
میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ!
تحریر: اسحاق محمدی
ستمبر 1982ء میں انٹر پاس کرنے کے بعد میں نے مزید پڑھنے سے پہلے جاب کرنے کا پروگرام بنایا تاکہ کچھ پیسے پس انداز کر سکوں۔ اس مقصد کے لیے ادھر اُدھر سے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کہ سرکاری جاب کے لیے تاریخِ پاکستان، تاریخِ اسلام اور کرنٹ افیئرز کے علاوہ ٹائپنگ کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔
مجھے معلوماتِ عامہ کے ضمن میں کوئی دقت نہیں تھی، کیونکہ یزدان خان ہائی سکول کی نمائندگی کرتے ہوئے میں نے آل کوئٹہ انٹر اسکول ذہنی آزمائش مقابلے میں حصہ لیا تھا اور اپنے اسکول کے لیے رنر اپ پوزیشن حاصل کی تھی۔ چنانچہ میں نے اپنے کلاس فیلو اور قریبی دوست زمان ٹھیکیدار کی مدد سے فاطمہ جناح روڈ کی ایک دکان میں ٹائپنگ کی پریکٹس شروع کر دی، جس کے مالک فضل صاحب نہایت اچھے انسان تھے۔
ابھی میں “A Quick Brown Fox” کی پریکٹس کر رہا تھا کہ اسی دوران (1983ء میں) فیڈرل محکمہ ٹیلیفون اینڈ ٹیلیگراف (T&T) میں درخواستیں مطلوب ہونے کا اشتہار آیا۔ میں نے مختلف کیٹیگریز کے لیے درخواستیں جمع کرا دیں۔ چند ہفتوں بعد مجھے ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا۔ جی پی او کے عقب میں واقع ٹی اینڈ ٹی کالونی کے ایک سینٹر میں تحریری ٹیسٹ ہوا، جو میرے خیال میں زیادہ مشکل نہیں تھا۔
ٹیسٹ دینے کے بعد میں دوبارہ اپنی روزمرہ سرگرمیوں میں مصروف ہو گیا، جن میں ٹائپنگ پریکٹس بھی شامل تھی۔ اس وقت میرا معمول تھا کہ شام کے وقت اپنے گھر واقع کوچہ محب ارباب، تالاب خشک سے نکل کر گلی سیٹھ احمد (موجودہ جنت گلی) کے راستے سیٹھ نجف کی دکان، خارتار روڈ نزد کوچہ ڈاکٹر جمعہ مرحوم پہنچ جاتا، جہاں کام کے بعد دوستوں کی بیٹھک لگتی تھی۔
یاد رہے کہ اس بنڈار میں مرحوم صادقو، بابو صادق (ڈپٹی سیکریٹری)، بابو جنت (ایس او)، بابو صفدر، استاد اشرف (سیٹھ نجف کے بھائی)، استاد محمد علی پمبل، استاد محمد حسین سیاہ سمیت کئی دیگر دوست تقریباً روز شامل ہوتے تھے۔ کچھ دوست کیرم بورڈ کھیلتے اور باقی گپ شپ میں مصروف رہتے، جبکہ چائے کا دور بھی چلتا رہتا تھا۔
ایک دن حسبِ معمول میں بنڈار والی دکان کی طرف جا رہا تھا کہ ماسٹر برکت علی کے گھر کے قریب کسی نے آواز دی: “او برار، او برار!” مڑ کر دیکھا تو وہ طالب حسین ہزارہ تھے (شادروان محمد علی باتور کے بڑے بھائی)۔ قریب آ کر دعا سلام کی اور میرا نام پوچھا۔ میں نے بتایا: اسحاق علی۔ پھر انہوں نے پوچھا: “کیا تم نے T&T میں درخواست دی تھی؟” میں نے کہا: “جی ہاں۔”
انہوں نے کہا کہ وہ کئی دنوں سے مجھے تلاش کر رہے تھے۔ پھر جیب سے ایک لفافہ نکال کر کہا: “مبارک ہو، ٹی اینڈ ٹی میں تمہاری جاب لگ گئی ہے!” یہ میرے لیے واقعی ایک بڑی خوشخبری تھی۔ میں نے لفافہ لیتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔
طالب صاحب نے بتایا کہ جوائننگ کا وقت بہت کم ہے، اس لیے اگلے دن صبح 9 بجے تک ان کے دفتر، واقع ٹی اینڈ ٹی جنرل منیجر بلڈنگ نزد گورنر ہاؤس پہنچ جاؤں تاکہ باقی لوازمات، بشمول میڈیکل سرٹیفکیٹ، بروقت مکمل کیے جا سکیں۔
یاد رہے کہ اس زمانے میں ایک فربہ مگر نہایت مہربان ڈاکیہ پورے مہرآباد میں سائیکل پر ڈاک تقسیم کرتا تھا۔ جب اسے میرا درست پتا نہ مل سکا تو اس نے یہ لفافہ طالب ہزارہ صاحب کے حوالے کر دیا کہ مجھے پہنچا دیں (اس زمانے میں کوئٹہ کے لوگ واقعی بہت مخلص تھے)۔
اگلے دن میں نے تمام لوازمات مکمل کر کے طالب ہزارہ صاحب کے حوالے کیے، اور انہوں نے فوری طور پر میری مزید پوسٹنگ کا آرڈر جاری کروا کر مجھے اسی وقت جا کر جوائن کرنے کو کہا۔
ذرا اس دور میں ہزارہ معاشرے کے اعلیٰ اخلاقی معیار پر غور کریں کہ طالب ہزارہ صاحب یہ سب مہربانیاں محض ایک ہم قوم نوجوان کے لیے کر رہے تھے—جو اس وقت ایک عام سی بات تھی، لیکن آج شاید اس کا تصور بھی مشکل ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ اس وقت تک مہرآباد کے گھروں کو نمبر الاٹ نہیں ہوئے تھے اور گلیاں بھی بے نام تھیں، اسی لیے میں نے اپنے پتے میں “علمدار روڈ، مہرآباد، تالاب خشک” جیسا غیر واضح ایڈریس درج کیا ہوا تھا۔
بہرحال، شکر ہے کہ اس وقت تک اکثر محکموں میں نسلی، لسانی اور مذہبی تعصبات، اقربا پروری اور رشوت ستانی کا زہر نہیں پھیلا تھا، جس کی وجہ سے ہر شخص کو اس کی قابلیت کے مطابق نوکری مل جاتی تھی جو کہ آج تقریباً ناممکن ہو چکا ہے، خصوصاً ہزارہ نوجوانوں کے لیے۔
اب ہماری نئی نسل کو بدلتے حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ پہلے اصول تھا: “پڑھو، نوکری ڈھونڈو، شادی کرو اور مزے سے جیو”مگر اب اصول یہ ہے: “پہلے پڑھو، کوئی ہنر سیکھو، پھر کچھ کرو۔”
صرف اسی راستے پر چل کر باعزت زندگی گزاری جا سکتی ہے، بصورت دیگر رسوائی اور ذلت کا سامنا کرنا پڑتا ہے. یہی فطرت کا بے رحم قانون ہے۔
قارئینِ کرام!
میرے نزدیک کوئٹہ میں آباد ہزارہ قوم کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ “نوکری پر انحصار” ہے، ورنہ آزاد مارکیٹ میں کل بھی سینکڑوں مواقع موجود تھے اور آج بھی ہیں۔ تعلیم کے ساتھ مارکیٹ کی طلب کے مطابق کوئی ہنر سیکھیں اور بہتر زندگی گزاریں۔
میں گزشتہ 15 سالوں سے امریکہ میں مقیم ہوں اور پورا یورپ دیکھ چکا ہوں۔ ہر ملک میں صرف چند فیصد لوگ ہی سرکاری ملازمتوں تک پہنچ پاتے ہیں، جبکہ بڑی اکثریت ہنر سیکھ کر باعزت اور خوشحال زندگی گزارتی ہے۔
زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں۔ آسٹریلیا میں ناخواندہ مگر ہنرمند لوگ پلمبنگ، ٹائل فکسنگ، رنگ سازی، بیکری، باربری وغیرہ کے ذریعے بغیر انگریزی جانے اچھی خاصی آمدنی حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ہمارے ہاں ڈگری یافتہ نوجوان بھی بے ہنری کی وجہ سے مشکلات کا شکار ہیں۔
کوئٹہ میں آج بھی تعلیم، صحت، آئی ٹی، اے آئی کے علاوہ ٹیلرنگ، مکینک، باربری، پلمبنگ، رنگ سازی، ترکانی، فوڈ پروسیسنگ، پرنٹنگ، کنسٹرکشن، الیکٹریشن، سولر انرجی وغیرہ میں دونوں جینڈرز کے لیے بے شمار مواقع موجود ہیں۔
اگر ہمارے قومی ادارے کمزور ہیں تو ہونے دیں۔ ہمیں خود آگے بڑھ کر میدان میں آنا ہوگا اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔ افغانستانی ہزارہ آج تعلیم، صحت، سڑک سازی اور ڈیم سازی جیسے منصوبوں میں خود انحصاری کے ساتھ کامیابی حاصل کر رہے ہیں۔
علم اور ہنر کسی کی میراث نہیں۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ وقت کے تقاضوں کے مطابق انہیں سیکھا اور استعمال کیا جائے۔
- ایک تکفیر نامہ اور ہزارہ قوم کی سیاسی تنہائی ۔۔۔ اسحاق محمدی - May 7, 2026
- میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 30, 2026
- ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 22, 2026