
تاریخ کا مقصد آنکھوں میں آنسو لانا نہیں بلکہ ذہن میں سوال اور دل میں وقار پیدا کرنا ہوتا ہے۔ ہزارہ قوم کی تاریخ زخموں سے بھری ضرور ہے، مگر یہ زخم کمزوری کی نہیں بلکہ مزاحمت اور بقا کی علامت ہیں۔ اس تاریخ کو سمجھنا قید میں رہنا نہیں بلکہ اپنی فکری طاقت کو پہچاننا ہے۔
ہزارہ قوم کی تاریخ جب بھی لکھی گئی، عموماً اسے مظلومیت، شکست اور لاچاری کے ایک محدود اور یک رخی زاویے سے پیش کیا گیا۔ یہ محض ایک فکری کوتاہی نہیں بلکہ ایک گہرا تاریخی المیہ ہے کہ ہمارے بیشتر مؤرخین نے علمی احتیاط، تنقیدی دیانت اور سیاقی شعور کے بجائے تعصب، بغض یا ریاستی بیانیے کی پاسداری کو ترجیح دی۔ اس کے نتیجے میں ہزارہ قوم کو تاریخ میں ایک فعال اور باوقار کردار کے طور پر نہیں بلکہ محض ایک متاثرہ اور بے بس شے کے طور پر دکھایا گیا، حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ روشن، پیچیدہ اور معنی خیز ہے۔
ہزارہ تاریخ کو اس انداز میں مسخ کرنا صرف ماضی کے ساتھ ناانصافی نہیں بلکہ حال اور مستقبل کے شعور کے ساتھ بھی خیانت ہے۔ یہ امر فراموش کر دیا گیا کہ ہزارہ جات صدیوں تک ایک آزاد اور خودمختار خطے کی حیثیت سے اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہا۔ یہاں مقامی نظم، اجتماعی دفاع، زمین سے گہرا رشتہ اور ایک مضبوط سماجی و ثقافتی تسلسل موجود تھا۔ یہ خطہ کسی ریاستی مرکز کا محتاج نہیں تھا بلکہ اپنی داخلی تنظیم، اجتماعی فیصلے اور مزاحمتی صلاحیت کے ذریعے خود کو برقرار رکھے ہوئے تھا۔ یہی وہ حقیقت ہے جو مظلومیت کے یک رخی بیانیے میں دب گئی۔
انیسویں صدی میں برطانوی اور روسی سلطنتوں کے درمیان وسطی ایشیا پر غلبے کی کشمکش نے افغانستان کو ایک بفر اسٹیٹ بنا دیا۔ اس عالمی کھیل میں افغانستان کی اندرونی اقوام محض رعایا نہیں بلکہ عالمی سیاست کے فریق بن گئیں۔ ہزارہ قوم اپنی جغرافیائی مرکزیت، سماجی تنظیم اور عسکری روایت کے باعث ایک فیصلہ کن عنصر سمجھی گئی۔ ہزارہ تاریخ کو صرف کابل کی سیاست سے نہیں بلکہ لندن اور سینٹ پیٹرزبرگ کی حکمتِ عملیوں کے تناظر میں بھی سمجھنا ضروری ہے۔
امیر عبدالرحمن خان کے دور میں مرکزی ریاست کے قیام کی کوشش نے ہزارہ جات کو براہِ راست نشانہ بنایا۔ برطانوی مالی امداد، اسلحہ اور سیاسی پشت پناہی کے ذریعے داخلی مزاحمتوں کو کچلنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ ہزارہ جات اس منصوبے کی سب سے بڑی رکاوٹ تھے کیونکہ وہاں مقامی خودمختاری، اجتماعی فیصلہ سازی اور مسلح دفاع کی روایت موجود تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ریاستی طاقت کا سب سے شدید اظہار اسی خطے میں ہوا۔
1891 سے 1893 تک ہونے والی ہزارہ جنگیں منظم مزاحمت کی ایک واضح مثال تھیں۔ محدود وسائل کے باوجود ہزارہ جنگجوؤں نے پہاڑی علاقوں میں ایسی مزاحمت کی کہ امیر کی فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور بالآخر معاہدے پر آنا پڑا۔ تاریخ میں معاہدہ ہمیشہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ مخالف قوت مکمل طور پر شکست خوردہ نہیں ہوتی۔
جنگوں کے بعد ریاستی انتقام نے قتلِ عام، غلامی اور جبری ہجرت کی شکل اختیار کی۔ محققین جیسے سید عسکر موسوی اور الیساندرو مونسوتی کے مطابق ہزارہ آبادی کا تقریباً ساٹھ سے ستر فیصد حصہ قتل یا جبری نقل مکانی کا شکار ہوا۔ زمینیں ضبط کی گئیں اور سماجی ڈھانچے کو دانستہ طور پر توڑ دیا گیا۔ اگرچہ اعداد و شمار میں جزوی اختلاف ملتا ہے، مگر اس سانحے کی وسعت پر کوئی سنجیدہ تاریخی اختلاف موجود نہیں۔
جبری ہجرت ہزارہ قوم پر مسلط کی گئی، مگر یہی ہجرت بقا کی حکمتِ عملی بھی بنی۔ ایران، وسطی ایشیا، کوئٹہ اور برطانوی ہندوستان میں ہزارہ برادریوں کا قیام اسی دور کی پیداوار ہے۔ ہجرت یہاں شکست نہیں بلکہ تاریخ کے جبر سے نکلنے کا راستہ ثابت ہوئی۔ برطانوی راج نے ہزارہ مہاجرین کو فوجی اور پولیس فورسز میں شامل کیا، ان کی بہادری کو تسلیم بھی کیا اور نوآبادیاتی مقاصد کے لیے استعمال بھی کیا۔
ریاستی تشدد، جغرافیائی بکھراؤ اور مسلسل دباؤ کے باوجود ہزارہ زبان، ثقافت اور روحانی شعور زندہ رہا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تاریخ المیے سے نکل کر وقار کی داستان بن جاتی ہے۔ جدید دور میں ہزارہ قوم تعلیم، سیاست اور فکری اظہار کے میدان میں آگے بڑھ رہی ہے اور نئی نسل تاریخ کو زخم نہیں بلکہ شناخت کا سرمایہ سمجھتی ہے۔
آخر میں یہ بات واضح ہونی چاہیے کہ ہزارہ قوم کا المیہ کسی فطری کمزوری یا تاریخی نالائقی کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ عالمی سیاست، سامراجی حکمتِ عملی اور ریاستی مرکزیت کے تصادم کا منطقی انجام تھا۔ اس تاریخ سے اخلاقی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مظلومیت کو شناخت بنانا خود ایک فکری غلامی ہے۔ ہزارہ قوم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی تاریخ کو رونے کے لیے نہیں بلکہ سمجھنے، سوال اٹھانے اور اجتماعی وقار کی تعمیر کے لیے استعمال کرے۔
سیاسی طور پر اس تاریخ کا تقاضا یہ ہے کہ ہزارہ شناخت کو محض تحفظ کے مطالبے تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مساوی شہریت، تاریخی انصاف اور خودمختار فکری وجود کے مطالبے میں بدلا جائے۔ جو قوم اپنی تاریخ کو شعور میں بدل لیتی ہے، وہ مستقبل میں محض ردِعمل نہیں بلکہ فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ یہی اس تحریر کا آخری اور واضح موقف ہے۔
جاری ہے
