ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (میر یزدان بخش) ۔۔۔ جاوید نادری

میر یزدان بخش کی داستانِ حیات ہزارہ تاریخ کے اس بیانیے کو مزید تقویت دیتی ہے کہ یہ قوم کبھی لاچار، مغلوب اور بے بس نہیں رہی، بلکہ اس کی تاریخ مزاحمت، سیاسی شعور اور اپنے وجود کے دفاع کے لیے دی جانے والی عظیم قربانیوں سے عبارت ہے۔
میر یزدان بخش کی عسکری تاریخ صرف دفاع کی داستان نہیں بلکہ یہ “تزویراتی برتری” (Strategic Superiority) کی ایک ایسی مثال ہے جہاں ایک چھوٹی قوت نے اپنے سے کئی گنا بڑی اور جدید مسلح افواج کو ناک چنے چبوا دیے۔

میر یزدان بخش صرف ایک قبائلی سردار نہیں تھے، بلکہ وہ انیسویں صدی کے وسطی ایشیا میں “ہزارہ قوم دوستی” اور “سیاسی وحدت” کے پہلے بڑے معمار تھے۔ ان کی ابتدائی زندگی کے بارے میں اگرچہ براہِ راست تفصیلات کم ملتی ہیں، مگر ان کی سیاسی بصیرت، عسکری نظم و ضبط اور اتحاد پر غیر معمولی اصرار اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ محض قوتِ بازو کے نہیں بلکہ تاریخ کے شعور سے بھی لیس تھے۔ ان کے بارے میں مزید گہرائی میں جانے کے لیے ہمیں ان کی دور اندیشی اور ان کے خلاف ہونے والی عالمی و علاقائی سازشوں کو سمجھنا ہوگا۔
میر یزدان بخش سے پہلے ہزارہ جات مختلف چھوٹے چھوٹے “میروں” اور “اربابوں” میں منقسم تھا جو اکثر آپس میں دست و گریبان رہتے تھے۔ انہوں نے بہسود کے میروں کو متحد کیا اور پھر دائی کنڈی اور غزنی کے علاقوں تک اپنا اثر و رسوخ بڑھایا۔ انہوں نے ایک باقاعدہ داخلی محصول (Tax) کا نظام رائج کیا تاکہ بیرونی امداد کے بجائے اپنی دفاعی قوت کو مضبوط کیا جا سکے۔ یہ ایک جدید ریاست کی طرف پہلا قدم تھا۔ اس زمانے میں کابل سے ہرات اور کابل سے ترکستان (مزارِ شریف) جانے والے قدیم تجارتی راستے ہزارہ جات سے گزرتے تھے۔ میر یزدان بخش نے ان راستوں پر چوکیاں قائم کیں اور تجارتی قافلوں کی حفاظت کے عوض محصول وصول کرنا شروع کیا۔ اس اقدام نے کابل کے امیروں (بارکزئی اور درانی حکمرانوں) کی معیشت کو براہِ راست متاثر کیا۔ برطانوی سیاح اور جاسوس الیگزینڈر برنس (Alexander Burnes)، جو اس وقت اس علاقے سے گزرا، اس نے اپنی یاداشتوں میں میر یزدان بخش کی طاقت اور نظم و ضبط کی بے پناہ تعریف کی ہے اورانہیں ایک “خودمختار اور باوقار حکمران” قرار دیا ہے۔

میر یزدان بخش نے صرف پیدل فوج پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ہزارہ گھڑ سواروں کا ایک ایسا دستہ تیار کیا جو پہاڑی علاقوں میں بجلی کی طرح تیزی سے حرکت کر سکتا تھا۔ جو گوریلا جنگ کے فن میں یکتا تھا اور جس نے کابل سے آنے والی کئی بڑی مہمات کو پہاڑوں کی بلندیوں پر دھول چٹا دی۔ برطانوی سیاحوں اور اس دور کے مورخین نے میر صاحب کے نظم و ضبط اور ان کی سیاسی ہیبت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے کہ وہ اپنے عہد کے سب سے طاقتور اور زیرک ہزارہ رہنما تھے۔ انہوں نے اسٹریٹجک مقامات پر قلعے تعمیر کیے جن کے کھنڈرات آج بھی ان کی انجینئرنگ کی مہارت کی گواہی دیتے ہیں۔
میر یزدان بخش نے اپنا انٹیلیجنس کا نظام قائم کیا تھا ان کے جاسوس کابل اور دیگر شہروں میں موجود تھے، جو دشمن کی نقل و حرکت کی خبر پہلے ہی پہنچا دیتے تھے۔ وہ لاجسٹک ناکہ بندی کے تحت دشمن کی سپلائی لائن کاٹ دیتے تھے۔ جب کابل کی فوج پہاڑوں میں پھنس جاتی تو ان کے لیے خوراک اور گھوڑوں کا چارہ ختم ہو جاتا، جس کے بعد وہ آسانی سے ہتھیار ڈال دیتے یا بھاگنے پر مجبور ہو جاتے۔ میر صاحب کی سخاوت اور بہادری کے قصے اتنے مشہور تھے کہ دشمن کے سپاہی ان کے خلاف لڑنے سے کتراتے تھے۔

فیض محمد کاتب ہزارہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف “سراج التواریخ” میں میر یزدان بخش کی شخصیت اور ان کے سیاسی قد و کاٹھ کو جس دیانتداری سے محفوظ کیا ہے، وہ اس عظیم رہنما کی تاریخی اہمیت پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا ہے۔ کاتب نے میر صاحب کو محض ایک علاقائی سردار کے طور پر نہیں بلکہ ایک مدبر اور “صاحبِ سیف و قلم” انسان کے طور پر پیش کیا ہے جس کی ہیبت کابل کے ایوانوں پر طاری تھی۔ کاتب کی تحریروں سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ میر یزدان بخش کا اصل جرم ان کی عسکری طاقت سے زیادہ ان کی وہ سیاسی خود مختاری تھی جو کابل کے امیروں کی مرکزیت پسند پالیسیوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی تھی۔ فیض محمد کاتب نے ان مہمات کا ذکر نہایت تفصیل سے کیا ہے جن میں میر صاحب نے کابل سے بھیجی گئی شاہی افواج کو اپنی تزویراتی مہارت سے شکست دی اور ثابت کیا کہ ہزارہ جات کی سرزمین کسی بیرونی تسلط کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس بات پر سب متفق ہیں کہ میر یزدان بخش کو میدانِ جنگ میں کبھی شکست نہیں دی جا سکی۔ ان کا زوال اس وقت شروع ہوا جب دشمن نے “مذہبی کارڈ” اور “مقدس حلف” کا سہارا لیا۔
تاریخ کا یہ المیہ ہمیشہ سے رہا ہے کہ جو مہم جو میدانِ جنگ میں ناقابلِ شکست ثابت ہوتے ہیں، انہیں سازشوں کے جال میں الجھایا جاتا ہے۔ میر یزدان بخش کے ساتھ بھی یہی ہوا، کابل کے حکمران جب عسکری طور پر ان کا مقابلہ نہ کر سکے تو انہوں نے مذہبی تقدس اور قرآن کی قسم کا سہارا لے کر انہیں دھوکے سے اسیر کیا۔ میر صاحب، جو اپنی قوم کی طرح وضع داری اور عہد کی پاسداری پر یقین رکھتے تھے، دشمن کی اس عیاری کا شکار ہو گئے۔
میر یزدان بخش کو کابل میں مذاکرات کی دعوت دی گئی۔ جب انہوں نے انکار کیا تو قرآنِ پاک پر حلف اٹھا کر ان کی جان و مال کی امان کا وعدہ کیا گیا۔ انہوں نے قرآن کی حرمت کا پاس رکھتے ہوئے دعوت قبول کی، لیکن کابل پہنچتے ہی انہیں دھوکے سے قید کر لیا گیا۔ اور 1832ء میں انہیں شہید کر دیا گیا۔

کاتب نے میر یزدان بخش کے خلاف ہونے والی سازشوں اور ان کی شہادت کے المناک واقعے کو تاریخ کے سینے میں اس طرح پیوست کر دیا ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک سبق بن گیا۔ انہوں نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ کس طرح کابل کے سرداروں نے قرآنِ پاک کو ایک سیاسی مہرے کے طور پر استعمال کیا اور میر صاحب کی وضع داری کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے انہیں پابہ زنجیر کیا۔ کاتب کے نزدیک میر یزدان بخش کا زوال دراصل اس اخلاقی دیوالیہ پن کا نتیجہ تھا جو اس وقت کی کابل کی سیاست کا خاصہ بن چکا تھا۔
اگرچہ میر یزدان بخش کو جسمانی طور پر ختم کر دیا گیا، لیکن ان کا قائم کردہ “اتحاد کا تصور” اور “حقِ خود ارادیت” کا جذبہ ہزارہ قوم کے اجتماعی لاشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو گیا۔

جاوید نادری

متعلقہ مضامین

2 Thoughts to “ہزارہ قوم کی تاریخ، مزاحمت اور وقار (میر یزدان بخش) ۔۔۔ جاوید نادری”

  1. Khan hazara

    Zinda bashin

    1. اکبر علی

      Thank you Khan Hazara.

Leave a Comment