
اگرچہ ہزارہ قوم کی برصغیر میں آمد پندرھویں صدی کے اوائل کی ہے، لیکن جدید تاریخ میں ان کی آمد کا سلسلہ امیر جابر عبدالرحمان کے ہاتھوں 1893ء کے اواخر میں حتمی شکست کے بعد شروع ہوا۔ برٹش انڈیا میں جغرافیائی نزدیکی کی مناسبت سے ارزگان اور قرب و جوار کے ہزارہ، بالائی بلوچستان کے مختلف راستوں سے داخل ہو کر کوئٹہ، جبکہ غزنی و قرہ باغ کے ہزارہ نے پاڑہ چنار اور گلگت کو اپنا مسکن بنایا۔ بلوچستان میں انگریز انتظامیہ نے سنجاوی میں ہزارہ آبادکاری کا منصوبہ بنایا، وہاں کاریزیں کھدوائیں اور کاشتکاری و باغبانی کے لیے زمینیں مختص کیں، لیکن 1904ء میں ہزارہ پائینیر کی تشکیل اور کوئٹہ کو اس کا ہیڈکوارٹر قرار دینے کے بعد بہت کم ہزارہ گھرانے سنجاوی میں بسنے پر آمادہ ہوئے (تفصیل بلوچستان گزیٹیئر میں ملاحظہ ہو)۔ مرحوم غلام رضا باڈی بلڈر کے گھرانے سمیت محدود چند ہزارہ گھرانوں نے سنجاوی میں زمینیں لیں اور وہیں بس گئے، جبکہ بڑی اکثریت نے کوئٹہ میں رہنے کو ترجیح دی۔
کوئٹہ، برٹش دور میں چونکہ گریٹ گیم کا ایک اہم مرکز تھا اور اس کی حیثیت ایک چھاؤنی کی تھی، لہٰذا انگریز انتظامیہ یہاں شہری آبادی کے حوالے سے کافی احتیاط سے کام لیتی تھی، مگر ہزارہ پائینیر کی وجہ سے انہیں کوئٹہ شہر میں رہائش کے ضمن میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں تھا۔ “بابو محلہ” (راحت سینما کے قریب) اور عبدالستار روڈ کی گلیاں ان کی پہلی رہائش گاہیں تھیں۔ غالباً بیسویں صدی کی دوسری دہائی (1920ء) کے دوران ایک مخیر ہراتی قزلباش، شیخ عبدالعلی ہروی ولد عبدالقاسم قزلباش نے شہر کی پہلی شیعہ مسجد بنانے کے لیے ایک قطعہ زمین (موجودہ پرنس روڈ اور میکانگی روڈ کے سنگم پر) وقف کر دی۔ انہوں نے ہزارہ قوم کی اہمیت کے پیش نظر اس کا نام “انجمن اثناء عشریہ ہزارہ” رکھا۔ بعد ازاں بعض تنازعات سے بچنے کی خاطر مرحوم شیخ ہروی نے 1922ء میں ایک تحریری “وقف نامہ” کے ذریعے مرحوم سردار یزدان خان کو متولی مقرر کر دیا اور اس کے انتظامی امور میں بھی ہزارہ قوم کو اولیت دیتے ہوئے 10 رکنی کمیٹی کی یہ ترکیب بنائی:
پانچ رکن ہزارہ
پانچ رکن فارسی زبان شیعہ
نیز یہ تصریح بھی کی کہ یہ ترکیب ہمیشہ قائم رکھی جائے (تفصیلات کے لیے نسیم جاوید کی تحریر “لفظ ہزارہ حذف فرما دیں” ملاحظہ کریں)۔ ہزارہ قوم نے مسجد کی پہلی تعمیر اور بعد ازاں 1935ء کے خوفناک زلزلے کے بعد اس کی دوبارہ تعمیر میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یاد رہے کہ اس وقت غیر ہزارہ شیعہ آبادی نہ ہونے کے برابر تھی۔
اس لحاظ سے ہزارہ امام بارگاہ کلان کو کوئٹہ میں ہزارہ قوم کی پہلی اجتماعی پراپرٹی قرار دیا جا سکتا ہے۔ 1935ء کے زلزلے کے بعد ایک نیا ہزارہ محلہ نچاری کیمپ بنا، جہاں سے ہزارہ امام بارگاہ کلان دور پڑتا تھا، لہٰذا قیامِ پاکستان کے بعد ہزارہ اکابرین نے ایک طرف ہزارہ امام بارگاہ نچاری کی بنیاد رکھی، جبکہ دوسری طرف ہزارہ قبرستان، ہزارہ عیدگاہ، جامع امامیہ اور تنظیم نسلِ نو ہزارہ کی پراپرٹیز کی الاٹمنٹ کے لیے کوششیں شروع کیں۔ مختلف اشخاص نے کئی دہائیوں تک پہلے کراچی، پھر اسلام آباد اور بعد ازاں کوئٹہ کے مختلف دفاتر اور عدالتوں کی خاک چھانی، جن کا اندازہ اس حقیقت سے بخوبی کیا جا سکتا ہے کہ 1990ء کی دہائی تک “انجمن اثناء عشریہ ہزارہ” کی نمائندگی میں مرحوم حاجی بابو حسین علی کوئٹہ اور اسلام آباد کی کورٹ کچہریوں میں پیشیاں بھگتنے کے لیے جاتے رہے، جس کا ایک گواہ میں خود ہوں۔ ستر کی دہائی میں مرحوم سردار اسحاق خان کی صدارت کے دور میں بعض شرائط کے تحت ان میں سے ایک پراپرٹی دینی مدرسہ (جامعہ امامیہ) اور دوسری پراپرٹی قومی تنظیم (تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل) بنانے کے لیے دی گئی۔
ستر کی دہائی تک اجتماعی لحاظ سے ہزارہ قوم کی حیثیت مسلمہ تھی، لہٰذا نہ بیرونی طور پر اسے کسی چیلنج کا سامنا تھا اور نہ ہی اندرونی طور پر کسی کو آنکھ دکھانے کی جرات تھی۔ لیکن اسی کی دہائی میں نئی ایرانی ملا شاہی حکومت کی پشت پناہی سے سیاسی ملاّؤں کا اثر و نفوذ بڑھنے لگا۔ بدقسمتی سے اس وقت روایتی “سرداری نظام” زمین بوس ہو چکا تھا اور جنرل ضیاء کی آمرانہ پالیسیوں کی وجہ سے کوئی متبادل سیاسی قیادت پنپ نہ سکی۔ اس طرح ان ایران نواز سیاسی ملاّؤں کو ہزارہ نیشنلسٹوں، تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل اور ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے علاوہ باقی کسی طبقے کی طرف سے مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ہزارہ قوم پرستوں کو میدان سے نکالنے کے لیے انہوں نے “تکفیر” کا آزمودہ نسخہ استعمال کیا۔ یوں اسی کی دہائی کے دوران پاکستانی ہزارہ قوم کو دیگر شعبوں کے ساتھ ساتھ اجتماعی پراپرٹیز میں بھی بھاری نقصانات برداشت کرنا پڑے۔
سب سے پہلے ایران نواز ملاّؤں، شیخ توسلی اور شیخ اسدی وغیرہ نے ہزارہ قبرستان کو “بہشت زینب” بنا کر اس کی قومی حیثیت ختم کر دی۔ اس کے بعد ان کے منظورِ نظر سید اشرف زیدی نے نہایت عیاری اور رازداری سے ہزارہ قوم کی تمام مخلصانہ محنتوں اور ہزارہ بزرگوں کی طویل جدوجہد کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ہزارہ امام بارگاہ کلان اور ہزارہ عیدگاہ کو بھی ہزارہ قوم کی اجتماعی ملکیت سے نکال دیا۔ قرائن سے صاف پتہ چلتا ہے کہ اس نے برادری ازم، رشوت یا پھر دونوں کا سہارا لیا، کیونکہ صرف دو دن بعد اس وقت محکمہ صنعت بلوچستان کے ڈائریکٹر سید منصور حسین شاہ نے سید اشرف زیدی کی درخواست منظور کر لی۔
سالوں بعد جب اس مسئلے پر جناب نوروز علی نے بازپرس کی کوشش کی تو اسے بری طرح تشدد کا نشانہ بنوا کر دہشت گردی ایکٹ میں جیل بھجوا دیا گیا۔ یاد رہے کہ اس جرم میں بحیثیت صدر صرف سید اشرف زیدی اکیلا مجرم نہیں تھا، اس میں بلوچستان شیعہ کانفرنس کے تمام عہدیداران و اراکین اور بعد میں آنے والے صدور، عہدیداران و اراکین سبھی شامل تھے، جن میں سے کئی اب بھی حیات ہیں۔ نسیم جاوید اور رفیق الطاف ایڈووکیٹ پہلے یہ کیس بلوچستان ہائی کورٹ لے کر گئے، لیکن درست طور پر کیس کی پیروی نہ کر سکے اور کیس ہار گئے۔ نوبت جب سپریم کورٹ تک پہنچی تو ہزارہ قوم، بشمول ہزارہ نواز آرگنائزیشنز، فوری اقدام کرنے کے بجائے میٹنگوں میں لگ گئی۔ آخر میں جب کامریڈ فدا حسین اور کامریڈ علی رضا منگول میدان میں اترے تو وقت نکل چکا تھا۔ کامریڈ فدا نے اس مسئلے پر تفصیل سے لکھا ہے، امید ہے وہ اسے اب عام کریں گے۔ یوں یہ ہزارہ قومی جائیدادیں اب قومی نہ رہیں۔
اب اس المیے کے ایک اور رخ کو دیکھیے کہ ایران نواز سیاسی ملاّؤں نے ایک طرف باقی ہزارہ قومی پراپرٹیز کو شیعہ ملکیت بنانے میں حاتم طائی سے بڑھ کر سخاوت دکھائی، لیکن دوسری طرف اپنی زیرِ قبضہ پراپرٹی یعنی “جامعہ امامیہ” کو دیگر جائیدادوں کی طرح شیعہ ملکیت بنانے کے بجائے اپنی ذاتی ملکیت بنا دیا۔ چنانچہ اب اس ہزارہ قومی جائیداد کا فرد الحاج شیخ جمعہ اسدی کے نام پر ہے (اس ضمن میں اگر کسی کو شک ہو تو اس کی تصدیق تحصیل سے کی جا سکتی ہے)، جو غاصبانہ عمل ہے۔ شرعی، عرفی اور ملکی قوانین کی رو سے یہ غیر اسلامی، غیر اخلاقی، غیر قانونی اور مجرمانہ اقدام ہے۔ کل کلاں کو وہ خود نہیں تو اس کا کوئی بھی ولی وارث اس جائیداد پر ملکیت کے حق کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ شنید ہے کہ جامع آیت اللہ خوئی کی پراپرٹی جیسے ایک ٹرسٹ کے ماتحت ہونی چاہیے تھی، اب ذاتی پراپرٹی میں تبدیل کر دی گئی ہے۔ اگر اس طرح کی حرکت کوئی ہزارہ نیشنلسٹ کرتا تو اب تک وہ پکا کافر ڈیکلیئر ہوچکا ہوتا۔
ان اربوں روپے مالیت کی قومی پراپرٹیز میں سے اب امام بارگاہ نچاری ہزارہ (صرف نام کی حد تک) کے علاوہ صرف تنظیم نسلِ نو ہزارہ مغل کسی نہ کسی طور ملکیت کے ساتھ ہزارہ کے نام پر باقی ہے۔
اس مسئلے کے مختلف پہلوؤں پر بہت لکھنے کی ضرورت ہے، لیکن سوشل میڈیا پر اس کی گنجائش نہیں۔ بس اتنا کہنا ہے کہ ان قیمتی قومی جائیدادوں کے حصول کے لیے ہزارہ قوم نے جان، مال اور طویل وقت کی قربانیاں دی ہیں، ان کی اس بے دردی سے بندربانٹ ان سیاسی ملاّؤں کی ایک اور بڑی خیانت ہے۔
نوٹ:
نسیم جاوید کی تحقیقات کے مطابق سید اشرف زیدی کے دور میں “انجمن اثناء عشریہ ہزارہ” کے زیرِ انتظام مختلف قومی پراپرٹیز، یعنی ہزارہ امام بارگاہ کلان، ہزارہ عیدگاہ، ہزارہ قبرستان میں بہت بڑے پیمانے پر مالی خیانتیں ہوئیں، جن میں ہزارہ امام بارگاہ کلان کے درج ذیل نادر قیمتی عطیات بھی شامل ہیں:
- اکیس عدد چاندی کی دیگیں، جن کا وزن چودہ سے سولہ کلو تھا
- پینتالیس عدد تانبے سے بنی دیگیں، جن کا وزن پندرہ سے بیس کلو تھا
- ایک سو ستاون عدد طلائی پنجے
- سات سو چاندی کے پنجے
- پانچ سو سے زائد درجہ اول کے اینٹیک پیالے
- ستر درجن پیتل کی رکابیاں(غوری)
تفصیل کے لیے ملاحظہ کریں:
https://www.facebook.com/notes/1763849716502
- شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 12, 2026
- آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 1, 2026
- ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Mar 26, 2026