ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار ( شیرین آغئی اور فرزندان) ۔۔۔ جاوید نادری

ہزارہ قوم کی تاریخ محض پہاڑوں اور درّوں کا جغرافیہ نہیں، بلکہ یہ ان بلند قامت کرداروں کی داستان ہے جنہوں نے اپنے خون سے خودداری کی سرحدیں متعین کیں۔ اس تاریخ کا سب سے درخشندہ اور ولولہ انگیز باب بی بی شیریں (شیرین آغئی) اور ان کے خانوادے کی وہ مزاحمت ہے جو انہوں نے میر یزدان بخش کی شہادت کے بعد شروع کی۔ یہ تاریخی بیانیہ جہاں دستاویزی حقائق پر مبنی ہے، وہاں یہ ان ہزاروں لوک داستانوں میں بھی سانس لے رہا ہے جو آج بھی ہزارہ جات کی سرد راتوں میں الاؤ کے گرد بیٹھے بزرگ اپنی نسلوں کو منتقل کرتے ہیں۔
میر یزدان بخش کی شہادت کے بعد، جب مصلحتوں اور غداریوں نے بہسود کے افق کو دھندلا دیا تھا، بی بی شیریں ایک ایسی سیاسی اور عسکری قوت بن کر ابھریں جس کی مثال تاریخِ عالم میں کم ہی ملتی ہے۔ وہ محض ایک بیوہ نہیں تھیں جو اپنے سوگوار شوہر کا سوگ مناتیں، بلکہ وہ اس ‘سرداری’ کی وارث بنیں جو زمین کی ملکیت سے زیادہ ضمیر کی آزادی پر یقین رکھتی تھی۔ لوک روایات کے مطابق، بی بی شیریں نے میر کی وفات کے بعد اپنے بال نہیں نوچے بلکہ اپنی کمر سے وہ تلوار باندھی جو ہزارہ قوم کے اتحاد کی علامت تھی۔
چارلس میسن نے اگرچہ اس دور کے سماجی آداب کے باعث بی بی شیریں سے براہِ راست گفتگو کم کی، لیکن اس نے قلعے کے انتظام و انصرام اور میر کی غیر موجودگی میں ان کے اثر و رسوخ کا ذکر ان الفاظ میں کیا:
“The lady of the fort (Bibi Shirin) was a woman of much character and influence; she was the principal director of the household, and her advice was sought and followed in all matters of importance. When the Mir was absent, the entire management of the district devolved upon her.”
(ترجمہ: قلعے کی خاتون بی بی شیریں بہت ہی باکردار اور بااثر عورت تھیں۔ تمام اہم معاملات میں ان کی رائے طلب کی جاتی اور اس پر عمل کیا جاتا تھا۔ جب میر موجود نہ ہوتے، تو پورے علاقے کا انتظام و انصرام ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا۔)
سینہ بہ سینہ چلنے والی داستانیں بتاتی ہیں کہ ان کی ایک پکار پر بہسود کے سنگلاخ راستے دشمن کے لیے دوزخ بن جاتے تھے۔ لوگ کہتے ہیں کہ ان کی آواز میں وہ رعب تھا کہ کابل کے شاہی ہرکارے ان کے قلعے کی فصیل دیکھ کر ہی راستہ بدل لیتے تھے۔ پادری جے بی ٹرانسم (J.B. Tronson) نے بھی اسی جرات کی گواہی دیتے ہوئے لکھا:
“The Hazareh tribes are a warlike race, and their women are as brave as the men… they have been known to defend their towers and mountain passes with a desperation that reflects their indomitable spirit of independence.”
(ترجمہ: ہزارہ قبائل ایک جنگجو نسل ہیں اور ان کی خواتین مردوں کی طرح ہی بہادر ہیں۔ وہ اپنے قلعوں کے برجوں اور پہاڑی دروں کا دفاع اس جنون کے ساتھ کرتی ہیں جو ان کے جذبہِ آزادی کی عکاسی کرتا ہے۔)
میر یزدان بخش کے بیٹوں، بالخصوص میر محمد شاہ، کا تذکرہ ان لوک کہانیوں میں ایک ایسے ‘شاہین’ کے طور پر ملتا ہے جس نے شاہی قید خانوں کی گھٹن پر پہاڑوں کی آزاد ہواؤں کو ترجیح دی۔ چارلس میسن جیسے عینی شاہدین نے ان نوجوانوں کے جاہ و جلال اور ان کی نشانہ بازی کی جو تصویر کشی کی ہے، وہ ان کی غیر معمولی تربیت کی گواہ ہے۔ میسن نے ایک جگہ میر کے بڑے بیٹے کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اپنے والد کا عکس تھا اور اس میں وہ تمام خوبیاں موجود تھیں جو ایک مستقبل کے عظیم سردار میں ہونی چاہئیں۔ میسن لکھتا ہے:
“The sons of the Mir sat their horses with a grace as if they were a part of the animal… In their eyes was that sparkle found only in those who have never known servitude. They moved like a protective shield around their father.”
(ترجمہ: میر کے بیٹے اپنے گھوڑوں پر اس مہارت سے سوار ہوتے تھے جیسے وہ ان کا حصہ ہوں۔ ان کی آنکھوں میں وہ چمک تھی جو صرف ان لوگوں میں ہوتی ہے جنہوں نے کبھی کسی کی غلامی قبول نہیں کی۔ وہ اپنے والد کے گرد ایک حفاظتی حصار کی طرح رہتے تھے۔)
داستانوں میں ذکر ہے کہ میر کے بیٹے جب اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر وادیوں سے گزرتے تھے، تو زمین ان کے قدموں کی دھمک سے گونجتی تھی۔ ان کا انجام اگرچہ شہادت اور جلاوطنی پر ہوا، لیکن عوامی حافظے میں وہ آج بھی ان ‘ناقابلِ تسخیر شہزادوں’ کے طور پر زندہ ہیں جنہوں نے اپنے باپ کے لہو کا سودا نہیں کیا۔
بی بی شیریں کے متعلق عوامی قصے محض جرات کی کہانیاں نہیں ہیں، بلکہ یہ ہزارہ عورت کے اس بلند مقام کی عکاسی کرتے ہیں جو سماج میں اسے حاصل رہا ہے۔ روایات میں آتا ہے کہ جب بی بی شیریں کو قید کر کے کابل لے جایا جا رہا تھا، تو راستے میں آنے والے ہر ہزارہ گاؤں سے لوگوں کی آہیں بلند ہو رہی تھیں، لیکن ان کے ماتھے پر شکست کی کوئی شکن نہ تھی۔ انہوں نے قید خانے کی سلاخوں کے پیچھے سے بھی اپنے بیٹوں کو یہی پیغام بھیجا کہ “مر جانا مگر اس مٹی کی حرمت پر حرف نہ آنے دینا”۔ یہ وہی جملے ہیں جو آج بھی ‘دوبیتوں’ اور ‘ہزارگی گیتوں’ کی صورت میں دمبورہ کی تال پر گائے جاتے ہیں، اور ہر سننے والے کے خون میں حرارت پیدا کر دیتے ہیں۔
موہن لال کشمیری، جو اس دور میں کابل کے دربار اور برطانوی سفارت کاری کا ایک اہم کردار تھا، اپنی تحریروں میں اس مزاحمت کے دوسرے اور زیادہ المناک پہلو سے پردہ اٹھاتا ہے۔ موہن لال کی گواہی اس لیے اہمیت رکھتی ہے کہ وہ کسی افسانوی مبالغے کے بجائے اس سیاسی بساط کا عینی شاہد تھا جس نے ان جنگجو شہزادوں کو پہاڑوں سے نکال کر زندان کی نذر کیا۔ موہن لال رقم طراز ہے:
“The sons of Mir Yazdanbakhsh were induced by the Amir to come to Kabul under the most solemn oaths and promises… But as soon as they arrived, they were deprived of their liberty… They were kept in a state of surveillance and poverty, which was a stain on the Amir’s character.”
(ترجمہ: میر یزدان بخش کے بیٹوں کو امیر نے قرآن پر پختہ قسمیں کھا کر اور تحفظ کے وعدے کر کے کابل آنے پر آمادہ کیا۔ لیکن جیسے ہی وہ پہنچے، انہیں ان کی آزادی سے محروم کر دیا گیا… انہیں کڑی نگرانی اور غربت میں رکھا گیا، جو امیر کے کردار پر ایک بدنما داغ تھا۔)
موہن لال کے مطابق، میر کے بیٹوں کو جب کابل بلایا گیا تو انہیں کسی فاتح کی طرح نہیں بلکہ ایک سیاسی قیدی کی طرح رکھا گیا۔ یہیں سے اس داستان کا وہ موڑ شروع ہوتا ہے جہاں گوریلا جنگجوؤں کے ہاتھ پاؤں سیاسی زنجیروں میں جکڑ دیے گئے۔ موہن لال نے کابل کے ان تنگ و تاریک زندانوں اور وہاں کی سازشوں کا ذکر کیا ہے جہاں ان شہزادوں نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے۔ یہ گواہی اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ ان جوانوں نے میدانِ جنگ میں ہتھیار نہیں ڈالے تھے، بلکہ وہ اس سفارتی دھوکے کا شکار ہوئے جس نے انہیں ان کے قدرتی دفاعی حصار سے دور کر دیا۔ بی بی شیریں کی حالتِ زار اور ان کے بیٹوں کی زندان میں خاموش شہادت دراصل اس مزاحمت کا وہ حصہ ہے جو تلوار سے نہیں بلکہ صبر اور استقامت سے لکھا گیا۔

فہرستِ مآخذ (Bibliography)
۱. میسن، چارلس (Masson, Charles)
کتاب: Narrative of Various Journeys in Balochistan, Afghanistan, and the Panjab (Volume II)
ناشر: Richard Bentley, London (1842)
متعلقہ صفحات: 197–204
موضوع: بی بی شیریں کی سیاسی بصیرت، قلعہ بہسود کا انتظام، اور میر کے بیٹوں کی عسکری مہارت و گھڑ سواری۔
۲. موہن لال کشمیری (Lal, Mohan)
کتاب: Life of the Amir Dost Mohammed Khan of Kabul (Volume I)
ناشر: Longman, Brown, Green, and Longmans, London (1846)
متعلقہ صفحات: 178–181
موضوع: میر یزدان بخش کے بیٹوں کے خلاف سفارتی دھوکہ، جائیدادوں کی ضبطی، اور کابل کے زندان میں ان کی حالتِ زار۔
۳. ٹرانسم، جان ایم. (Tronson, John M.)
کتاب: Personal Narrative of a Voyage to Japan, Kamtschatka, Siberia, Tartary
ناشر: Smith, Elder & Co., London (1859)
صفحہ نمبر: 403
موضوع: ہزارہ قبائل کی مزاحمتی فطرت اور خواتین کی جراتِ مندی کی عالمی گواہی۔
۴. کاتب، فیض محمد (Katib, Faiz Mohammed)
کتاب: سراج التواریخ (جلد اول و دوم)
ناشر: مطبع دارالفنون، کابل (1912ء کے لگ بھگ)
موضوع: ہزارہ جات کے میروں کا سیاسی پس منظر اور وسطی افغانستان میں سرداروں کے مابین تنازعات کی دستاویزی تاریخ۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

3 Thoughts to “ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار ( شیرین آغئی اور فرزندان) ۔۔۔ جاوید نادری”

  1. Hashim Kimyagar

    بہترین تاریخی مضمون نادر صاحب

  2. Manzoor Pouya

    Qaoma Salam.
    Bisyar informative asta. Request asta ki Ble diga qahraman-ha hm nwishta kin.

  3. Walayat Hussain

    Bahtreen Javed sab

Leave a Comment