
افسانوی کالم: مرتضیٰ ہجراں کی پیشکش
تحریر: عارف چنگیزی
مہدی افضلی، جو کبھی انسانی حقوق کا علمبردار کہلاتا تھا، اب کالم نگار کے قلم میں ولن بن چکا ہے۔ ماضی میں ایسے لوگوں کو “کافر” کہا جاتا تھا، آج انہیں امریکی و اسرائیلی ایجنٹ کا لقب دیا جا رہا ہے۔ گویا زمانے کے ساتھ ساتھ صرف الزام کا لیبل بدلا ہے، باقی کھیل وہی پرانا ہے۔
اس افسانے کے مطابق افغانستان میں جمہوریت کے سقوط کے بعد مہدی افضلی آسٹریلیا پہنچا اور وہاں کے سیکیورٹی اداروں کو عزاداری اور مجالس کے خلاف بھڑکانے کی کوشش کی۔ لیکن آسٹریلین اداروں نے نہ صرف اس کی باتوں کو مسترد کیا بلکہ اس کی تذلیل بھی کی۔ ان اداروں نے طنزیہ انداز میں کہا: “یہ کیسے ممکن ہے کہ محرم کے جلوس اور مجالس میں ہمارے خلاف سازش ہو اور ہمیں خبر نہ ہو؟” گویا مہدی افضلی کی عقل و دانش ان کے سامنے مذاق بن گئی۔
کالم نگار نے اپنی افسانوی تحریر میں جان ڈالنے کے لیے مہدی افضلی کو نہ صرف محرم الحرام اور مجالس کے مخالف کے طور پرپیش کیا بلکہ ان پر ہزارہ اور ہزارگی ثقافت کا دشمن ہونے کا بھی الزام لگایا۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ لفظ “ہزارہ” اور “ہزارگی ثقافت” کے خلاف تبلیغات کرنے والے یہ خود ہیں، اور یہ حقیقت کسی سے چھپی نہیں۔مذکورہ کالم چونکہ مہدی افضلی کے خلاف لکھا گیا ہے، اسی لیے یہ ہمارے معاشرے کے “آٹھویں فیل رجعتی طبقے” کا پسندیدہ ترین کالم بن گیا ہے اس لیے وہ اسے اپنی کامیابی سمجھ کر ایسے شیئر کررہے ہیں جیسے کوئی انعام جیت لیا ہو۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ مہدی افضلی نے اپنی عقل و دانش سے ان جہلاء کی حقیقت آشکار کر کے ان کے منہ پر طمانچہ مارا ہے۔ مگر چونکہ مہدی افضلی کے خلاف لکھا گیا یہ کالم ان اندھے مقلدین کے فائدے میں ہے، اس لیے وہ اسے اپنی ڈھال بنا کر عوام کو مزید گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس افسانوی کالم میں کوئی نئی بات نہیں۔ مصنف نے وہی پرانا حربہ استعمال کیا ہے: مخالفین کو جھوٹا اور مکار ثابت کرنا، جبکہ آٹھویں فیل نام نہاد علماء کو پاکیزہ، سچا اور حقیقت پسند دکھانے کی کوشش کرنا۔ یہ انداز دراصل ایک پرانی روایت کی تکرار ہے، جس میں حقیقت کو مسخ کر کے پیش کیا جاتا ہے تاکہ عوامی شعور کو دبایا جا سکے۔
میرا مصنف کو مشورہ ہے کہ چونکہ وہ افسانہ نگاری میں بہترین صلاحیت رکھتے ہیں، لہٰذا اپنی افسانہ نگاری کو برقرار رکھیں۔ بلکہ اگر ممکن ہو تو اپنے افسانوں کو کتابی صورت میں شائع کریں تاکہ لوگ ان کی “ادبی طنزیہ تخلیقات” کو ایک ہی جگہ پڑھ کر لطف اندوز ہوں۔ یوں ان کے قارئین کو نہ صرف مزید گمراہ ہونے کا موقع ملے گا بلکہ انہیں ایک مکمل “ادبی سرمایہ” بھی میسر ہوگا۔
- سوال؟ ۔۔۔ عارف چنگیزی - Jul 15, 2026
- افسانوی کالم: مرتضیٰ ہجراں کی پیشکش ۔۔۔ عارف چنگیزی - Jul 5, 2026
- مذہب کا کاروبار اور معاشرتی یرغمالیّت ۔۔۔ عارف چنگیزی - Jun 28, 2026