ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت”۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار! “سنگر نشینوں کی مزاحمت” ساتویں قسط

تحریر: جاوید نادری

ہزارہ مزاحمت کی تاریخ میں “عام مجاہدین” اور “سنگر نشین” وہ گمنام سپاہی ہیں جنہوں نے کسی باقاعدہ عسکری تربیت یا بیرونی امداد کے اس وقت کی جدید ترین شاہی افواج کا راستہ روکا۔ فیض محمد کاتب اور برطانوی مبصرین جیسے میٹ لینڈ نے ان کی جرات اور تکنیکی مہارت کا واضح نقشہ کھینچا ہے، چونکہ ان کی سپلائی لائنیں کٹی ہوئی تھیں، اس لیے انہوں نے “خود کفالت” کا راستہ اپنایا۔ ان کی طاقت ان کا اپنا تیار کردہ اسلحہ تھا سنگر نشین پہاڑوں کے کچے مال (گندھک اور شورہ) سے خود بارود تیار کرتے تھے۔ برطانوی رپورٹوں کے مطابق، ان کا مقامی بارود معیار میں کابل کے بارود کے برابر یا اس سے بہتر تھا۔ وہ جذائل کے استعمال میں مہارت رکھتے تھے یہ ایک لمبی نالی والی بندوق تھی جس کی مار “رینج” شاہی فوج کی معیاری بندوقوں سے زیادہ لمبی ہوتی تھی۔ عام مجاہدین ان بندوقوں کو اپنی ضرورت کے مطابق ڈھالتے تھے، جس کی وجہ سے وہ دور بیٹھے دشمن کو ٹھیک ٹھیک نشانہ بنانے میں ماہر تھے۔

یہ سنگر نشین “مجاہدین” کسی تنخواہ دار فوج کا حصہ نہیں تھے، بلکہ ان کی تنظیم “سماجی وفاداری و قوم دوستی” پر مبنی تھی۔ ہر علاقے کا جرگہ یہ فیصلہ کرتا تھا کہ کس خاندان سے کتنے جوان محاذ پر جائیں گے۔ یہ ایک طرح کی “قومی جبری بھرتی” (National Conscription) تھی جو رضا کارانہ بنیادوں پر ہوتی تھی۔ خواتین اور بچے سنگر نشینوں تک کھانا اور بارود پہنچانے کا کام کرتے تھے، جس نے اسے ایک ” مقبول عوامی جنگ” بنا دیا تھا۔ وہ رات کے اندھیرے میں شاہی کیمپوں پر حملے کرتے اور سورج نکلنے سے پہلے پہاڑوں میں روپوش ہو جاتے۔ باقاعدہ آمنے سامنے کی جنگ کے بجائے، عام مجاہدین “ہٹ اینڈ رن” (Hit and Run) کی پالیسی پر عمل پیرا تھے۔
کاتب نے سراج التواریخ میں ان “شب خون” مارنے والے گروہوں کی ہیبت کا ذکر کیا ہے جس نے شاہی سپاہ کے اعصاب توڑ دیے تھے۔ ان عام سنگر نشینوں “مجاہدین” کے پیشِ نظر صرف زمین کا دفاع نہیں تھا بلکہ یہ “عزت اور بقا” کی جنگ تھی۔
کاتب کے مطابق، یہ لوگ موت سے بے خوف تھے کیونکہ وہ اسے “شہادت” اور اپنی شناخت کا تحفظ سمجھتے تھے۔ ان کی اسی ثابت قدمی نے امیر عبدالرحمن خان کو یہ اعتراف کرنے پر مجبور کیا کہ “ہزارہ سنگر نشینوں کو شکست دینا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف ہے”۔
ہزارہ سنگر نشینوں کی وہ “جنگی چالیں” جنہوں نے کابل کی باقاعدہ اور تربیت یافتہ فوج کو حیران کر دیا تھا، دراصل ان کے پہاڑی جغرافیے اور محدود وسائل کے بہترین استعمال پر مبنی تھیں۔ فیض محمد کاتب اور برطانوی عسکری مبصرین نے جن مخصوص چالوں کا ذکر کیا ہے ان میں گھات لگا کر حملہ کرنا سنگر نشینوں کی سب سے مہلک چال تھی۔ وہ دشمن کو ایک تنگ درے یا گہری وادی میں آنے کا موقع دیتے تھے۔ جب شاہی فوج کا ہراول دستہ درے کے بیچ میں پہنچ جاتا، تو سنگر نشین اوپر کی چوٹیوں سے اچانک فائرنگ شروع کر دیتے اور ساتھ ہی بھاری پتھر نیچے لڑھکا دیتے۔ نیچے موجود فوج نہ تو آگے بڑھ سکتی تھی اور نہ پیچھے ہٹ سکتی تھی، جس کی وجہ سے وہ ایک “موت کے جال” میں پھنس جاتی تھی۔
کبھی کبھی مجاہدین ایک سنگر سے جان بوجھ کر پیچھے ہٹ جاتے تھے تاکہ دشمن کو یہ تاثر ملے کہ وہ ڈر کر بھاگ گئے ہیں۔
جب شاہی سپاہی خوشی میں اس خالی سنگر پر قبضہ کرنے کے لیے اوپر چڑھتے، تو وہ دراصل ایک ایسے علاقے میں داخل ہو جاتے جہاں دوسرے مخفی سنگروں سے ان پر تین اطراف سے فائرنگ کی جاتی اس طرح کھلے میدان میں دشمن کے سپاہی آسان ہدف بن جاتے، اور سنگر نشین “مجاہدین” دوبارہ اپنے مورچوں پر قابض ہو جاتے۔
بارود کی کمی کو پورا کرنے کے لیے سنگر نشینوں نے ایک قدرتی ہتھیار بھی تیار کر رکھا تھا وہ پہاڑ کی ڈھلوانوں پر بڑے بڑے پتھروں کو لکڑی کے شہتیروں کے سہارے روک کر رکھتے تھے۔ جیسے ہی دشمن کی ٹولی نیچے سے گزرتی، وہ شہتیر ہٹا دیتے اور پتھروں کا ایک مصنوعی سیلاب نیچے کی طرف دوڑ پڑتا۔
یہ چال نہ صرف جانی نقصان پہنچاتی بلکہ دشمن کے گھوڑوں اور خچروں میں ایسی بھگدڑ مچاتی کہ پوری ترتیب بکھر جاتی۔
سنگر نشینوں کے کچھ دستے رات کے وقت دشمن کے کیمپوں میں خاموشی سے داخل ہونے میں ماہر تھے۔ وہ پہرے داروں کو خاموشی سے ختم کرتے اور دشمن کے اصطبل میں جا کر گھوڑوں کی رسیاں کاٹ دیتے یا بارود کے ذخیروں کو آگ لگا دیتے، صبح ہونے تک شاہی فوج کا آدھا ساز و سامان ناکارہ ہو چکا ہوتا اور سپاہی شدید خوف کا شکار ہوتے۔
سنگر نشینوں نے پہاڑوں کی ایک چوٹی سے دوسری چوٹی تک پیغام پہنچانے کے لیے ایک انوکھا نظام وضع کیا تھا۔ وہ مخصوص آوازوں (سیٹیوں یا نعروں) یا رات کے وقت آگ کے الاؤ کے ذریعے پیغام بھیجتے تھے کہ دشمن کس سمت سے آ رہا ہے، اس نظام کی وجہ سے دور دراز کے سنگر نشینوں کو دشمن کی نقل و حرکت کا علم کابل کے جرنیلوں سے بھی پہلے ہو جاتا تھا۔
یہ چالیں ثابت کرتی ہیں کہ ہزارہ سنگر نشین صرف جذباتی جنگجو نہیں تھے، بلکہ وہ پہاڑی جنگ (Mountain Warfare) کے ماہر تھے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک چھوٹی مگر ذہین قوت، اگر اپنے جغرافیے کو ہتھیار بنا لے، تو وہ کسی بھی بڑی طاقت کو برسوں تک الجھائے رکھ سکتی ہے۔
ایک مرتبہ جب شاہی فوج کا ایک بڑا دستہ توپ خانے کے ساتھ ایک تنگ درہ “درہ نایاب” سے گزر رہا تھا تو سنگر نشینوں نے جان بوجھ کر انہیں درے کے وسط تک آنے دیا جہاں مڑنے کی جگہ نہیں تھی پھر اچانک اوپر کی چوٹیوں سے “جذائل” کی فائرنگ شروع ہوئی اور ساتھ ہی پہلے سے تیار رکھے گئے بھاری پتھر نیچے گرا دیے گئے جس کے نتیجے میں شاہی فوج کا توپ خانہ وہیں پھنس کر رہ گیا اور سپاہی اپنے ہی گھوڑوں اور خچروں کے نیچے دب گئے۔ کاتب کے مطابق، اس ایک معرکے نے شاہی جرنیلوں کو کئی ہفتوں تک پیش قدمی سے روک دیا۔

اسی طرح ایک اور دلچسپ واقعہ بھی کافی مشہور ہے، ایک رات جب شاہی فوج ارزگان کے قریب پڑاؤ ڈالے ہوئے تھی، سنگر نشینوں کے ایک چھوٹے دستے نے گھاس کے گٹھوں میں چھپ کر کیمپ کے قریب رسائی حاصل کی۔ انہوں نے اچانک سینکڑوں مشعلیں روشن کیں اور مختلف سمتوں سے ڈھول بجانا اور نعرے لگانا شروع کر دیے۔ شاہی سپاہیوں نے سمجھا کہ ہزارہ قوم کا پورا لشکر ٹوٹ پڑا ہے۔ اندھیرے میں شاہی فوج نے سراسیمگی میں اپنے ہی آدمیوں پر فائرنگ شروع کر دی، جبکہ سنگر نشین خاموشی سے ان کے گھوڑے اور بارود لے کر پہاڑوں میں غائب ہو گئے۔
اس کے علاوہ سنگر نشینوں نے ارزگان جانے والے تمام راستوں پر “اکنامک وارفیئر” (معاشی جنگ) چھیڑ رکھی تھی۔ کابل سے آنے والے رسد کے قافلوں کو ارزگان پہنچنے سے پہلے ہی پہاڑی دروں میں لوٹ لیا جاتا یا تباہ کر دیا جاتا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ شاہی فوج کے سپاہی گھاس اور اپنے گھوڑوں کا گوشت کھانے پر مجبور ہو گئے۔ کاتب لکھتے ہیں کہ “فوج کی حالت ایسی تھی کہ وہ لڑنے کے بجائے صرف زندہ رہنے کی فکر میں تھی”۔ یہ معرکے ثابت کرتے ہیں کہ سنگر نشینوں نے اپنی ذہانت اور جغرافیائی برتری سے ایک ایسی دیوار کھڑی کر دی تھی جسے توڑنے کے لیے امیرِ کابل کو اپنی پوری سلطنت کی طاقت جھونکنی پڑی۔ ان کی ان جنگی چالوں نے ثابت کیا کہ “جذبہ اور زمین” کا اتحاد کسی بھی ٹیکنالوجی سے بڑا ہوتا ہے۔

تاریخی ذرائع سے ان سنگر نشینوں میں دو نام ایسے ابھرتے ہیں جو امیر کابل کے لیے مسلسل درد سر بنے رہے۔ میر محمد شاہ بیگ اور کربلائی کچک۔ ان دونوں کرداروں کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ مزاحمت صرف میر ناصر بیگ یا شادمان خان جیسی بڑی شخصیات تک محدود نہیں تھی، بلکہ یہ ایک پھیلا ہوا نیٹ ورک تھا جس میں میر محمد شاہ بیگ جیسے مدبر اور کربلائی کچک جیسے نڈر عسکری ماہرین شامل تھے۔

میر محمد شاہ بیگ کا تعلق ارزگان کے مقتدر خاندان سے تھا اور وہ میر ناصر بیگ کے قریبی رفقاء اور مشیروں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ارزگان کے ان چیدہ چیدہ خوانین میں سے تھے جنہوں نے 1891-1892 کی جنگوں میں دفاعی اتحاد کی بنیاد رکھی۔ کاتب کے مطابق، وہ نہ صرف ایک جنگجو تھے بلکہ ایک زیرک سفارت کار بھی تھے جو مختلف قبائل کو ایک جھنڈے تلے جمع کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔ جب شاہی افواج نے ارزگان پر یلغار کی، تو میر محمد شاہ بیگ نے دشوار گزار پہاڑی دروں کی حفاظت کی ذمہ داری سنبھالی۔ سراج التواریخ میں ان کے عزم کا تذکرہ ملتا ہے کہ انہوں نے آخری وقت تک تصفیے کے بجائے مقابلے کو ترجیح دی۔ ارزگان کے سقوط کے بعد، میر محمد شاہ بیگ کو بھی دیگر اکابرین کے ساتھ گرفتار کر کے کابل لایا گیا۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور انہیں قید و بند کی سخت صعوبتیں جھیلنی پڑیں، مگر انہوں نے اپنے سیاسی موقف سے انحراف نہیں کیا۔

کربلائی کچک ہزارہ لوک ورثے اور تاریخی ریکارڈ میں ایک “گوریلا جنگجو” کی علامت کے طور پر ابھرتے ہیں۔ ان کا نام شجاعت اور بے خوفی کے لیے ضرب المثل بن چکا ہے۔ کربلائی کچک کا ذکر انیسویں صدی کے آخر میں ہونے والی چھوٹی بڑی جھڑپوں میں ملتا ہے۔ وہ روایتی لشکر کے بجائے “شب خون” (رات کے وقت اچانک حملہ) مارنے کے ماہر مقتدر جنگجو تھے۔ کربلائی کچک کی شخصیت تاریخ اور افسانوی داستانوں کا ایک انوکھا سنگم ہے۔ ہزارہ جات کی زبانی تاریخ انہیں ایک ایسے ‘پراسرار محافظ’ کے طور پر پیش کرتی ہے جس نے ثابت کیا کہ گوریلا جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں بلکہ اعصاب اور ذہانت سے جیتی جاتی ہے۔ ان کی سب سے بڑی کامیابی یہ تھی کہ انہوں نے ایک تربیت یافتہ فوج کو ان کے اپنے ہی محفوظ کیمپوں میں غیر محفوظ کر دیا تھا۔
کربلائی کچک کا جسم اگرچہ کابل کی تاریک زندانوں کی نذر ہو گیا، لیکن ان کا نام تاریخ کی قید سے آزاد ہو کر ہزارہ جات کے پہاڑوں کی گونج بن گیا۔ ان کا انجام یہ ثابت کرتا ہے کہ قابض افواج زمین پر تو قبضہ کر سکتی ہیں، لیکن وہ ان کرداروں کو نہیں مٹا سکتیں جو عوام کے سینوں میں ‘غیرت’ کی علامت بن کر دھڑکتے ہیں۔ آج بھی جب دمبورہ کے تاروں پر ان کی شجاعت کے گیت چھیڑے جاتے ہیں، تو محسوس ہوتا ہے کہ کربلائی کچک ہارے نہیں بلکہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بن گئے ہیں۔

یہ کردار آج بھی ہزارہ قوم کے لیے اس لیے اہم ہیں کہ انہوں نے ایک ایسی ریاست کے خلاف آواز اٹھائی جو ان کی خود مختاری اور شناخت کو مٹانا چاہتی تھی۔ فیض محمد کاتب نے ان کے ناموں کو دستاویزی شکل دے کر انہیں تاریخ میں ہمیشہ کے لیے زندہ کر دیا۔ ہزارہ جات کی زبانی تاریخ (Oral History) میں انہیں ایک ایسے ہیرو کے طور پر یاد کیا جاتا ہے جس نے اپنی چھوٹی سی ٹولی کے ساتھ شاہی فوج کی سپلائی لائنوں کو مفلوج کر دیا تھا۔ اسی لیے ان کی بہادری کے قصے اج بھی دمبورہ کے گیتوں میں محفوظ ہیں۔

ماخذات (Bibliography)
۱. سراج التواریخ (جلد سوم) – فیض محمد کاتب
یہ کتاب ہزارہ مزاحمت کا سب سے بڑا مستند ماخذ ہے۔
سنگر نشینوں کی جرات اور امیر کا اعتراف: صفحات ۸۱۰ سے ۸۱۵ کے درمیان امیر عبدالرحمن خان کے ان خطوط اور بیانات کا ذکر ہے جہاں اس نے ہزارہ سنگر نشینوں کی مزاحمت کو “آہنی دیوار” سے تشبیہ دی۔
درہ نایاب اور ارزگان کے معرکے: صفحات ۹۲۰ سے ۹۳۵ میں ان عسکری چالوں، پتھر لڑھکانے کے واقعات اور شاہی فوج کے توپ خانے کے پھنسنے کا مفصل ذکر موجود ہے۔
میر محمد شاہ بیگ کا تذکرہ: صفحہ ۸۵۶ اور اس کے گرد و نواح میں ارزگان کے اکابرین کی گرفتاری اور میر محمد شاہ بیگ کے سیاسی موقف کا ذکر ملتا ہے۔
شب خون اور نفسیاتی جنگ: صفحات ۱۰۱۲ سے ۱۰۱۸ میں رات کے وقت کیے جانے والے حملوں اور شاہی سپاہ میں پھیلی سراسیمگی کی تفصیلات درج ہیں۔
۲. برطانوی عسکری رپورٹس (Major P.J. Maitland)
میٹ لینڈ کی رپورٹس برطانوی انٹیلیجنس کا حصہ تھیں جو بعد میں “Diary of the Boundary Commission” کا حصہ بنیں۔
جزائل اور مقامی بارود کا معیار: * Reference: “Reports on the Hazara Country” (1888-1891)
اس رپورٹ کے باب نمبر ۴ میں ہزارہ کاریگروں کے تیار کردہ بارود اور “جزائل” کی مار (Range) کا تقابل برطانوی ‘مارٹینی ہنری’ رائفلوں سے کیا گیا ہے۔
گوریلا جنگی چالیں: * Reference: “Military Report on Afghanistan” (Part II)
اس کے سیکشن ‘Hazara Tactics’ میں ان کے دفاعی سنگروں اور پہاڑی ڈھلوانوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا تجزیہ موجود ہے۔
۳. گزٹ آف افغانستان (Gazetteer of Afghanistan)
جغرافیائی دفاع: * Reference: Vol. 4 (Kandahar and South-Central Afghanistan)
صفحہ ۲۷۰ سے ۲۸۵ میں ارزگان کے دشوار گزار راستوں اور “نایاب” جیسے دروں کی عسکری اہمیت بیان کی گئی ہے، جہاں سنگر نشینوں نے شاہی رسد روکی تھی۔
اہم نوٹ:
کربلائی کچک کا ذکر کاتب نے کہیں کہیں اشاروں میں کیا ہے مگر لوک داستانوں میں وہ زیادہ تفصیل سے موجود ہیں۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment