مذہب کا کاروبار اور معاشرتی یرغمالیّت ۔۔۔ عارف چنگیزی

مذہب کا کاروبار اور معاشرتی یرغمالیّت

تحریر: عارف چنگیزی

ہمارے معاشرے میں  بعض لوگوں کے بارے میں یہ تاثر عام ہے(جوکہ درست بھی ہے) کہ چونکہ وہ اپنی نالائقی کے باعث آٹھویں جماعت بھی پاس نہیں کر پاتے، اس لیے مجبوری کے تحت مدارس کا رخ کرتے ہیں، جہاں چند سال گزارنے کے بعد وہ اپنے نام کے ساتھ علامہ، مولانا یا ڈاکٹرکاسابقہ لگا کر بزعم خودعوام کی رہنمائی کا بیڑہ اٹھانے لگتے ہیں۔ علامہ بننے کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ سادہ لوح لوگ نہ صرف ان کی عزت کرتے ہیں بلکہ ان کی باتوں کو من و عن درست سمجھتے اورانہیں برحق مانتے ہیں۔ دوسری طرف، ان کے مخالفین یا ناقدین کو کافر قرار دے کر ان کی باتوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

یہ حضرات جب تنقید کا سامنا کرتے ہیں تو دلیل دینے کے بجائے اپنے پیروکاروں کو گالم گلوچ پر اکساتے ہیں۔ اس رویے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ عوامی شعور کو دبایا جائے اور ان کے اپنے کمزور دلائل پر پردہ ڈالا جائے۔ خوش قسمتی سے معاشرے کے کچھ صاحب عقل افراد ان کی غلط باتوں کو بے نقاب کر کے عوام کو حقیقت سے آگاہ کر تے رہتے ہیں، جس سے ان کے اثر و رسوخ میں کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ حضرات کبھی اپنے ناقدین پر کفر کا فتویٰ صادر کرتے ہیں توکبھی اپنے پیروکاروں کو ان کے خلاف بدزبانی پر اکساتے  نظر آتےہیں۔

ان کے اس جارحانہ رویے کے پیچھے کئی محرکات ہیں۔ پہلی یہ کہ پچھلے سالوں کے برعکس اس سال ان حضرات میں سے کسی کو بھی  محرم کے ایام میں آسٹریلیا یا یورپ سے کسی قسم کا دعوت نامہ موصول نہیں ہوا، جس کا ان کو بہت رنج ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ عوامی تنقید کے باعث ان کے “کافی” کے نام پر “امداد” مانگنے کا منصوبہ بھی ناکام ہو چکا ہے۔ مزید یہ کہ عوام اب ان اشخاص سے ان کے ذرائع آمدن کے بارے میں بھی سوال کرنے لگے ہیں۔ کیونکہ معاشرے میں ہر شخص کا ذریعۂ آمدن معلوم ہوتا ہے مگر مولوی حضرات کے معاملے میں یہ بات ہمیشہ مبہم رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مذہب کو کاروبار بنا کر پیش کرتے ہیں اور عوام کو کبھی خمس کے نام پرتوکبھی صدقہ کے نام پر لوٹتے ہیں۔

ان کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو برحق پر اور اپنی باتوں کو درست قرار دیتے ہیں، جبکہ اپنے مخالفین کو جھوٹا اور ان کی باتوں کو غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب روشن فکر افراد ایران یا ولایتِ فقیہ کی پالیسی پر سوال اٹھاتے ہیں یا تنقید کرتے ہیں، تو یہ حضرات دلیل سے جواب دینے کے بجائے ان پر امریکہ یا اسرائیل کا ایجنٹ ہونے کا الزام لگا دیتے ہیں۔ اس رویے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ اصل بات اور بحث کو دبایا جائے اور عوام کو یہ باور کرایا جائے کہ جو بھی ان کے نظریات سے اختلاف کرے وہ دشمن طاقتوں کا نمائندہ ہے۔ اس طرح یہ لوگ اپنی کمزورعلمی بنیاد کو چھپانے کے لیے الزام تراشی اور پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہیں۔

ان مولوی حضرات کی ایک اور “خوبی” یہ بھی ہے کہ وہ ہمیشہ آپس میں مضبوط اتحاد قائم رکھتے ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی شخص غلط بات کرے یا اپنے مخالفین پر بے بنیاد الزام عائد کرے، تو بجائے اس کے کہ باقی مولوی اس کی مذمت کریں، وہ اس کی حمایت کرنے لگ جاتے ہیں جن سے انہیں مزید حوصلہ ملتا ہے۔ اس رویے کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ معاشرے پر ان کا  اثر و رسوخ قائم رہے اور عوام ان کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہو ں۔ یوں یہ باہمی تعاون اور یکجہتی کے ذریعے اپنی گرفت کو مضبوط رکھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ معاشرہ ہمیشہ ان کے پاس یرغمال میں رہے۔

عارف چنگیزی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment