ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (تیسری قسط) ۔۔۔ جاوید نادری

میر یزدان بخش وہ پہلے لیڈر تھے جنہوں نے انیسویں صدی کے آغاز میں (1820ء-1830ء) یہ محسوس کیا کہ اگر ہزارہ قبائل آپس میں لڑتے رہے تو وہ بیرونی طاقتوں (کابل کے امیروں) کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ چکے تھے کہ داخلی انتشار، بیرونی جبر سے زیادہ خطرناک ہے۔
وہ خود بہسود قبیلے کی ذیلی شاخ دولت پائی سے تعلق رکھتے تھے یہ شاخ بہسود کے علاقے میں اپنی سیاسی بصیرت اور عسکری قوت کی وجہ سے جانی جاتی تھی۔ میر یزدان بخش کے والد، میر ولی بیگ، بھی اپنے دور کے ایک بااثر سردار تھے۔
میر یزدان بخش نے جاغوری، دائی زنگی، اور شیخ علی جیسے بڑے قبائل کے ساتھ سیاسی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی تاکہ ایک “متحدہ ہزارہ جات” تشکیل دیا جا سکے۔ ان کی یہ کوششیں اتنی کامیاب تھیں کہ اس وقت کے انگریز سیاح چارلس میسن (Charles Masson) نے اپنی کتاب میں لکھا کہ میر یزدان بخش نے ہزارہ جات میں ایسی امن و امان کی صورتحال پیدا کر دی تھی کہ ایک تنہا مسافر بھی سونے کی اشرفیاں لے کر پورے ہزارہ جات کا سفر بلا خوف و خطر کر سکتا تھا۔
چارلس میسن (Charles Masson)، جو ایک برطانوی مہم جو اور سیاح تھا، نے 1820ء اور 1830ء کے درمیان اس خطے کا دورہ کیا اور اپنی کتاب “Narrative of Various Journeys in Balochistan, Afghanistan, and the Panjab” میں ہزارہ قوم کے بارے میں نہایت تفصیلی اور دلچسپ مشاہدات قلمبند کیے۔
اس کی تحریریں اس لیے اہم ہیں کہ اس نے ہزارہ جات کو اس وقت دیکھا جب وہ اپنی مکمل خودمختاری کے دور میں تھا۔
میسن لکھتا ہے کہ ہزارہ اپنے پڑوسیوں (پشتونوں اور تاجکوں) سے بالکل مختلف نظر آتے ہیں۔ اس نے ان کی چپٹی ناک، چوڑی پیشانی اور آنکھوں کی مخصوص بناوٹ کا ذکر کیا، جو اس کے بقول ان کے تاتاری یا منگول نژاد ہونے کی واضح علامت تھی۔ اس نے انہیں نہایت جفاکش، مضبوط اور محنتی قرار دیا۔
میسن میر یزدان بخش سے بہت متاثر تھا۔ اس نے لکھا
“میر یزدان بخش نے اپنے زیرِ اثر علاقوں میں ایسا نظم و ضبط قائم کیا ہے کہ چوری چکاری کا تصور بھی ختم ہو گیا ہے۔ ہزارہ جات کے راستے جو کبھی خطرناک سمجھے جاتے تھے، اب اتنے محفوظ ہیں کہ ایک اکیلا مسافر بھی بے خوف ہو کر گزر سکتا ہے۔”
اس نے میر یزدان بخش کو ایک عادل اور دور اندیش حکمران کے طور پر پیش کیا جو اپنے لوگوں کی فلاح و بہبود کے لیے کوشاں تھا۔ میسن نے ہزارہ قوم کی مہمان نوازی کی بہت تعریف کی۔ اس نے لکھا کہ اگرچہ یہ لوگ جنگجو ہیں، لیکن اپنے مہمانوں (خواہ وہ اجنبی ہی کیوں نہ ہوں) کی حفاظت اور ان کی خاطر تواضع کو اپنا مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہیں۔ اس نے ذکر کیا کہ ہزارہ عورتیں بھی مردوں کی طرح نڈر ہیں اور گھر کے امور کے ساتھ ساتھ دفاعی معاملات میں بھی باخبر رہتی ہیں۔
میسن نے ہزارہ جات کے پہاڑی قلعوں کا ذکر کیا ہے۔ اس نے لکھا کہ ہزارہ اپنے قلعوں کو ایسی اسٹریٹجک جگہوں پر بناتے ہیں جہاں سے وہ میلوں دور تک دشمن کی نقل و حرکت پر نظر رکھ سکیں اور کم نفری کے باوجود بڑی فوج کا مقابلہ کر سکیں۔ یہ وہی دفاعی نظام تھا جس کی وجہ سے مغل اور صفوی بھی ان کے علاقوں کو پوری طرح فتح نہ کر سکے۔
میسن نے ہزارہ جات کی وادیوں کی ہریالی اور وہاں کی زراعت کا ذکر کیا۔ اس نے بتایا کہ ہزارہ بہترین قسم کے قالین (گلیم) اور اونی کپڑا (برک) تیار کرتے ہیں جو پورے خطے میں مشہور ہیں۔
میسن نے خبردار کیا تھا کہ کابل کے امیر (دوست محمد خان) ہزارہ جات کی خودمختاری سے ناخوش ہیں اور وہ کسی بھی طرح ان آزاد پہاڑی قبائل کو زیر کرنا چاہتے ہیں۔ اس نے میر یزدان بخش کے خلاف کابل کی سازشوں کو اپنی آنکھوں سے بھانپ لیا تھا۔
میسن میر یزدان بخش سے ملاقات کے بعد لکھتا ہے
“میر یزدان بخش ایک غیر معمولی انسان تھے۔ ان کی خاموشی میں بھی ایک ایسی ہیبت تھی جو ان کے زیرِ اثر قبائل کو متحد رکھتی تھی۔ وہ ایک سادہ سے خیمے میں رہتے تھے لیکن ان کا حکم پورے ہزارہ جات میں قانون کی طرح نافذ تھا۔ انہوں نے اپنی دانشمندی سے ان قبائل کو ایک لڑی میں پرو دیا تھا جو صدیوں سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔”
میسن جب ان علاقوں سے گزرا تو اس نے وہاں کے قلعوں کے بارے میں لکھا:
“ہزارہ جات کے ہر موڑ پر ایک قلعہ نظر آتا ہے۔ یہ قلعے مٹی اور پتھر سے بنے ہیں لیکن ان کی دیواریں اتنی مضبوط ہیں کہ توپ کے گولے بھی ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ یہاں کے لوگ (خصوصاً بہسود اور جاغوری کے جنگجو) اپنے قلعوں کے دفاع میں اتنے ماہر ہیں کہ ایک چھوٹا سا گروہ بھی ایک بڑی شاہی فوج کو وادی کے دہانے پر روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔”
میسن نے اس دور کے امن و امان کا تذکرہ کرتے ہوئے ایک بہت مشہور جملہ لکھا:
“میر یزدان بخش کے دور میں ہزارہ جات کی سڑکیں کابل کے بازاروں سے بھی زیادہ محفوظ تھیں۔ اگر کوئی مسافر اپنا مال راستے میں بھول جاتا، تو کئی دن بعد بھی اسے وہ وہیں محفوظ ملتا۔ یہ وہ نظم و ضبط تھا جو میر نے اپنی سختی اور انصاف سے قائم کیا تھا۔”
اگرچہ میسن زیادہ وقت بہسود میں رہا، لیکن اس نے ہمسایہ قبائل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا:
“جاغوری کے قبائل اپنی تعداد اور دولت (مویشی اور زمین) کی وجہ سے بہت طاقتور ہیں۔ وہ کابل کے امیر کو اپنا حکمران نہیں مانتے بلکہ صرف اپنے سرداروں کی اطاعت کرتے ہیں۔ ان کے علاقے میں داخل ہونا کسی بھی بیرونی فوج کے لیے خودکشی کے مترادف ہے۔”
میسن نے ایک جگہ ہزارہ قوم کے لباس اور ہتھیاروں کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ:
“ان کے ہتھیاروں اور گھڑ سواری کے انداز میں اب بھی تاتاریوں (منگولوں) کی جھلک ملتی ہے، لیکن ان کے سماجی آداب پر ایرانی (صفوی) تہذیب کے گہرے اثرات ہیں۔ وہ اپنی مذہبی شناخت (شیعہ مذہب) پر کسی قسم کا سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں، اور یہی وہ جذبہ ہے جو انہیں اپنے سنی پڑوسیوں کے خلاف ایک مضبوط دیوار بنائے رکھتا ہے۔”
چارلس میسن کے سفرناموں اور ہزارہ جات کے بارے میں ان کے مشاہدات کی تشہیر لندن کے علمی اور سیاسی حلقوں میں 1830ء اور 1840ء کے درمیان ہوئی۔ یہ وہ دور تھا جب برطانیہ اور روس کے درمیان “گریٹ گیم” (Great Game) شروع ہو رہی تھی اور لندن کے اخبارات وسطی ایشیا کی ہر خبر کو بڑے شوق سے چھاپتے تھے۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

Leave a Comment