
شیخ ناصر علی انصاری
اگرچہ ماضی میں کوئٹہ میں آباد ہزارہ کے درمیان دینی علوم پر دسترس رکھنے والوں کی تعداد زیادہ نہیں تھی، لیکن جو بھی تعداد تھی ان کی بڑی اکثریت ہزارہ گی موضوع سے ہمیشہ فاصلہ رکھنے کو ترجیح دیتی تھی۔ اس کے برعکس شیخ ناصر علی انصاری آخری سانس تک ہزارہ و ہزارہ گی کاز سے جڑے رہے۔ ان کے بڑے بیٹے حاجی محمد گلزاری کے مطابق ان کی پیدائش 1924ء میں ہوئی تھی۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان کی ابتدائی مذہبی تعلیم سنی عالم دین ملا عبدالستار کاکڑ اور بعد ازاں ملا محمد علی کے ہاں مکمل ہونے کے بعد مزید تعلیم نجف اشرف کے مدارس میں ہوئی تھی۔ نجف میں انہوں نے معروف ہزارہ مجتہد محمد علی مدرس افغانی سے زیادہ کسبِ فیض کیا تھا۔ نجف اشرف میں قیام کے دوران انہیں ہزارہ تاریخ سے دلچسپی ہوئی تھی، اسی لئے انہوں نے ہزارہ سے متعلق کتابوں کا مطالعہ اور جمع کرنا شروع کر دیا تھا۔ چنانچہ کوئٹہ واپسی پر وہ اپنے ساتھ دیگر دینی کتابوں کے علاوہ ہزارہ تاریخ سے متعلق کئی کتابیں بھی لے آئے تھے۔
1968ء میں ان کی ہزارہ قوم کا مرتب کردہ شجرہ نامہ کوئٹہ سے چھپا تھا جو اپنی نوعیت کا اب تک سب سے منفرد شجرہ نامہ ہے۔ اس کے علاوہ ہزارہ قوم کی تاریخ، منشاء نژادی اور مختلف ہزارہ طوائف کے پس منظر پر ان کی ایک ضخیم کتاب خطی صورت میں موجود ہے۔وہ ہزارہ تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے حضرات جیسے حاجی سلیمان خان، بابو خدانذر قنبری، محمد عیسیٰ غرجستانی سے ہمیشہ رابطے میں رہے۔ ان کے علاوہ انہوں نےہزارہ شناس ایرانی اسکالر محمد اوتاد العجم کی بھی کافی مدد اور رہنمائی کی۔ ان کی ایک اور منفرد خاصیت یہ بھی تھی کہ وہ اپنے مجالس میں ہزارہ گی زبان کو بروئے کار لاتے اور بعض اوقات مصائب کے ذکر میں ہزارہ قوم کی مظلومیت اور امیر کابل عبدالرحمان کے ہاتھوں ہزارہ نسل کشی کو مصائب کے طور پر بیان کرتے تھے جس کی تصدیق جناب محمد رضا وکیل بھی کرتے ہیں۔ چونکہ ان کی یہ روش مروجہ روایتی طریقہ کے برعکس تھی اس لئے 1979ء میں انقلابِ ایران کے بعد ایران نواز حلقوں، بطور خاص ملاؤں کی طرف سے تنقید کی زد میں رہے لیکن اس درویش صفت ہزارہ عالم دین نے آخری سانس تک ان کی کبھی پروا نہیں کی۔
ان کی وفات 1986ء میں ہوئی اور وہ ہزارہ قبرستان علمدار روڑ میں مدفون ہوئے۔ ان کےبڑے بیٹے حاجی گلزاری انہی سے متاثر ہو کر ہزارہ تاریخ میں دلچسپی لینے لگے اور اب اس موضوع پر کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔
یعقوب علی انیس
حاجی یعقوب علی انیس کی سالِ پیدائش 1936ء ہے۔ ابتدائی تعلیم روایتی انداز میں کوئٹہ میں اپنے وقت کے معروف ہزارہ عالم دین شیخ رحیم رحیمیان سے حاصل کی، جہاں انہوں نے عربی و فارسی ادبیات کے ساتھ ابتدائی اسلامی پڑھائی مکمل کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لئے عراق کے شہر نجف اشرف کا رخ کیا۔ وہاں انہوں نے مروجہ اسلامی مضامین کے ساتھ فارسی ادب کی تعلیم بھی جاری رکھی، جس میں معلمِ اخلاق کے نام سے معروف شیخ سعدی شیرازی اور لسان الغیب کے نام سے معروف حافظ شیرازی کی کتابیں بھی شامل تھیں۔ انہی حضرات نے نوجوان یعقوب علی کو شعر گوئی کی طرف مائل کیا۔ چنانچہ انہوں نے “انیس” کو بطور تخلص انتخاب کیا اور شعر گوئی کی ابتداء کی۔ کوئٹہ واپسی پر تجارت کا پیشہ اپنایا۔ پہلے پرنس روڑ میں ہزارہ امام بارگاہ کلان کے قریب “اخوان ٹی اسٹور” کے نام سے اور بعد ازاں سورج گنج بازار میں “یعقوب ٹی اسٹور” کے نام سے چائے کے کاروبار کو زندگی کے آخری ایام تک کامیابی سے چلایا۔ شعری ذوق کی بدولت ان کی دکان میں شام کے وقت اکثر کوئٹہ کے معروف شعراء کا ہمیشہ ڈیرہ لگا رہتا تھا اور شعری محفلیں چلتی تھیں۔ شعری ذوق کے علاوہ مرحوم یعقوب علی انیس عوامی امور، بطور خاص ہزارہ امور میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ پہلے “انجمن فلاح و بہبودِ ہزارہ” سے وابستہ رہے اور اس کے منحل ہونے کے بعد 1970ء میں تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کی تشکیل میں بانی ممبر کے طور پر شامل رہے۔ انہوں نے یہ تعلق آخری سانس تک قائم رکھا۔ اسی دوران تنظیم کے زیرِ نگرانی چھپنے والے رسالہ “ذوالفقار” سے بھی وابستہ رہے۔ نیز 1974ء میں ریڈیو پاکستان کوئٹہ سے شروع ہونے والے ہزارہ گی پروگرام کے سب سے مقبول سلسلہ “گفتگوی چمن لالئی و بیگ صاحب” کے پہلے اسکرپٹ رائٹر کے طور پر بھی لمبے عرصے تک کام کرتے رہے۔ اس کے علاوہ ایک اور سلسلہ “چراغِ ہدایت” سے بھی منسلک رہے۔
حاجی یعقوب علی انیس کا شمار کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کے چند پہلے فارسی گو شعراء میں ہوتا ہے۔ شادروان پروفیسر شرافت عباس “ناز “ان کے شعری مجموعہ کے آغاز میں لکھتے ہیں کہ: “فکری بلوغت، وسیع مطالعہ، موضوعات میں تنوع، اور زبان و بیان پر مکمل دسترسی کے لحاظ سے یعقوب علی انیس ایک استاد کا درجہ رکھتے ہیں”، جو کہ ان کے شعری مقام کے عکاس ہے۔ یہ شعری مجموعہ 2004ء میں “بھارِ انیس” کے عنوان سے چھپا، جسے عوامی پذیرائی کے ساتھ ساتھ حکومت بلوچستان کی طرف سے “صوبائی ادبی ایوارڈ” سے بھی نوازا گیا۔ یہ نفیس انسان جنوری 2013ء کو کوئٹہ، پاکستان میں ہم سے جدا ہوئے۔
ان کے اشعار سے چند انتخاب:
ھزارہ
ھزارہ مرد میدانست ھزارہ
ھزارہ تیغ بُرانست ھزارہ
مخالف چون شب تاراست و تاریک
ھزارہ ماہ تابانست ھزارہ
نظر انداز بہ اوراق تواریخ
زھرسطرش نمایانست ھزارہ
نہ مظلومی ونی خواھان ظلم است
فقط پابند قرآنست ھزارہ
نِگر در صنعت و دنیای تخلیق
جلوتر از رقیبانست ھزارہ
مساعد گر شود حالات، روزی
تو خواہی گفت جاپانست ھزارہ
انیس از فخر تاریخ این سخن گفت
ھزارہ بیگ و ھم خانست ھزارہ
ـــــــــــــــــــــــ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
این درخت عشق اکنون برگ و بارآوردہ است
از خرد از علم، پیغام بھار آوردہ است
قوت تشمم داری پس بیا ای مشتمم
عنبری از چین و مشکی ازتاتارآوردہ است
باغبانانی کہ گلھا کاشتند در باغ فکر
دستہ ھای گل بما زان گلعذار آوردہ است
گوھری بود ای انیس مدفون در تحت خیال
حال ز آن مخزن برون در بزم یار آوردہ است
نوٹ: مرحوم شیخ ناصر علی انصاری کے بیٹے حاجی محمد گلزاری اور مرحوم حاجی یعقوب علی انیس کے فرزند جناب لطیف دارا کا بے حد شکریہ کہ انہوں نے ان مضامین کے لئے تمام بنیادی معلومات فراہم کیں۔