
ایران میں جاری احتجاجی تحریک کو مجموعی طور پر دو بڑے دھڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ ایک وہ حلقہ ہے جو کسی نہ کسی شکل میں اسلامی نظام کی بقا یا اس کے اندر اصلاحات کا حامی ہے، اور دوسرا وہ جو اس نظام کے مکمل خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔ تاہم اسلامی نظام مخالف کیمپ خود گہری نظریاتی تقسیم کا شکار ہے۔ ایک نمایاں گروہ رضا پہلوی کے گرد مجتمع دکھائی دیتا ہے اور شاہی دور کو کم از کم علامتی طور پر ملائی آمریت کے متبادل کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس کے برعکس بائیں بازو اور کمیونسٹ جماعتیں، بالخصوص مزدور سیاست سے وابستہ حلقے، رضا پہلوی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک وہ مغربی طاقتوں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل، کے مفادات کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ یہ حلقے اشرافیہ کی قیادت کے بجائے عوامی اور طبقاتی جدوجہد کو حقیقی تبدیلی کی بنیاد سمجھتے ہیں۔
یہ نظریاتی انتشار کوئی نیا مظہر نہیں۔ انیس سو اناسی کے ایرانی انقلاب کے دوران اسلام پسند، مارکسسٹ، قوم پرست اور لبرل قوتیں وقتی طور پر شاہ کے خلاف متحد ہو گئیں، مگر بادشاہت کے خاتمے کے فوراً بعد یہی قوتیں ایک دوسرے کے مدمقابل آ کھڑی ہوئیں۔ چونکہ اسلام پسند زیادہ منظم اور نظریاتی طور پر مربوط تھے، اس لیے انہوں نے بتدریج اپنے سابق اتحادیوں کو سیاسی میدان سے بے دخل کر کے اقتدار پر مکمل اجارہ داری قائم کر لی۔ اس تاریخی تجربے سے یہ سبق ملتا ہے کہ احتجاج میں اتحاد، اقتدار میں اتحاد کی ضمانت نہیں ہوتا۔ اصل تصادم اکثر نظام کے خاتمے کے بعد شروع ہوتا ہے، نہ کہ اس سے پہلے۔
حالیہ علاقائی تاریخ اس حقیقت کی مزید تصدیق کرتی ہے۔ شام میں ایک عوامی بغاوت، جو ابتدا میں نظریاتی اور فرقہ وارانہ تقسیم سے بالاتر تھی، جلد ہی مختلف مسلح گروہوں میں بٹ گئی۔ متحد سیاسی قیادت اور متفقہ عبوری خاکے کے فقدان نے احتجاجی تحریک کو ایک طویل اور تباہ کن خانہ جنگی میں بدل دیا، جس نے ریاستی اداروں اور سماجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی طرح لیبیا میں معمر قذافی کے خاتمے کے بعد جمہوری استحکام کے بجائے طاقت کا مکمل خلا پیدا ہوا، جسے مسلح ملیشیاؤں، علاقائی سرداروں اور بیرونی قوتوں نے پُر کیا۔ آج تک لیبیا ایک متحد اور مستحکم ریاست کی شکل اختیار نہیں کر سکا۔
ایران کے لیے خطرہ یہ ہے کہ وہ ان دونوں مثالوں کا مجموعہ بن سکتا ہے۔ اگر اسلامی نظام اچانک کمزور ہو کر منہدم ہوا اور اس کے بعد کوئی متفقہ عبوری سیاسی ڈھانچہ وجود میں نہ آ سکا تو ایران لیبیا کی طرح طاقت کے خلا اور ملیشیائی سیاست کا شکار ہو سکتا ہے۔ دوسری جانب، اگر ریاستی ڈھانچہ جزوی طور پر برقرار رہا مگر نظریاتی، نسلی اور علاقائی قوتیں باہم تصادم کی طرف بڑھیں تو شام جیسا طویل اور پیچیدہ خانہ جنگی کا منظرنامہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔
اس پس منظر میں بعض منظم مگر متنازع حکومت مخالف عناصر کا کردار بھی اہم ہو جاتا ہے۔ مثال کے طور پر مجاہدینِ خلق خود کو ایک سیکولر اور منظم انقلابی متبادل کے طور پر پیش کرتی ہے اور بیرونِ ملک سیاسی سرگرمیوں، میڈیا مہمات اور لابنگ کے ذریعے احتجاج کو فیصلہ کن مرحلے سے تعبیر کرتی رہی ہے۔ تاہم ایران کے اندر اس کی عوامی قبولیت محدود اور متنازع ہے، جس کی وجوہات میں اس کا ماضی اور سخت مرکزی کنٹرول پر مبنی تنظیمی ڈھانچہ شامل ہے۔ اس کے باوجود، اگر کسی مرحلے پر ریاستی طاقت کا خلا پیدا ہوا تو ایسی منظم تنظیمیں عبوری سیاست میں غیر متناسب اثر و رسوخ حاصل کر سکتی ہیں، جیسا کہ لیبیا میں ہوا۔
ایرانی ریاست کو درپیش خطرات محض نظریاتی نہیں بلکہ نسلی اور علاقائی بھی ہیں۔ مشرقی ایران میں سیستان و بلوچستان کی بلوچ آبادی طویل عرصے سے سیاسی محرومی، معاشی پسماندگی اور ریاستی جبر کا شکار رہی ہے۔ حالیہ احتجاجی لہر میں یہ خطہ ایک ایسے محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے جہاں عوامی غصہ اور مسلح مزاحمت ایک دوسرے سے جڑتی دکھائی دیتی ہیں۔ کسی بڑے سیاسی انہدام کی صورت میں یہ علاقہ مرکز کی رِٹ کے لیے ایک سنگین چیلنج بن سکتا ہے اور سرحد پار عدم استحکام کو ہوا دے سکتا ہے۔
اسی طرح مغربی ایران میں کردستانِ ایران حالیہ احتجاجی تحریک کا سب سے شدید اور خونریز مرکز بن کر ابھرا ہے۔ مہسا امینی کی ہلاکت کے بعد سب سے زیادہ تصادم اور جانی نقصان انہی علاقوں میں دیکھنے میں آیا۔ کرد قوم پرست تحریک اس بحران کو محض حکومت کی تبدیلی نہیں بلکہ ریاستی مرکزیت کو کمزور کرنے کے تاریخی موقع کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ اگر یہ تحریک مسلح اور علیحدگی پسند رخ اختیار کرتی ہے تو ایران ایک ایسے راستے پر جا سکتا ہے جو شام اور عراق جیسے طویل عدم استحکام سے مشابہ ہو۔
ایران میں اسلامی نظام کے ممکنہ انہدام کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ اس کے اثرات ایران سے باہر پورے مشرقِ وسطیٰ میں محسوس کیے جائیں گے۔ عراق میں ریاستی ڈھانچے اور سیاسی نظام پر طویل عرصے سے ایرانی اثر و رسوخ موجود رہا ہے۔ ایران میں طاقت کے خلا کی صورت میں عراق میں ملیشیائی تصادم اور سیاسی عدم استحکام میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ لبنان پہلے ہی شدید معاشی اور ادارہ جاتی بحران کا شکار ہے اور وہاں حزب اللہ کی طاقت بڑی حد تک ایرانی پشت پناہی سے جڑی رہی ہے۔ اگر یہ پشت پناہی کمزور ہوئی تو لبنان کھلی خانہ جنگی یا مکمل ریاستی انہدام کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اسی طرح خلیجی خطے میں، بالخصوص بحرین اور مشرقی سعودی عرب میں، فرقہ وارانہ توازن مزید بگڑنے کا خدشہ ہے۔ اس طرح ایران میں نظام کی تبدیلی ایک قومی واقعہ نہیں رہے گی بلکہ پورے خطے میں طاقت کے توازن کو ہلا دینے والا واقعہ بن سکتی ہے۔
ایران میں ممکنہ انتشار اور خانہ جنگی کے اثرات افغانستان اور پاکستان تک بھی پھیل سکتے ہیں۔ سرحدی عدم استحکام مہاجرین کی نئی لہر کو جنم دے سکتا ہے، جس کا بوجھ پہلے سے کمزور معاشی اور سماجی ڈھانچوں پر پڑے گا۔ افغانستان میں یہ صورتحال مختلف مسلح اور شدت پسند گروہوں کو دوبارہ منظم ہونے کا موقع دے سکتی ہے، جبکہ پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی، سرحد پار عسکریت پسندی اور داخلی سلامتی کے خطرات میں اضافے کا خدشہ ہے۔ مزید یہ کہ طاقت کے خلا سے فائدہ اٹھاتے ہوئے علاقائی اور عالمی طاقتیں بالواسطہ مداخلت کر سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں پورا خطہ پراکسی تنازعات کی دلدل میں پھنس سکتا ہے۔
تاریخی تجربات یہ واضح کرتے ہیں کہ وہ انقلابات جن میں نظریاتی ہم آہنگی، مشترکہ قیادت اور واضح عبوری لائحۂ عمل موجود نہ ہو، شاذ و نادر ہی استحکام یا آزادی لاتے ہیں۔ زیادہ تر صورتوں میں وہ اقتدار کے ایسے خلا کو جنم دیتے ہیں جسے یا تو سب سے منظم دھڑا، مسلح گروہ یا بیرونی طاقتیں پُر کر لیتی ہیں۔ ایران کے لیے اصل خطرہ شاید صرف اسلامی نظام کے خاتمے میں نہیں بلکہ اس کے بعد پیدا ہونے والی نظریاتی تقسیم، نسلی تصادم، علاقائی عدم استحکام اور طویل انتشار میں پوشیدہ ہے۔ یہ ایک ایسا خطرہ ہے جو نہ صرف ایران بلکہ پورے خطے کے مستقبل کو گہرے عدم یقین سے دوچار کر سکتا ہے۔
