شطرنج کے موجد کا مخفی و مکتوم شاطرانہ مطالبہ ۔۔۔ فدا حسین

کہتے ہیں، کہ چونسٹھ(64) خانوں والا شطرنج کا کھیل بہت قدیم ہے اور اسے ایجاد کرنے والا شخص نہایت ذہین و فطین اور شاطر دماغ کا مالک تھا۔ جب اس نے اس کھیل کو مکمل طور پر ترتیب دیا، تواسے بادشاہ کے حضور پیش کیا اور بادشاہ سمیت اس کے وزیروں اور مشیروں کو بھی شطرنج کھیلنا سکھا دیا۔ دلچسپ کھیل سیکھنے کے بعد بادشاہ نے شطرنج اتنا پسند کیا، کہ اس نے اس کا کھیل کو ایجاد کرنے والے شخص کوفی الفور منہ مانگا انعام دینے کا فرمان جاری کر دیا۔ اس پر اس شخص نے نہ تو ہیرے اور جواہرات کی خواہش کا اظہار کیا اور نہ ہی کسی قسم کے مال و دولت کا۔ چونکہ اس کا قبیلہ اس وقت غربت اور فاقوں میں گذر بسر کر رہا تھا، چنانچہ اس نے اپنی شطرنج کی بساط کے چونسٹھویں (64) خانے پر چاول کے دانے مانگے اور وہ بھی اس حساب و ترتیب کے ساتھ کہ ہر اگلا خانہ تعداد کے حساب سے پچھلے خانے سے دگنا ہو، اس طرح چونسٹھویں (64) خانے میں جتنے چاول آئیں گے وہی اس کا انعام ہوگا۔ بظاہر حقیر؛ مگر پرپیچ و سربستہ اور مخفی و مکتوم اس مطالبے پر بادشاہ کی بے اختیار ہنسی نکل گئی اور وہ بولا: ”میں تو تمہیں بہت چالاک آدمی سمجھتا تھا مگر تمہاری خواہش!……بس اتنی سی تھی؟“ اس پر اس شخص نے حساب لگانے کی خاطر بادشاہ کو ایک مہینے کا وقت دیا اور کہا: ”میں ایک مہینے بعد آؤں گا اور اپنا انعام لے جاؤں گا۔“

اس شخص کے چلے جانے کے بعد بادشاہ نے اپنے وزیروں اور مشیروں کو چاولوں کے حساب کتاب کا ذمہ سونپ دیا۔ جوں جوں دن گذرتے گئے، توں توں وزرا و مشیران سلطنت کے پاؤں تلے سے زمین بھی کھسکتی چلی گئی، یہاں تک کہ پوری کی پوری نکل گئی۔ بالآخر جب حساب کتاب مکمل ہوا تو انہوں نے اسے بادشاہ کے سامنے پیش کیے۔ روزنامچہ دیکھنے کے بعد بادشاہ کو پہلے پہل یقین نہ آیا اور وہ یہ سمجھتا رہا کہ حساب کتاب میں کہیں نہ کہیں ضرور اس کے ماتحتوں سے غلطی سرزد ہوئی ہو گی، مگر بعد میں جب ایک ایک وزیر و مشیر نے بادشاہ کو یقین دہانی کروائی تو بادشاہ سلامت کے پسینے چھوٹنے لگے اوراس نے یکدم صاف پشیمانی اختیار کی۔

بعداً بادشاہ سلامت نے اپنی پشیمانی کا تدارک کیسے کیا؟ یا بادشاہ نے شطرنج بنانے والے کو اپنے قول کے مطابق منہ مانگا یا اس کے عوض کچھ اور انعام دیا بھی؛ کہ نہیں؟ یہ سوال ہمارے لئے غیر اہم تجسس ہے۔ تو آئیے، ہم اپنے پرائمری کے زمانے میں پڑھائے جانے والے ریاضی کے اس منفرد فارمولے سے کمک لے کر حساب لگائیں کہ بادشاہ سلامت پشیماں کیوں ہوا تھا؟ وہ فارمولا آج بھی مجھے اچھی طرح سے یاد ہے۔ اس کی رو سے:
آٹھ(8) چاول کے دانے=ایک رتی
آٹھ(8) رتی= ایک ماشہ
بارہ(12) ماشہ=ایک تولہ
پانچ(5) تولہ=ایک چھٹانک
سولہ(16)چھٹانک=ایک سیر
تقریباً ایک اعشاریہ دس(1.10262) سیر=ایک کلو گرام
ایک ہزار(1000) کلوگرام=ایک ٹن

شاید آپ کو یقین نہ آئے، کہ اس حساب سے شطرنج کے چونسٹھویں (64) خانے میں (136,148,435,162) ایک سو چھتیس ارب، چودہ کروڑ، چوراسی لاکھ، پینتیس ہزار، ایک سو باسٹھ ٹن، (620)چھ سو بیس کلوگرام اور شاید مزید کچھ چاولوں کے دانے آتے ہیں۔

مجھے یقین ہے، کہ بادشاہ سلامت کی پریشانی و پشیمانی کی وجہ آپ بھی ضرور جان چکے ہوں گے۔ یاد رہے، کہ زندگی کے معاملات میں آپ کا سامنابھی کسی نہ کسی موڑ پر ایسے ہی بظاہر حقیر، مگر مخفی و مکتوم اورپرپیچ و سربستہ عوضانہ مطالبے کے خوبصورت دام سے ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں اپنے آپ کو کسی بھی صورت اس میں پھنسنے نہ دیں، ورنہ عمر بھر کے پچھتاوے سے آپ اپنا دامن نہیں چھڑا سکیں گے۔“

فدا حسین

فدا حسین

مضمون نگار "اظہار" کی مجلس ادارت کے رکن ہیں۔ انہیں فلسفے سے گہری دلچسپی ہے اور کتابوں کے مطالعے کا شوق رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published.