میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری

میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان

ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (چھٹی قسط)

تاریخ صرف فتوحات کا مجموعہ نہیں ہوتی، بلکہ ان اقدار، تصورات اور اجتماعی ارادوں کا ریکارڈ ہوتی ہے جن کے لیے انسان تمام تر نامساعد حالات میں بھی ڈٹ جاتا ہے۔ 1860 سے 1893 تک کا عہد ہمیں بتاتا ہے کہ جب زمین، خود مختاری اور وقار لازم و ملزوم ہو جائیں تو موت بھی ایک بیانیے کی صورت میں فتح بن کر ابھرتی ہے۔ میر صادق بیگ ارزگانی اور بنیاد علی خان کی شہادت کے بعد مزاحمت کا تسلسل محض جذباتی ردِ عمل نہ رہا بلکہ اسے ایک منظم سیاسی و دفاعی فکر میں ڈھالا گیا۔ میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان کی قیادت میں یہ جدوجہد ایک ایسے نظریاتی سانچے میں داخل ہوئی جہاں ایک طرف کابل کی مرکزیت پسند ریاست تھی، جس کی نمائندگی امیر عبدالرحمن خان کر رہا تھا، اور دوسری طرف ارزگان اور جاغوری کا وہ مشاورتی نظم تھا جو اپنی ساخت میں غیرمرکزی مگر اجتماعی تھا۔

میر ناصر بیگ کا دورِ اقتدار اور مزاحمت بنیادی طور پر 1870ء کی دہائی سے 1892ء کے اوائل تک محیط ہے۔ جب امیر عبدالرحمن خان کابل کے تخت پر بیٹھا، تو میر ناصر بیگ ارزگان کے طاقتور ترین آزاد حکمران کے طور پر ابھر چکے تھے۔ ان کی قیادت محض روایتی قبائلی سرداری تک محدود نہ تھی، بلکہ انہوں نے ارزگان کے بکھرے ہوئے گروہوں کے درمیان ایک “اتفاقی اقتدار” (Consensual Power) کی بنیاد رکھی۔ یہ نظمِ حکومت روسو کے “ارادہِ عامہ” (General Will) کی ایک عملی تصویر تھا، جہاں فیصلے جبر کے بجائے باہمی مشاورت اور جرگے کے اصولوں پر استوار تھے۔
ان کی عسکری حکمتِ عملی کی ہیبت کا اندازہ برطانوی عسکری مبصر کیپٹن پی جے میٹ لینڈ (P.J. Maitland) کی انٹیلی جنس رپورٹس سے ہوتا ہے۔ میٹ لینڈ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے:
“ارزگان کا علاقہ قدرتی طور پر ایک ایسی پناہ گاہ ہے جہاں رسائی تقریباً ناممکن ہے۔ یہاں کے باسیوں نے ہر درے اور ہر پہاڑی چوٹی پر سنگر تعمیر کر رکھے ہیں جو اس قدر مہارت سے بنائے گئے ہیں کہ کسی بھی باقاعدہ فوج کے لیے ان کا سامنا کرنا نہایت مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔”
میٹ لینڈ مزید نوٹ کرتا ہے کہ میر ناصر بیگ کی طاقت ان کا “مقامی اسلحہ” اور “بارود کی خود کفالت” ہے۔ یہاں کے لوگ پہاڑوں سے خام مال حاصل کر کے خود معیاری بارود تیار کرتے ہیں، جو انہیں کابل کی سپلائی لائنوں سے بے نیاز کر دیتا ہے۔ ان کی سیاسی خودداری کا اندازہ فیض محمد کاتب کی “سراج التواریخ” میں درج ان خطوط سے ہوتا ہے جو امیرِ کابل اور ان کے درمیان تبادلہ ہوئے۔ جب امیر نے اطاعت کا مطالبہ کیا، تو میر ناصر بیگ نے جواباً تحریر کیا:
“ہم نے صدیوں سے ان پہاڑوں میں آزاد زندگی گزاری ہے اور ہماری گردنیں صرف خدا کے سامنے جھکتی ہیں۔ ارزگان کی مٹی کا ایک ذرہ بھی خراج میں نہیں دیا جائے گا، اور اگر کابل کا ارادہ جنگ کا ہے تو ہمارے جوانوں کی تلواریں جواب دینے کے لیے تیار ہیں۔”
جب امیر عبدالرحمن خان کی افواج نے ارزگان کا گھیراؤ کیا اور ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا، تو میر ناصر بیگ کا ایک اور تاریخی جملہ فیض محمد کاتب نے نقل کیا ہے جو ان کی عسکری نفسیات کو ظاہر کرتا ہے:
“ہم ان پہاڑوں کے فرزند ہیں اور یہ چوٹیاں ہمارے سنگر ہیں۔ کابل کی فوج اگر فولاد کی بھی بنی ہو، تو ارزگان کی سنگلاخ وادیوں میں موم کی طرح پگھل جائے گی۔ ہم صلح کے نام پر اپنی آزادی کا سودا کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔”
ارزگان کے سقوط کے وقت کی کیفیت بیان کرتے ہوئے کاتب لکھتا ہے:
“جب میر ناصر بیگ کو پابہ زنجیر کابل لے جایا جا رہا تھا، تو ان کے چہرے پر شکست کے آثار نہ تھے بلکہ ایک فاتحانہ اطمینان تھا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ہم نے زمین ہاری ہے، وقار نہیں؛ اور یہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔”

دوسری جانب، سردار شادمان خان کا کردار ایک مختلف مگر تکمیلی حکمتِ عملی کی نمائندگی کرتا ہے۔ جاغوری کی جغرافیائی پوزیشن، جو غزنی اور قندھار جیسے مراکز کے قریب تھی، نے انہیں براہِ راست ریاستی دباؤ کے زیرِ اثر رکھا۔ اس صورتِ حال میں انہوں نے محض عسکری مزاحمت پر انحصار کرنے کے بجائے “تزویراتی توازن” (Strategic Balance) کو اپنایا۔
برطانوی گزٹیئرز (Gazetteer of Afghanistan) میں سردار شادمان خان اور جاغوری کے عمائدین کے بارے میں درج ہے:
“جاغوری کے سردار، کابل کے حکمرانوں کے مقابلے میں اپنے لوگوں کے درمیان کہیں زیادہ معتبر اور طاقتور ہیں۔ ان کا طرزِ عمل نہایت باوقار (Dignified) ہے اور وہ اپنی داخلی آزادی (Internal Autonomy) پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے روادار نہیں۔ وہ امیرِ کابل کو ایک طاقتور پڑوسی تو تسلیم کرتے ہیں، مگر اسے اپنا ‘آقا’ ماننے کے لیے کبھی تیار نہیں ہوئے۔”
شادمان خان نے داخلی نظم اور مقامی وسائل کے ذریعے جاغوری کو ایک خود مختار معاشی اکائی بنا دیا۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ مزاحمت صرف میدانِ جنگ میں لہو بہانے کا نام نہیں، بلکہ اپنے سماجی وجود اور سیاسی تشخص کو ایک مربوط نظام کے تحت برقرار رکھنا بھی وقار کی اعلیٰ ترین شکل ہے۔
سردار شادمان خان کے باوقار طرزِ عمل پر برطانوی گزٹئیرز میں ایک اور دلچسپ آبزرویشن درج ہے:
“شادمان خان جاغوری محض ایک جاگیردار نہیں بلکہ ایک ‘سیاسی منصف’ کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔ ان کے دربار میں کابل کے نمائندوں کو بھی وہی مقام ملتا ہے جو ایک عام سائل کو، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ اپنے علاقے میں کسی بھی بیرونی اقتدارِ اعلیٰ (Sovereignty) کو قبول کرنے کے روادار نہیں ہیں۔”
ان رہنماؤں کی قیادت کا ایک گہرا نفسیاتی پہلو انفرادی قبائلی عصبیت کو ایک “اجتماعی سیاسی شعور” میں تبدیل کرنا تھا۔ میر ناصر بیگ اور شادمان خان نے “مشترکہ خطرے” کے احساس کو ایک “مشترکہ مقصد” میں ڈھال دیا۔ انہوں نے مقامی وفاداریوں کو ایک وسیع تر قومی شناخت کے تابع کر کے “خوف” کی نفسیات کو “مزاحمت کے فخر” میں بدل دیا۔ یہ محض ایک عسکری اتحاد نہ تھا بلکہ ایک ایسا نفسیاتی انقلاب تھا جس نے قید اور شہادت کے باوجود ہزارہ معاشرے میں ایک ایسی فکری لہر پیدا کی جو آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل نظریاتی ورثہ بن گئی۔
ان دونوں رہنماؤں نے دفاعی سطح پر محض جغرافیے کا فائدہ نہیں اٹھایا بلکہ ایک پیچیدہ عسکری انجینئرنگ متعارف کروائی۔ پہاڑی دروں کی سنگر بندی اور مقامی سطح پر بارود سازی نے ان کی قوت کو دوچند کر دیا تھا۔ برطانوی مبصرین اس بات پر حیران تھے کہ ایک ایسی ریاست میں جہاں مرکزیت کا فقدان ہے، وہاں کا “جرگہ” محض ایک مشاورتی ادارہ نہیں بلکہ ایک “ایگزیکٹو کونسل” کی طرح کام کرتا ہے جس نے انفرادی مفادات کو ایک “اجتماعی مزاحمت” (Collective Resistance) میں ڈھال دیا ہے۔
میٹ لینڈ نے اپنی ڈائری میں ہزارہ جات کے دفاعی نظام کی جو باریکیاں بیان کی ہیں، وہ ان کی “عسکری انجینئرنگ” کے دعوے کو مضبوط کرتی ہیں:
“ہزارہ سنگر بندی (Fortification) میں کمال کی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ پہاڑ کی ڈھلوانوں پر پتھروں کو اس ترتیب سے رکھتے ہیں کہ نیچے سے آنے والی فوج کے لیے وہ ایک ناقابلِ عبور دیوار بن جاتی ہے، جبکہ اوپر بیٹھا ہوا ایک سنگر نشین پوری بٹالین کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کی مقامی طور پر تیار کردہ ‘جذائل’ (لمبی نالی والی بندوق) کی مار تزویراتی طور پر انتہائی درست ہے۔”

اگرچہ ان رہنماؤں کا انجام 1890ء کی دہائی کے اوائل میں قید و بند اور شہادت کی صورت میں ہوا، تاہم ان کی موت کو محض ایک حیاتیاتی اختتام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
یہ ایک ایسی اجتماعی یادداشت (Collective Memory) کی تشکیل کا نقطۂ آغاز تھا جس نے بعد کی نسلوں کے لیے فکری اور جذباتی سرمایہ فراہم کیا۔ میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان کی جدوجہد اس اصول کی توثیق بن گئی کہ طاقت کے عظیم عدم توازن کے باوجود وقار اور خودمختاری جیسے تصورات محض نظری نہیں بلکہ ایک زندہ اور متحرک عملی قوت رکھتے ہیں۔

کتابی و دستاویزی مآخذ (Bibliography)

کاتب، فیض محمد۔ سراج التواریخ (جلد سوم)۔ کابل: مطبعہ دارالسلطنت، ۱۳۳۱ھ/۱۹۱۲ء۔
یہ کتاب اس دور کا سب سے اہم سرکاری اور تاریخی ریکارڈ ہے۔ میر ناصر بیگ کے خطوط، ارزگان کی جنگی مہمات اور قیدیوں کے احوال کے لیے یہ بنیادی ماخذ ہے۔
صفحات: ۸۱۴-۸۱۸ (خط و کتابت)، ۹۰۲-۹۱۲ (سقوطِ ارزگان)، ۹۴۵ (سردار شادمان خان کی گرفتاری)۔
Maitland, P. J. Diary of a Journey from Kabul to Kandahar via the Hazarajat. Simla: Government Central Branch Press, 1888.
کیپٹن میٹ لینڈ برطانوی ہند کا عسکری مبصر تھا جس نے ہزارہ جات کا سفر کیا اور وہاں کے دفاعی نظام، بارود سازی اور سنگر بندی کا تکنیکی مشاہدہ قلمبند کیا۔
صفحات: ۱۱۲-۱۲۵ (ارزگان کی دفاعی ساخت اور ہتھیاروں پر نوٹ)۔
Adamec, Ludwig W. (Ed.). Historical and Political Gazetteer of Afghanistan, Vol. 5: Kandahar and South-Central Afghanistan. Graz: Akademische Druck- u. Verlagsanstalt, 1980.
یہ برطانوی انٹیلی جنس رپورٹس کا مجموعہ ہے جو جاغوری کے سرداروں کی سیاسی حیثیت اور ان کی “داخلی آزادی” کے بارے میں غیر جانبدارانہ شواہد فراہم کرتا ہے۔
صفحات: ۲۱۴-۲۱۸ (سردار شادمان خان کی شخصیت)، ۵۳۰-۵۳۵ (ارزگان کا جغرافیہ)۔
۲. ثانوی اور تجزیاتی مآخذ (Secondary & Analytical Sources)
یہ مآخذ جدید مورخین اور محققین کی آراء پر مبنی ہیں جنہوں نے انیسویں صدی کی مزاحمت کا عمرانی اور سیاسی تجزیہ کیا ہے۔
موسوی، سید عسکر۔ The Hazaras of Afghanistan۔ لندن: کرزن پریس، ۱۹۹۸ء۔
یہ کتاب ہزارہ جات کی سماجی ساخت اور امیر عبدالرحمن خان کے دور میں ہونے والی مزاحمت کا جدید عمرانی (Sociological) مطالعہ پیش کرتی ہے۔
صفحات: ۱۱۵-۱۴۰ (مرکزیت پسند ریاست بمقابلہ قبائلی خود مختاری)۔
یزدانی، حاجی کاظم۔ پژوہشی در تاریخ ہزارہ ہا (جلد اول و دوم)۔ قم: انتشارات عرفان، ۱۳۷۲ھ۔
یزدانی نے مقامی روایات اور خطی نسخوں کی مدد سے میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان کے نسب ناموں اور ان کی مقامی قیادت کے اثرات پر تفصیلی کام کیا ہے۔
صفحات: ۴۵۰-۴۹۵ (جنگِ ارزگان اور جاغوری کے سیاسی حالات)۔
فرہنگ، میر محمد صدیق۔ افغانستان در پنج قرن اخیر۔ تہران: انتشارات عرفان، ۱۳۷۴ھ۔
افغانستان کی سیاسی تاریخ کا یہ اہم حوالہ امیر عبدالرحمن خان کی “آہنی پالیسیوں” اور ان کے خلاف اٹھنے والی علاقائی تحریکوں کا تقابلی جائزہ پیش کرتا ہے۔
صفحات: ۳۹۰-۴۰۵ (جلد اول)۔
۳. نظریاتی اور فلسفیانہ مآخذ (Theoretical Framework)
مقالے میں استعمال ہونے والے سیاسی اور نفسیاتی تصورات کے لیے درج ذیل مآخذ کلیدی ہیں:
Rousseau, Jean-Jacques. The Social Contract۔ (مترجم: Maurice Cranston)۔ لندن: پینگوئن بکس، ۱۹۶۸ء۔
تصور: “ارادہِ عامہ” (General Will) اور “اتفاقی اقتدار” کی تفہیم کے لیے۔
Halbwachs, Maurice. On Collective Memory۔ شکاگو: یونیورسٹی آف شکاگو پریس، ۱۹۹۲ء۔
اس بات کی وضاحت کے لیے کہ کس طرح ان ہیروز کی موت ایک “اجتماعی یادداشت” میں تبدیل ہوئی۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment