مستقبل اور نئی نسل کے سرخیل و سالاروں کے نام

  معمول اور روایات کے خلاف یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین جن کی اکثریت بیوٹمز کے طالبات و طلباء اور جن کی غالب تعداد کا تعلق ہزارہ ٹاؤن سے ہے، نے بتاریخ 11، 12 اور 13 فروری 2022ء سہ روزہ شاندار ادبی میلہ کا انعقاد KB College ہزارہ ٹاؤن میں کیا۔

اِس ادبی میلہ میں مختلف علاقوں سے مختلف اقوام کے نوجوانوں اور مختلف شعبوں سے متعلق افراد اور اساتذہ کرام نے نہایت جوش و خروش اور دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔

تین دن تک جاری رہنے والے ”سفینہءِ ادب“ کے نام سے اس میلے کی خصوصیت زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق علوم پر بحث اور حاضرین کے سوالات کے جوابات سے طلباء کا استفادہ ہے۔ اس کے علاوہ اس منفرد پروگرام کے منتظمین میں ہائی اسکول کے ننھے طلباء و طالبات کی انتظامی خدمات کی انجام دہی قابل تحسین و خوش کن اقدام ہے۔ ہماری جوانی کے ایام میں اس طرح کی محفلیں ممکن نہ تھیں، کیونکہ ایک تو سماج بہت پسماندہ تھا، دوسرا آج والے وسائل بھی تو نہ تھے۔

اُن حالات اور عدم دستیابی وسائل کے زمانے میں صرف تنظیم نسل نو ہزارہ مغل وہ واحد ادارہ ہوا کرتا تھا جہاں کچھ لوگ کتابیں پڑھتے تھے۔ مگر اُن میں بھی کچھ لوگ اپنی پڑھی کتابوں کے نام بھی دوسروں سے چھپا لیتے تھے کہ مبادا وہ بھی یہ کتاب پڑھیں اور ہماری برابری کرے۔ اس کے علاوہ اگر کوئی زیادہ کتابیں پڑھنے سے سمجھدار بنتا تو دوسروں کے تعصب اور نفرت کاشکار ہوجاتا۔ اس کے علاوہ جب ہزارہ اسٹوڈنٹس فیڈریشن کو تنظیم سے نکالا گیا تو اسے ایک خود اعتماد اور خود مختار ادارے کی مانند ابھرنے کا موقع ملا۔ مگر پھر بھی آج والی صورتحال کسی صورت نہیں تھی، اس لئے کہ ہماری گزشتہ نسل ہم پر صرف اتنا احسان عظیم کرسکی کہ ہمیں لکھنے پڑھنے کے بھرپور مواقع فراہم کرنے کے لئے سخت محنت کی۔ اس کے سوا وہ ہماری کچھ مدد نہیں کرسکتے تھے کیونکہ وہ خود پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے۔ معاشرے پر زیادہ تر مذہبی ملا اور چند فارسی پڑھنے اور لکھنے والوں کی اجارہ داری قائم تھی۔ ہماری کورس کی کتابیں بھی زیادہ تر پنجاب سے چھپ کر آتی تھیں اور اکثر اوقات وہ دستیاب بھی نہیں ہوتی تھیں۔

سوسائٹی آج ایک بہتر مقام پر ہے جہاں پہنچنے میں کئی دہائیاں لگ گئی ہیں۔ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (USU) اس لحاظ سے بھی خوش قسمت ہے کہ آج تعلیم کا معیار گوکہ بلوچستان اور پورے پاکستان میں قابل ذکر نہیں ہے، مگر نسبتاً ہمارے اسکول کالج کے زمانے کے لحاظ سے بہت بہتر ہے۔ آج کے ان حالات میں ان نوجوان طالب علموں کی شعوری مداخلت سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اب ہماری سوسائٹی کو درست خطوط پر استوار کرنے والے پیدا ہوگئے ہیں۔ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے ممبران اپنے آپ سے اور اپنے مستقبل سے پُراُمید نظر آتے ہیں، اس لئے بھی کہ وہ تمام مشکل حالات کو اپنی نظروں کے سامنے دیکھ اور محسوس کررہے ہیں۔ لہٰذا حالات کے لئے ان کی تیاری بھی اسی قدر سنجیدگی کا تقاضا کرتی ہے جس کے لئے وہ تیار نظر آتے ہیں۔ ان سہ روزہ سرگرمیوں میں سیاسیات، سماجیات، نفسیات، تاریخ، اقتصادیات، فلسفہ، شاعری، کتاب کی رونمائی، کتب میلہ، آرٹ، خواتین، کلچر اور تقریباً زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ بہت ہی خوبصورتی اور دیانتداری سے کیا گیا تھا۔ باہر سے آئے مہمان اور شرکاء کے لئے یہ تقریب بہت متاثر کن تھی اُنہوں نے طلباء و طالبات کی ان کوششوں کو سراہا اور انہیں داد و تحسین سے نوازا.

میرے ذاتی تجزیے کے مطابق یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین سوسائٹی کے لئے ایک قیمتی اثاثہ ہے اور ان کے نسبتاً جدید اقدامات معاشرے کی پیشرفت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

میری خواہش ہے کہ یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین اپنی سرگرمیوں میں مزید اضافہ کرے اور معاشرے کے پڑھے لکھے افراد سے گزارش ہے کہ وہ ان کی بھرپور معاونت کریں تاکہ آنے والے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے نئی نسل کو تیار کیا جاسکے۔ آخر میں ہم تمام طلباء و طالبات اور یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین کے ان نوجوان طالب علموں اور ”سفینہءِ ادب“ کے منتظمین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے مبارکباد دیتے ہیں، خصوصاً ماریہ نادر، ہادی رحیم، شازیہ بتول، عمران اقبال، آرزو سلطانی، الطاف حسین و عارف حسین اور کامران علی کے شکر گزار ہیں، جن کی کاوشوں سے ایسی معیاری تقریبات کا اہتمام ممکن ہوا جو سوسائٹی کو نئی جہت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔

علی رضا منگول

علی رضا منگول

مضمون نگار ایک مارکسسٹ اور ٹریڈ یونین ایکٹوسٹ ہونے کے علاوہ اظہار کی مجلس ادارت کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *