جیسا کہ میں نے اپنے ایک آرٹیکل میں قدرے تفصیل سے لکھا ہے، 70 کی دہائی تک پاکستانی ہزارہ میں ہزارہ گی موسیقی کے حوالے سے دلچسپی نہیں تھی۔ اکثریت اسے ایک پسماندہ اور دیہاتی موسیقی سمجھتے ہوئے نظر انداز کرتی تھی۔ لیکن اس کے بعد جن اداروں نے ہزارہ گی موسیقی کی ترویج میں اہم کردار ادا کیا، ان میں شامل ہیں:
- ریڈیو پاکستان کوئٹہ، پروگرام “ہزارہ گی”
- ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن
- تنظیم نسل نو ہزارہ مغل
افغانستان کے اندر بھی ہزارہ گی موسیقی کے لحاظ سے حالات کافی مخدوش تھے۔ ہزارہ جات کے اندر روایتی ملا موسیقی کے اتنے خلاف تھے کہ اس کو ریپ اور زنا جیسے گناہ کبیرہ کے زمرے میں لاتے تھے۔ لیکن چونکہ کچھ کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھے، تو دمبورہ و غیچگ کے ذریعے گانا گانے والوں کا سوشل بائیکاٹ کراتے تھے، جیسے دلارام آغئی اور استاد صفدر توکلی کے ساتھ ہوا۔ 80 کی دہائی کے بعد جب ایران نواز سیاسی ملا ہزارہ جات پر مسلط ہوگئے تو انہوں نے براہ راست سخت سزائیں دینے کی روش اختیار کی، جیسا کہ انہوں نے مشہور ہزارہ موسیقار اور گلوکار استاد سرور سرخوش کے ساتھ کیا، یعنی ان کے گھر پر حملہ کرکے خود انہیں اور ان کے گھر کے کئی لوگوں کو قتل کردیا۔
لے دے کے صرف کابل ہی ایک ایسا شہر تھا جہاں فنِ موسیقی سے وابستہ افراد کو کم از کم جان کا خطرہ نہیں تھا۔ لیکن کابل میں بھی روایتی لوک موسیقی جیسے دمبورہ وغیرہ کو پسماندہ دیہاتی سمجھ کر نظر انداز کیا جاتا تھا۔ اس بابت حسن رضا چنگیزی نے 90 کی دہائی کے کابل میں فولک موسیقی اور لوک فنکاروں کے بارے میں ایک دفعہ بتایا تھا کہ:
“ایک دن میرا کابل میوزک سینٹر جانے کا پروگرام بنا۔ وہاں اپنی پسند کے فنکاروں کی ڈھیر ساری کیسٹیں لیں جن میں استاد سراھنگ، استاد ناشناس، ظاہر ہویدا، احمد ظاہر سبھی کی کیسٹیں تھیں۔ آخر میں جب میں نے سیلز مین سے استاد صفدر توکلی کی کیسٹ مانگی تو اس نے ناگواری سے کہا کہ ‘کسیتهای پیرن و تنبان نداریم’ یعنی گنوار لوگوں کی کیسٹ ہمارے پاس نہیں۔”
جس سے صاف ظاہر تھا کہ کابل میں بھی دمبورہ جیسے روایتی فوک میوزک کے لیے حالات سازگار نہیں تھے۔ لیکن کوئٹہ میں ستر کی دہائی کے بعد حالات کافی بہتر تھے۔ ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور تنظیم نسل نو ہزارہ مغل کی کوششوں سے نہ صرف اسٹیج کی سطح پر بڑے بڑے پروگرام جاری تھے بلکہ فنِ موسیقی، بطور خاص دمبورہ آموزی کے کئی مراکز بھی کھل گئے تھے۔ مقامی سطح پر دمبورہ بنانے کی کئی دکانیں کھل چکی تھیں۔ مجھے بخوبی یاد ہے کہ موسیقی میں مزید جدت لانے کی کوششیں ہو رہی تھیں، جیسے دمبورہ کے ساتھ طبلہ، دمبورہ کے ساتھ ہارمونیم، دمبورہ کے ساتھ بانسری کے تجربات کیے جا رہے تھے۔
غالباً 2005ء سے “ستارہ افغان” پروگرام کا آغاز ہوا۔ شروع میں اس پروگرام کی مقبولیت افغانستان کے بڑے شہروں تک محدود رہی لیکن حمید سخی زادہ کی شرکت نے اس پروگرام کو ہزارہ عوام میں مقبول بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ میری نظر میں اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں:
- افغانستان کی تاریخ میں پہلی بار حمید سخی زادہ نے افغانستان کی سطح پر فخر سے ہزارہ گی لوک موسیقی اور دمبورہ کا انتخاب کیا۔
- سخی زادہ ہر پروگرام کے آغاز پر اسٹیج کو بوسہ دیتے، جس نے ہزارہ گی موسیقی کے ساتھ خود موسیقی اور موسیقی اسٹیج کو بھی عزت اور توقیر دی۔
حمید سخی زادہ کے اگلے مراحل کی طرف کامیابی کا سفرکوئٹہ کے ہزارہ عوام کے اندر جوش کو نئی بلندیوں تک پہنچانے کا باعث بنا۔ اگرچہ سخی زادہ اس مقابلے میں رنر اپ رہا لیکن پاکستانی ہزارہ پیر و جوان کے دلوں میں جوش اور ولولے کو انتہا تک پہنچا دیا۔ اس کے بعد ہر سال ستارہ افغان مقابلے کے دوران نوجوان باقاعدہ ٹینٹ اور قنات لگا کر اسپیکرز کے ذریعے لوگوں کو ترغیب دیتے کہ وہ ستارہ افغان مقابلے کے دوران فلاں ہزارہ گلوکار کی حمایت میں بذریعہ ایس ایم ایس ووٹ کریں۔ ان خیموں میں رضاکار صبح سے لیکر شام تک عام لوگوں کی مدد کرتے تھے کہ وہ کس طرح ایس ایم ایس کر سکتے ہیں۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ بعد کے آنے والے تمام ستارہ افغان جیتنے والے ہزارہ گلوکاروں کی کامیابی میں کوئٹہ سے بھیجے گئے ایس ایم ایس ووٹ کلیدی رہے تھے۔
بعد کے آنے والے سالوں میں جب پاکستان سے 19 مئی کو ہزارہ کلچر ڈے کا آغاز ہوا تو اس میں بھی کوئٹہ سے ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی، تنظیم نسل نو ہزارہ، ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن، کیبلاغی آزرگی، انجمن اوماغ نو، اسلام آباد سے فاطمہ عاطف آغئی نے بڑے بڑے اور منظم فنکشنز کرا کے اس دن کو دنیا بھر کے ہزارہ عوام میں پھیلانے میں بنیادی کردار نبھایا۔ یاد رہے کہ ان ہزارہ کلچر ڈے فنکشنز میں سابق وزیراعظم، موجودہ وزرائے اعلیٰ، وزراء، سینیٹرز، ایم این ایز، ایم پی ایز سمیت مختلف برادر اقوام کے اہم قومی رہنما تواتر سے شرکت کرتے آئے ہیں۔ امریکہ اور آسٹریلیا کے کئی شہروں کے میئرز اس دن کو باقاعدہ منانے کے احکام دے چکے ہیں۔ ورجینیا، امریکا میں گزشتہ دو سالوں کے دوران وسیع و عریض پارک اس قدر بھر چکے تھے کہ انتظامیہ کو پولیس سے درخواست کرنی پڑی کہ وہ مزید لوگوں کا داخلہ بند کرا دیں، جس کا میں خود گواہ ہوں۔ خیر سے اب ہزارہ کلچر ڈے عالمی سطح پر ہزارہ قوم کی شناخت بن چکا ہے۔
- شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 12, 2026
- آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 1, 2026
- ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Mar 26, 2026
