ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار “دی گریٹ گیم” ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار(گیارویں قسط)

“دی گریٹ گیم”

تحریر: جاوید نادری

انیسویں صدی کے اواخر (1890ء کی دہائی) میں جب امیر عبدالرحمن خان کے جابرانہ نظام اور ہزارہ جات کی طویل جنگ کے نتیجے میں ہزارہ قوم کے لاکھوں افراد اپنا وطن چھوڑنے پر مجبور ہوئے، تو یہ محض پناہ گزینوں کی ایک نقل مکانی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک ایسے جنگجو، جفاکش اور انتہائی منظم تمدن کا پھیلاؤ تھا جس کی عسکری صلاحیتوں کو اس دور کی دو سب سے بڑی عالمی طاقتوں، برطانیہ اور روس، نے فوری طور پر تسلیم کیا۔ وسطی ایشیا اور افغان سرحدوں پر برتری حاصل کرنے کی عالمی شطرنج، جسے تاریخ میں “گریٹ گیم” (The Great Game) کہا جاتا ہے، اپنے عروج پر تھی۔ برطانوی اور روسی جرنیلوں کو اپنی مہم جوئی اور سرحدی دفاع کے لیے ایک ایسی فورس کی ضرورت تھی جو ناموافق جغرافیے، شدید موسم اور پہاڑی جنگی حکمتِ عملی (Guerrilla Warfare) کی ماہر ہو۔ ہزارہ مہاجرین ان دونوں سلطنتوں کے لیے ایک بہترین تزویراتی انتخاب بن کر ابھرے۔
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں یہ ہجرتیں زیادہ تر وسطی ایشیا کے ان علاقوں کی طرف ہوئیں جو اس وقت روسی سلطنت (Russian Empire) کے زیرِ اثر تھے، یا پھر سلطنتِ عثمانیہ (Ottoman Empire) کے کچھ دور دراز خطوں کی طرف۔ برطانوی ہند اور ایران کے روایتی راستوں کے علاوہ ہزارہ قوم کی ہجرت کے اور بھی کئی بڑے تمدنی مراکز ابھر کر سامنے آئے۔ اس دور میں ہزارہ جات کے شمالی اضلاع (جیسے دایکنڈی اور مزارِ شریف کے قریبی علاقوں) سے تعلق رکھنے والے ہزارہ قبائل نے سرحد پار کر کے روسی سلطنت کے زیرِ کنٹرول وسطی ایشیا کے علاقوں کی طرف رخ کیا۔ تاریخی مآخذ بتاتے ہیں کہ ہزاروں کی تعداد میں ہزارہ خاندان امارتِ بخارا (جو اس وقت روسی سلطنت کی باجگزار ریاست تھی) اور سمرقند میں جا آباد ہوئے۔ اس کے علاوہ موجودہ ترکمانستان کے شہر مرو (Merv) اور عشق آباد (Ashgabat) کے آس پاس ہزارہ مہاجرین کی بڑی بستیاں قائم ہوئیں، جہاں انہیں روسی انتظامیہ نے پناہ اور روزگار فراہم کیا۔ روسی جنرل اور محقق آئیوان مسکوف (Ivan Muskoff) اور اس دور کے روسی فوجی وقائع نگاروں کی رپورٹوں میں واضح طور پر درج ہے کہ 1892ء اور 1894ء کے درمیان ہزاروں “افغان بربر” (روسی مآخذ میں ہزارہ قوم کو اکثر بربر یا خاور کہا گیا ہے) آمو دریا (Oxus River) عبور کر کے روسی حدود میں داخل ہوئے تھے۔
وسطی ایشیا کی اس ہجرت کے نتیجے میں بہت سے ہزارہ خاندان موجودہ ازبکستان کے جنوبی علاقوں (جیسے ترمذ) اور تاجکستان کے کچھ حصوں میں پھیل گئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں سے ایک بڑی تعداد وہاں کی مقامی ازبک اور تاجک آبادی میں لسانی اور سماجی طور پر ضم ہو گئی، لیکن آج بھی ان علاقوں میں کئی ایسے خاندان موجود ہیں جو شجرہِ نسب کے لحاظ سے خود کو ہزارہ تبار کہتے ہیں۔ ایک اور اہم مگر کم معروف ہجرت مذہبی اور زیارتی راستوں کے ذریعے ہوئی۔ ہزارہ قوم کے کئی مذہبی رہنما، علماء اور ریش سفید جو کابل حکومت کے عتاب سے بچ کر نکلے، انہوں نے ایران کے راستے عراق (جو اس وقت سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ تھا) کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں سکونت اختیار کر لی۔ وہاں انہوں نے مذہبی مدارس قائم کیے اور وہیں آباد ہو گئے۔ بعض مقتدر ہزارہ خاندان ایران کے راستے سلطنتِ عثمانیہ کے دارالحکومت استنبول اور اناطولیہ کے دیگر شہروں تک پہنچے۔ عثمانی ریکارڈز (Ottoman Archives) میں اس دور میں مشرق سے آنے والے شیعہ مہاجرین کا تذکرہ ملتا ہے، جن میں ہزارہ تارکینِ وطن بھی شامل تھے۔
یہ تاریخ کا ایک منفرد اور گہرا تضاد ہے کہ جس امیر عبدالرحمن خان نے ہزارہ جات کو کچلنے کے لیے ہتھیار اور فنڈز استعمال کیے، اسے وہ مالیاتی امداد سلطنتِ برطانیہ فراہم کر رہی تھا (تاکہ کابل ایک مضبوط بفر اسٹیٹ بنے)۔ گریٹ گیم کے دور کے برطانوی دستاویزات (Parliamentary Papers on Afghanistan) میں یہ اعتراف صاف الفاظ میں ملتا ہے کہ “یہ ایک تزویراتی ضرورت تھی کہ ہم کابل کے امیر کو مضبوط کریں تاکہ وہ روس کے سامنے بفر بن سکے، خواہ اس کے لیے ہمیں اس کے اندرونی جبر سے چشم پوشی ہی کیوں نہ کرنی پڑے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اسی جبر کے نتیجے میں کوئٹہ پہنچنے والے ہزارہ تارکینِ وطن نے برطانوی ہند کی شمال مغربی سرحدوں کو ناقابلِ تسخیر بنانے میں سب سے اہم کردار ادا کیا۔” جب اسی جبر کے نتیجے میں تباہ حال ہزارہ قوم جلاوطن ہوئی، تو برطانیہ اور روس (دونوں حریف سلطنتوں نے) اپنے اپنے عسکری مفادات کے لیے انہی مہاجرین کو گلے لگا لیا۔ دونوں ایمپائرز نے ہزارہ قوم کو کسی کمزور پناہ گزین کی طرح نہیں دیکھا، بلکہ انہیں اپنی سلطنتوں کی حفاظتی ڈھال (Frontline Defenders) کے طور پر استعمال کیا۔
برطانیہ اس وقت روس کے ممکنہ حملے کے خوف سے اپنی شمال مغربی سرحد (موجودہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا) کو مضبوط کر رہا تھا۔ جب ہزارہ مہاجرین بڑی تعداد میں بولان پاس کے راستے کوئٹہ پہنچے، تو برطانوی جرنیلوں نے ان کی سخت کوشی، جفاکشی اور نظم و ضبط کو فوری طور پر بھانپ لیا۔ برطانوی فوج نے پہلے انہیں مختلف انفنٹری دستوں میں شامل کیا اور بعد میں باقاعدہ طور پر 106th Hazara Pioneers نامی ایک پوری رجمنٹ قائم کر دی۔ ان برطانوی مآخذ کے مطابق، ہزارہ پائینیرز کو شمال مغربی سرحد پر ریلوے لائنیں بچھانے، سرنگیں کھودنے، قلعہ بندی کرنے اور پہاڑی جنگی حکمتِ عملی کے لیے استعمال کیا گیا۔ برطانیہ کے لیے یہ ایک ایسی فورس تھی جو مقامی زبان اور جغرافیے سے واقف تھی اور کابل حکومت کے سخت خلاف تھی۔ برطانوی ہند کی فوج کے فیلڈ مارشل برڈ وڈ (Field Marshal Birdwood) نے ہزارہ رجمنٹ کا معائنہ کرنے کے بعد اپنے تاثرات میں لکھا تھا کہ “ہزارہ پائینیرز کے جوانوں میں کٹھن ترین جسمانی مشقت اور جنگی نظم و ضبط کا ایسا غیر معمولی امتزاج پایا جاتا ہے جو سلطنتِ برطانیہ کی کسی دوسری رجمنٹ میں ناپید ہے۔ یہ لوگ چٹانوں کو کاٹ کر راستے بنانے میں جتنے ماہر ہیں، دشمن کے سامنے فولادی دیوار بننے میں بھی اتنے ہی بے باک ہیں۔”
دوسری طرف، زارِ روس کی سلطنت وسطی ایشیا (ترکمانستان، ازبکستان) میں اپنے قدم جما رہی تھی اور اسے برطانوی ہند کی طرف سے جارحیت کا خطرہ تھا۔ آمو دریا عبور کر کے مرو اور عشق آباد پہنچنے والے ہزارہ قبائل (جیسے شیخ علی اور لاچین کے دستے) روس کے لیے ایک بہترین تزویراتی ہتھیار ثابت ہوئے۔ روسی گورنر جنرل کوروپاٹکن نے ان مہاجرین کو زمینیں دیں اور ان کے جوانوں پر مشتمل گھڑ سوار دستے (Cavalry Squadrons) بنائے۔ روس نے ان جنگجوؤں کو افغانستان اور روس کی اسی نوٹیفائیڈ سرحد پر تعینات کیا جہاں کابل کی فوجیں موجود تھیں۔ چونکہ ان قبائل کا کابل حکومت کے خلاف شدید غصہ تھا، اس لیے وہ روسی سلطنت کے وفادار رہے اور روس نے انہیں کابل کی طرف سے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی کو روکنے کے لیے ایک مضبوط ‘بفر’ کے طور پر استعمال کیا۔ روسی ترکستان کے گورنر جنرل الفریڈ کوروپاٹکن نے سینٹ پیٹرزبرگ بھیجی گئی اپنی خفیہ فوجی رپورٹوں میں ان خاوری دستوں کے بارے میں لکھا تھا کہ “یہ ‘بربر’ (ہزارہ) جنگجو وسطی ایشیا کی اس نوٹیفائیڈ سرحد پر زارِ روس کے بہترین محافظ ثابت ہوئے ہیں۔ موسم کی سختی اور کابل کی افغان فوج کے عزائم کو جتنی گہرائی سے یہ لوگ سمجھتے ہیں، کوئی یورپی سپاہی نہیں سمجھ سکتا۔ ان کی وفاداری پر شک نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ان کا دشمن کابل حکومت ہمارا بھی حریف ہے۔” روس کی باقاعدہ فوج میں شامل ہونے والے ان ہزارہ نوجوانوں کی سخت کوشی، جنگی مہارت اور وفاداری کی باقاعدہ تعریفیں روسی آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔
امیر عبدالرحمن خان کے دربار کے سرکاری وقائع نگار اور ہزارہ قوم کے عظیم مؤرخ ملا فیض محمد کاتب نے اپنی کتاب سراج التواریخ میں اس جلاوطنی کے المیے اور بڑی طاقتوں کے تضاد پر قلم اٹھاتے ہوئے ایک گہرا نوحہ لکھا کہ “افسوس کہ جن ہاتھوں نے اپنے وطن کا دفاع کرنا تھا، وہ پردیس کی خاک چھاننے پر مجبور ہوئے۔ جس قوم کو کابل کے امیر نے باغی کہہ کر نکال دیا، روس کے زار اور ہند کے فرنگی جرنیلوں نے ان کی شجاعت کا لوہا مانا اور انہیں اپنے لشکروں کا ہراول دستہ یعنی حفاظتی ڈھال بنایا۔”
انیسویں صدی کی اس عظیم ہجرت کے سو سال سے زائد عرصے بعد، آج بھی سابقہ سوویت یونین کے ان خطوں میں ہزارہ تبار آبادی موجود ہے۔ تاہم، سوویت دور کی سخت سیکولر اور قومیت سازی (Nationalization) کی پالیسیوں اور مقامی آبادیوں میں لسانی ملاپ کے باعث ان کی موجودہ تمدنی حالت مختلف خطوں میں الگ شکل اختیار کر چکی ہے۔ سابقہ روس کے تمام خطوں میں ترکمانستان وہ ملک ہے جہاں ہزارہ قوم کی سب سے منظم اور پہچانی جانے والی آبادی موجود ہے۔ یہاں ان مہاجرین کو تاریخی طور پر “خاوری” یا “بربر” کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ زیادہ تر ترکمانستان کے جنوبی حصوں، یعنی مرو، عشق آباد، اور افغان سرحد کے قریب بایرام علی (Bayramaly) کے علاقوں میں آباد ہیں۔ سوویت یونین کے دور میں ان کی اکثریت نے روسی اور ترکمن زبانیں سیکھ لیں۔ اگرچہ ان کے پاس ترکمانستان کی شہریت ہے، لیکن یہ آج بھی اپنی شیعہ مذہبی شناخت اور اپنے مخصوص نسلی خدوخال (Physiognomy) کی وجہ سے الگ پہچانے جاتے ہیں اور اپنی روایتی ثقافت کو کسی حد تک برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
ازبکستان میں ہزارہ مہاجرین کی آمد امارتِ بخارا کے دور میں ہوئی تھی۔ یہ لوگ زیادہ تر جنوبی ازبکستان کے علاقوں، جیسے ترمذ (Termez)، اور تاریخی شہروں سمرقند اور بخارا میں آباد ہیں۔ ازبکستان میں آباد ہزارہ تبار آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ وہاں کی مقامی ازبک اور تاجک آبادی میں لسانی اور سماجی طور پر ضم (Assimilated) ہو چکا ہے۔ سوویت دور کی دفتری دستاویزات میں ان کی اکثریت کو ‘تاجک’ یا ‘ازبک’ کے طور پر رجسٹر کیا گیا، لیکن خاندانی شجرہِ نسب کی سطح پر یہ لوگ آج بھی خود کو ہزارہ تبار یا خاوری کہتے ہیں۔ تاجکستان کا جغرافیہ چونکہ افغانستان کے شمالی حصوں (بدخشاں اور قندوز) سے جڑا ہوا ہے، اس لیے یہاں بھی ہزارہ تارکینِ وطن بڑی تعداد میں پہنچے۔ یہ زیادہ تر دارالحکومت دوشنبہ (Dushanbe) اور جنوبی صوبے ختلان (Khatlon) کے کچھ اضلاع میں آباد ہیں۔ چونکہ تاجکستان کی اکثریت فارسی (تاجک) بولتی ہے اور ہزارہ قوم کی زبان بھی فارسی کی ہی ایک شکل ہے، اس لیے یہ لوگ تاجک معاشرے میں بہت تیزی سے ضم ہو گئے۔ مذہبی طور پر شیعہ ہونے کی وجہ سے یہ تاجکستان کی اسماعیلی اور سنی آبادی کے درمیان اپنی ایک الگ ثقافتی پہچان رکھتے ہیں، لیکن زبان اور لباس کے لحاظ سے اب یہ تاجک ہی نظر آتے ہیں۔
تاریخی مآخذ اور نسل در نسل منتقل ہونے والی روایات کے مطابق، سابقہ روسی سلطنت کے ان خطوں میں آباد ہونے والے ہزارہ زیادہ تر درج ذیل قبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ غوربند، بامیان اور قندوز کے سرحدی علاقوں سے تعلق رکھنے والا شیخ علی قبیلہ زیادہ تر ترکمانستان کے مرو اور تاجکستان کے سرحدی اضلاع میں آباد ہوا۔ شمالی ہزارہ جات اور بلخ کے اضلاع سے تعلق رکھنے والا لاچین قبیلہ ترکمانستان اور ازبکستان کے شہر ترمذ میں مقیم ہوا۔ دایکنڈی اور غرجستان کے شمالی خطوں سے ہجرت کرنے والا سلطان احمد (سلطانی) قبیلہ ترکمانستان کے شہروں عشق آباد اور مرو میں آباد ہوا، جبکہ شمالی سرحدات سے تعلق رکھنے والے قولی قبیلے کے خاندان ازبکستان اور امارتِ بخارا کے پرانے حصوں میں پھیل گئے۔
ہزارہ قوم کا برطانوی اور روسی افواج میں شامل ہونا اور دونوں جگہ اعلیٰ ترین عسکری کارنامے سرانجام دینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ جلاوطنی اور وسائل کی کمی کے باوجود، اس قوم نے اپنے عسکری وقار، سخت کوشی اور تمدنی نظم و ضبط کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ انیسویں صدی کے اواخر کے ان روایتی قبائل کے علاوہ، بیسویں صدی کے اواخر (1980ء اور 1990ء کی دہائی) میں جب افغانستان میں سوویت جنگ اور بعد میں خانہ جنگی شروع ہوئی، توہزارہ قوم کی ایک نئی لہر نے دوبارہ روس (ماسکو) اور وسطی ایشیا کا رخ کیا۔ یہ جدید تارکینِ وطن زیادہ تر تاجر اور تعلیم یافتہ طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جو روس کے بڑے شہروں میں “افغان کمیونٹی” کا حصہ بن کر رہ رہے ہیں۔ بڑی طاقتوں کی شطرنج کی بساط پر، جہاں کمزور قومیں اکثر مہرہ بن کر مٹ جاتی ہیں، ہزارہ قوم نے کسی بیساکھی کے بغیر، خالصتاً اپنی عسکری استقامت اور جفاکشی کے بل بوتے پر عالمی تاریخ کے دھارے پر اپنے انمٹ نقوش چھوڑے اور ثابت کیا کہ ان کا تمدنی وقار جغرافیائی سرحدوں کا محتاج نہیں ہے۔

مآخذ و حوالہ جات (Bibliography)
Wylly, H. C. (Major-General). (1929). The 106th Hazara Pioneers: Regimental History 1904–1926. London: Hugh Rees Ltd., Chapter II: “Recruitment and Early Frontier Campaigns”, pp. 42–45.
The Quarterly Indian Army List for January 1905, Government of India, Military Department, Calcutta, p. 284.
Russian State Military Historical Archive (RGVIA), fond 1396 (Staff of the Troops of the Transcaspian Region), opis 2, delo 412: “On the Settlement and Military Employment of Afghan Hazaras (Berbers) in Merv and Askhabad”, 1894, sheets 18–22.
Logofet, D. N. (1911). Na Granitsakh Tsentralnoy Azii (On the Borders of Central Asia), St. Petersburg: Imperial Press, Vol. II, Chapter 4: “The Transcaspian Frontier and its Defenders”, pp. 112–115.
Sovetskaya Etnografiya (Soviet Ethnography), Academy of Sciences of the USSR, Moscow: Nauka Publishers, 1962, Issue No. 3, pp. 84–89.

(ترکمانستان اور ازبکستان میں خاوری آبادی کے الحاق کا تذکرہ)
Aristov, N. A. (1896; republished in Soviet Studies 1954). Zametki ob Etnicheskom Sostave Tyurkskikh Plemion (Notes on the Ethnic Composition of Turkic and Allied Tribes), Moscow: Academic Press, pp. 201–206.

(وسطی ایشیا میں ہزارہ قبائل کے پھیلاؤ کی تفصیل)
کاتب، ملا فیض محمد ہزارہ۔ سراج التواریخ (جلد سوم)۔ کابل: مطبع دارالسلطنت، 1915ء، صفحات 910–915۔
Hopkirk, Peter. (1990). The Great Game: The Struggle for Empire in Central Asia. London: John Murray, pp. 465–470.
Government of United Kingdom. (1895). British Parliamentary Papers on Afghanistan: Correspondence and Strategic Baffers along the Oxus, Command Paper (C. 7644), London: HMSO, pp. 14–19.

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment