رسالہ، طلوعِ فکر ۔۔۔ اسحاق محمدی

نادر علی ہزارہ کے دور میں (شاید 1983-1984ء) ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن گرلز سیکشن کی تشکیل ہوئی اور کچھ عرصہ بعد اسی گرلز سیکشن کے زیرِ اہتمام “طلوعِ فکر” کے نام سے ایک ماہنامہ میگزین کا اجرا کیا گیا، جس کی چیف ایڈیٹر فاطمہ چنگیزی تھیں اور معاونین کے فرائض ایچ ایس ایف گرلز سیکشن کی صدر انجام دیا کرتی تھیں۔ مضامین میں زیادہ تر تنوع نہیں تھا۔ سماجی مسائل، اقوالِ زرین وغیرہ مین فوکس میں تھے۔ تمام تر مضامین اردو میں ہوتے تھے، کبھی کبھار شہید حسین علی یوسفی کے ضرب الامثال ہزارہ گی میں بھی نظر آتے تھے۔

ایک دن نادر ہزارہ نے رابطہ کرکے مجھے رسالے کے لیے لکھنے کی دعوت دی اور میں نے “ہزارہ قوم کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر” کے عنوان سے ایک قدرے مفصل آرٹیکل لکھ کر نادر ہزارہ کے حوالے کیا، جو کئی اقساط میں “طلوعِ فکر” میں شائع ہوا۔ ہزارہ تاریخ پر یہ میری تحریروں کی شروعات تھی۔ اس سے قبل میری چند تحریریں روزنامہ مشرق میں شائع ہو چکی تھیں، جن میں ایک “خواب” کے موضوع پر تھی۔ جنرل ضیاء کے دور تک یہی سلسلہ جاری رہا۔

غالباً حسن رضا چنگیزی کے دور میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ اسے بوائز سیکشن کے ماتحت کرکے فیڈریشن کے فکر و نظر کے ایک ترجمان آرگن کے طور پر ڈھالا جائے۔ اس کے بعد مضامین میں کافی تنوع لایا گیا۔ اداریہ، حالاتِ حاضرہ، ہزارہ تاریخ، ثقافت اور زبان پر تحریروں کے علاوہ ہزارہ گی ضرب الامثال بھی شامل کی گئیں۔ مرکزی زبان اردو رہی، لیکن ہزارہ گی اور دری میں بھی تحریریں شامل کی گئیں۔

میں ایک طویل عرصے تک رسالہ “طلوعِ فکر” کے نگرانِ اعلیٰ سے لے کر ایک لکھاری کے طور پر وابستہ رہا۔ مضامین کی جمع آوری، ابتدائی ایڈیٹنگ اور گرامر کی مزید درستگی کے لیے شادروان عالم کے حوالے کرنا، کتابت اور پرنٹنگ کرانا—یہ سب میرے فرائض میں شامل تھے۔ ابتدا میں کتابت قلم سے ہوتی تھی، اس لیے ایڈیٹنگ بہت مشکل اور وقت طلب کام تھا۔

جب کمپیوٹر کا دور آیا تو پہلے شمارے کے کمپوزر علی رضا منگول تھے۔ فائنل پروف ریڈنگ کے لیے میں ان کے پاس گیا۔ ابتدائی پروسیس کافی سہل رہی، لیکن جب صفحات میں عنوانات کو “بولڈ” کرنے کی باری آئی تو معاملہ اس طرح مشکل ہو گیا کہ پرنٹ کرنے پر متن اردو کے بجائے چینی یا جاپانی لگنے لگا۔ کافی کوششوں کے باوجود جب کامیابی نہ ملی تو منگول صاحب بائیک پر اپنے استاد کو لے آئے۔ استاد نے چیک کرکے بتایا کہ کمپیوٹر ایک صفحے میں دو سے زائد فونٹ سائز کو سمجھ نہیں پا رہا۔ اس کا صرف ایک ہی حل تھا کہ فونٹ سائز کو دو تک محدود رکھا جائے۔ تب جا کر مسئلہ حل ہوا۔

اس واقعے کے ذکر کا مقصد نئی نسل کو یہ بتانا ہے کہ ہر ٹیکنالوجی کے آغاز میں کس قدر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

شروع میں پرنٹنگ کے بعد ہزارہ ایس ایف کے اراکین کے دس پندرہ گروپ بنائے جاتے تھے، جو رسالے کی نئی ایڈیشن لے کر علمدار روڈ اور شہر کے مختلف علاقوں میں ڈور ٹو ڈور فروخت کرتے تھے۔ ایک دفعہ ایک گروپ نے واپس آکر جو واقعہ سنایا، اس کے بعد فیڈریشن نے فروخت کے اس طریقہ کار کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔

واقعہ کچھ اس طرح تھا کہ جب ایک گروپ رسالہ فروخت کرنےطوغی روڑ کے ایک معروف سٹور پہنچا تو سٹور کے ہزارہ مالک حاجی صاحب نے نوٹوں سے بھری اپنی تجوری (دخل) سے ایک روپے کا نوٹ نکال کرانہیں دیتے ہوئے کہا کہ “نہ اپنا وقت ضائع کرو نہ میرا یہ لوایک روپیہ، وہ سامنے والے چائنکی ہوٹل سے جاکر چائے پیو اور چلتے بنو”۔

حالانکہ اس وقت رسالے کی قیمت صرف 10 روپے تھی، جو دراصل کتابت، کاغذ اور پرنٹنگ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے تھی، جبکہ باقی تمام کام رضاکارانہ بنیادوں پر کیے جا رہے تھے (وقت کے ساتھ قیمت 15 اور پھر 20 روپے کر دی گئی تھی)۔

حاجی صاحب کی دریادلی زیادہ تر ان مولوی حضرات کی طرح تھی، جنہوں نے کوئٹہ جیسے خوبصورت اور پرامن شہر کو پہلے “لبنان” اور پھر دوسرے گروپ نے “شام” بنا دیا، جس کا بھیانک نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ خود حاجی موصوف کو بھی آخرکار مہاجرت کا کرب سہنا پڑا۔

اس واقعے کے بعد فیصلہ ہوا کہ رسالہ علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاؤن کے ہزارہ اسٹیشنریز کے ذریعے فروخت کیا جائے۔ چونکہ اس وقت تک حالاتِ حاضرہ، قومی و دیگر موضوعات پر مشتمل معیاری تحریروں کے باعث رسالہ “طلوعِ فکر” کی اچھی شہرت بن چکی تھی، اس لیے باآسانی ایک ہزار کاپیاں شائع ہو جاتی تھیں۔ آغاز سے لے کر اختتام تک اس کی کل ایڈیشنز کی تعداد 16 رہی۔ آخری شمارہ جولائی 2007ء میں شائع ہوا۔

یہ ایک بہترین پلیٹ فارم تھا جہاں ہزارہ نوجوان لکھاری بلا جھجھک اپنی تحریریں بھیج سکتے تھے۔ اس پلیٹ فارم سے ہزارہ قوم کے کئی اچھے لکھاری سامنے آئے، جیسے حسن رضا چنگیزی، شادروان عالم مصباح، میں (اسحاق محمدی)، قادر علی نائل، محمد علی عدم، ڈاکٹر رحیم چنگیزی، زمان دہقان زادہ اور دیگر۔

رسالے کی بندش کی ایک بڑی وجہ طلبہ تنظیموں پر پابندی بھی تھی۔

اب (2026ء میں) ہزارہ سٹوڈنٹس فیڈریشن کی موجودہ کابینہ، جو ایک بار پھر فعال ہو چکی ہے، چاہتی ہے کہ دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ رسالہ “طلوعِ فکر” کا اجرا دوبارہ شروع کیا جائے۔ اس ضمن میں انہوں نے ایک اچھی شروعات اس طرح کی ہے کہ سابقہ تمام دستیاب ایڈیشنز کو ڈیجیٹلائز کر کے قارئین کی دسترس میں لایا جائے۔

خوش قسمتی سے رسالے کے نصف سے زائد شمارے میرے پاس محفوظ ہیں، جو کہ قوم ہی کی امانت ہیں۔ دوستوں کی درخواست پر میں یہ تمام ایڈیشنز فیڈریشن کے حوالے کرتے ہوئے خوشی اور اطمینان محسوس کر رہا ہوں کہ نئی ٹیکنالوجی کے طفیل یہ علمی نوشتہ طویل عرصے تک تاریخ کی صورت میں قوم کی نئی نسلوں اور دیگر قارئین کے لیے دستیاب رہے گا۔

قوم کے دیگر افراد سے بھی گزارش ہے کہ اگر مزید کاپیاں ان کے پاس موجود ہوں تو براہِ کرم انہیں ضرور فراہم کریں۔ ڈیجیٹلائز ہونے کے بعد ان کی امانت انہیں واپس کر دی جائے گی۔

اسحاق محمدی

متعلقہ مضامین

Leave a Comment