بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی (1932ء–2004ء) حصہ دوئم ۔۔۔ اسحاق محمدی

بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی (1932ء–2004ء)

حصہ دوئم

تحریروتحقیق:  اسحاق محمدی

خمینی صاحب نے ابتدا میں “نہ شرقی، نہ غربی” کا نعرہ بلند کیا اور بعض پُرجوش انقلابیوں نے “مرکزِ نہضت ہائے اسلامی” (اسلامی تحریکوں کا مرکز) قائم کرکے نظامِ ولایتِ فقیہ کو برآمد کرنے کا باقاعدہ منصوبہ بھی بنایا، لیکن بہت جلد انہیں زمینی حقائق کا ادراک ہو گیا۔

چنانچہ بظاہر “مرگ بر امریکا، مرگ بر شوروی” کے نعروں کے باوجود، انہوں نے اپنے مفادات کی خاطر اندرونی سطح پر سوویت یونین کے ساتھ مفاہمت کا راستہ اختیار کیا۔

بدقسمتی سے افغانستان کی ہزارہ قوم اس مفاہمت میں ایک مہرے کے طور پر استعمال ہوئی۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے، جغرافیائی حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 1979ء کے موسمِ سرما میں ہزارہ عوام نے اپنے بل بوتے پر ہزارہ جات کے بیشتر علاقوں کو کابل حکومت کی دسترس سے آزاد کرا لیا تھا۔ بعد ازاں مرحوم بریگیڈیئر چنگیزی کی کوششوں سے ہزارہ جات سے شمالی افغانستان تک ایک محفوظ راستہ بھی قائم ہو چکا تھا۔

ایسے حالات میں ایران نواز تنظیموں کو یہ خدشہ محسوس ہوا کہ سیاسی اور عسکری صورتِ حال ان کے ہاتھ سے نکل سکتی ہے۔ چنانچہ انہوں نے عوامی ذہنیت اور مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تکفیری حربے کا استعمال کیا اور پہلے دسمبر 1982ء تک “اتحادیہ مجاہدین” (تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل) کو “چین نواز کمیونسٹ” قرار دیا، اور پھر خزاں 1984ء تک “شورائے اتفاق” کو “امریکہ نواز” قرار دے کر اس کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔(سول وار اِن ہزارہ جات، ص 7)

اس کے بعد باہمی کشمکش کا کوئی واضح جواز باقی نہیں رہتا تھا، لیکن اس کے باوجود خانہ جنگی اور برادرکشی کا سلسلہ جاری رہا۔

سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر یہ تنظیمیں ناتجربہ کاری یا سیاسی غلط فہمی کے باعث ایسی روش اختیار کر رہی تھیں تو ایران کے لیے انہیں روکنا کوئی بڑا مسئلہ نہیں تھا، کیونکہ ان سب کا انحصار بڑی حد تک ایرانی امداد پر تھا۔ اگر ایران اپنی امداد روک دیتا تو یہ تنظیمیں چند ماہ بھی خانہ جنگی جاری نہ رکھ پاتیں، کیونکہ نہ تو ہزارہ جات میں قیمتی معدنیات کی ایسی کانیں موجود تھیں جو جنگی اخراجات پورے کر سکتیں اور نہ ہی عوام میں ٹیکس ادا کرنے کی مالی استطاعت تھی۔

تاہم ایرانی امداد نہ صرف جاری رہی بلکہ تنظیم سازی کا عمل مزید تیز ہو گیا۔ استاد بصیر دولت آبادی کے مطابق ایک وقت ایسا بھی آیا جب ایران نواز تنظیموں کی تعداد ساٹھ سے تجاوز کر گئی۔ حالانکہ خود ایران میں ابتدا میں صرف ایک سیاسی جماعت، “حزبِ جمہوری اسلامی”، کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی گئی تھی، اور بعد میں اسے بھی خلافِ مصلحت سمجھتے ہوئے محدود کر دیا گیا۔

یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ ایران، جہاں شرحِ خواندگی نسبتاً بلند تھی، وہاں تو سیاسی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کی گئیں، لیکن ہزارہ جات جیسے پسماندہ اور کم شرحِ تعلیم والے خطے میں درجنوں مسلح تنظیموں کی تشکیل کیوں ممکن بنائی گئی؟

مصنف کے نزدیک اس کا جواب واضح ہے، اور ان کے مطابق اب بہت سے ہزارہ دانشور بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ایرانی نظامِ ولایتِ فقیہ نے اپنے مفادات کے تحت سوویت یونین کے ساتھ مفاہمت کرتے ہوئے ہزارہ عوام کے درمیان متعدد جماعتوں کے قیام کی حوصلہ افزائی کی، اور ان کے مذہبی جذبات سے فائدہ اٹھا کر انہیں خانہ جنگی کی طرف دھکیل دیا، تاکہ سوویت یونین اور کابل حکومت کے لیے ایک نسبتاً پُرسکون محاذ برقرار رہے، جو پہلے ہی جنوبی اور مشرقی محاذوں پر شدید دباؤ کا شکار تھے۔

یاد رہے کہ اس نوعیت کی ایک مفاہمت روس نے کمانڈر احمد شاہ مسعود کے ساتھ بھی کر رکھی تھی۔ ان دونوں مفاہمتوں میں بنیادی فرق یہ تھا کہ روس۔احمد شاہ مسعود مفاہمت میں دونوں فریق مستفید ہو رہے تھے، جبکہ روس۔ایران مفاہمت میں بھی دونوں فریق فائدہ اٹھا رہے تھے، مگر اس کی قیمت ہزارہ قوم کو ادا کرنا پڑی۔

اس نظریے کو مزید تقویت اس حقیقت سے بھی ملتی ہے کہ بظاہر کمیونزم اور سوویت قبضے کے خلاف قائم ہونے والی ان درجنوں ایران نواز اسلامی جہادی تنظیموں نے کبھی سوویت افواج یا کابل حکومت کے خلاف مؤثر جنگ نہیں لڑی، بلکہ ان کی زیادہ تر توانائیاں باہمی تصادم اور خانہ جنگی میں صرف ہوتی رہیں۔ مصنف کے مطابق ان تنظیموں کے اس طرزِ عمل پر ایرانی قیادت، حتیٰ کہ خود امام خمینی یا دیگر اعلیٰ مذہبی شخصیات کی جانب سے کوئی مؤثر اعتراض سامنے نہیں آیا۔

یہ حقیقت پیشِ نظر رہنی چاہیے کہ اُس زمانے میں ہزارہ جات ایک بڑی سیاسی اور عسکری قوت بننے کی صلاحیت حاصل کر رہا تھا، جسے نظرانداز کرنا نہ سوویت یونین کے لیے ممکن تھا اور نہ کابل حکومت کے لیے۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1982ء کے اواخر تک صرف اتحادیہ مجاہدین ہی تقریباً 30 ہزار چھوٹے اور درمیانے درجے کے ہتھیار (رائفلیں، کلاشنکوف، راکٹ لانچر، دشکہ مشین گنیں اور چھوٹی توپیں وغیرہ) ہزارہ جات پہنچا چکی تھی، جبکہ ایران صرف 200 عدد ایم-1 رائفلیں فراہم کر سکا تھا (ہزارہ و ہزارستان، ص 215، 229)۔ اس کے علاوہ شورائے اتفاق کو ملنے والی امداد الگ تھی۔

واضح تھا کہ عسکری امداد کے اعتبار سے ایران نواز تنظیمیں پاکستانی حمایت یافتہ تنظیموں کا مقابلہ نہیں کر سکتی تھیں، لہٰذا مصنف کے مطابق انہوں نے تکفیری فتووں اور نظریاتی الزامات کا سہارا لیا۔ اس موضوع پر راقم کا ایک الگ مضمون اظہار ڈاٹ نیٹ پر موجود ہے، جس میں اس مسئلے کی مزید تفصیل بیان کی گئی ہے۔

آیت اللہ منتظری کے سیاسی زوال کے بعد شیخ علی یاور افتخاری کا اثر و رسوخ بھی بتدریج کم ہوتا گیا۔ ان کی نہضت پارٹی مختلف دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ جاغوری شاخ ایک ایسے شخص کے زیرِ اثر چلی گئی جس پر قتل، اغوا برائے تاوان اور دیگر سنگین جرائم کے الزامات عائد کیے جاتے رہے۔ بعد ازاں شیخ افتخاری اسلام آباد منتقل ہو گئے اور نسبتاً گوشہ نشین زندگی اختیار کر لی۔

2009ء کے دوران گلستان ٹاؤن، کوئٹہ کے ہاکی اسٹیڈیم کے قریب واقع ایک بنگلے کے بارے میں یہ کہا جاتا تھا کہ وہ شیخ افتخاری کی ملکیت ہے۔

انقلابِ ثور کی حمایت یا مخالفت کے بارے میں صرف اتنا عرض کرنا مناسب ہوگا کہ افغانستان اور بعد ازاں ایران میں اسلامیت کی جو طاقتور لہر اٹھی تھی، اس کے سامنے بند باندھنا کسی کے لیے آسان نہیں تھا، خصوصاً ہزارہ قوم کے لیے۔ البتہ یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ اس صورتِ حال سے زیادہ بہتر انداز میں فائدہ اٹھایا جا سکتا تھا، مگر ایران میں اسلامی نظام کے قیام نے حالات کو ایک مختلف سمت دے دی۔

اگر ایران میں رضا شاہ کے طرز کی کوئی سیکولر حکومت، یا کوئی اور غیر مذہبی سیاسی نظام موجود ہوتا، تو ممکن ہے کہ ہزارہ قوم نسبتاً زیادہ فائدے میں رہتی، کیونکہ اس صورت میں مغربی ممالک ایران اور پاکستان، دونوں کے ذریعے افغان عوام کی مدد کرتے۔ مزید برآں، ہزارہ سیاسی قیادت نسبتاً تجربہ کار اور اعتدال پسند شخصیات کے ہاتھ میں ہوتی، بجائے اس کے کہ وہ زیادہ تر ناتجربہ کار اور جذباتی انقلابی مذہبی قیادت کے زیرِ اثر آ جاتی۔

نوٹ:

اس مضمون کی تیاری میں ذاتی مشاہدات اور یادداشتوں کے علاوہ جناب بصیر احمد دولت آبادی کی کتاب “احزاب و جریان‌های سیاسی افغانستان” (قم، 1992ء)، ڈاکٹر نعمت اللہ ابراہیمی کے تحقیقی مقالے “سول وار اِن ہزارہ جات” (2009ء)، مختلف آن لائن غیر مطبوعہ مواد، اور مرحوم محمد عیسیٰ غرجستانی کی کتاب “ہزارہ و ہزارستان” (کوئٹہ، 1989ء) سے خصوصی استفادہ کیا گیا ہے۔

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment