بلاول بھٹو کو نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

بلاول بھٹو کو نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی اجازت مل گئی

اپ ڈیٹ 09 مارچ 2019
نواز شریف العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں قید کی سزا کاٹ رہے ہیں—فوٹو: ڈان نیوز

محکمہ داخلہ پنجاب نے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو سابق وزیر اعظم اور مسلم لیگ (ن) کے تاحیات قائد نواز شریف سے جیل میں ملاقات کی اجازت دے دی۔

ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو کو نواز شریف سے ملاقات کی اجازت دے دی گئی ہے اور چیئرمین پی پی پی شام 5 بجے تک سابق وزیر اعظم کی عیادت کے لیے کوٹ لکھپت جیل جائیں گے۔

اس سے قبل چیئرمین پیپلزپارٹی کی جانب سے محکمہ داخلہ سے درخواست کی گئی تھی وہ نواز شریف سے عیادت کے لیے جیل میں ان سے ملنا چاہتے ہیں۔

مزید پڑھیں: کوٹ لکھپت جیل میں قید نواز شریف کو دل کی تکلیف

پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کی جانب سے اس درخواست کو محکمہ داخلہ میں جمع کروایا گیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ، پیپلز پارٹی سینٹرل پنجاب کے صدر قمر زمان کائرہ، سینیٹر مصطفیٰ نواز کھوکھر اور جمیل سومرو بھی ہوں گے۔

اس بارے میں ذرائع نے بتایا تھا کہ بلاول بھٹو آج ہی کوٹ لکھپت جیل میں نواز شریف سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں اور اس ملاقات کا مقصد نواز شریف کی صحت کے بارے میں دریافت کرنا ہے۔

واضح رہے کہ چیئرمین پیپلز پارٹی اس سے قبل بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف کی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔

2 روز قبل سماجی رابطوں کی ویب سائٹ توئٹر پر ایک ٹوئٹ میں بلاول بھٹو زرادی نے لکھا تھا کہ جیل میں قید نواز شریف کی صحت کو سنجیدہ لینا چاہیے اور حکومت کو چاہیے کہ انہیں عزت کے ساتھ مکمل طبی سہولیات فراہم کریں۔

خیال رہے کہ العزیزیہ ریفرنس میں احتساب عدالت کی جانب سے 7 سال قید کا سامنا کرنے والے نواز شریف لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں اور ان کے خاندان کے افراد اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی جانب سے ان کی صحت کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا جارہا ہے اور مناسب علاج نہ ملنے کی شکایت کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: علاج کی بھیک مانگی نہ مانگوں گا، نواز شریف

تاہم گزشتہ دنوں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پنجاب حکومت کو ہدایت کی گئی تھی کہ نواز شریف کو علاج کی بہترین سہولیات دی جائیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے بتایا تھا وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ نواز شریف جس ڈاکٹر یا ہسپتال سے علاج کروانا چاہتے ہیں، انہیں وہاں منتقل کیا جائے اور میڈیکل بورڈ کی سفارشات پر مکمل عمل درآمد کیا جائے۔

اس کے باوجود سابق وزیر اعظم نے اپنے اہل خانہ کے اصرار کے باوجود ہسپتال جانے سے انکار کیا تھا اور پیغام دیا تھا کہ علاج کے لیے بھیک مانگی ہے نہ مانگوں گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *