
نفرت انگیزی نہیں، جوابدهی کی ضرورت
تحریر: سید عنایت
آج ایک دوست نے سید احمد کاظمی کی ایک ویڈیو شیئر کی۔ اس ویڈیو میں وہ خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے ہزارہ کمیونٹی کے اُن آزاد خیال افراد کے خلاف سخت اور نامناسب زبان استعمال کرتے دکھائی دیتے ہیں جو عرصے سے ان اور دیگر ملاؤں کے نظریات اور طرزِ عمل پر تنقیدی سوالات اٹھاتے آرہے ہیں۔ گالم گلوچ اور اشتعال انگیز گفتگو کے ذریعے سادہ لوح لوگوں کو مخالفین کے خلاف اکسانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ معاشرتی تقسیم کو بھی فروغ دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ہزارہ کمیونٹی کے لبرل اور آزاد خیال حلقے کافی عرصے سے سید احمد کاظمی اور دیگر مذہبی شخصیات سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ذرائع آمدن اور مالی معاملات کے بارے میں عوام کو آگاہ کریں۔ یہ کوئی غیر معمولی مطالبہ نہیں بلکہ شفافیت اور جوابدہی کا ایک بنیادی اصول ہے۔ جو لوگ عوامی اثر و رسوخ رکھتے ہیں، انہیں اپنے مالی معاملات کے بارے میں سوالات کا جواب دینے کے لیے تیار ہونا چاہیے۔
بدقسمتی سے بعض اوقات اصل سوالات کا جواب دینے کے بجائے عوامی توجہ کو نفرت انگیز مباحث، شخصی حملوں اور غیر ضروری منازعات کی طرف موڑ دیا جاتا ہے۔ اس سے نہ صرف اصل مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں بلکہ معاشرے میں نفرت اور انتشار بھی بڑھتا ہے۔
مزید تشویش کی بات یہ ہے کہ سید احمد کاظمی کی بعض دیگر ویڈیوز میں بھی مختلف مسالک اور فرقوں کی مذہبی شخصیات کے بارے میں منفی اور اشتعال انگیز گفتگو دیکھی جا سکتی ہے۔ جدید جمہوری معاشروں میں اگر کوئی شخص عوامی اجتماعات میں ایسی زبان استعمال کرے جو لوگوں کو نفرت، دشمنی یا تشدد کی طرف مائل کرے تو اسے انتہائی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، کیونکہ اظہارِ رائے کی آزادی کے ساتھ سماجی ذمہ داری بھی وابستہ ہوتی ہے۔
عوام کو چاہیے کہ وہ جذبات کے بجائے عقل، تدبر اور تنقیدی سوچ سے کام لیں۔ کسی بھی شخصیت کی باتوں سے متاثر ہو کر نفرت اور دشمنی کو فروغ دینے کے بجائے اصل سوالات پر توجہ دیں۔ اگر مذہبی اور سماجی شخصیات عوامی اعتماد اور احترام کی خواہاں ہیں تو انہیں اپنے ذرائع آمدن، مالی معاملات اور عوامی کردار کے بارے میں شفافیت اختیار کرنی چاہیے۔ ایک مہذب معاشرے میں شخصیات نہیں بلکہ اصول، جوابدہی اور سچائی اہم ہوتے ہیں۔