شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں
بہت سے دوستوں کو شاید معلوم نہ ہو کہ میرے بچپن کے کچھ سال شاہرگ میں گزرے ہیں، جو کوئٹہ کے شمال مشرق میں 160 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ شاہرگ اپنے کوئلے کے ذخائر کی وجہ سے مشہور ہے۔ 1970ء کے دوران وہاں کل 6 ہزارہ گھرانے تھے جن میں سے 2 جوتے (چوٹ) کے کاروبار سے جبکہ باقی 4 کوئلے کے کاروبار سے منسلک تھے۔ میرا بڑا چچا، مرحوم منشی نادر علی، حافظیان کول کمپنی میں منشی تھے، چنانچہ ہم وہیں شفٹ ہو گئے تھے، جبکہ مرحوم ملا سمندر اتحاد کول کمپنی میں منشی تھے۔ ان کا اصل نام ملا محمد عیسیٰ تھا، لیکن حساب کتاب میں پھرتی اور مہارت رکھنے کی وجہ سے وہ ملا سمندر کے نام سے مشہور ہو گئے تھے۔ یہ دونوں ہزارہ ملکیتی کمپنیاں تھیں۔ حافظیان کول کمپنی کے کرتا دھرتا صادق علی (شیخ رحمیان کے فرزند) تھے اور اتحاد کول کمپنی کو چلانے والے حاجی بابو حسین علی (بابے غضنفر علی) تھے۔ دونوں کمپنیوں میں ملازمین اور کان کنوں کو ملا کر کوئی ڈیڑھ، دو سو کے قریب ہزارہ محنت کش ان کے ہاں کام کرتے تھے۔ ان کی زیادہ تعداد شہر سے تھوڑے فاصلے پر واقع کوئلہ کانوں کے آس پاس رہائش پذیر تھی۔ ہزارہ محلہ ایک چھوٹی سی گلی میں قائم تھا، جس کے شروع میں دونوں کمپنیوں کے دفاتر تھے اور آگے کے تین گھروں میں باقی ہزارہ فیملیز رہائش پذیر تھیں۔ ہر حویلی کے اندر صاف شفاف پانی کا کنواں تھا جس کی گہرائی 5، 6 فٹ سے زیادہ نہیں تھی۔
میں نے پہلی جماعت کا آغاز شاہرگ مڈل سکول سے کیا جو ہزارہ محلہ کے قریب ہی واقع تھا اور چونکہ سکول میں پشتون طلبہ کی تعداد زیادہ تھی، اس لیے بولنے کی حد تک روانی سے پشتو بول اور سمجھ لیتا ہوں۔ شاید تیسری جماعت کے دوران سکول کے زیادہ تر اساتذہ چلے گئے اور ان کی جگہ نئے اساتذہ نے لے لی۔ کافی عرصہ بعد پتہ چلا کہ وہ پنجابی تھے، اس لیے بلوچستان بدر ہوئے، جس کے بدترین اثرات کے بارے میں اب ہم سبھی جانتے ہیں۔
اتحاد کول کمپنی کے منشی، مرحوم ملا سمندر کا کُک میرا خالو، بابے حسن، تھا۔ اس کا تذکرہ اس لیے میرے لیے اہم ہے کہ وہیں سے مجھے اخبار بینی کی عادت پڑ گئی۔ دراصل ملا سمندر اور میرا چچا، منشی نادر علی، مل کر جنگ اخبار منگواتے تھے، جو پہلے مرحوم ملا سمندر کے پاس جاتا اور اس کے بعد وہ اخبار لے کر مرحوم چچا کے دفتر پہنچاتا تھا۔ اس طرح ان سے روز سلام دعا ہوتی تھی۔ باقی خبروں سے نہ تو میری دلچسپی تھی اور نہ ہی سمجھ۔ شروع میں مجھے صرف ٹارزن کے کارٹونز دیکھنے اور آگے چل کر مرحوم چچا کی مدد سے پڑھنے کا شوق ہوا، جو آگے چل کر جنون میں بدل گیا۔ یہ اخبار شاید دو دن بعد براستہ سبی ٹرین کے ذریعے شاہرگ اسٹیشن ماسٹر کے دفتر پہنچتا، جو ہزارہ محلہ سے زیادہ دور نہیں تھا۔ شروع میں خالو اخبار لینے جاتا تھا، لیکن جب میں ٹارزن کے کارٹونز پڑھنے کے قابل ہوا تو اکثر چھٹیوں کے ایام میں میں ہی دوڑ کر اخبار لینے جاتا اور مرحوم ملا سمندر کے دفتر تک پہنچانے سے پہلے ٹارزن کی کہانی ضرور پڑھ لیتا۔
جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، اس وقت ہزارہ محنت کشوں کے علاوہ شیعہ مسلک کی ایک اچھی تعداد پی آئی ڈی سی میں ملازمت کرتی تھی۔ اُن سے میل ملاپ کے مواقع ایامِ محرم کی مجالس سننے کے دوران ملتے تھے، جس کے لیے ہم شہر میں رہنے والے ہزارہ و دیگر شیعہ اور قریبی علاقوں کے ہزارہ کارکن پی آئی ڈی سی کالونی جاتے تھے، جو زیادہ دور نہیں تھا۔ مضافات میں پشتون آبادی زیادہ تھی، لیکن پی آئی ڈی سی اور ریلوے، ایجوکیشن، صحت اور دیگر سرکاری محکموں میں ملازمت کرنے والے غیر پشتون کافی تعداد میں شہر میں آباد تھے اور ماحول کافی پُرامن تھا۔
جب 1971ء کی پاک-بھارت جنگ شروع ہوئی تو مجھے باقی چیزوں کا علم نہیں تھا، لیکن بلیک آؤٹ پر سختی سے عمل کرنے کی ہدایت تھی۔ جس حویلی میں ہم ایک اور ہزارہ فیملی (بابے طاہرہ) کے ساتھ رہتے تھے، وہاں میں اکلوتا لڑکا تھا، اس لیے حویلی کے تمام کمروں کے روشن دانوں پر موٹا لحاف نما پردہ چڑھانے کی ذمہ داری میری تھی، جسے مجھے ہر شام ہر حال میں پورا کرنا ہوتا تھا۔ کھڑکیوں اور دروازوں پر پردہ بڑے چڑھاتے تھے، جو مجھ سے نہیں ہو سکتا تھا۔ کمروں میں دھیمی روشنی میں صرف لالٹین یا چراغ جلانے کی اجازت تھی۔ یہ سلسلہ کافی دنوں تک چلا۔
جنگ کے خاتمے کے بعد اس کے تخیلاتی پوسٹرز آنے شروع ہو گئے، جو زیادہ تر مرحوم منیجر کربلائی نجف علی (بابے جعفر علی) کوئٹہ سے لاتے تھے۔ ان پوسٹروں پر فلمی پوسٹرز کے طرز پر اس جنگ کے تخیلاتی مناظر پینٹ ہوتے تھے، جنہیں ہم کمروں اور برآمدوں میں ٹانگتے تھے۔ مرحوم کافی اچھے اور نیک انسان تھے۔ اس وقت شاہرگ کے علاوہ قریبی قصبات کھوسٹ، زردآلو اور بالامکان میں بھی ہزارہ کول مائنز کے محنت کش رہائش پذیر تھے۔ ایک اور قریبی قصبہ ہرنائی میں بھی 2، 3 ہزارہ فیملیز بود و باش رکھتی تھیں، جن میں دو بھائی نادر علی اور بوستان علی ہرنائی وولن ملز میں ملازم تھے۔ ان کا نام اس لیے یاد ہے کہ نادر علی کی بیٹی کی منگنی ہمارے شاہرگ محلہ کے ایک لڑکے غلام علی سے ہوئی تھی اور اس محفل میں میں بھی شامل تھا۔ اسی سفر کے دوران زندگی میں پہلی بار ٹرین میں سفر کا موقع ملا تھا، جو اس وقت روزانہ کی بنیاد پر سبی اور کھوسٹ کے درمیان چلتی تھی۔
یاد رہے کہ انگریزوں نے پہلے سبی سے ریلوے لائن کو اسی راستے سے کچ (کچ تھانہ) کے ذریعے کوئٹہ کو کراچی بندرگاہ سے منسلک کیا تھا، جس کے باقیات کچھ سے ذرا آگے زیارت کی طرف مڑتے ہوئے سامنے نظر آتے ہیں۔ 1974ء کو ہم دوبارہ کوئٹہ شفٹ ہوئے۔ آخر میں ہزارہ محلہ شاہرگ میں صرف بابے طاہرہ رہ گئے تھے۔ ہزارہ کمپنیوں کا کیا بنا، اس بابت دقیق معلومات نہیں، البتہ کھوسٹ میں حاجی سلیمان خان کی کول مائنز پر مقامی افراد نے قبضہ کر لیا تھا۔ حافظیان اور اتحاد کول کمپنیز کے ساتھ بھی یہی ہوا ہوگا، کیونکہ صادق علی اور بابو حسین علی اگلے سالوں کے دوران کافی مالی مشکلات کا شکار بنے۔
حالانکہ اسی دوران ایک دفعہ کوئٹہ سے چند ہزارہ سیٹھ ہرنائی وولن ملز جیسے بڑے کارخانے کو خریدنے بھی آئے تھے، جن میں یہ دونوں افراد بھی شریک تھے، جس سے آپ اس وقت بلوچستان میں ہزارہ قوم کی سماجی، خود اعتمادی اور مالی حیثیت کا بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ ایک بڑے قومی اثاثے کو ایک دور افتادہ شہر میں خریدنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے، جہاں صرف 2، 3 ہزارہ گھرانے رہائش پذیر تھے۔ ان کی آمد کا قصبہ بھر میں کافی چرچا ہوا تھا۔
ٹیپ ریکارڈر-530
شاہرگ کی یادوں میں سے ایک ناقابلِ فراموش یاد جاپانی ساختہ ٹیپ ریکارڈر-530 تھا، جس میں آڈیو پلیئر کے ساتھ ریڈیو بھی تھا، یعنی بیک وقت ریڈیو، آڈیو پلیئر اور آڈیو ریکارڈر. گویا یہ اپنے دور کا سمارٹ فون تھا۔ اس سے پہلے شاید گراموفون کا دور تھا، جس پر پلیٹ نما ریکارڈ ڈسک چلائے جاتے تھے اور وہ کافی مہنگا بھی تھا۔ بلا شبہ اس ٹیپ نے ہزارہ قوم کے کلچر کے فروغ میں کافی مؤثر کردار ادا کیا، جو ایک طرف کابل حکمرانوں کے شدید متعصبانہ سیاسی، اقتصادی اور انتظامی زنجیروں میں جکڑی ہوئی تھی اور دوسری طرف روایتی ملاؤں کے زیر اثر چھوٹی چھوٹی ثقافتی خوشیوں جیسے ساز و آواز، دمبورہ و دوبیتی وغیرہ سے بھی محروم تھی۔
شاید یہی وجہ تھی کہ اس وقت ہزارہ کول مائنز کے ورکرز پاکستان کے کھلے اور آزاد ماحول میں اس جدید سائنسی ایجاد یعنی ٹیپ 530 کے شیدائی ہو گئے تھے۔ جمعہ کے دن جب یہ ورکرز حافظیان کول کمپنی اور اتحاد کول کمپنی کے سامنے وسیع و عریض میدان میں جمع ہو جاتے تو ہر دوسرے تیسرے کے ہاتھ میں ٹیپ 530 ضرور ہوتا، جس میں سے مشہور ہزارہ فولک دمبورہ نواز گلوکار استاد صفدر توکلی، دلارام آغئی اور دیگر کی بلند آواز میں عشقیہ دوبیتی گانے فضا میں بکھیرتے رہتے تھے۔
مرحوم خالو ہزارہ محنت کشوں کے حوالے سے کہتے تھے کہ انہی اوورسیز ہزارہ کی وجہ سے ہزارہ جات میں بھی اس ٹیپ کو اس حد تک پسند کیا جانے لگا تھا کہ دلہنیں اپنی منگیتروں سے باقاعدہ اس کی فرمائش کرتی تھیں اور “گلہ” یا ولور میں اس کو ایک اہم آئٹم کے طور پر رکھا جاتا تھا۔ شاہرگ کے مقامی پیسے والے پشتون بھی اس کے دیوانے تھے۔ یہ شوقین اپنی سائیکلوں کو بگی کی طرح سجا کر اسی ٹیپ کے ساتھ گلی کوچوں میں جا بجا “لال دوپٹا ململ” اور “میں ہوں البیلا تانگے والا” بجاتے نظر آتے تھے۔
خود استاد صفدر توکلی اور دیگر ہزارہ گلوکاروں کی زیادہ تر آڈیو کیسٹیں اسی ٹیپ کے ذریعے ریکارڈ ہو کر مداحوں تک پہنچتی تھیں۔ یقیناً دوسری زبانوں کے گلوکار بھی یہی کرتے ہوں گے، کیونکہ اس وقت کسی اسٹوڈیو میں ریکارڈنگ کروانا ان کی پہنچ سے بہت دور ہوا کرتا تھا۔ شاہرگ کے چھوٹے بازار کے ہوٹلوں پر بھی یہی حال تھا۔ گاہک چائے کے آرڈر کے ساتھ انڈین فلمی گانوں کی فرمائش ضرور کرتے تھے۔ اس وقت میری عمر کے بچے ہوٹل جانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے، لیکن جب میں کبھی بابے عباس کی چوٹ والی دکان جاتا تو ہر طرف سے انڈین گانے مفت میں سننے کے خوب مواقع ملتے۔
یاد اش بخیر
- ایک تکفیر نامہ اور ہزارہ قوم کی سیاسی تنہائی ۔۔۔ اسحاق محمدی - May 7, 2026
- میری پہلی جاب اور جاب مارکیٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 30, 2026
- ڈیورنڈ لائن کا تنازعہ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 22, 2026