
گڈیاں بنا “کنی” کے (افسانہ)
تحریر: جاوید نادری
“کیا بات ہے طاہر بھائی!” دوست محمد نے اپنی موٹر سائیکل اسٹارٹ کرتے ہوئے مسکراتے ہوئے کہا، “میں نے ایک بات نوٹ کی ہے۔ جب بھی ہماری ملاقات ہوتی ہے، آپ کے ہاتھ میں کوئی نہ کوئی گڈی ضرور ہوتی ہے۔ لگتا ہے گڈیاں اڑانے کا بڑا شوق ہے آپ کو۔”
طاہر نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی گڈی کی طرف دیکھا، پھر ہلکا سا مسکرایا۔
“نہیں یار، ایسی کوئی بات نہیں۔ بس اتفاق ہے۔ جب بھی تم ملتے ہو، میرے ہاتھ میں گڈی ہوتی ہے، اس لیے تمہیں یہی لگتا ہے۔ ورنہ میں روز گڈی اڑاتا ہوں اور نہ ہی کوئی ایسا شوق ہے۔ ہاں، کبھی کبھار دل چاہ جائے تو اڑا لیتا ہوں۔”
“اچھا… یعنی شوق نہیں، بس دل بہلانے کا سامان ہے؟”
“ہاں، کچھ ایسا ہی سمجھ لو۔”
دونوں ہنس پڑے۔
دوست محمد نے موٹر سائیکل کو گیئر میں ڈالتے ہوئے پوچھا،
“چلو یہ بتاؤ، جانا کہاں ہے؟”
“گھر جا رہا ہوں۔”
“تو پھر بیٹھ جاؤ۔ میں بھی محلے کی طرف جا رہا ہوں۔ تمہیں تمہارے دروازے تک چھوڑ دوں گا۔”
“بڑی مہربانی۔”
طاہر موٹر سائیکل کے پیچھے بیٹھ گیا۔ موٹر سائیکل آہستہ آہستہ سڑک پر رواں ہو گئی۔
راستے بھر کبھی محلے کی باتیں ہوتیں، کبھی پرانے دوستوں کا ذکر نکل آتا، کبھی بچپن کی شرارتوں پر دونوں ہنسنے لگتے۔ چند منٹ کا سفر یوں محسوس ہوا جیسے پل بھر میں ختم ہو گیا ہو۔
“یار، واقعی وقت کا پتہ ہی نہیں چلا۔” طاہر نے اترتے ہوئے کہا۔
“باتیں ہی ایسی ہو رہی تھیں۔”
“چلو، پھر ملاقات ہوگی۔”
“ان شاء اللہ۔”
دونوں نے گرمجوشی سے ہاتھ ملایا۔ دوست محمد آگے بڑھ گیا
اور طاہر گڈی ہاتھ میں لیے اپنے گھر کے اندر داخل ہو گیا۔
اس واقعے کو تقریباً ایک ہفتہ گزر چکا تھا۔
شام کا وقت تھا۔ موسم خوشگوار تھا اور ڈیم کی کینٹین کے باہر حسبِ معمول خاصی رونق لگی ہوئی تھی۔ کوئی چائے پی رہا تھا، کوئی دوستوں کے ساتھ گپیں لگا رہا تھا، کہیں قہقہوں کی آوازیں تھیں اور کہیں کرکٹ کے میچ پر گرما گرم بحث جاری تھی۔
طاہر بھی اپنے دوست نعیم کے ساتھ باہر گھاس پر رکھی کرسی پر بیٹھا چائے پی رہا تھا۔
“یار، آج کل تم دکھائی ہی نہیں دیتے۔” نعیم نے چائے کا گھونٹ لیتے ہوئے کہا۔
“بس، کچھ مصروف تھا۔”
“مصروف یا سست؟”
“دونوں سمجھ لو۔”
نعیم ہنس پڑا۔
“ویسے تمہاری ایک عادت ابھی تک نہیں بدلی۔”
“کون سی؟”
“جہاں آسمان میں گڈی نظر آئے، تمہاری نظریں خود بخود وہی جم جاتی ہیں۔”
طاہر نے قہقہہ لگایا۔
“اب چھوڑ بھی دو۔ ہر کوئی یہی کہتا رہتا ہے۔”
“کیونکہ بات ہی ایسی ہے۔”
دونوں ابھی باتوں میں مصروف تھے کہ اچانک طاہر کی نظر آسمان کی طرف اٹھی۔
ایک رنگ برنگی کٹی ہوئی گڈی ہوا میں لہراتی ہوئی سیدھی ان کی طرف آ رہی تھی۔
طاہر کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“ارے…!”
وہ اچانک کرسی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
“کیا ہوا؟” نعیم نے چونک کر پوچھا۔
“گڈی…!”
بس اتنا کہہ کر وہ چائے میز پر چھوڑ کر تیزی سے دوڑ پڑا۔
“اوئے… کم از کم چائے تو پی لیتے!”
نعیم نے آواز دی، مگر طاہر اب اس کی آواز سے بہت دور جا چکا تھا۔
چند ہی لمحوں میں طاہر اس جگہ پہنچ گیا جہاں تقریباً دس بارہ لڑکے اور چند نوجوان کٹی ہوئی گڈی کی ڈور کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ کوئی ایک دوسرے کو دھکے دے رہا تھا، کوئی چلا رہا تھا، “خبردار… خبردار… ادھر جا رہی ہے!” کوئی سڑک کے بیچوں بیچ دوڑ رہا تھا تو کوئی دیوار پھلانگنے کی کوشش کر رہا تھا۔
طاہر نے ایک نظر آسمان کی طرف ڈالی۔ گڈی ہوا کے ساتھ کبھی دائیں مڑتی، کبھی بائیں، اور اس کی ڈور سانپ کی طرح بل کھاتی ہوئی نیچے آ رہی تھی۔
“اگر آج یہ ہاتھ سے نکل گئی تو بڑی بدقسمتی ہوگی۔” اس نے دل ہی دل میں سوچا اور اپنی رفتار مزید تیز کر دی۔
چونکہ طاہر اپنے زمانۂ طالب علمی میں اچھا اسپورٹس مین رہ چکا تھا، اس لیے اس کے قدم دوسروں کے مقابلے میں کہیں زیادہ تیز تھے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ سب سے آگے نکل گیا۔
“مل گئی…!”
اس نے جھپٹ کر ڈور کو مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔
پیچھے سے ایک لڑکے نے آواز لگائی، “او بھائی! ذرا سنبھال کر… ٹوٹ نہ جائے!”
طاہر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، “اب یہ میرے ہاتھ آ گئی ہے، ان شاء اللہ نہیں ٹوٹے گی۔”
وہ ابھی آہستہ آہستہ ڈور کھینچ کر گڈی کو نیچے لانے ہی لگا تھا کہ اچانک ایک اور کٹی ہوئی گڈی کی ڈور اس کے کندھے کے قریب سے گزری۔
“ارے… ایک اور!”
اس نے بغیر سوچے سمجھے دوسرے ہاتھ سے وہ ڈور بھی پکڑ لی۔
اب اس کے دونوں ہاتھ مصروف تھے۔
“واہ بھائی… آج تو قسمت کھل گئی!” کسی نے پیچھے سے آواز دی۔
طاہر کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
“آج تو مزہ آ جائے گا۔”
وہ ابھی یہ فیصلہ ہی کر رہا تھا کہ پہلے کون سی گڈی اتارے کہ اچانک تیسری ڈور بھی ہوا کے دوش پر لہراتی ہوئی عین اس کے سامنے سے گزر گئی۔
“نہیں… یہ بھی نہیں جانے دینی۔”
اس نے فوراً دوسری ڈور دانتوں میں دبا لی اور خالی ہاتھ سے تیسری ڈور بھی پکڑ لی۔
اب اس کی حالت دیکھنے والی تھی۔
ایک ڈور دائیں ہاتھ میں…
ایک بائیں ہاتھ میں…
اور ایک دانتوں میں دبی ہوئی…
تینوں گڈیاں آسمان میں الگ الگ سمتوں میں تیر رہی تھیں اور طاہر ایک لمحے کے لیے خود بھی الجھ گیا۔
” پہلے کس کو اتاروں؟”
وہ ایک لمحہ سوچتا، پھر پہلی ڈور کھینچتا، پھر دوسری کی طرف دیکھتا، پھر تیسری ہوا کے ساتھ دور ہونے لگتی تو اسے سنبھالنے لگتا۔
“یار… یہ تو مصیبت بن گئی۔”
اتنے میں موسم نے اچانک کروٹ بدلی۔
ہوا کا ایک تیز جھونکا آیا۔
طاہر نے آسمان کی طرف دیکھا۔
“یا اللہ! یہ آندھی ابھی آنی تھی؟”
جھونکے پر جھونکے آنے لگے۔
گڈیاں بے قابو ہو کر ادھر ادھر جھولنے لگیں۔
طاہر نے جلدی جلدی تینوں ڈوریں ایک جگہ اکٹھی کیں۔
“چلو… تینوں کو ایک ساتھ ہی اتار لیتا ہوں۔”
اس نے پوری طاقت سے ڈوریں کھینچیں۔
مگر اسی لمحے آندھی کا ایک اور زور دار جھونکا آیا۔
تینوں گڈیاں زور سے ایک دوسرے سے ٹکرائیں۔
“نہیں… نہیں…!”
طاہر بے اختیار چلایا۔
مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی۔
ایک ہی لمحے میں تینوں گڈیاں ہوا میں پھٹ گئیں۔
ان کے رنگ برنگے کاغذ کے ٹکڑے بکھر کر ہوا میں ناچنے لگے اور پھر آہستہ آہستہ زمین کی طرف گرنے لگے۔
طاہر چند لمحے ساکت کھڑا رہ گیا۔
پھر اس نے بے بسی سے آسمان کی طرف دیکھا۔
“لعنت ہے ایسی آندھی پر… ابھی آنا تھا اسے؟ دو منٹ بعد آ جاتی تو کیا بگڑ جاتا؟”
وہ بدستور بڑبڑاتا رہا، جیسے آندھی اس کی بات سن رہی ہو۔
لیکن آندھی تو گزر چکی تھی۔
صرف اس کے دل کی بھڑاس باقی رہ گئی تھی۔
اچانک پیچھے سے شور اٹھا۔
“اوئے… ایک اور کٹی ہے!”
“ادھر… ادھر جا رہی ہے!”
طاہر نے چونک کر سر اٹھایا۔
اس نے دیکھا، ایک نہیں بلکہ تین نئی گڈیاں مختلف سمتوں سے ہوا میں تیرتی ہوئی اسی کی طرف آ رہی تھیں۔
اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر وہی چمک لوٹ آئی۔
“چلو… اللہ نے ایک موقع اور دے دیا۔”
وہ پھر پوری رفتار سے ان کی طرف لپکا۔
اس بار قسمت نے بھی اس کا ساتھ دیا۔
تھوڑی ہی دیر میں اس نے ایک ایک کرکے تینوں گڈیوں کی ڈوریں پکڑ لیں اور بڑی احتیاط سے انہیں نیچے اتار لیا۔
اس نے تینوں گڈیاں ایک ہاتھ میں جمع کیں، انہیں فخر سے ہوا میں لہراتے ہوئے دیکھا اور بے اختیار مسکرا دیا۔
“واہ طاہر… آج تو واقعی قسمت تیرے ساتھ ہے!”
اس نے خود ہی اپنے آپ سے کہا۔
اب نہ اسے ہوٹل یاد تھا، نہ میز پر رکھی ٹھنڈی ہوتی چائے، نہ نعیم۔
اس وقت اگر اسے کچھ یاد تھا تو صرف اپنے ہاتھوں میں لہراتی ہوئی وہ تین گڈیاں، جنہیں دیکھ کر اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے اس نے کوئی بہت بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔
وہ سینہ تان کر، ہلکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجائے، گھر کی طرف چل پڑا…
طاہر کے قدم آج معمول سے زیادہ ہلکے تھے۔ وہ سڑک کے کنارے کنارے چل رہا تھا اور بار بار اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی تینوں گڈیوں کو دیکھ لیتا۔ کبھی انہیں ذرا سا اوپر اٹھا کر دیکھتا، کبھی ہوا میں ہلکا سا لہرا دیتا۔
اس کے چہرے پر ایک عجیب سی مسرت تھی۔
“آخر اتنی محنت رنگ لے ہی آئی۔”
وہ دل ہی دل میں سوچ رہا تھا۔
“پہلے تین گڈیاں تو آندھی نے خراب کر دیں، لیکن قدرت نے اس کے بدلے یہ تینوں عطا کر دیں۔”
اسے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے آج اس نے کوئی بڑا معرکہ سر کر لیا ہو۔ راستے میں آنے والے ہر شخص کی نظر اگر اس کے ہاتھوں کی طرف اٹھتی تو اس کے سینے میں ایک انجانی سی خوشی دوڑ جاتی۔
اسی عالم میں وہ محلے کی طرف جا رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے موٹر سائیکل کی آواز آئی۔
“پی… پی…”
طاہر نے مڑ کر دیکھا۔
“ارے حسن بھائی!”
اس نے ہاتھ کے اشارے سے موٹر سائیکل روک لی۔
حسن نے بریک لگائی اور مسکراتے ہوئے بولا،
“کہاں جا رہے ہو صاحب؟”
“گھر جا رہا ہوں۔”
“اچھا!”
طاہر نے مسکراتے ہوئے پوچھا،
“اور تم؟”
“میں ذرا بازار جا رہا ہوں۔ گھر کے لیے کچھ سودا لینا ہے۔ مہمان آنے والے ہیں، اس لیے جلدی پہنچنا ہے۔”
“اچھا… اگر تم گھر جا رہے ہوتے تو میں بھی تمہارے ساتھ بیٹھ جاتا۔”
حسن نے افسوس سے کہا،
“یار، ورنہ خوشی سے چھوڑ دیتا۔ لیکن آج واقعی جلدی ہے۔”
“ارے نہیں، کوئی بات نہیں۔ تم اپنا کام کرو۔ میں ویسے بھی قریب ہی پہنچ گیا ہوں۔”
“چلو پھر، خدا حافظ۔”
“خدا حافظ۔”
حسن نے موٹر سائیکل اسٹارٹ ہی کی تھی کہ اچانک اس کی نظر طاہر کے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی گڈیوں پر پڑی۔
وہ ہنس دیا۔
“یار، ایک بات کہوں؟”
“کہو۔”
“مجھے اب دوست محمد کی بات سچ لگنے لگی ہے۔”
“کون سی بات؟”
“یہی کہ جب بھی تم ملتے ہو، تمہارے ہاتھ میں گڈیاں ضرور ہوتی ہیں۔”
طاہر بھی زور سے ہنس پڑا۔
“ہاں یار، آج تو واقعی قسمت مہربان تھی۔”
“اچھا؟”
“ہاں! تمہیں کیا بتاؤں، بہت دوڑنا پڑا۔ پہلے ایک گڈی کی ڈور ملی، پھر دوسری، پھر تیسری… پھر آندھی آ گئی۔ تینوں پھٹ گئیں۔ بڑا افسوس ہوا۔ لیکن تھوڑی دیر بعد اللہ نے پھر موقع دے دیا۔ یہ دیکھو… ایک ساتھ تینوں لوٹ کر لا رہا ہوں۔”
اس نے فخر سے تینوں گڈیاں حسن کے سامنے بلند کر دیں۔
حسن نے ایک نظر گڈیوں کو دیکھا۔
پھر دوبارہ دیکھا۔
اس کے ماتھے پر ہلکی سی شکن آئی۔
“یار… ایک بات پوچھوں؟”
“پوچھو۔”
“تم کہہ رہے ہو یہ گڈیاں تم نے لوٹی ہیں؟”
“ہاں بھائی! اور کیا؟ اتنی دوڑ دھوپ کی ہے ان کے لیے۔”
حسن نے حیرت سے گڈیوں کو ہاتھ لگا کر دیکھا۔
پھر بولا،
“لیکن…”
“لیکن کیا؟”
“یہ گڈیاں تم کیسے لوٹ سکتے ہو؟”
طاہر نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
“کیوں؟”
حسن نے ایک گڈی اٹھائی اور اس کا نچلا حصہ طاہر کی طرف کرتے ہوئے کہا،
“یار… ان میں تو ابھی کنی ہی نہیں بندھی ہوئی۔”
“کیا…؟”
طاہر نے چونک کر فوراً اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا۔
پہلے ایک گڈی…
پھر دوسری…
پھر تیسری…
حسن ٹھیک کہہ رہا تھا۔
تینوں گڈیاں نئی تھیں۔
ان میں نہ کنی بندھی تھی، نہ ڈور کا کوئی نشان تھا۔
- ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(ہزارہ و ہزارگی مبداء و منشا) ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 16, 2026
- ایک دوست کی ناگہانی موت ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 12, 2026
- زندگی کا قیدی ۔۔۔ جاوید نادری - Aug 2, 2026