوں گے بلکہ معاشرہ زیادہ محفوظ اور ذمہ دار بنے گا۔

عارف چنگیزی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment