
بلدیاتی انتخابات کرانا پاکستانی ڈکٹیٹر جنرلوں کا ہمیشہ سے پسندیدہ انتخاب رہا ہے، چاہے وہ جنرل ایوب خان ہوں، جنرل ضیاء ہوں یا پھر جنرل پرویز مشرف۔ اس کی وجہ بھی صاف ہے کہ اس طرح وہ اپنے اقتدار کو خطرے میں ڈالے بغیر اندرونی اور بیرونی طور پر جمہوریت پسند ہونے کا تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستانی ہزارہ تاریخ کے حوالے سے جنرل ایوب خان کے دور میں منعقدہ لوکل باڈیز انتخابات کے بارے میں صرف اتنی معلومات ہیں کہ کوئٹہ شہر کے وارڈ نمبر 7 سے منتخب ممبروں میں ایک ہزارہ وارڈ ممبر، مرحوم حاجی محمد عیسیٰ المعروف بہ حاجی عیسیٰ، بھی شامل تھا۔ یاد رہے کہ اس وقت کوئٹہ شہر انتظامی لحاظ سے سات وارڈز میں منقسم تھا۔
دوسرے فوجی ڈکٹیٹر جنرل ضیاء کے دور کے پہلے بلدیاتی انتخابات ستمبر 1979ء میں کرائے گئے، جہاں کوئٹہ شہر اسی طرح سات وارڈز پر مشتمل رہا۔ البتہ ہر وارڈ میں ممبروں کی تعداد اس وارڈ کی کل آبادی کی بنیاد پر رکھی گئی تھی۔ چونکہ اس وقت تک بیوروکریسی میں مذہبی، قومی، نسلی، لسانی یا علاقائی تعصبات کا زہر سرایت نہیں کر گیا تھا، لہٰذا انہوں نے بلدیاتی انتخابات کے تمام مراحل کو صاف اور شفاف رکھا۔ اس وقت کی آبادی کے لحاظ سے وارڈ نمبر 7 کے لیے کل 12 نشستیں مختص کی گئی تھیں جن میں طوغی روڈ، علمدار روڈ اور پیر محمد روڈ کے علاقے شامل تھے۔
میں اس وقت دسویں جماعت میں تھا اور محلے کی حد تک مرحوم حوالدار غلام حسن (بابے عنایت طلا) کے ساتھ اجتماعی کاموں میں پیش پیش تھا۔ اُس وقت ہمارے محلے “تالاب خشک” کا سب سے اہم مسئلہ پینے کے پانی کا تھا، تو میں نے مرحوم حوالدار غلام حسن کے ساتھ تین چار امیدواروں سے مل کر پینے کے پانی کا مسئلہ حل کرنے کے بارے میں بات بھی کی تھی اور بالآخر محلہ والوں کی اکثریت کی رضامندی سے ہم نے مرحوم حاجی موسیٰ میر کو محلے میں دعوت دے کر اس کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔ حالانکہ اس انتخاب میں طائفی اثرات اس حد تک زیادہ تھے کہ تقریباً تمام ہزارہ امیدوار یا تو خود “سرچندہ” تھے یا سرچندہ کے قریبی رشتہ دار تھے۔ نیز سوائے ایک امیدوار یعنی مرحوم حاجی قنبرعلی کے، باقی سب مائلو ٹرسٹ سے نیچے کے نسبتاً پوش محلّات میں رہائش پذیر تھے، جبکہ ووٹروں کی سب سے زیادہ تعداد بنیادی مسائل سے محروم مہرآباد والوں کی تھی، جنہیں اکثر یار دوست مزاحاً پنجاب کہتے تھے (اب بھی کہتے ہیں)۔
مجھے امیدوار حاجی محمد موسیٰ میر کی طرف سے پیر محمد روڈ اسکول کے مردانہ پولنگ اسٹیشن کے سامنے لگائے گئے انتخابی اسٹال میں ووٹروں کے لیے پرچی بنانے کی ذمہ داری ملی تھی۔ یہ میری سیاسی زندگی کا پہلا انتخابی تجربہ تھا۔ وارڈ نمبر 7 کی کل 12 مختص نشستوں پر ٹاپ 12 زیادہ ووٹ لینے والے امیدوار منتخب قرار دیے گئے تھے، جن میں دس ہزارہ امیدوار، ایک پشتون اور ایک یوسفزئی (قندھاری) شامل تھے، جن کی تفصیل درج ذیل ہے:
1۔ حاجی محمد موسیٰ میر
2۔ حاجی قنبرعلی (بابے مرزا)
3۔ حاجی سہراب علی
4۔ ولایت حسین ایڈووکیٹ
5۔ حاجی غلام حسین مہری
6۔ حاجی قاسم علی
7۔ سید شاہ حسین
8۔ حاجی اشرف علی
9۔ حاجی محمد جمعہ
10۔ حاجی محمد ابراہیم (یہ کنفرم نہیں)
11۔ لالا غلام محمد پشتون
12۔ برادر یوسفزئی کا نام معلوم نہ کر سکا (تصویر گروپ فوٹو میں شامل ہے)
عمومی طور پر یہ بلدیاتی انتخابات پُرامن رہے۔ صرف ہزارہ نشین علاقہ خارتار (مومن آباد) کے زنانہ پولنگ اسٹیشن میں پولیس کی طرف سے خواتین ووٹروں سے بدتمیزی کرنے پر چند ہزارہ نوجوانوں نے احتجاج کیا، تو پولیس نے لاٹھی چارج کا سہارا لیا۔ جواب میں پتھراؤ ہوا اور کچھ لوگ، بشمول چند پولیس والے، معمولی زخمی ہوئے۔ نوجوانوں میں محمد رضا وکیل، ذوالفقار علی (دلشاد کا بھائی) وغیرہ شامل تھے۔ ان پر پرچے بھی ہوئے تھے، جس کی وجہ سے یہ نوجوان کئی مہینوں تک روپوش بھی رہے تھے۔
بہرحال جنرل ضیاء خود ایک جابر اور سفاک ڈکٹیٹر تھا، لیکن چونکہ حکومتی مشینری متعصب اور آلودہ نہیں تھی، اس لیے انہوں نے اس بلدیاتی انتخابات کو صاف اور شفاف رکھنے کی کامیاب کوشش کی تھی۔ ہزارہ قوم کے لیے بھی یہ اچھی شروعات تھی؛ اس کے 10 کونسلرز منتخب ہوئے تھے۔ لیکن بعد کے آنے والے ادوار میں مذہبی، قومی، نسلی اور لسانی تعصبات میں اضافہ ہونے سے ہزارہ قوم سب سے زیادہ متاثر ہوئی۔ ان کی 10 سیٹیں گھٹ کر 5 یا 6 تک محدود کر دی گئیں، اور اب خیر سے کرپشن اور رشوت کی چمک کے اضافے نے اس طرح معجزہ دکھایا ہے کہ ہزارہ قوم کی دونوں صوبائی اسمبلی نشستیں ایسے لوگوں کے حوالے کی گئی ہیں جن کا ان حلقوں سے رہائش یا بود و باش کی حد تک بھی کوئی تعلق نہیں۔ اس سے ہزارہ قوم آنے والے بھیانک اور تاریک دور کا اندازہ آسانی سے لگا سکتی ہے۔
نایاب گروپ فوٹو کے لیے محترم قنبرعلی خان کا بے حد شکریہ
- شاہرگ کی زندگی اور 1971ء کی جنگ کی چند یادیں ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 12, 2026
- آغیلی سسٹم ۔۔۔ اسحاق محمدی - Apr 1, 2026
- ہزارہ قومی جائیدادوں کی بندربانٹ ۔۔۔ اسحاق محمدی - Mar 26, 2026