ہزارہ ٹاؤن! حکومتی مراعات سے محروم ۔۔۔ عباس حیدر

٭

ہزارہ ٹاون کوئٹہ کے مغرب میں واقع ہے جہاں کی کل آبادی چھ سے سات لاکھ بتائی جاتی ہے جس کی اکثریتی آبادی ہزارہ اور اس کے ساتھ بلوچ،  پشتون،  پنجابی اور گلگتی و  بلتستانی دوستانہ ماحول میں رواداری کے ساتھ رہتے ہیں۔  سات لاکھ کی کثیر آبادی میں ناکافی صرف دو سرکاری سکولز ہیں ایک لڑکیوں کے لئے دوسرا لڑکوں کے لئے۔  دونوں اسکول ہزارہ ٹاؤن کے ایک کونے جنوب مشرق میں واقع ہیں۔  اگر کوئی طالب علم ہزارہ ٹاون کے شمال سے سکول جانا چاہے،  تو اسے دو کلومیٹر کا سفر طے کرنا ہوتا ہے۔  حکومت بلوچستان نے ہزارہ ٹاون کو مکمل طور پر پرائیویٹ سکولوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیا ہے۔  جہاں بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ شہر میں سکولوں کی کمی ہے،  وہاں صوبے کے دوسرے شہروں اور دیہاتوں کا کیا حال ہوگا؟ 

       ہزارہ ٹاون کے لوگ صفائی ستھرائی پر خاص توجہ دیتے ہیں۔  اپنی مدد آپ کے تحت صبح طلوع آفتاب سے پہلے ہر کوئی اپنے گھروں کے سامنے گلیوں میں خود جھاڑو لگاتا ہے۔  کوڑے کو ایک مخصوص بالٹی میں ڈالا جاتا ہے تاکہ ماحول صاف ستھرا رہے،  بعد میں کوڑا چننے والے انہیں اٹھا لیتے ہیں۔  ان کوڑا چننے والوں کو ہر گھر کی طرف سے ماہانہ  130روپے ملتے ہیں،  لیکن وہ ان کوڑوں کو قبرستان سے منسلک خالی میدان میں پھینک دیتے ہیں،  جس میدان کو وہاں کے رہائشی(گراؤنڈ کی عدم موجودگی کی وجہ سے)  صبح،  شام ورزش کے لئے اور کرکٹ کھیلنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔  اب یہ میدان کوڑوں کے پہاڑ کی موجودگی میں مکمل طور پر تعفن زدہ ہو چکا ہے،  جو وہاں رخ کرنے والوں کی صحت کے لئے مضر ہے اور ساتھ ہی جو لوگ قبرستان اپنے پیاروں کی قبروں پر فاتحہ خوانی کے لئے جاتے ہیں وہ بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔  حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے کوڑوں کا یہ پہاڑ گذشتہ بیس سالوں سے وہیں پڑا ہے جو روز افزوں بلندتر ہوتا جا رہا ہے۔  مہینہ بھر قبل،  ایک  شخص نے  اپنی مدد آپ کے تحت اس کوڑے کے پہاڑ کو قبرستان کے میدان سے اٹھانے کا عزم کیا،  جسے وہاں کے کوڑا مافیا نے روک دیا ۔  باوجود این ہمہ حلقہ ایم پی اے اور دیگر سیاسی کارکنان بھی اس معاملے میں خاموش ہیں۔ 

       ہزارہ ٹاؤن کے رہائشی جہاں صفائی ستھرائی کا انتظام اپنی مدد آپ کے تحت خود کرنے پر مجبور ہیں،  وہاں انہوں نے پرائیویٹ فٹسال بھی بنایا ہےجبکہ مزید  فٹسال بھی بنائے جا رہے ہیں۔  جس میں گھنٹے کے حساب سے کھیلنے والی ٹیموں سے طے شدہ فیس لی جاتی ہے۔ اس طرح یہ فٹسال نوجوانوں کو غیراخلاقی اور غیر صحتمندانہ سرگرمیوں سے دور رکھنے میں مددگار ثابت ہورہے ہیں۔  انہی پرائیویٹ فٹسال گراؤنڈز کی بدولت آج خلیل جیسا کھلاڑی پاکستان کی نمائندگی کررہا ہے،  جو ہزارہ ٹاؤن کے رہائشیوں کے لئے سربلندی و سرفرازی کامقام ہے۔  ہزارہ ٹاؤن کے دیرینہ مسائل میں سے سرفہرست ایک مسلہ ہزارہ ٹاؤن میں فٹبال اور کرکٹ گراؤنڈ کا نہ ہونا بھی ہے،  جو حکومتی عدم دلچسپی کی وجہ سے تاحال برقرار ہے۔  حکومتی حلقوں کی بے حسانہ اسی روش کی وجہ سے آج ہزاروں غریب کھلاڑی پاکستان کے مقبول ترین کھیل(یعنی کرکٹ اور فٹبال)  کھیلنے سے محروم ہیں۔  ان کی طرف سے وعدے تو بہت ہوئے لیکن نتیجہ بے وفائی ہی بے وفائی۔

       ہزارہ ٹاؤن جیسے گنجان آباد علاقے میں تفریحی مقامات نا ہونے کی وجہ سے یہاں کے رہائشی شہر سے باہر دوسرے علاقوں میں جانے پر مجبور ہیں۔  تفریحی مقامات میں سے ایک پرفضا اور خوبصورت مقام پیر غائب بھی ہے،  جس کا در گذشتہ سال سے ہزارہ قوم پر مسدود کر دیاگیا ہے۔  ہزارہ آبادی پچھلے بائیس سالوں سے ذہنی کوفت اور حالات کی پریشانیوں کے سبب شدید نفسیاتی دباؤ کا شکار ہے۔  پیر غائب جیسے تفریح گاہ کو بند کرنے سے انہیں مزید تنہائی اور بغض اغیار کی اور دھکیلا جا رہا ہے۔  آج کا ہزارہ ٹاؤن ہر طرح کی حکومتی مراعات اور تمام وسائل سے محروم ہے۔  ہزارہ ٹاؤن کو بلاکس میں تقسیم نہ کرنے سے لوگ اکثر اوقات ایڈریس ڈھونڈنے میں سرگرداں رہتے ہیں۔

       ہزارہ ٹاؤن بنیادی مسائل کا شکار ہمیشہ سے رہا ہے۔  عدم دستیابی آب کی وجہ سے یہاں کے مکین عموماً پانی کے ٹینکرز خریدنے پر مجبور ہیں؛  یا پرائیویٹ آبنوشی سے ایک کنکشن لینے پر پچیس سے تیس ہزار روپے خرچہ کرتے ہیں اور اس کے بدلے پرائیویٹ آبنوشی والے دو تین دن میں صرف ایک گھنٹہ پانی ان کے لئے کھول دیتا ہے۔  اس طرح یہاں کے مکین پانی کی بوند بوند کے لئے  ترس رہے ہیں،  جبکہ دوسری طرف حکومت مختلف حیلوں بہانوں سے ٹیکس وصول کر رہی ہے۔  اس پر مستزاد یہ،  کہ ضرورت کے مطابق یہاں نہ بجلی آتی ہے اور نہ ہی گیس!

عباس حیدر

عباس حیدر

عباس حیدر نوجوان لکھاری ہیں جنہیں کتابوں کے مطالعے کا بے حد شوق ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published.