ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ۔۔۔ اسحاق محمدی

ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ!

تحریر:اسحاق محمدی

20 اپریل 2026ء کو افغانستان کے ہزارہ رہنما استاد محمد محقق نے اپنے ایک انٹرویو میں ڈیورنڈ لائن کو پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد قرار دیتے ہوئے کہا کہ:
“ہم موجودہ سرحدات رکھنے والے ملک کو افغانستان سمجھتے ہیں، جس کی تائید اقوامِ متحدہ سمیت تمام علاقائی ممالک بھی کرتے ہیں۔”

قبل ازیں ازبک رہنما رشید دوستم، نیشنل کانگریس کے تاجیک رہنما ڈاکٹر لطیف پدرام اور بہت سے دیگر غیر پشتون افغانستانی رہنما پاک-افغان سرحدی لائن “ڈیورنڈ لائن” کو ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد تسلیم کر چکے ہیں۔ اس حقیقت کی تائید میں معروف افغانستانی صحافی تاج الدین سروش، مورخہ 20 اپریل 2026ء کو افغانستان خبررساں ادارہ “افغانستان انٹرنیشنل” سے اپنے ایک انٹرویو میں کہتے ہیں کہ:

“حقیقتِ حال یہ ہے کہ ہزارہ، ازبک اور تاجیک کبھی بھی خطِ ڈیورنڈ کے بارے میں نظرِ ثانی کو قبول نہیں کرتے اور کہتے ہیں کہ یہ ایک مسلمہ اور تسلیم شدہ بین الاقوامی سرحد ہے۔”

اسی بابت ڈاکٹر پدرام بعض حلقوں کی طرف سے اس تاثر کو یہ کہہ کر رد کرتے ہیں کہ اس سے پشتون قوم تقسیم ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے معاہدوں سے ان کی اپنی تاجیک قوم کے علاوہ ازبک، ترکمن اور بلوچ اقوام بھی تقسیم ہوئی ہیں؛ جب انہیں اعتراض نہیں تو دیگر کو بھی نہیں ہونا چاہیے۔

یہی صورتحال ہزارہ قوم کی ہے، جس کی ایک بہت بڑی آبادی افغانستان سے متصل ایران کے صوبہ خراسان میں بود و باش رکھتی ہے اور جو ایران اور افغانستان کے درمیان انگریز دور کے دوران مکموہن نامی سرحدی معاہدے کی وجہ سے اب ایرانی زیرِ اثر رہنے پر مجبور ہے، ورنہ مشہد تا غزنی سب ہزارہ وطن “ہزارہ جات” کا حصہ ہوتے۔ آئیے ڈیورنڈ لائن سمجھوتے کا ایک اجمالی جائزہ لیتے ہیں:

الف – 12 نومبر 1893ء کو امیرِ کابل عبدالرحمان خان نے بعض شرائط اور مراعات کے بدلے میں ایک دستاویز پر دستخط کر دیے، جس کے تحت اس نے افغانستان اور برٹش انڈیا کے درمیان کھینچی گئی 2642 کلومیٹر طویل لائن کو باقاعدہ ایک بین الاقوامی سرحد کے طور پر تسلیم کر لیا۔ یہ خط انگریزوں کی طرف سے متعین کردہ سرحدی کمیشن کے انچارج سر ہنری مارٹیمر ڈیورنڈ کے نام پر “ڈیورنڈ لائن” کہلائی، جس کے بعد آنے والے ادوار میں کابل حکومت کے کئی امیروں اور ان کے نمائندوں نے بھی اس کی توثیق و تصدیق کی۔

ب – امیر حبیب اللہ خان نے 21 مارچ 1905ء کو کابل میں دیگر امور کے علاوہ اس سرحدی معاہدے یعنی ڈیورنڈ لائن کی بھی تصدیق کر دی۔

پ – 6 اگست 1919ء کو امیر امان اللہ خان نے افغانستان کی آزادی کے ڈکلیریشن پر دستخط کیے، جس میں ڈیورنڈ لائن کو بین الاقوامی سرحد تسلیم کیا گیا۔

ت – 22 نومبر 1921ء کو بعض سرحدی مقامات، بشمول “اسپین بولدک”، کا معاملہ طے ہونے کے بعد کابل حکومت کی طرف سے اس کے وزیرِ خارجہ محمود طرزی نے ایک بار پھر “ڈیورنڈ لائن” کی حیثیت تسلیم کی۔

ج – 6 جولائی 1930ء کو نادر شاہ کے بھائی شاہ ولی نے انگلستان میں ایک اور معاہدے پر دستخط کیے، جس میں “ڈیورنڈ لائن” معاہدے کی قبولیت بھی شامل تھی۔

لیکن بدقسمتی سے 1947ء میں پاکستان بننے کے بعد افغان حکومت کی طرف سے یک طرفہ طور پر اس لائن کو تسلیم نہ کرنے کی پالیسی اپنائی گئی، جس کا خالق سردار داود خان تھا۔ اسے بعد ازاں مختلف اوقات میں مختلف افغان حکمران صرف ایک پروپیگنڈا ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے رہے، جس کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں۔ اس بات کا ادراک افغان حکمران بھی رکھتے ہیں؛ چنانچہ تمام تر زبانی پروپیگنڈے کے باوجود کسی بھی افغان حکمران نے اسے اقوامِ متحدہ یا کسی اور بین الاقوامی فورم پر اٹھانے کی نہ کبھی جرات کی ہے اور نہ ہی کسی ملک یا بین الاقوامی فورم نے ان کے ان دعوؤں کی تصدیق یا حمایت کی ہے۔

افغان حکمرانوں کو بخوبی علم ہے کہ:

1۔ افغانستان کی شمالی سرحد، معاہدہ “گندمک” (1879ء)، اور
2۔ ایران و چین سے ملحق سرحدات (میکموہن لائنز) بھی انہی انگریزوں کے ہاتھوں کھینچی گئی ہیں؛ ایسے میں ان کی کیا قانونی اور اخلاقی حیثیت ہوگی؟

3۔ ایک اور نکتہ یہ ہے کہ امیرِ جابرِ کابل نے معاہدہ ڈیورنڈ کے تحت انگریز سرکار سے بھاری مالی امداد اور اسلحہ لے کر جس طرح غیر پشتونوں، بطورِ خاص ہزارہ قوم، کی نسل کشی کی، ان کی زرخیز زمینوں کو افغان کوچیوں میں تقسیم کر دیا اور اس خطے کے تاریخی نام “خراسان” کو تبدیل کرکے “افغانستان” رکھا، ان کا کیا بنے گا؟ کیا یہ زمینیں ان کے اصلی مالکان کو واپس کردی جائیں گی؟ کیا ان سب بربریتوں پر کابل کے پشتون حکمران ان اقوام سے معافی مانگیں گے؟ یہ اور ان جیسے درجنوں دیگر ایسے سوالات ہیں جن کے جواب ملنا ابھی باقی ہے۔

4۔ مٹھی بھر تنگ نظر “لر و بر” والے اس مسلمہ سرحدی لائن میں پاکستان سے تعلقات خراب کرنے کے علاوہ کسی طور، کسی قسم کی تبدیلی لانے کی پوزیشن میں نہ تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔

نوٹ:
افغانستانی عوام کی ایک بڑی اکثریت، خاص طور پر غیر پشتون، شروع دن سے ہی “ڈیورنڈ لائن” کو ایک مسلمہ بین الاقوامی سرحد قبول کرتے ہوئے اسے کابل کے غاصب حکمرانوں کی ایک سیاسی چال قرار دیتی آ رہی ہے۔

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment