تنازع کشمیر: سازشی نظریات سے حقیقت کی طرف سفر ۔۔۔ سید عنایت

کالم

       کچھ مہینے قبل  مجھے ایک آن لائن مذاکرے میں شرکت کا موقع ملا،  جس کا موضوع:  ”پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی تھا۔“  اس نشست میں پاکستان اور برطانیہ میں مقیم پاکستانی دانشور،  صحافی اور سماجی کارکن شریک تھے۔  گفتگو کا محور تنازع کشمیر تھا اور بیشتر شرکاء کا موقف تھا کہ برطانیہ نے جان بوجھ کر کشمیر کو ایک  ”سلگتا ہوا تنازعہ“  بنا کر چھوڑا۔  تاکہ خطے میں ایک نہ تھمنے والا عدم استحکام جاری رہے۔  یہ نکتہءِ نظر بظاہر بہت جاذبِ نظر اور جذباتی طور پر تسلی بخش دکھتا ہے۔  لیکن جب ہم تاریخ کے حقائق کا مطالعہ کرتے ہیں تو یہ دعویٰ بہت کمزور اور غیر حقیقی محسوس ہوتا ہے۔

      دوسری جنگ عظیم کے بعد برطانیہ ایک شکست خوردہ اور تھکا ہوا سامراج تھا۔  یہی وہ وجوہ ہیں،  جن کی وجہ سے 1945ء  میں لیبر پارٹی نے کلیمنٹ ایٹلی کی قیادت میں انتخابات جیتنے اور اقتدار میں آنے کے بعد انہوں نے نوآبادیاتی نظام کو بتدریج ختم کرنے کا عمل شروع کیا۔  ان کی ترجیحات میں برصغیر پر قبضہ برقرار رکھنا شامل نہیں تھا،  بلکہ وہ جلد از جلد انخلاء کے خواہاں تھے۔

       یقینا تقسیم ہند کے عمل میں ان سے کوتاہیاں ہوئیں،  لیکن یہ کہنا کہ کشمیر کو جان بوجھ کر متنازعہ چھوڑا گیا،  تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔  اگر کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے،  تو وہ برصغیر کی سیاسی قیادت کی جلدبازی اور باہمی عدم اعتماد پر زیادہ مناسب بیٹھتی ہے۔

1946ء  کے انتخابات:  ایک منقسم قوم کی تصویر

       برصغیر کے صوبائی انتخابات 1946ء  نے واضح کر دیا تھا،  کہ ہندوستان اب ایک متحد سیاسی اکائی نہیں رہا۔  مسلم لیگ نے مسلم اکثریتی علاقوں میں کامیابی حاصل کی،  جبکہ کانگریس ہندو اکثریتی علاقوں میں غالب رہی۔  ان انتخابات نے دو قومی نظریے کو سیاسی بنیاد فراہم کر دی اور ہندوستان کی تقسیم کہ راہ ہموار کی۔  اسی دوران،  برطانیہ نے ہندوستان کو متحد رکھنے کی ایک آخری سنجیدہ کوشش کے طور پر مارچ 1946ء  میں  ”کابینہ مشن پلان“  پیش کیا،  جس کا مقصد ایک ایسی مرکزی حکومت کا قیام تھا،  جس کے پاس محض محکمہ دفاع،  خارجہ امور اور مواصلات جیسے محدود اختیارات؛  جبکہ کلیدی باقی اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔  مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے ابتدائی طور پر اس منصوبے کو قبول کیا،  لیکن بعد کو کانگریس کی جانب سے کی گئی وضاحتوں اور شرائط نے مسلم لیگ کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا۔  اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو نہ صرف برصغیر کی تقسیم روکی جا سکتی تھی،  بلکہ کشمیر جیسے حساس مسئلے سے بھی بچا جا سکتا تھا۔  چنانچہ یہ کہنا کہ برطانیہ نے جان بوجھ کر برصغیر کو تقسیم کر کے تنازعہ پیدا کیا،  تاریخی شواہد سے مطابقت نہیں رکھتا۔  کابینہ مشن پلان اس بات کا ثبوت ہے کہ برطانیہ کی اوّلین ترجیح ہندوستان کو متحد رکھنا تھی،  نہ کہ اسے تقسیم کرنا۔  (البتہ کشمیر کی صورتحال مختلف تھی۔)

       1946ء  میں ریاست جموں و کشمیر میں جو انتخابات ہوئے وہ مکمل جمہوری بنیادوں پراستوار نہیں تھے،  بلکہ ان کا دائرہ کار محدود حق رائے دہی تک تھا،  جس میں صرف مخصوص طبقے کو ووٹ دینے کا حق حاصل تھا۔  ان انتخابات میں دو بڑی سیاسی جماعتیں  ”نیشنل کانفرنس اور جموں و کشمیر مسلم کانفرنس“  سامنے آئیں۔  نیشنل کانفرنس،  جس کی قیادت شیخ محمد عبداللہ کر رہے تھے،  جو بھارتی کانگریس کے نظریات سے متاثر؛  اور مہاراجہ ہری سنگھ کی اصلاحات کے حامی تھے۔  دوسری جانب مسلم کانفرنس،  جس کی قیادت چودھری غلام عباس کر رہے تھے،  جو پاکستان کے قیام اور ریاست کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے۔  انتخابات میں نیشنل کانفرنس کو واضح برتری حاصل ہوئی،  جسے مہاراجہ حکومت کی حمایت بھی حاصل تھی، جب کہ مسلم کانفرنس کو محدود نشستیں ملیں۔

        کشمیر کے مسئلے کو پیچیدہ بنانے میں کئی عوامل نے کردار ادا کیے،  لیکن سب سے اہم کردار مہاراجہ ہری سنگھ کی غیر یقینی اور دوغلی پالیسیوں کا رہا۔  ایک طرف وہ خودمختار ریاست کے خواہاں تھے،  تو دوسری جانب انہوں نے عوام کی اکثریتی خواہشات کو نظرانداز کیا۔  اس کے علاوہ پاکستان کی جانب سے قبائلی حملہ اور بھارت کی فوری عسکری مداخلت نے صورتحال کو مزید بگاڑ دیا۔  شیخ عبداللہ کی بھارت نواز پالیسی اور اقوام متحدہ میں بھارت کی طرف سے مسئلہ لے جانے کے فیصلے نے بھی معاملے کو بین الاقوامی رنگ دے دیا۔  یوں یہ مسئلہ سیاسی،  عسکری اور سفارتی سطح پر بیک وقت الجھتا چلا گیا،  جو آج تک حل طلب ہے۔

       اکتوبر 1947ء میں پاکستان نے قبائلی لشکروں کو کشمیر میں داخل کر کے ایک جنگ کا آغاز کر دیا۔  یہ عسکری مداخلت نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی تھی بلکہ کشمیر کے عوامی رائے کے بھی برعکس تھی۔  اس یلغار کے نتیجے میں مہاراجہ ہری سنگھ نے بھارت سے مدد طلب کی اور اس کے بدلے میں انہوں نے ریاست کا بھارت سے الحاق کیا۔  یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے مسئلہ کشمیر بین الاقوامی نوعیت اختیار کر گیا۔  اگر پاکستان کی جانب سے یہ فوجی مہم جوئی نہ کی جاتی تو شاید کشمیر کا مستقبل کسی اور نہج پر جاتا۔  لیکن بدقسمتی سے پہلا قدم عسکریت کی طرف پاکستان نے اٹھایا۔

کیا برطانیہ کچھ کر سکتا تھا؟

       یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے:  ”کیا برطانیہ کشمیر کے مسئلے کو حل کر سکتا تھا؟“  اس کا جواب یہ ہے کہ انڈین انڈیپینڈنس ایکٹ 1947ء کے مطابق،  نوابی ریاستوں کو خود فیصلہ کرنے کا اختیار دیا گیا تھا،  کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ الحاق کریں یا خودمختار رہیں۔  برطانیہ اس قانون کی خلاف ورزی نہیں کر سکتا تھا۔  اس کے علاوہ برطانوی حکومت کشمیر پر پاکستان کی ممکنہ جارحیت کی پیش گوئی بھی نہیں کر سکتی تھی۔  تقسیم کے وقت پورا خطہ آگ و خون میں ڈوبا ہوا تھا اور فیصلے اکثر ردعمل کی بنیاد پر ہو رہے تھے۔

الزام تراشی یا خود احتسابی؟

       آج بھی ہم کشمیر کے مسئلے کو برطانیہ پر ڈال کر اپنے آپ کو بری الذمہ سمجھتے ہیں۔  یہ سوچ نہ صرف تاریخی حقیقتوں سے فرار ہے بلکہ یہ ہماری سیاسی قیادتوں کی غلطیوں پر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش ہے۔  پاکستان اور بھارت دونوں نے اپنی اپنی سیاسی ناکامیوں،  غیر جمہوری پالیسیوں اور عسکریت پسندی سے اس مسئلے کو مزید الجھا دیا ہے۔

نتیجہ:  اگر امن چاہیے،  تو سچ کا سامنا کیجیے!

       تاریخ ہمیں ہمیشہ سادہ جوابات نہیں دیتی۔  کشمیر کا مسئلہ کسی ایک سامراجی چال کا نتیجہ نہیں،  بلکہ کئی دہائیوں پر محیط سیاسی،  مذہبی اور عسکری غلطیوں کا مجموعہ ہے۔  جب تک ہم سچ کو قبول نہیں کرتے،  خود احتسابی کی طرف قدم نہیں بڑھاتے اور تاریخی حقائق کو سازشوں کے دبیز غلاف میں لپیٹتے رہیں گے؛  تب تک امن کا خواب ایک سراب ہی رہے گا۔

سید عنایت

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *