پاکستان پیپلز پارٹی، بدلتے نظریات ۔۔۔ ذاکر مختار

پاکستان پیپلز پارٹی کبھی ایک نظریہ تھی۔ یہ غریبوں، محنت کشوں اور محروم طبقات کی آواز سمجھی جاتی تھی۔ ذوالفقار علی بھٹو کے سوشلسٹ نعروں اور بینظیر بھٹو کی سیاست نے اس جماعت کو ایک نظریاتی وقار دیا تھا۔ مگر آج جب بلاول ہاؤس میں آصف علی زرداری شفیق مینگل کو گلے لگا کر پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وہی پیپلز پارٹی باقی رہ گئی ہے یا صرف اس کا نام رہ گیا ہے؟
شفیق مینگل کا نام برسوں سے بلوچستان کی سیاست میں تنازع کا حصہ رہا ہے۔ سپریم کورٹ میں بلوچستان کے لاپتہ افراد کے مقدمات کے دوران مختلف تحقیقات اور رپورٹس میں ان کے مبینہ مسلح گروہ “بلوچ مسلح دفاعی تنظیم” کا ذکر سامنے آتا رہا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ گروہ 2008 کے بعد خضدار اور آواران کے علاقوں میں سرگرم رہا۔
پھر جنوری 2014 میں خضدار کے علاقے توتک سے اجتماعی قبریں دریافت ہوئیں۔ اس واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس معاملے کی تحقیقات کے لیے بلوچستان حکومت نے ایک عدالتی کمیشن قائم کیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق کمیشن کے سامنے 38 افراد نے گواہی دی اور ان میں سے 37 گواہوں نے شفیق مینگل اور ان کے گروہ کا نام لیا۔
اس کیس پر پاکستانی صحافیوں نے بھی تفصیلی رپورٹنگ کی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے صحافی شہزاد بلوچ نے اس عدالتی کمیشن اور گواہوں کے بیانات پر رپورٹیں شائع کیں جبکہ ڈان/ہیرالڈ میگزین میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ “Mangled Facts” میں بھی اس پورے معاملے کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
ماضی میں بعض حلقوں کی جانب سے ان پر فرقہ وارانہ تنظیموں خصوصاً لشکرِ جھنگوی سے مبینہ روابط کے الزامات بھی لگتے رہے ہیں، جو بلوچستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے پس منظر میں ہمیشہ ایک حساس موضوع رہا ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کو اس ایک نشست کے بدلے آخر کیا مل جائے گا؟ نہ حکومت بننے والی ہے اور نہ بلوچستان کے مسائل حل ہونے والے ہیں۔ مگر اس فیصلے نے ایک پیغام ضرور دے دیا ہے کہ اقتدار کی سیاست میں اصول اور نظریات اکثر قربان کر دیے جاتے ہیں۔
کل یہی شفیق مینگل پیپلز پارٹی کی پارلیمانی پارٹی یا سینٹرل کونسل کے اجلاسوں میں رضا ربانی، اعتزاز احسن اور شیری رحمٰن جیسے لوگوں کے ساتھ بیٹھے نظر آئیں گے۔ سوال یہ نہیں کہ وہ جیتتے ہیں یا ہارتے ہیں۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا پیپلز پارٹی نے اس فیصلے کے ساتھ اپنی تاریخ اور نظریاتی ساکھ بھی داؤ پر لگا دی ہے؟
کبھی کبھی سیاست میں ایک نشست جیتنے کے لیے پوری تاریخ ہارنی پڑتی ہے۔

ذاکر مختار

متعلقہ مضامین

Leave a Comment