
شہید چیئرمین حسین علی یوسفی ایک متنوع شخصیت کے حامل تھے۔ وہ زیرک سیاست دان، شعلہ بیان مقرر، بذلہ سنج شاعر، ڈرامہ نگار اور ساتھ ہی ایک سماجی ناقد بھی تھے۔ وہ اپنی ہزارہ گی شاعری اور ڈرامہ نگاری کے ذریعے ہزارہ قوم کے اندر سیاسی بیداری لانے کے ساتھ ساتھ سماجی عیوب کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے رہتے تھے۔
پاکستان میں آباد ہزارہ قوم کے غالباً پہلے فرد تھے جنہوں نے ہزارہ گی میں ڈرامہ نویسی کی نہ صرف شروعات کی بلکہ اسے عوام کے سامنے اسٹیج بھی کیا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، ان کے ابتدائی ڈرامے ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے پلیٹ فارم سے بلوچستان یونیورسٹی، ڈگری کالج، “شب ہائے ترنم” اور ان کے اپنے اسکول “ڈان آئیڈیل” کے اسٹیج کے ذریعے پیش کیے گئے، جن میں اکثر میں انہوں نے خود مرکزی کردار بھی نبھائے۔
بدقسمتی سے ان کے ابتدائی ڈراموں کی ریکارڈنگ نہ ہو سکی، کیونکہ خود فیڈریشن کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے جبکہ اس وقت مارکیٹ کے اخراجات کافی زیادہ تھے۔ “مائیندرِ خنتما” ان کا پہلا ڈرامہ تھا جس سے ان کے ڈراموں کی ریکارڈنگ کی شروعات ہوئی۔ اس کے بعد “الخاتو” کی ریکارڈنگ ہوئی، جنہیں اب تک زبردست عوامی مقبولیت حاصل ہے۔
شہید کے چھوٹے بھائی جناب ناظر حسین یوسفی کے مطابق شہید چیئرمین کے کل ڈراموں کی تعداد 18 ہے، جن میں سے 15 ڈرامے ہزارہ گی میں اور 3 اردو زبان میں ہیں۔ ان کے مطابق کل 18 ڈراموں میں سے 9 ڈرامے اسٹیج پر یا ویڈیو (بوز چینی) کی صورت میں پیش کیے گئے ہیں جبکہ باقی 9 ڈرامے مسودے کی صورت میں ہیں۔ خود ناظر حسین یوسفی کے پاس 15 ڈراموں کے اصل مسودے موجود ہیں۔
شہید یوسفی کے پیش کیے گئے ڈرامے درج ذیل ہیں:
1۔ الخاتو
2۔ آزرہ اکو بزکشی شدہ
3۔ جُغُل
4۔ باکول سربری شدہ
5۔ لندنی
6۔ اِرکتو
7۔ ملاہای نا ملا
8۔ آتشِ دامو
9۔ بوز چینی
جبکہ جو ڈرامے اسٹیج نہیں ہوئے وہ درج ذیل ہیں:
1۔ بار موروم
2۔ امی آزرہ کجا مورہ
3۔ پولتیک
4۔ تورہ ہای شیخکی
5۔ قیج کور از پاسی پِڈ کور مورہ
6۔ خانے ٹکر
اور اردو ڈرامے:
7۔ حقِ آزادی
8۔ عورت
9۔ شناخت
اگرچہ شہید چیئرمین کا تعلیمی پس منظر کامرس تھا، جس میں وہ واقعی معنوں میں ایک کامیاب انسان تھے، لیکن فنونِ لطیفہ میں ان کی کامیابی کی بڑی وجہ ان کی ذاتی قابلیت، ہزارہ گی زبان و بیان پر ان کی گرفت، نیز معاشرتی اور اجتماعی امور پر گہری نظر تھی۔ وہ سادہ مزاحیہ انداز میں گہری باتیں کہہ جاتے تھے اور معاشرے کی اصلاح کی کوشش کرتے تھے۔
بطورِ خاص ہزارہ گی زبان میں ان کا قدرتِ بیان اتنا مضبوط تھا کہ آج تک کوئی اس کی گرد تک نہیں پہنچ پایا۔ شہید چیئرمین کی زبان اور بیان کا کمال تھا کہ انہوں نے ہزارہ گی کو ایک پسماندہ دیہاتی لہجے سے نکال کر ایک مقبول اور قابلِ فخر زبان کی حیثیت دی۔ کوئٹہ کے ہزارہ معاشرے میں ان کے بعد خال خال لکھاری پیدا ہوئے جو ڈرامہ نگاری کے فن کو لے کر آگے بڑھے، جن میں محمد علی دانا اور مرزا حسین ہزارہ بطورِ خاص شامل ہیں۔
شہید چیئرمین کے ڈراموں سے کئی فنکار مشہور ہوئے، جیسے لیاقت علی چنگیزی عرف خجئی، قیس یوسفی، قادر علی یوسفی، نسیم جاوید اور کئی دیگر۔ آخر میں یہ گزارش کرنی ہے کہ شہید چیئرمین کے تمام ڈراموں، بطورِ خاص ہزارہ گی ڈراموں کو کتابی شکل دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ وہ موجودہ نسل اور آنے والی نسلوں کے لیے الگو اور نمونہ بنیں۔
یادش گرامی باد
نوٹ:
اس تحریر کے سلسلے میں تمام بنیادی معلومات فراہم کرنے پر جناب ناظر حسین یوسفی کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔
