بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی (1932ء–2004ء) ۔۔۔ اسحاق محمدی

بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی (1932ء–2004ء)

تحقیق و تحریر: اسحاق محمدی

(حصہ اول)

بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی 1932ء میں کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد خداداد خان کا تعلق بہسود، ہزارہ جات سے تھا، جو امیر عبدالرحمن خان کی ہزارہ نسل کش پالیسی سے بچنے کے لیے برطانوی ہند ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے تھے اور بعد ازاں ہزارہ پائنیر سے وابستہ ہو گئے تھے۔

بریگیڈیئر چنگیزی نے خالصہ اسکول (اسپیشل ہائی اسکول) میں تعلیم حاصل کی۔ 1954ء میں آرمی میں کمیشن حاصل کیا۔ آپ پاکستان بننے کے بعد پاکستانی ہزارہ برادری کی اس پہلی نسل سے تعلق رکھتے تھے جنہوں نے پاکستان آرمی میں بطور افسر شمولیت اختیار کی۔

مغل تاریخ اور بالخصوص ہزارہ تاریخ پر ان کا وسیع مطالعہ تھا۔ بقول خود ان کے:

“طالب علمی کے زمانے سے وہ ان دو شعبوں کی کتابوں کے پیچھے سرگرداں رہتے تھے۔ مغل تاریخ پر کتابیں مل جاتی تھیں لیکن اس دور میں ہزارہ تاریخ پر کتابیں ملنا بے حد مشکل تھا۔ محمد افضل ارزگانی کی کتاب مختصرالمنقول (مطبوعہ 1914ء، کوئٹہ) پہلی دستیاب کتاب تھی، جبکہ الزبتھ بیکن کی تحریریں بھی کہیں نہ کہیں سے مل جاتی تھیں۔”

ان دستیاب ماخذ کی بنیاد پر وہ اور جناب ائیر مارشل شربت علی چنگیزی، ہزارہ کی مغل النسل تھیوری کو قبول کر چکے تھے۔ چنانچہ دونوں نے “چنگیزی” کے لقب کے ساتھ پاکستان آرمی میں شمولیت اختیار کی، جو آج تک قائم ہے۔ یعنی ہر ہزارہ، خواہ افسر ہو یا سپاہی، چنگیزی ہی کہلاتا ہے۔

اپنی فطری صلاحیتوں کی بنا پر یہ دونوں ہزارہ افسران پاکستان آرمی کے اعلیٰ عہدوں تک پہنچے۔ جناب ائیر مارشل شربت علی چنگیزی سے زیادہ ملنے جلنے کے مواقع نہیں ملے، لیکن مرحوم بریگیڈیئر چنگیزی کے بارے میں وثوق سے دعویٰ کر سکتا ہوں کہ ریجنل و پاکستانی جیوپولیٹکس، پاکستان و افغانستان کی ڈیموگرافی، اور مختلف احزاب و شخصیات پر انہیں زبردست دسترس حاصل تھی۔

اپریل 1978ء میں انقلابِ ثور کے بعد جب فوجی آمر جنرل ضیاء الحق نے اس انقلاب کے خلاف میدان میں اترنے کا فیصلہ کیا تو اس مقصد کے لیے دو علاقائی ہیڈکوارٹر قائم کیے گئے: پشاور اور کوئٹہ۔ مؤخر الذکر کے انچارج بریگیڈیئر چنگیزی تھے۔

اگرچہ بریگیڈیئر چنگیزی نے پوری ایمانداری اور پیشہ ورانہ انداز میں تمام امور کو آگے بڑھایا، لیکن ان کی، یا پھر ہزارہ قوم کی، بدقسمتی یہ تھی کہ ہزارہ جات کا وسیع علاقہ ان کے حصے میں آیا تھا، جہاں کے لوگوں نے جغرافیائی حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 1979ء کے موسمِ سرما میں کابل حکومت کے خلاف بغاوت کر دی اور ہزارہ جات کے بیشتر علاقوں پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئے۔

اس صورتِ حال سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے بریگیڈیئر چنگیزی بہت جلد نہ صرف ہزارہ جات بلکہ افغانستان کے شمالی علاقوں تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، جو پاکستانی مفادات کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی تھی۔ تاہم افغانستان کی بالادست قومیتوں کی جماعتوں، خواہ مذہبی ہوں یا قومی، کو ان کے کام کرنے کے انداز سے شدید اختلاف تھا۔ دراصل وہ یہ نہیں چاہتی تھیں کہ افغانستان کی ہزارہ قوم کو پاکستان سے براہِ راست امداد ملے۔ ان کی خواہش تھی کہ یہ امداد ان کے توسط سے ہزارہ قوم تک پہنچے تاکہ وہ ماضی کی طرح انہی کے دست نگر رہیں۔

اس ضمن میں گلبدین حکمتیار اور ان کی جماعت حزبِ اسلامی پیش پیش تھی۔ چنانچہ اوائل ہی سے مرحوم بریگیڈیئر چنگیزی کے خلاف آوازیں بلند ہونے لگیں۔

فروری 1979ء میں ایران میں اسلامی انقلاب آنے کے بعد اگرچہ نئے انقلابی ملاؤں کو حکومت پر اپنی گرفت مضبوط کرنے میں کافی وقت لگا، لیکن اس انقلاب کے پُرجوش حامی افغانستانی ہزارہ ملاؤں نے 1980ء کے وسط تک ہزارہ جات میں خمینی طرزِ ولایتِ فقیہ حکومت قائم کرنے کے لیے “جبهۂ آزادی بخش انقلاب اسلامی” کے نام سے ایک گروپ قائم کر لیا اور محدود پیمانے پر ایرانی امداد حاصل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے۔

لیکن اصل مسئلہ یہ امداد ہزارہ جات تک پہنچانے کا تھا۔ ان کے پاس ایک راستہ ہرات سے ہو کر ہزارہ جات جاتا تھا، جو نہایت طویل اور پُرخطر تھا، جبکہ دوسرا راستہ پاکستان، تفتان، بادینی/قمرالدین کاریز کے ذریعے ہزارہ جات تک پہنچتا تھا۔ یہ وہ راستہ تھا جسے مرحوم بریگیڈیئر چنگیزی نے خاصی کوششوں کے بعد کھولا تھا، اور جس کے ذریعے امداد بلا روک ٹوک ہزارہ جات اور افغانستان کے شمالی علاقوں تک پہنچ جاتی تھی۔ حالانکہ اس سے پہلے عام حالات میں اس علاقے سے کسی ہزارہ باشندے کا گزرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔

اس حوالے سے شادروان محمد عیسیٰ غرجستانی لکھتے ہیں:

«برگیـدر خادم حسین چنگیزی به‌خاطر گشودن دروازه‌ی کمک‌ها به هزارستان، بر گردن تمام هزاره‌ها حق دارد.»

یعنی:

“بریگیڈیئر خادم حسین خان چنگیزی ہزارہ جات کے لیے امدادی راستے کھولنے کی وجہ سے پوری ہزارہ قوم پر ایک بڑا حق رکھتے ہیں۔”

(ہزارہ و ہزارستان، ص 215)

نئی تشکیل شدہ جبهۂ آزادی بخش انقلاب اسلامی کے رہنماؤں نے ایرانی حکام کی مدد سے اسلام آباد سے رابطہ کیا۔ متعدد ملاقاتوں کے بعد طے پایا کہ امدادی سامان متعلقہ پاکستانی حکام کے حوالے کیا جائے گا اور اسے بادینی کے مقام پر وصول کیا جائے گا۔

بادینی میں سامان وصول کرنے اور اسے ہزارہ جات پہنچانے کے بعد ان ایران نواز ملاؤں نے مرحوم بریگیڈیئر چنگیزی کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا ایک بھرپور سلسلہ شروع کر دیا۔ اس مہم میں جامعہ امامیہ کے اُس وقت کے پرنسپل اور جبهۂ آزادی بخش میں شامل “نہضت پارٹی” کے بانی شیخ علی یاور افتخاری نمایاں کردار ادا کر رہے تھے۔

دراصل افتخاری اور دیگر ایران نواز ملاؤں کو اندازہ ہو چکا تھا کہ وہ عملی میدان میں پاکستان نواز جماعتوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ چنانچہ انہوں نے حالات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے تکفیر کے ہتھیار کو استعمال کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

اس امر کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اتحادیہ اسلامی کو ملنے والے ہزاروں چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے مقابلے میں ان ملاؤں کے اتحاد کو ایران کی جانب سے ملنے والی امداد نہایت محدود تھی۔

شیخ علی یاور افتخاری، آیت اللہ منتظری کے داماد تھے، جو اُس زمانے میں امام خمینی کے متوقع جانشین سمجھے جاتے تھے اور نئی انقلابی حکومت میں غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتے تھے۔ افتخاری نے اسی اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے بعض اعلیٰ ایرانی حکام کے ذریعے جنرل ضیاء الحق تک بریگیڈیئر چنگیزی کے خلاف شکایات پہنچائیں۔ دوسری طرف گلبدین حکمتیار سمیت بعض پشتون جماعتوں اور شخصیات کی شکایات بھی پہلے ہی اعلیٰ حکام تک پہنچ چکی تھیں۔

چنانچہ جنرل ضیاء الحق نے بریگیڈیئر چنگیزی کو اس کلیدی عہدے سے ہٹا کر کمشنر افغان ریفیوجیز کے منصب پر تعینات کر دیا۔

نئے انچارج نے بہت جلد حکمتیار اور ان کے ہمنواؤں کی رائے کو قبول کرتے ہوئے ایک طرف پاکستان نواز ہزارہ تنظیموں، یعنی اتحادیہ مجاہدین اور شورائے اتفاق، کو براہِ راست امداد دینا بند کر دیا اور انہیں پشاور میں مقیم افغان مسلح تنظیموں سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا، جبکہ دوسری طرف ایران نواز تنظیموں کی پاکستان کے راستے افغانستان تک رسائی پر بھی مکمل پابندی عائد کر دی۔

اس پابندی کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی جاتی تھی کہ امدادی سامان کی آڑ میں دراصل خمینی ازم سے متعلق تشہیری مواد زیادہ مقدار میں بھیجا جا رہا تھا۔ اس نقطۂ نظر کی تائید بعض ہزارہ مآخذ، عوامی روایات اور متعدد محققین نے بھی کی ہے۔ اس ضمن میں فرانسیسی محقق اولیور روا کی کتابیں بالخصوص مطالعے کے قابل ہیں۔

مجھے یہ تمام واقعات اس لیے بخوبی یاد ہیں کہ اس زمانے میں، میٹرک مکمل کرنے کے بعد، میں جامعہ امامیہ میں بطور طالب علم داخل ہوا تھا۔ اُس وقت جامعہ امامیہ نہضت پارٹی کے ایک اہم مرکز میں تبدیل ہو چکا تھا، جہاں ایران اور افغانستان سے اس جماعت کے اعلیٰ رہنماؤں اور وابستگان کی آمد و رفت مسلسل جاری رہتی تھی۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ بریگیڈیئر چنگیزی کے تبادلے پر وہاں موجود افراد ایک دوسرے کو اس انداز سے مبارکباد دے رہے تھے، گویا ان کے راستے کی ایک بڑی رکاوٹ دور ہو گئی ہو۔

لیکن اگر حقیقت کی نظر سے دیکھا جائے تو اس تبدیلی کے نتیجے میں ہزارہ قوم کو درج ذیل ناقابلِ تلافی نقصانات برداشت کرنا پڑے:

الف۔ پاکستان سے براہِ راست امداد بند ہو گئی، جس کے نتیجے میں ایران نواز تنظیمیں زیادہ طاقتور ہو گئیں اور ایران کو یکطرفہ طور پر ہزارہ قوم کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کا موقع مل گیا۔

ب۔ افغانستان کی ہزارہ قوم بین الاقوامی دنیا سے تقریباً الگ تھلگ ہو گئی، جس کے اثرات کسی نہ کسی صورت آج تک محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

ت۔ ایک مایۂ ناز ہزارہ فوجی افسر مزید ترقی کے مواقع سے محروم ہو گئے، جو پاکستانی ہزارہ قوم کے لیے بھی ایک بڑا نقصان تھا۔

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment