القاعدہ و داعش: امریکی سازش یا ہماری فکری لغزش؟ ۔۔۔ سید عنایت

کالم

مسلم دنیا میں ایک جملہ عام ہو چکا ہے: “یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے!” یہ سوچ محض سادہ فریب نہیں بلکہ ایک خطرناک رویہ ہے، جو ہمیں اپنی اصل ذمہ داری سے فرار کا راستہ دکھاتا ہے۔ جب تک ہم حقیقت کا سامنا نہیں کریں گے، نہ ہم اپنے زوال کی وجوہات سمجھ سکیں گے اور نہ ہی ان کا کوئی حل تلاش کر سکیں گے۔ القاعدہ اور داعش جیسی تنظیموں کے جنم اور فروغ کی کہانی صرف کسی عالمی سازش کا نتیجہ نہیں، بلکہ ہماری اپنی فکری، سیاسی اور سماجی لغزشوں کی تلخ تاریخ ہے۔

دہشت گردی کی فکری بنیادیں

القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں کی جڑیں مغرب میں نہیں، بلکہ ہمارے اپنے علمی و فکری حلقوں میں پیوست ہیں۔ حسن البنا اور سید قطب جیسے مفکرین نے مسلم دنیا میں سیاسی اسلام کی بنیاد رکھی۔ حسن البنا نے اسلام کو صرف عبادات کا مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظامِ حیات کے طور پر پیش کیا، جو سیاست، معیشت اور معاشرت پر حاوی ہو۔ ان کی فکر میں شدت کا عنصر نسبتاً کم تھا، مگر سید قطب نے اس سوچ کو انقلابی اور جارحانہ رخ دیا۔ ان کی کتاب معالم فی الطریق آج بھی جہادی تنظیموں کا بنیادی نصاب ہے۔ اس میں “دارالاسلام” اور “دارالحرب” کا تصور، تکفیر کی اجازت، اور مسلم معاشروں کو جاہل قرار دینے جیسے نظریات نے بعد میں آنے والی تنظیموں کے لیے فکری بنیاد فراہم کی۔ یہی وجہ ہے کہ القاعدہ اور داعش کی فکری جڑیں سید قطب کے نظریات سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔

اخوان المسلمین: جدید جہادی نظریات کی بنیاد

دنیا بھر کی سنی جہادی تحریکیں القاعدہ، داعش، حتیٰ کہ فلسطین کی حماس کسی نہ کسی شکل میں اخوان المسلمین کی فکر سے وابستہ ہیں۔ 1928 میں مصر میں حسن البنا نے اخوان کی بنیاد رکھی۔ ابتدا میں یہ ایک اصلاحی اور سماجی تحریک تھی، مگر وقت کے ساتھ یہ سیاسی اور عسکری جہت اختیار کرتی گئی۔ سید قطب نے اخوان کی فکر کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا، جہاں معاشرتی اصلاح کی جگہ مسلح انقلاب کو ترجیح دی گئی۔ ان کی تحریروں نے “حکمران طبقے” کو جاہلیت کا نمائندہ قرار دیا اور اس کے خلاف خروج کو جائز بلکہ لازم قرار دیا۔ یہی فکر آگے چل کر القاعدہ اور داعش کے نظریاتی ڈھانچے میں ڈھل گئی۔ حتیٰ کہ “حماس” بھی اخوان المسلمین کی ہی ایک شاخ ہے، جس نے 1987 میں عسکریت کا راستہ اختیار کیا۔

عبداللہ عزام کا کردار

جہادی فکر کو عالمی تحریک میں بدلنے میں عبداللہ عزام کا کردار مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ فلسطینی نژاد اور اخوان المسلمین کے فکری ماحول میں تربیت یافتہ عزام نے “جہادِ افغانستان” کو صرف مقامی نہیں بلکہ عالمِ اسلام کے لیے “فرضِ عین” قرار دیا۔ اس کا نعرہ تھا: “جہاد فرض ہے جب تک ایک انچ زمین پر بھی کفار قابض ہوں۔” عزام نے نہ صرف اسامہ بن لادن جیسے افراد کی ذہنی تربیت کی بلکہ جہادیوں کے لیے نظریاتی اور تنظیمی ڈھانچہ بھی فراہم کیا۔ ان کی تحریریں سید قطب کی فکر کی عملی شکل تھیں، جن میں امت کو قتال پر ابھارا گیا۔ اگرچہ بعد میں اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری نے عزام کے مقابلے میں زیادہ سخت گیر اور عالمی جہاد کا نظریہ اپنایا، مگر عزام ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے “جہادِ بین الاقوامی” کا بیج بویا، جو القاعدہ اور داعش جیسے گروہوں میں تناور درخت کی صورت اختیار کر گیا۔

ریاستی جبر اور جہادی فکر کا جنم

اخوان المسلمین کی فکر کے شدت پسند رخ اختیار کرنے میں سب سے بڑا محرک مصری ریاست کا مسلسل جبر رہا۔ 1950 کی دہائی میں جمال عبدالناصر کے دور میں اخوان المسلمین پر بدترین کریک ڈاؤن کیا گیا۔ ہزاروں کارکنان کو گرفتار کیا گیا، جیلوں میں وحشیانہ تشدد ہوا، اور سید قطب جیسے فکری رہنما کو سرِعام پھانسی دی گئی۔ یہ ریاستی جبر محض ایک سیاسی کشمکش نہیں تھا بلکہ اس نے مذہبی فکر کو انتقام اور مزاحمت کی طرف دھکیل دیا۔ سید قطب نے جیل ہی میں “معالم فی الطریق” تحریر کی، جو ایک قیدی کی چیخ تھی، اور اسی تحریر نے اخوان کی فکری جہت کو انقلابی اور شدت پسندانہ رخ دے دیا۔ ان مظالم کے نتیجے میں اخوان المسلمین کے اندر سے ایک نئی نسل ابھری، جو پُرامن اصلاحات سے مایوس ہو کر مسلح بغاوت کی طرف مائل ہوئی۔ ایمن الظواہری اسی جبر کے ماحول کی پیداوار تھا۔ مصری حکومتوں کی سخت گیر پالیسیاں دراصل اس “جہادی بیانیے” کے لیے ایندھن ثابت ہوئیں، جس کے مطابق مسلم حکمران “مرتد” اور “طاغوت” ہیں، اور ان کے خلاف قتال نہ صرف جائز بلکہ فرض ہے۔

مصر میں اسلامی جہاد اور انور السادات کا قتل

اخوان المسلمین کی فکر پر ریاستی جبر کے ردِعمل کے طور پر مصر میں “اسلامی جہاد(Egyptian Islamic Jihad) ” جیسی عسکری تنظیموں نے جنم لیا، جن کی قیادت ایمن الظواہری جیسے افراد کے ہاتھ میں آئی۔ ایمن الظواہری کا پس منظر ایک تعلیم یافتہ، اعلیٰ طبقے کے خاندان سے تھا، مگر مصری ریاست کے وحشیانہ رویے اور عرب دنیا میں اسلامی شناخت کی پامالی نے اسے انتہا پسندی کی طرف دھکیل دیا۔ اسلامی جہاد کا سب سے بڑا ہدف مصری حکومت اور خاص طور پر صدر انور السادات تھے۔ انہیں 1979 میں اسرائیل کے ساتھ کیمپ ڈیوڈ معاہدہ کرنے پر عرب دنیا کے کئی حلقوں میں غدار تصور کیا گیا۔ جہادیوں کے نزدیک یہ معاہدہ نہ صرف فلسطینیوں سے غداری تھا بلکہ اسلامی دنیا کے خلاف ایک کھلا اعلانِ جنگ تھا۔ اسی اشتعال اور نظریاتی بنیاد پر 6 اکتوبر 1981 کو فوجی پریڈ کے دوران انور السادات کو قتل کر دیا گیا۔ اس قتل کی منصوبہ بندی “اسلامی جہاد” نے کی، اور یہ واقعہ جدید جہادی تحریکوں کے لیے ایک علامتی کامیابی سمجھا گیا۔

جہادی تحریکوں کا ارتقاء

جہادی تحریکوں کی تاریخ میں چند مخصوص ادوار اور خطے ایسے ہیں جہاں ان نظریات نے مسلح شکل اختیار کی — افغانستان، فلسطین، کشمیر، اور مشرقِ وسطیٰ کے فرقہ وارانہ تصادم۔

افغانستان: سوویت افواج کے خلاف افغان جہاد نے مسلح جہاد کو ایک عالمی تحریک میں بدل دیا۔ امریکہ نے سویت یونین کے خلاف افغان مجاہدین کی مدد کی، مگر القاعدہ کی تشکیل ایک علیحدہ مظہر تھا۔ اسامہ بن لادن نے 1988 میں القاعدہ کی بنیاد رکھی تاکہ عالمی سطح پر “کفار” کے خلاف جنگ کی جا سکے۔ 9/11 اسی سوچ کی انتہا تھی، جس نے دنیا کو ایک نئی عالمی جنگ میں دھکیل دیا۔

فلسطین: فلسطینی مزاحمتی تحریک کی ابتدا فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) سے ہوئی، جو سیکولر تھی۔ 1987 میں “حماس” اور 1981 میں “فلسطینی اسلامی جہاد(PIJ) ” نے جہادی انداز اپنایا۔ اسرائیل کی بربریت، عرب ممالک کی بے حسی اور PLO کی ناکامی نے جہادی تنظیموں کو بڑھاوا دیا۔

کشمیر: 1989 سے کشمیر میں مزاحمت نے شدت اختیار کی۔ لشکرِ طیبہ(LeT) اور جیشِ محمد(JeM) جیسے گروہوں نے جہادِ کشمیر کے نام پر بھارت کے خلاف کارروائیاں شروع کیں۔ یہ گروہ پاکستان کے اندر دینی مدارس اور ریاستی اداروں کی حکمت عملی کا حصہ بنے، اور ریاستی پالیسیوں نے انہیں پروان چڑھایا۔

ایرانی انقلاب: 1979 کے انقلاب نے مشرقِ وسطیٰ میں فرقہ وارانہ تقسیم کو جنم دیا۔ ایران نے شیعہ ملیشیاؤں کو سپورٹ کیا، جبکہ سعودی عرب نے سنی جہادی تحریکوں کو تقویت دی۔ اس کشمکش نے عراق، شام، لبنان اور یمن میں فرقہ وارانہ جنگوں کو ہوا دی۔

داعش کا ظہور اور امریکی کردار

داعش کا جنم: 2003 میں جہادی تحریکوں کے اگلے مراحل میں القاعدہ کے بعد داعش کا ظہور ایک سنگِ میل تھا، جس نے دنیا بھر میں خوف اور تباہی کا ایک نیا باب کھولا۔ داعش کا جنم 2003 میں امریکی حملہ بر عراق کے نتیجے میں پیدا ہونے والے سیاسی خلا اور بدترین خانہ جنگی سے ہوا۔ صدام حسین کی حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں جو حالات پیدا ہوئے، ان میں بعثی فوجی کمانڈرز، القاعدہ کے جہادی عناصر اور عراقی سنی مزاحمتی گروہ ایک دوسرے کے قریب آئے۔ انہی میں سے ابو مصعب الزرقاوی نے “القاعدہ فی العراق” (AQI) کی بنیاد رکھی، جو بعد میں رفتہ رفتہ “داعش” میں تبدیل ہو گئی۔

امریکہ کی جانب سے نوری المالکی جیسے فرقہ پرست شیعہ حکمران کو سپورٹ کرنے اور سنی علاقوں میں ظلم و زیادتی نے داعش کی بھرتیوں کو آسان بنا دیا۔ سنی عوام کو یہ احساس دلایا گیا کہ ان پر شیعہ حکومت اور امریکہ کے گٹھ جوڑ سے ظلم کیا جا رہا ہے۔ اس ماحول میں داعش نے خود کو “سنیوں کے محافظ” اور پھر “عالمی خلافت” کے علمبردار کے طور پر پیش کیا۔

اگرچہ داعش اپنے شدت پسند رویے اور خلافت کے تصور میں القاعدہ سے بھی زیادہ پرتشدد تنظیم تھی، مگر اس کی فکری جڑیں بھی سید قطب اور اخوان المسلمین کی فکر سے براہِ راست وابستہ تھیں۔ داعش کا “تکفیری بیانیہ” سید قطب کی انہی تحریروں کا تسلسل تھا، جہاں مسلم معاشروں کو جاہل قرار دے کر ان پر قتال کو جائز ٹھہرایا گیا۔ داعش کا نظریہ “الحاکمیہ” — یعنی اللہ کی حاکمیت کو نافذ کرنے کی لازمی ضرورت — سید قطب کے اسی تصور کی انتہا تھی۔ فرق صرف یہ رہا کہ اخوان نے ابتدا میں جمہوری اور سیاسی طریقہ اپنانے کی کوشش کی، جبکہ داعش نے براہِ راست تکفیر اور قتال کو اپنا شعار بنایا۔

انجامِ کلام: حقیقت کا سامنا یا خود فریبی کا تسلسل؟

القاعدہ، داعش اور دیگر جہادی تحریکوں کی تاریخ محض عالمی سازشوں کی داستان نہیں، بلکہ ہماری اپنی فکری اور سیاسی غلطیوں کی تلخ میراث ہے۔ یہ کہنا کہ “یہ سب امریکہ نے بنایا” ایک سادہ لوحی پر مبنی خود فریبی ہے، جو ہمیں اپنی ذمہ داری سے بچنے کا ایک آسان راستہ فراہم کرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ یا مغرب نے نہ سید قطب کو معالم فی الطریق لکھنے پر مجبور کیا، نہ حسن البنا کو سیاسی اسلام کی تبلیغ پر آمادہ کیا، اور نہ ہی اخوان المسلمین کے کارکنوں کو مصری جیلوں میں اذیت دینے والے وہ تھے۔

امریکہ نے یقیناً افغان جہاد میں اپنے مفادات کے لیے کردار ادا کیا، مگر القاعدہ اور داعش کی فکری پرورش ہمارے اپنے دینی مدارس، ہمارے اپنے دانشوروں اور ہمارے اپنے سیاسی جبر کی کوکھ سے ہوئی۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ جب مغربی طاقتیں اپنی عالمی سیاست میں منافقت اور استحصالی کردار ادا کرتی ہیں، تو وہ جلتی پر تیل کا کام ضرور کرتی ہیں۔ لیکن اگر ہمارے اپنے معاشروں میں فکری توازن، سیاسی انصاف اور سماجی عدل موجود ہوتے تو یہ آگ کبھی اس شدت سے نہ بھڑکتی۔

یہ جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں، بلکہ ہمارے تعلیمی اداروں، مساجد، مدرسوں اور فکری محفلوں میں لڑی جا رہی ہے — اور بدقسمتی سے ہم نے اپنی اگلی نسلوں کے ہاتھوں میں فکری تلواریں تھما دی ہیں، جو صرف تباہی لاتی ہیں۔

آج بھی وقت ہے کہ ہم اس حقیقت کا سامنا کریں کہ مسئلہ باہر سے نہیں، اندر سے ہے۔ جب تک ہم اپنے فکری اور سیاسی رویوں کا محاسبہ نہیں کریں گے، ہم بار بار اسی خود فریبی کے دائرے میں گھومتے رہیں گے کہ “یہ سب امریکہ کا کیا دھرا ہے۔”

سید عنایت

1 thought on “القاعدہ و داعش: امریکی سازش یا ہماری فکری لغزش؟ ۔۔۔ سید عنایت

  1. بہت عمدہ ، متناسب اور حقیقت کے قریب تر تجزیہ۔ ایسی تحریریں اس پراگندہ دور میں آہم بھی ہیں اور لازم بھی۔ ہمیں اپنی کوتاہیوں پر بات کرنا ہو گی تاکہ ان کی اصلاح ہو سکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *