تم نے مجھے کہیں یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ میں خدا ہوں، ہاں، مجھے خدائی کا دعوی کرتے ہوئے تم نے نہیں دیکھا ہے۔ تو پھر تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ میں سب کچھ بھلا دوں تمہارے دیے ہوئے ہر زخم کو ہر غم کو ہر درد کو میں کیسے بھلا سکتا ہوں؟ میں خدا نہیں ہوں! میں کسی کو معاف کرنے کا استعارہ نہیں ہوں!
میں اب بھی پل پل میں جل رہا ہوں میں اس ہر لمحے کا مقروض ہوں ہر اس لمحے کا جس میں مجھے جی بھر کر جینا چاہیے تھا۔لیکن میں تمہاری باتوں میں آگیا اور خود سے دور ہوتا چلا گیا، لیکن اب میں تمہاری باتوں میں نہیں آؤں گا۔مجھے زندگی کو نبھانا نہیں ہے، میں زندگی کو جینا چاہتا ہوں۔ اب میں دوسروں کی طرف نہیں دیکھوں گا بلکہ اپنا راستہ خود تلاش کروں گا اور مجھے دوسروں کی طرف دیکھنے کی ضرورت بھی کیا ہے! کیا دوسروں کی نظروں سے خود کو دیکھنا میرے وجود کی تسلی کر سکتا ہے؟ نہیں! میں اب اپنی نظروں سے خود کو دیکھنا چاہوں گا یہ دنیا بے شک جو کہے، میرے سامنے پھولوں کا فرش بچھائے یا کانٹے بوئے۔ اب میں اپنی راہ پہ نکلوں گا اپنا راستہ خود ڈھونڈوں گا۔
میں تمہیں تمہارے حال پر چھوڑ دیتا ہوں تم بھی مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔ آج سے ابھی سے اسی پل سے میرا تمہارے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے میں جا رہا ہوں مجھے ڈھونڈنے کی کوشش نہ کرنا۔
کیا؟ کیا کہا؟ خود کو ڈھونڈنا آسان کام نہیں ہے؟ خود کو ڈھونڈنے کے لیے اپنے آپ سے بچھڑنا پڑتا ہے؟ چلو، یوں ہی صحیح، میں اپنا آپ، اپنا ماضی سب کچھ چھوڑنے کو تیار ہوں۔ مجھے دھن، دولت، شہرت، عزت، نام اور رتبہ، ان چیزوں سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اب ان چیزوں کی میرے نزدیک کوئی معنی نہیں ہے بلکہ میرے لیے کسی چیز کی کوئی معنی نہیں ہے اوہ ہو! ۔۔۔ مجھے تو یہ بہت پہلے سمجھ جانا چاہیے تھا کہ مجھے خود معنی بننا چاہیے نہ کہ معنی۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فضا میں ایک گہری خاموشی چھا جاتی ہے ایسا لگتا ہے کہ سکوت ابھی اسے پکڑ کر اپنی بانہوں میں بھینچ لے گا اور اس مضبوطی سے بھینچ لے گا کہ اس کا دم یہی نکل جائے گا وہ ایک لمبی سانس بھرنے کے بعد اپنے آپ کو ٹٹولنے لگتا ہے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے اندر گم شدہ توانائیوں کو دوبارہ ایک جگہ جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے ہاں وہ اپنی ساری توانائیوں کو اپنے ارادے میں جمع کرنے کی کوشش کر رہا ہے
اب وہ دوبارہ اس سے محو گفتگو ہے؛ نہیں میں خود کو ڈھونڈ لوں گا۔چاہے جو بھی ہو۔ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے، میں اپنے فیصلے پر اٹل ہوں اب میں مزید مخمصوں کا شکار رہنے کا خمیازہ نہیں اٹھا سکتا۔ میں نے برسوں تمہارے اوپر بھروسہ رکھا، برسوں تم پر اعتماد کیا! میں غلط تھا میں شروع سے، پہلے دن سے ہی غلط تھا لیکن تم نے مجھے الجھائے رکھا، تم نے مجھے آس پاس کی بے مقصد چیزوں میں ایسے الجھائے رکھا کہ میری زندگی کے سارے لمحے خواب آلود ہو چکے ہیں اب جب بھی میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو ایک دھندلکے کے سوا مجھے کچھ نظر نہیں آتا ہے میں نے ساری زندگی یوں ہی گنوا دی۔
انسان بھی کیسی مخلوق ہے ہمیشہ تجسس میں رہتا ہے ہمیشہ کھوج میں مگن رہتا ہے، کبھی کسی نومولود بچے کی آنکھیں دیکھی ہے؟ کھوجی آنکھیں۔۔۔؟ ہم پیدائش کے بعد ہی تلاش میں نکل پڑتے ہیں لیکن راستہ بھٹک جاتے ہیں کہیں اور نکل آتے ہیں اور برسوں وہی گزارنے کے عادی ہو جاتے ہیں۔
میں بھی کہیں اور نکل آیا تھا بھٹک گیا تھا مگر اب مجھے میرا راستہ مل گیا ہے۔میں جا رہا ہوں کیونکہ مجھے اب تمہاری قربت کی بو سے گھن آنے لگی ہے۔اب میں تم ہونے کا ڈھونگ نہیں رچا سکتا۔
تمہاری مرضی!۔۔ ۔۔ میں بھی دیکھتا ہوں تم مجھے کتنی دیر تک یونہی گھورتے رہو گے۔
اس نے دیوار پر ٹنکے قد آدم جتنے آئینے میں اپنی آنکھوں میں غور سے دیکھا اور ہلکی سی مسکراہٹ میں آخری مرتبہ خود کو خدا حافظ کہا۔
- میر ناصر بیگ اور سردار شادمان خان ۔۔۔ جاوید نادری - Apr 8, 2026
- طالب حسین طالب کی کتاب “ان کہی کی لہر” پر ایک تبصرہ ۔۔۔ جاوید نادری - Apr 5, 2026
- میر صادق بیگ ارزگانی و سردار بنیاد علی خان ۔۔۔ جاوید نادری - Mar 29, 2026
