
آسٹریلیا کی مردم شماری میں ایک چھوٹا کردار
تحریر: اسحاق محمدی
ایک مختصر تمہید کے طور پر مناسب ہوگا کہ پہلے مردم شماری کے حوالے سے اپنے بارے میں چند باتیں قارئین کے ساتھ شیئر کروں۔
غالباً 1978ء میں، جب میں نویں جماعت کا طالب علم تھا، مرحوم حوالدار غلام حسن کے ساتھ محلے کی سطح پر اجتماعی کاموں کا آغاز کر چکا تھا۔ اس زمانے میں دوست، رشتہ دار، جان پہچان والے اور محلے دار اپنی قومی شناختی، بچوں کے اندراج کے بی فارم، لوکل فارم اور مردم شماری کے فارم وغیرہ پُر کروانے کے لیے زیادہ تر میرے پاس آتے تھے۔ چونکہ یہ تمام فارم اردو میں ہوتے تھے، اور آج بھی ہیں، اس لیے انہیں پُر کرنے میں مجھے کبھی دشواری پیش نہیں آئی۔
اس دور میں قومی مردم شماری کے لیے زیادہ تر اساتذہ کی خدمات حاصل کی جاتی تھیں۔ وہ ایک پُرامن زمانہ تھا۔ مردم شماری کا عملہ بغیر کسی سکیورٹی کے گروپوں کی صورت میں آتا تھا، جبکہ آج کل زیادہ تر فوج کی نگرانی میں یہ کام انجام دیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ افراد مکانوں پر مخصوص کوڈ درج کرتے جاتے، جبکہ دوسرے ہر گھر کے سربراہ کے نام پر مردم شماری کا فارم دیتے اور ہدایت کرتے کہ تین یا چار دن بعد وہ دوبارہ آ کر فارم وصول کریں گے، لہٰذا اس وقت تک گھر کے تمام افراد کے نام اور مطلوبہ معلومات درج کرکے فارم تیار رکھا جائے۔
جب بھی اس نوعیت کا کوئی فارم میرے پاس آتا، میں شعوری طور پر قومیت کے خانے میں “ہزارہ” اور زبان کے خانے میں “ہزارہ گی” درج کرتا تھا، خواہ وہ قومی شناختی کارڈ کا فارم ہو، بی فارم، مردم شماری یا کوئی اور سرکاری فارم جس میں یہ خانے موجود ہوں۔
اس مختصر پس منظر کے بعد اب آسٹریلیا کی قومی مردم شماری (National Census) کی طرف آتے ہیں۔
میری فیس بک، وائبر اور بعد ازاں واٹس ایپ کے ذریعے پاکستان اور بیرونِ ملک، بالخصوص آسٹریلیا میں مقیم دوستوں سے اکثر گفتگو ہوتی رہتی تھی، اور آج بھی ہوتی ہے۔ ان میں لیاقت علی بطورِ خاص شامل ہیں۔
جولائی 2016ء میں ایک ایسی ہی گفتگو کے دوران انہوں نے بتایا کہ اگلے ماہ، یعنی اگست 2016ء میں، آسٹریلیا میں قومی مردم شماری ہونے والی ہے۔ یہ سنتے ہی میرے ذہن میں پاکستان کی مردم شماری کا تجربہ تازہ ہوگیا۔ میں نے لیاقت علی داور سے کہا کہ مردم شماری کے فارم کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آیا اس میں قومیت اور زبان کے خانے موجود ہیں یا نہیں۔ اگر موجود ہوں تو ہم اس حوالے سے ایک منصوبہ بناتے ہیں۔
ایک دو دن بعد انہوں نے بتایا کہ دونوں خانے موجود ہیں۔ اس پر میں نے تجویز پیش کی کہ ہم دونوں (اسحاق محمدی اور لیاقت علی) ایک مہم شروع کرتے ہیں، جس کے تحت لوگوں سے اپیل کی جائے کہ وہ قومیت کے خانے میں “ہزارہ” اور زبان کے خانے میں “ہزارہ گی” درج کریں۔ انہیں میری یہ تجویز پسند آئی اور انہوں نے فوراً رضامندی ظاہر کردی۔ بعد ازاں جان گلزاری بھی اس مہم میں شامل ہوگئے۔
میں نے اردو اور ہزارہ گی میں، جبکہ جان گلزاری نے انگریزی میں آسٹریلیا میں مقیم ہزارہ قوم سے اپیل کی کہ مردم شماری کے فارم میں اپنی قومیت “ہزارہ” اور زبان “ہزارہ گی” درج کریں۔ یہ اپیل ہم نے اپنے اپنے فیس بک پیجز، دوستوں کو ٹیگ کرنے، ہزارہ ڈاٹ نیٹ، میچید ٹی وی اور دیگر بڑے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے وسیع پیمانے پر پھیلانا شروع کردی۔
اگرچہ قوم کے ایک چھوٹے حلقے کے علاوہ اکثریت نے مختلف وجوہات کی بنا پر اس مہم کی مخالفت کی۔ کچھ افراد کو اپنی ہزارہ شناخت قبول کرنے میں تامل تھا، کچھ فرقہ وارانہ سوچ کے زیرِ اثر تھے، جبکہ بعض پر افغان شناخت کا غلبہ تھا۔ اس کے باوجود، ہماری مہم محدود وسائل اور غیر پیشہ ورانہ انداز کے باوجود کامیاب رہی، اور آسٹریلیا میں مقیم 22,275 ہزارہ افراد نے مردم شماری میں اپنی قومیت “ہزارہ” اور زبان “ہزارہ گی” درج کی۔ یہ اپنی جگہ ایک اہم کامیابی تھی۔ (اس کا اسکرین شاٹ منسلک ہے۔)
اس مردم شماری کے بعد بھی ہماری یہ مہم کسی نہ کسی سطح پر جاری رہی، اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید افراد اس چھوٹے سے کارواں کا حصہ بنتے گئے۔
2021ء کی مردم شماری کے دوران یہ مہم مزید منظم ہوگئی۔ نئے رضاکار، بہتر آئیڈیاز، جدید ٹیکنالوجی اور مؤثر میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ میدانِ عمل میں اترے۔ نتیجتاً اس مرتبہ 41,766 افراد نے اپنی قومیت “ہزارہ” درج کرائی۔ (ثبوت منسلک ہے۔)
اگرچہ یہ تعداد گزشتہ مردم شماری کے مقابلے میں تقریباً دوگنی تھی، لیکن آسٹریلیا میں ہزارہ آبادی کے تناسب سے یہ اب بھی اصل تعداد سے کم تھی۔ اس کامیابی میں دیگر ہزارہ تنظیموں کے ساتھ ساتھ ہما میڈیا نے بھی نہایت مؤثر کردار ادا کیا۔ امید ہے کہ اس مرتبہ بھی وہ اور دیگر ادارے پہلے سے زیادہ منظم انداز میں آگاہی مہم چلائیں گے۔
اب اگست 2026ء میں ایک بار پھر آسٹریلیا میں قومی مردم شماری ہونے جا رہی ہے۔ اس مرتبہ حالات پہلے سے کہیں بہتر ہیں۔ ہزارہ افراد کے ذہنوں سے بہت سے خدشات دور ہوچکے ہیں۔ انہوں نے افغانستان اور ایران کے برعکس آسٹریلیا میں اپنی ہزارہ شناخت کے مثبت نتائج اور فوائد کا عملی تجربہ حاصل کیا ہے، اس لیے اب انہیں قائل کرنے کے لیے پہلے جیسی محنت درکار نہیں ہوگی۔
اس کے باوجود ضروری ہے کہ اس مردم شماری کے موقع پر قومی شناخت کے حوالے سے ایک منظم، مربوط اور مؤثر آگاہی مہم چلائی جائے۔
آئیے، ایک بار پھر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالیں اور پہلے سے بھی بہتر نتائج حاصل کرکے دنیا کو دکھائیں۔
مجھے بے حد خوشی ہوتی ہے کہ صرف تین افراد سے شروع ہونے والی یہ مہم آج لاکھوں حامیوں اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں رضاکاروں تک پہنچ چکی ہے، جو نہ صرف آسٹریلیا بلکہ پوری مغربی دنیا میں سرگرم ہیں۔
سچ ہی کہا گیا ہے:
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
نوٹ:
2020ء میں امریکی نیشنل سینسس کے دوران بھی میں نے اسی نوعیت کی ایک مہم چلائی تھی، لیکن 2016ء میں آسٹریلیا کی ابتدائی صورتحال کی طرح وہاں بھی مطلوبہ کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔ تاہم اب حالات کافی حد تک مثبت رخ اختیار کر رہے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں سے امریکہ بھر میں ہزارہ کلچر ڈے کے کامیاب انعقاد کے بعد قوی امید ہے کہ 2030ء کی امریکی نیشنل مردم شماری کے نتائج اس حوالے سے نمایاں طور پر مختلف اور زیادہ حوصلہ افزا ہوں گے۔
- ہزارہ گی زبان کی طاقت ۔۔۔ اسحاق محمدی - Jul 15, 2026
- شیخ ناصر علی انصاری اورحاجی یعقوب علی انیس ۔۔۔ اسحاق محمدی - Jul 13, 2026
- آسٹریلیا کی مردم شماری میں ایک چھوٹا کردار ۔۔۔اسحاق محمدی - Jul 2, 2026