بابو خدا نذر قنبری ۔۔۔ اسحاق محمدی

بلاگز

مرحوم بابو خدا نذر قنبری 17 ستمبر 1917ء کو کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدِ محترم قمبر علی، امیرِ جابرِ کابل عبدالرحمان کی ہزارہ نسل کشی سے بچنے کے لیے ہزارہ جات کے ضلع بہسود کے علاقے قولِ خویش سے ہجرت کر کے اُس وقت کے برٹش بلوچستان میں آ کر بس گئے تھے۔ انہوں نے اپنے زمانے کی معروف علمی درسگاہ خالصہ ہائی اسکول (موجودہ اسپیشل اسکول) میں تعلیم حاصل کی۔ 1942ء میں میٹرک پاس کیا۔ آپ ہزارہ قوم کے ابتدائی چند میٹرک پاس نوجوانوں میں سے ایک تھے (غالباً جنرل موسیٰ خان پہلا ہزارہ میٹریکولیٹ تھے)۔ یہ جنگِ عظیم کے عروج کا زمانہ تھا اور جبری فوجی خدمات لازمی تھیں، اس لیے نائیک صوبیدار کی پوسٹ پر بھرتی ہو کر اتر پردیش چلے گئے۔ جنگ کے اختتام پر انہیں فوج سے فارغ کر دیا گیا۔ 1945ء میں کوئٹہ آ گئے اور ریاستِ قلات میں سول سروس جوائن کر لی، جو اس زمانے میں ایک قابلِ فخر سروس تھی۔ مرحوم کہتے تھے کہ:
“پہلی دفعہ دفتر سے گھر پہنچا تو دیکھا کہ محلے والوں نے پوری گلی صاف ستھری کر کے اور پانی کا چھڑکاؤ کر کے تمام چھوٹے بڑے، مرد و زن میرے استقبال کے لیے موجود تھے۔ وہ میری زندگی کا ایک یادگار دن تھا۔”

یہاں یہ بتانا شاید بیجا نہ ہو کہ برٹش انڈیا میں ہجرت کر کے آنے والے ہزارہ افراد کی ایک بڑی تعداد ناخواندہ ہونے نیز فطری جنگجو خصائص رکھنے کے باعث فوج میں زیادہ پذیرائی پاتی تھی اور وہ خود بھی فوج میں جانے کو ترجیح دیتے تھے۔ ایسے میں جب ان کی نئی تعلیم یافتہ پود نے سول سروس جوائن کی تو یہ ایک بڑی سماجی تبدیلی تھی۔ ان پاینئر افراد میں اکثر کے نام کے ساتھ “بابو” کا لاحقہ استعمال ہوتا تھا، جیسے بابو خدا نذر، بابو قاسم، بابو نبی وغیرہ۔

1945ء ہی میں ان کی شادی ان کے قریبی رشتہ دار سے ہوئی، جن سے ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔ مرحوم نے بچوں کی تعلیم و تربیت پر بلا تفریقِ جنس (بیٹا/بیٹی) بھرپور توجہ دی، جو اپنے زمانے کے لحاظ سے ایک بڑی بات تھی، جہاں عام طور پر ملاؤں کے زیرِ اثر بچیوں کی تعلیم کی ممانعت تھی اور اس کی سزا سوشل بائیکاٹ ہوتی تھی (قارئین ثبوت کے لیے مچی ٹی وی پر ائیر مارشل شربت علی چنگیزی کا انٹرویو دیکھ سکتے ہیں)۔ مرحوم کا بڑا بیٹا قیوم نذر چنگیزی ایڈیشنل چیف سیکریٹری بلوچستان، دوسرا بیٹا اقبال نذر چنگیزی ڈاکٹر، تیسرا بیٹا سجاد نذر چنگیزی منیجر سوئی سدرن گیس کمپنی اور چوتھا بیٹا عابد نذر چنگیزی کرنل کے عہدے تک پہنچا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ مرحوم کس قدر ذمہ دار انسان تھے۔

1956ء میں ون یونٹ کا نظام نافذ ہونے کے بعد مرحوم بابو خدا نذر قنبری کچھ عرصہ شکارپور، سندھ میں تعینات رہے۔ بعد ازاں بلوچستان کے طول و عرض میں خدمات انجام دیتے رہے۔ 1983ء میں طویل عرصہ سول سروس میں خدمات انجام دینے کے بعد وہ بطور ڈپٹی سیکریٹری لوکل گورنمنٹ ریٹائر ہوئے۔

علمی و دیگر خدمات:ٍ

قرائن سے پتہ چلتا ہے کہ ریاستِ قلات میں سروس کے دوران انہیں مطالعے کا شوق پیدا ہوا تھا۔ انگریزی، فارسی اور اردو پر مکمل دسترس رکھتے تھے، جس کا انہوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ مغل تاریخ اور ہزارہ تاریخ پر ان کا مطالعہ خاصا وسیع تھا، لیکن ہزارہ تاریخ پر وہ صاحبِ نظر تھے اور اتھارٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کے کئی تحقیقی مضامین میں سے صرف چند تنظیم کے رسالے “ذوالفقار” میں شائع ہو چکے ہیں، باقی غیر مطبوعہ ہیں، جن سے بلند پایہ محققین جیسے الیزبتھ بیکن، ڈاکٹر محمد اوتاد العجم، حسن فولادی اور ڈاکٹر عسکر موسوی جیسے معتبر ہزارہ شناس مورخین مستفید ہوئے ہیں۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے علم اور معلومات دوسروں تک پہنچانے میں بے حد فیاض تھے۔

معروف ہزارہ شناس مستشرق الیزبتھ بیکن کے تحقیقی کام میں نہ صرف انہوں نے معاونت کی بلکہ اس کے مسودے کی ایڈیٹنگ بھی کی، جو بذاتِ خود مرحوم کی علمی قابلیت اور انگریزی زبان پر ان کی گرفت کا ثبوت ہے، جس کا اعتراف بیکن نے اپنی معروف تحقیقی کتاب “اوبوک” میں کیا ہے۔ اسی طرح ایرانی اسکالر ڈاکٹر محمد اوتاد العجم نے بھی ان کی علمی قابلیت کی داد دی ہے۔ ہزارہ تاریخ نگاری میں بیکن ایک اتھارٹی ہیں، جو “ہزارہ، ترک مغل” نظریے کی بانی ہیں، جسے جدید جینالوجی سائنس نے درست ثابت کر دیا ہے۔

مرحوم کے بیٹے سجاد نذر چنگیزی کے بقول:
“گھر میں ان کا اکثر موضوعِ سخن ہزارہ تاریخ، ہزارہ قتلِ عام اور مہاجرت کی داستانیں ہوا کرتی تھیں۔”

مرحوم بابو خدا نذر قنبری سے میری واقفیت کے احوال بھی دلچسپ ہیں۔ یہ 1987ء کی بات ہے۔ ایک دن میں ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے دوستوں کے ساتھ بلوچستان یونیورسٹی بس میں، یونیورسٹی سے سائنس کالج ایک فنکشن میں شرکت کے لیے جا رہے تھے کہ یونیورسٹی گیٹ پر محمد علی گلزاری نے ایک شخص، جس کے ہاتھ میں چھڑی اور سر پر ہزارہ گی ٹوپی تھی، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“وہ بابو خدا نذر بُرگُد ہیں، ان کو بھی بس میں بٹھا لیتے ہیں۔”
اس وقت مرحوم “بُرگُد” (شہباز) کا لقب استعمال کرتے تھے۔ خیر، یوں ان سے ملاقات ہو گئی۔

سائنس کالج پہنچے تو میں نے کہا:
“بابو، اگر کوئی ضروری کام نہیں تو آپ بھی ہمارے اس فنکشن میں تشریف لائیں، بعد میں ہم آپ کو علمدار روڈ پہنچا دیں گے۔”
انہوں نے خوش دلی سے دعوت قبول کی۔ وہاں دوستوں نے، بشمول میرے، دھواں دار تقریریں کیں۔ اہم موضوعات ہزارہ، ہزارہ جات اور انقلابِ ثور تھے۔ تقریری سیشن کے اختتام کے قریب ایک دوست میرے پاس آیا اور کہا:
“وہ بزرگ بھی کچھ بولنا چاہتے ہیں۔”
انکار ممکن نہیں تھا، لہٰذا انہیں اسٹیج پر تقریر کی دعوت دی گئی۔ تاہم ہم سینئر دوستوں کو یہ اندیشہ تھا کہ کہیں بابو “انقلابِ ثور” کی مخالفت نہ کر بیٹھیں، کیونکہ فیڈریشن نے حال ہی میں اس کی حمایت کا فیصلہ کیا تھا اور بلوچ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتونخوا اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پشتون اسٹوڈنٹس فیڈریشن اور ڈیموکریٹک اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے سینئر دوست، جو اس انقلاب کے کٹر حامی تھے، بھی وہاں موجود تھے۔ لیکن مرحوم نے نہایت مدبرانہ گفتگو کی، ماضی کے حوالے سے حال کے لیے راہوں کی نشاندہی کی اور ان پر چلنے کی تدبیریں بتائیں، اور ساتھ ہی فیڈریشن کو ماہانہ بنیاد پر ڈونیشن دینے کا وعدہ بھی کیا۔ یہی سے میری ان سے ارادت مندی اور ان سے کسبِ فیض کا سلسلہ شروع ہوا۔

اس کے بعد وہ خود بھی جدید تبدیلیوں کے حوالے سے زیادہ متحرک ہو گئے۔ ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے زیرِ اہتمام ایک اہم سیمینار میں بطورِ خاص نہ صرف شرکت کی بلکہ ایک طویل مقالہ بھی تحریر کیا۔ چند ماہ بعد انہوں نے “ہزارہ و ہزارہ جات” کے موضوع پر اکتوبر 1987ء میں ایک بُک لیٹ تحریر کی اور اسے تمام اہم سفارت خانوں کو بھیجا۔ دراصل مرحوم بابو خدا نذر قنبری (بُرگُد) افغانستان کے ظالم حکمرانوں کی عوام فریبی کی تاریخ سے بخوبی واقف تھے۔ وہ ان کے وقتی زبانی وعدوں پر ہرگز اعتبار کرنے پر تیار نہیں تھے۔ وہ یہ حقیقت نہ صرف ہزارہ قوم بلکہ بین الاقوامی سطح تک پہنچانا چاہتے تھے۔

اس بُک لیٹ کو میں نے جناب ارباب نسیم اور جناب انجینئر رحمت شریفی کے تعاون سے چند دیگر بنیادی ہزارہ تاریخ کی کتابوں کے ہمراہ پی ڈی ایف فارم میں تبدیل کر کے مختلف ہزارہ ویب سائٹس پر پوسٹ کر دیا ہے، جن سے ہر کوئی استفادہ کر سکتا ہے۔

اس زمانے میں ایک افغانستانی ہزارہ نوجوان، عبدالواحد کے نام سے، مرحوم کے پاس اکثر آیا کرتا تھا۔ وہ حاجی کاظم یزدانی کی فارسی کتاب “پژوہشی در تاریخ ہزارہ‌ها” کی پاکستان میں اشاعت اور بعض علمی موضوعات میں ان سے مدد چاہتا تھا، کیونکہ اس وقت ایران کی اسلامی حکومت کی نظر میں قوم پرستی “کفر” کے زمرے میں آتی تھی۔ مرحوم نے حتی المقدور اس کی مدد کی۔ مجھے وہیں سے پہلی بار اس غیر مطبوعہ کتاب کے چند ابواب کی فوٹو کاپیاں ملیں، جو کسی نعمت سے کم نہ تھیں۔

اسی طرح انہوں نے انگلینڈ سے آئے ہوئے پی ایچ ڈی کے طالبِ علم ڈاکٹر عسکر موسوی کی بھی بے لوث رہنمائی کی اور جو کچھ ان کی دسترس میں تھا، انہیں دے دیا۔ یہی عسکر موسوی جب تنظیمِ نسلِ نو ہزارہ مغل آئے تو تمام تر زبانی کلامی باتوں کے علاوہ تنظیم کے اُس وقت کے چیئرمین غلام علی حیدری نے صرف ایک کتاب، یعنی محمد اوتاد العجم کی تھیسس “بلوچستان میں ہزارہ قبائل”، دینے سے صاف انکار کر دیا، جس کی وجہ سے موصوف تنظیم کے ساتھ ساتھ مجھ سے اور شادروان عالم مصباح سے بھی شدید ناراض ہوئے۔ بعد میں یہ تھیسس انہیں مرحوم پروفیسر شرافت عباس ناز کے ہاں سے مل گئی۔

اسی نکتے پر جناب قنبری نے مجھے کئی بار نصیحت کی کہ:
“صحیح معلومات اور مستند کتابیں محققین کو مہیا کرنے میں کبھی بخل سے کام مت لو۔ عین ممکن ہے کہ بصورتِ دیگر غلط معلومات انہیں مل جائیں، جن کا ازالہ بعد میں ناممکن یا مشکل ہو جائے۔”
میں ان کی اس نصیحت پر آج تک عمل پیرا ہوں اور رہوں گا۔

مرحوم کے علمی پہلوؤں پر ابھی بہت کچھ لکھنا باقی ہے۔ ان کی تحقیقی تحریروں کو کتابی شکل دینے کی اشد ضرورت ہے تاکہ ہزارہ شناسی کے موضوع پر ان کی علمی سوچ واضح طور پر محققین تک پہنچ سکے۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں ہزارہ تاریخ، زبان اور ثقافت کے موضوعات پر قلم اٹھایا، جب یہ موضوعات شجرِ ممنوعہ سمجھے جاتے تھے۔

دوسری طرف وہ ایک روشن خیال طرزِ فکر بھی رکھتے تھے۔ سماج میں بلا تفریقِ جنس و ذات، سب کے یکساں کردار کے حامی تھے۔ سرداری اور ملّا شاہی نظام کے سخت ناقد تھے۔ سماجی خدمات میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے۔ ہزارہ عیدگاہ کی زمین کے حصول اور تعمیراتی کام میں ان کا کلیدی کردار تھا۔ وہ حقیقی معنوں میں کردار کے غازی تھے۔

محترم حسین علی حیدری، ایک درویش منش انسان اور منجھے ہوئے ریٹائرڈ بیوروکریٹ تھے۔ انہوں نے مجھے ایک واقعہ سنایا، جو موضوع کے اعتبار سے میرے آج کے مقالے سے متعلق ہے، اس لیے پیشِ خدمت ہے:

“اسکول (غالباً اسلامیہ) میں ایک سال، آخری پیریڈ کے دوران ایک ایسا استاد پڑھانے آتا تھا جس کا زیادہ وقت اونگھنے میں گزر جاتا، جس کا فائدہ اٹھا کر لڑکے ہلّے گُلّے میں لگ جاتے۔ ایک دن میں اور ایک دوسرے ہزارہ ہم جماعت نے فیصلہ کیا کہ اس ٹیچر کی کلاس لینے کے بجائے باہر نکل کر مالی باغ میں درختوں کے نیچے جا کر خوشگوار موسم کا مزہ لیتے ہیں۔ پروگرام کے مطابق، جب استاد کرسی پر اونگھ رہا تھا، ہم دونوں کلاس سے نکل کر درختوں کے نیچے جا بیٹھے اور وقت گزاری کے لیے اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے لگے، کیونکہ قبل از وقت گھر جانے میں پوچھ گچھ کا اندیشہ تھا۔

ابھی ہمیں بیٹھے ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ سڑک سے سائیکل پر ایک خوش پوش ہزارہ نوجوان کا گزر ہوا۔ ہمیں دیکھتے ہی سائیکل سے اتر کر ہماری طرف آ گئے۔ کافی خوش دلی سے ملے اور ہم سے یہاں بیٹھنے کی وجہ پوچھی۔ ہم بھی ان کے اخلاق سے متاثر ہو کر سچ بتا بیٹھے۔ یہ سنتے ہی ان کا تیور بدل گیا اور ڈانٹتے ہوئے ہمیں کلاس روم جانے کا حکم دیا۔ ہم نے ان کے حکم کی تعمیل کی۔ انہوں نے کلاس میں ماسٹر صاحب کو خواب سے جگا کر ان کی اچھی خاصی کلاس لی اور ہمیں ان کے حوالے کر کے آئندہ کے لیے توبہ کرنے کی ہدایت کی۔

اس وقت ہمیں بہت غصہ آیا اور ہم نے دل ہی دل میں انہیں خوب برا بھلا کہا، لیکن جب ہمیں اچھے برے کی تمیز آ گئی تو ہم دل سے اس فرض شناس نوجوان کی قوم دوستی کے قائل ہو گئے اور ان کا احترام کرنے لگے۔ احترام کا یہ جذبہ اب تک قائم ہے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اُس خوش پوش نوجوان کا نام بابو خدا نذر قنبری تھا۔”

ہزارہ قوم کا یہ باکردار، روشن خیال علمی سرمایہ 30 نومبر 1990ء کو اس دارِ فانی سے کوچ کر گیا اور ہزارہ قبرستان میں آسودۂ خاک ہوا۔

“روح اش شاد”

نوٹ:
1۔ جناب حسین علی حیدری کی زبانی یہ روایت ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کے میگزین “طلوعِ فکر” کے شمارہ دہم میں “کردار کے غازی” کے زیرِ عنوان شائع ہو چکی ہے۔
2۔ قیمتی معلومات فراہم کرنے پر میں مرحوم بابو خدا نذر قنبری (بُرگُد) کے فرزندِ ارجمند اور اپنے مہربان دوست جناب سجاد نذر چنگیزی اور کرنل عابد نذر چنگیزی کا تہہ دل سے مشکور ہوں۔

اسحاق محمدی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *