اب بھی وقت ہے، افیون سے انکار کرو۔…

آج کا انسان جس دور سے گزر رہا ہے، یہ تاریخ کا اب تک سب سے بہترین دور ہے۔ موجودہ انسان ترقی اور آرام دہ زندگی کے جن لوازمات سے برخوردار ہے، وہ گزشتہ کسی بھی دور میں کسی انسانی نوع کو میسر نہیں رہے۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ وقت جیسے جیسے گزرتا رہا ہے، انسان اور انسانی معاشرے بھی بہتری کی سمت بڑھتے رہے ہیں۔ نتیجتا آج کا انسانی سماج، انسانی زندگی کیلئے تاریخ کے کسی بھی انسانی سماج کے مقابلے میں بہترین خوبیوں سے مزین ہے۔ اس بات کا قطعی مطلب یہ نہیں کہ سماجوں میں مزید خوبیوں کی گنجائش نہیں۔ چونکہ انسان کو ہمیشہ خوب سے خوب تر کی تلاش رہی ہے چنانچہ اس میں عمومی طور پر وہ کامیاب ہی قرار پایا ہے۔

تمام انسانی معاشروں میں تبدیلی اور جدت کا باعث اس معاشرے کے معدودے چند افراد ہی رہے ہیں جبکہ اکثریت سماجی معاملات میں ہمیشہ لاتعلق رہی ہے۔ گنتی کے چند افراد ہوتے ہیں جو متجسس طبیعت کے مالک ہوتے ہیں اور سوال کرتے رہتے ہیں اور پھر اپنے انھی سوالات کے جوابات ڈھونڈنے لگ جاتے ہیں اور پھر کسی نتیجے پر پہنچ پر کچھ ایسا کام کر جاتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ معاشرہ تبدیلی کی سمت حرکت کرنے لگتا ہے۔

ماضی میں انسانی معاشروں کی تبدیلی کی رفتار بہت سست رہی ہے۔ ہزاروں سال تک ایک معاشرہ بغیر کسی بڑی تبدیلی کے ایک ہی قسم کے بودوباش اور رہن سہن تک محدود رہا ہے۔ جبکہ گزشتہ صدی کے دوران انسانی ترقی اور انسانی معاشرے میں تبدیلی کی رفتار اتنی تیز رہی ہے کہ ہزاروں سال کی رفتار بھی موجودہ رفتار کی نسبت کچھ بھی نہیں۔

مشہور زمانہ مصنف اور تاریخ دان پروفیسر نوح حراری کہتا ہے کہ جس رفتار سے ہم انفارمیشن اور بائیو ٹیکنالوجی میں آگے بڑھ رہے ہیں، اس کی بنیاد پر ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ اپنے آج کے ایک پانچ سالہ بچے کو تعلیم کی کون سی لائن پر لگائیں تاکہ آئندہ بیس سال بعد وہ ایک مناسب روزگار پانے کے قابل ہوسکے۔ یہ ایک بہت خطرناک اور دل و دماغ کو دھچکا پہنچانے والی بات ہے۔ یعنی سائنسی ٹیکنالوجی ہی مستقبل ہے جس سی اگر ایک انسان آگاہی نہ رکھتا ہو تو اس کا کوئی مستقبل ہی نہیں۔ مصنوعی ذہانت اور بائیو ٹیکنالوجی زندگی کے ہر شعبے پر اس قدر حاوی ہو جائیں گے کہ انسانوں کے لئے روزگار باقی نہیں بچے گا اور موجودہ کام کرنے والے انسانوں کی جگہ مشینیں لے لیں گی۔ اس صورت میں انسانوں کی ایک بڑی اکثریت جس بڑے مسئلے کا شکار ہوگی وہ “لاتعلقیت” ہوگی۔

سادہ لفظوں میں یہ کہ یہ اکثریت کسی کام کی نہیں ہوگی۔ نتیجتا جس Chaos کا تصور ہمارے ذہنوں میں ابھر رہا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ابھی سے نئی نسل کیلئے ایسی تعلیم اور تعلیمی نظام کا بندوبست کریں جو آئندہ اس کی بقا کی ضامن بن جائیں۔

اب اسی تناظر میں آتے ہیں کوئٹہ کی جانب اور دیکھتے ہیں کہ موجودہ حالات میں ہماری توجہ کن امور پر مرکوز ہے۔

علمدار روڈ اور ہزارہ ٹاون میں درجنوں ایسے تعلیمی مراکز ہیں جو بہت لگن کے ساتھ نوجوانوں کی تعلیمی ضروریات پوری کرنے میں جُتے ہوئے ہیں۔ جن محدود وسائل میں یہ مراکز کام کررہے ہیں وہ اپنی جگہ قابل صد آفرین تو ہے لیکن کافی نہیں۔ نوجوانوں کو جدید تعلیم سائنس اور ٹیکنالوجی کی سمت لانے کیلئے جن وسائل کی ضرورت ہے یہ سکول اور مراکز ان کی شدید کمی کا شکار ہیں۔ بات یہاں تک ہوتی تب بھی تشویش کی حد قابل فہم ہوتی لیکن مسئلہ یہ ہے کہ مستقبل کے لیے جس خطرے کی گھنٹی مسلسل بج رہی ہے، اس میں صاف صاف دکھائی دے رہا ہے کہ لاتعلقی کی عفریت ہمیں تباہی سے دوچار کرے گی اور ایسے میں ایک ایسا منظم حلقہ بھی ہے جو نئی نسل کو افیون پلانے پر بہ ضد ہے۔ یہ حلقہ نئی نسل کو ایک ایسے نشے کی عادی بنانے میں مصروف عمل ہے جس میں مبتلا ہوکر وہ ایسی نیند سوئے گی کہ جب جاگے گی (اگر جاگی) تو اصحاب کہف کی حالت پر شکر کرے گی۔

ایک ایسے وقت میں جب ہمیں مستقبل کیلئے تیار ہونے کی ضرورت ہے یہ طبقہ نئی نسل کو افیون پلانے میں مصروف ہے تاکہ انھیں ماضی میں لے جاسکے۔ دنیا و مافیہا سے بےخبر یہ طبقہ روز نت نئے نمونے متعارف کروارہا ہے۔ کوئٹہ کے ہزارہ معاشرے کو جس منظم پلاننگ کے ساتھ یہ مذہبی طبقہ افیمی بنانے کیلئے تگ و دو کررہا ہے وہ بہت ہی الارمنگ ہے۔ تیس روزہ تربیتی کیمپ کے اشتہار تو آپ سب نے سوشل میڈیا پر دیکھے ہونگے۔ یہ ان سرگرمیوں کی ہلکی سطح ہے جو نظر آرہی ہے،(یعنی آئس برگ کی ٹِپ ہے) اس کے نیچے جو تباہی کا پہاڑ ہے وہ ابھی زیادہ آشکار نہیں۔ ذرا تصور کریں کہ اگر یہ افیمی طبقہ اپنے مذموم مقاصد میں دس فیصد بھی کامیاب ہوجائے تو آئندہ بیس سالوں میں ان پھنکارتے اژدہوں کی تعداد کتنی ہوگی جن میں سے ہر ایک نے سوشل میڈیا پر اپنی دکان کھول رکھی ہے اور اپنے جذباتی مگر کھوکھلے بیانیے کی پالش اور فروخت میں مصروف ہے۔

یاد رہے کہ افغانستان اور شمال مغرب پاکستان میں چالیس سال قبل جن افیون مراکز کی بنیاد رکھی گئی تھی، وہاں کے اژدھے اب ایک پورے ملک کو اپنے حصار میں لیے ہوئے ہیں اور انسانوں کی جانوں کے درپے ہیں۔ ایسے میں معاشرے کا وہ ذمہ دار حلقہ جو معاشی حوالے سے بہت ہی سکون میں ہیں، نوجوانوں کیلئے جدید تعلیمی، سائنسی اور تربیتی مراکز کھولنے کی بجائے سو، سو افراد پر مشتمل پکنک پارٹیز کے اہتمام میں مصروف ہیں۔ تقابل آپ خود کر لیجیے۔

اس تمام صورتحال میں سوچئے کہ آپ اور ہم، یعنی ایسے والدین جن کے سکول جانے کی عمر والے بچے ہیں، کیا کرسکتے ہیں۔ کیا ہمیں اپنے بچوں اور اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے ایسی کوششیں نہیں کرنی چاہئے جن سے مستقبل میں وہ اپنی بقا اور باعزت و باوقار انسانی زندگی گزارنے کے قابل ہوسکیں؟ یا پھر ان ماضی پرست، رجعت پرست اور محدود سوچ رکھنے والے افیمی طبقے کو کُھلی چُھوٹ دیں تاکہ وہ اپنے بیرونی آقاؤں کے وسائل کے زور پر ان کے ایجنڈے کو عملی کرکے ہماری نئی نسلوں کو تباہ کریں؟

سوچئے کہ اب بھی وقت ہے۔

اکبر علی

اکبر علی

مضمون نگار اظہار کے مدیراعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں مقیم ہیں اور سماجی امور میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.