یورپ یاترا ! ( آخری قسط) ۔۔۔ اسحاق محمدی

  وینس

خوبصورت اور منفرد شہر وینس اٹلی کے دارلحکومت روم کے شمال مشرق میں 527 کلو میٹر کے فاصلے پر بحرہ ایڈریاٹک کے کنارے واقع ہے۔ اسکی موجودہ آبادی تین لاکھ کے آس پاس ہے جبکہ سالانہ 60 لاکھ سے زائد سیاح یہاں کا رخ کرتے ہیں۔ موسم معتدل مگر مرطوب ہے۔ روم سے بس کے ذریعے یہ فاصلہ تقریباً چھ گھنٹوں میں جبکہ ٹرین کے ذریعے 4 گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ میں نے ٹرین کو ترجیح دی۔ 18 اکتوبر کو صبح 9 بجے روم سے روانہ ہوا اور ایک بجے وینس پہنچا۔ یہ منفرد شہر ایک بڑے نہر (گرانڈ کینال) اور 200 چھوٹے نہروں کے نیٹ ورک پر تعمیر کیا گیا ہے۔ منفرد طرز تعمیر ساتھ ہی منفرد ایکو سسٹم رکھنے کی وجہ سے یونیسکو نے 1987ء میں اسے “عالمی ورثہ” قرار دیا تھا۔ پانی پر بنی تعمیرات کو دیکھ کر نظر پر یقین نہیں آتا کہ ایسا بھی ممکن ہے۔ یعنی وہی نہریں ہی ان کی گلیاں ہیں۔ ہر گھر کی دہلیز پر چھوٹی چھوٹی کشتیاں ایسی پارک ہیں جیسے ہمارے ہاں گھروں کے سامنے موٹرسائیکلیں یا گاڑییں کھڑی رہتی ہیں۔ درمیانی سائز کی کشتیاں گرانڈ کینال تک محدود ہیں۔ چھوٹی کشتیاں اور وہ بھی زیادہ تر بغیر انجن کی جو وینس کی پہچان ہیں، رات دیر گئے تک ہر طرف ایک سے چھ تک سواریاں لے کر پانی والی گلیوں میں رواں دواں رہتی ہیں۔ یہاں یہ بتانا شاید دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ وینس شہر میں ہر قسم کی گاڑیوں پر پابندی ہے۔ اسکی ایک بڑی وجہ تنگ گلیوں اور انسانی ہجوم کے علاوہ یہاں کے منفرد ایکو سیسٹم کی حفاظت بھی ہے۔

آف سیزن ہونے کے باوجود ہر طرف سیاحوں کا ہجوم تھا۔ ٹرین اسٹیشن سے نکل کر قریبی بازار میں پیدل سیاحت کی اور جب تھک گیا تو ٹرین سٹیشن کے سامنے سے وینس شہر کے مرکز “سین مارکو” کیلئے واٹر ٹیکسی کے لیے ٹکٹ لی جو ٹرین سٹیشن سے دس، پندرہ مینٹ کے فاصلے پر واقع ہے۔ سین مارکو کی گلیاں تنگ تو ہی ہیں، لیکن بعض گلیاں اتنی تنگ ہیں کہ آمنا سامنا ہونے پر ایک شخص کو دیوار سے لگ کر دوسرے کوراستہ دینا پڑتا ہے۔ بعض گلیوں میں انٹرنیٹ کے سگنل تک نہیں آتے۔ لیکن ان تنگ گلیوں میں بڑے بڑے مشہور برانڈز کے لش و پش اسٹور جابجا سجے نظر آتے ہیں۔ ۔ میں نے احتیاط کے طور پر اپنے ہوٹل کے ایڈرس کی اسکرین شارٹ پہلے سے ہی محفوظ کرلی تھی اور اس اسکرین شارٹ کے ذریعے بلاخر اپنا ہوٹل ڈھونڈنے میں کامیاب ہو بھی گیا۔ یہ ہوٹل ایک تنگ اور بند گلی کے کونے پر تھا۔ پہلے اسے دیکھ کر گھبراہٹ سی ہونے لگی لیکن جب ہوٹل کی لابی میں داخل ہوا تو صاف ستھرا ماحول اور تمام بنیادی لوازمات سے مزین کشادہ کمرہ دیکھ کر مسرت اور راحت کا احساس ہوا۔ وینس میں صفائی کا معیار بہت اعلیٰ ہے۔

کچھ دیر سستانے کے بعدمیں دوبارہ باہر نکل گیا۔ کافی دیر تک پیدل روی کی۔ شام ہونے کے قریب ایک قوما حمید احمدی سے ملاقات طے تھی۔ بذریعہ جی پی ایس،ان تک پہنچا۔ جناب احمدی نے فلم اور سینما میں بیچلر کرنے بعد کچھ عرصہ ہزارہ ٹاؤن کوئٹہ میں بھی گذارا ہے۔ اب وہ وینس میں کئی ریسٹورنٹس کو کامیابی سے چلا رے ہیں۔ سادہ طبیعت کے مالک ہیں۔ یہ سن کر از حد خوشی ہوئی کہ وہ امریکہ سے بزنس میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ آج کل ان کی کوشش ہے کہ وینس کے ایک مشہور کلچرل گیلری میں افغانستان کارنر بنائیں تاکہ وہ اس کارنر میں ہزارہ گی ثقافت کو بھی نمائش کے لئے رکھ سکیں۔ میں نے از راہ تجسس ان سے پوچھا کہ تین لاکھ کی آبادی، سالانہ 6 ملین سیاح کو کیسے سنبھال سکتی ہے جن کی زبان، کلچر اور عادات و اتوار ان سے بالکل مختلف ہیں اور کیوں اتنی بڑی تعداد میں سیاح یہاں کھینچے چلے آتے ہے؟ انہوں نے جواب میں کہا کہ ایک تووینس میں بہترین امن و امان ہے، اوپر سے حکومت نے فضا (بائی ایئر)، سمندر، ریلوے ٹریک اور سڑکوں کے ذریعے وینس کو پوری دنیا سے جوڑ دیا ہے، ساتھ ہی سیاحوں کے قیام و طعام کےلئے نجی شعبے کی مدد سے مکمل انتظام  بھی کررکھا ہے، مزید برآں، عادات و اتوار کے لحاظ سے یہاں کے لوگ بہت متحمل مزاج، خوش باش اور فراڈ و دو نمبری سے بہت دور ہیں، اس لیے وینس کی طرف اتنی بڑی تعداد میں سیاح کھینچے چلے آتے ہیں اور سالانہ اس میں مزید اضافہ ہورہا ہے۔ رات 00۔10 بجے  جناب احمدی سے رخصت لے کر ایک دفعہ پھر میں سین مارکو کی تنگ گلیوں کی سیر کو نکل پڑا، باقی بازار بند ہوچکا تھا لیکن ریسٹورنٹس اور بار وغیرہ پورے آب و تاب کے ساتھ کھلے تھے، ہزاروں کی تعداد میں ہر رنگ، نسل، صِنف اور عمر کے لوگ کہیں خورد و نوش تو کہیں خوش گپیوں میں اور کہیں رقص و سرود میں مگن تھے۔ میں حسرت اور ندامت کے ملے جلے احساسات کے ساتھ ان کو دیکھے جارہا تھا۔ حسرت اس لئے کہ میں سوچ رہا تھا کہ کتنے خوش قسمت ہیں یہ لوگ جنہوں نے اس دنیا کو بھی اپنے لئے جنت بنادیا ہے اور زندگی سے بھرپور لطف لے رہے ہیں۔ ان کی ایمان داری، خوش اخلاقی، صفائی اور تعاون و ہمکاری کے اوصاف دیکھ کر یقین ہوجاتا ہے کہ اگلی دنیا میں بھی یہی لوگ جنت کے حقدار ٹھہریں گے کیونکہ یہ “دنیا آخرت کی کھیتی ہے جو یہاں بوؤگے اگلی دنیا میں وہی کاٹوگے”۔ ندامت اس لئے کہ علمدار روڑ اور ہزارہ ٹاون کی گلیوں کو ہماری بگڑی یا بگاڑی ہوئی نئی نسل نے موت کے کنویں میں تبدیل کردیا ہے، جہاں پیدل چلنے والے جان ہتھیلی پر لے کر چلتے ہیں۔ اگر کہیں اعتراض کریں یا تنقید کریں تو فوراً یہ عذر لنگ پیش کیا جاتا ہے کہ ہم فلاں فلاں قوم اور برادری سے کہیں بہتر ہیں اور یہ کہ ہمارے یہ علاقے فلاں فلاں علاقوں سے بہت بہتر حالت میں ہیں۔ برادرم، اپنا موازنہ اگر بہترین سے نہیں کرسکتے تو کم از کم بہتر قوموں سے ہی کرلیں، پست تر والوں سے کروگے تو پاتال تک گِر جاؤگے۔

 فی الحال اتنا ہی کافی۔ اگلے روز روم واپسی ہوئی اور پھربراستہ لندن اپنے پیارے شہر نیویارک اور ہوم سویٹ ہوم واپسی۔ خیر سےاگلا پروگرام  آسٹریلیا جانے کا ہے، دیکھتے ہیں کب تک ممکن ہوسکے گا۔

اسحاق محمدی

اسحاق محمدی

مضمون نگار امریکی شہر نیویارک میں مقیم ہیں۔ تاریخ کے طالب علم رہے ہیں اور تحقیق سے گہرا لگاؤ رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *