عورت اور ہمارا معاشرہ ۔۔۔ نواز خان سنجرانی

عورتوں کے ہر قسم کے تشدد سہنے کی ابتدا ماں سے شروع ہوتی ہے۔ یہ تشدد جسمانی نہیں بلکہ ذہنی طور پر ہوتا ہے۔ ایک لڑکی کو بچپن سے ہی یہی کہا جاتا ہے کہ تمہارا رتبہ تمہارے بھائی سے کم ہے۔ دنیا کی اچھی سے اچھی آسائشیں خاندان کی طرف سے لڑکوں کو مہیا ہوتی ہیں اور عورت کو یہ کہہ کر چپ کروایا جاتا ہے کہ: ”تم عورت ہو اپنے اندر برداشت پیدا کرو، کل کو کسی اور گھر میں بہو بن کر جاؤگی۔ وہ گھر؛ جہاں لڑکا جیسا بھی ہو شرابی ہو، بدکردار ہو، یا جیسے بھی ہو، تمہیں اس کے ساتھ رہنا ہے۔ مگر بہو کو خاندانی اور باکردار ہونا چاہیے۔“ کسی انسان کا عورت ہونا ایک بہت بڑا گناہ ہے۔ زندگی کے ہر موڑ پر عورت ہی کو اپنی خواہشات کاگلا گھونٹنا پڑتا ہے۔ عورت سے تو یہ بھی اختیار چھین لیا جاتا ہے کہ وہ اپنے پسند کے مرد کو اپنا ہمسفر بنائے(من چاہا ہمسفر بنانا تو دور کی بات، ایسا سوچنا بھی بہت بڑا گناہ تصور کیا جاتا ہے۔) البتہ اس کے برعکس مردحضرات دنیا کے کسی بھی کونے سے اپنی من پسند عورت کا انتخاب بآسانی کر سکتا ہے، کیونکہ وہ مرد جو ٹھہرا۔ اسی لحاظ سے اسے ٹوکنے والا بھی کوئی نہیں۔ اسے ہر اس چیز پر اختیار حاصل ہے جو عورتوں کی دسترس سے باہر ہے۔ جبکہ ایک عورت کی زندگی کا فیصلہ بھی ان کا اپنا نہیں ہوتا۔

کبھی کبھار تو عورت کی زندگی کا فیصلہ یوں بھی ہوتا ہے کہ اسے کنویں میں دھکیل کے یہ کہا جاتا ہے کہ یہی تمہاری قسمت میں تھا۔ لڑکیوں کو رخصت کرتے وقت ہی تاکیدکی جاتی ہے کہ: ”جس گھر میں تمہاری ڈولی جا رہی ہے اسی گھر سے تمہارا جنازہ عزت کے ساتھ نکلنا چاہیے۔“(یعنی: ایک عورت کو اپنا باعزت جنازہ نکلوانے کی خاطر پوری زندگی ایک مرد کا ہر تشدد برداشت کرنا پڑتا ہے) ”اور وہاں سب برداشت کرنا، اگر ایک تھپڑ پڑے تو دوسرا کھانے کے لئے خود کو پیش کرنا، مگر اپنی اور ماں باپ کی عزت بچانے کے لئے کبھی اُف تک نہ کرنا۔ کیونکہ اب جو بھی ہے تمہاری قسمت میں یہی کچھ لکھا جا چکا ہے۔“ اور مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اپنے رشتے کو بچانے کی خاطر ہر ظلم و جبر چپ چاپ برداشت کرنا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ کونسے رشتے کو بچانے کے لئے؟ غلام و آقا، محکوم وحاکم، یا مظلوم و ظالم والے رشتے کو بچانے کے لئے عورت سب کچھ برداشت کرے۔

کسی درد مند انسان کا قول ہے کہ: ”اگر مرد عورت پر چلا سکتا ہے، تو عورت کو بھی کم از کم آہ بھرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔“ لیکن اسے کھل کے رونے کی آزادی بھی تو حاصل نہیں، کیونکہ وہ محکوم و مظلوم عورت جو ٹھہری۔ اسے تو بس برداشت کرنا ہے اور رونے کے لئے بھی بند کمرے کا انتخاب کرنا ہے۔ یہ ہے ہماری سماجی نفسیات، کہ عورت کو ہمیشہ نچلے درجے کا انسان تصور کیاجاتا ہے۔ بچپن سے شادی تک وہ باپ اور بھائیوں کی تابعداری میں گزارتی ہے اور شادی سے موت تک شوہر اور بیٹوں کی غلامی اس کے مقدر میں لکھی جاتی ہے۔

ہم نے ہمارے معاشرے میں کچھ گھٹیا ذہن کے مالک مردوں کو یہاں تک بولتے سنا ہے کہ عورت کی مثال حقیر ٹشو پیپر کی سی ہے جسے جب چاہے استعمال کر کے پھینک دیا۔ ذاتی ملکیت کا یہ تصور عورت کومحض شے بنا دیتی ہے جو پوری زندگی مردانہ اجاری داری کے شکنجے میں پھنسی رہتی ہے۔
سماج نے عورت کو ہر رشتے اور روپ میں مردوں پر انحصار کرنے والی ایک شے بنایا ہے۔
بیٹی ہے، تو باپ پہ انحصار کرتی ہے۔
ماں ہے، تو بیٹے پہ انحصار کرتی ہے۔
بہن ہے، تو بھائی پہ انحصار کرتی ہے۔
بیوی ہے، تو شوہر پہ انحصار کرتی ہے۔

درج بالا سماجی روش و رویوں سے عورت کی نفسیات ایسی تشکیل پائی ہے کہ اب اسے خود کسی مرد کا سہارا لے کر وہ عمل کرنا پڑتا ہے، جو کہ وہ خود اکیلی بھی کر سکتی ہے۔ بنیادی طور پر عورت انسانی آزادی اور تجربے سے محروم ہے اور یہ محرومی سماجی و معاشی اور کئی طرح کی ہیں۔

ماضی کا ایک مشہور واقعہ ہے کہ ایک عورت کو چھٹی بیٹی جنم دیتے ہوئے یہ کہا گیا کہ تم نے اس بار پھر سے ایک منحوس کو جنم دیا ہے۔ یہ سنتے ہی وہ عورت انتقال کر جاتی ہے کہ آخر اس نے ایسا کیا جنم دیا ہے جسے منحوس کہا جا رہا ہے؟

یہ ہے ہمارے معاشرے کا سفاکانہ چہرہ جس میں عورت کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ جہاں کسی عورت کے لئے بیٹی جننا ایک طعنہ بن جاتا ہے اور لڑکی کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس طرح کا منحوس پیدا کرنا اتنا ہی آسان ہے تو آج یہ چیلنج ہے کہ تم پیدا کر کے دکھاؤ۔
کسی نے اسے پیر کی جوتی سمجھا، تو کسی نے گھر کی باندی۔ یہاں تک کہ کسی نے اسے انسان تک نہیں سمجھا، اور اگر کچھ سمجھا بھی ہے تو فقط چاردیواری میں سجاوٹ کی کسی چیز سے زیادہ نہیں۔

آج تک اگر عورت قتل ہوئی تو صرف غیرت کے نام پر ہوئی ہے۔ کیا غیرت یہی ہے کہ تم عورت کو مارتے، پیٹتے اور قتل کرتے رہو؟ ایسا اس لئے ہے کہ عورت قتل ہوئی تو کوئی پوچھنے والا نہیں؟ قانون کا دروازہ کھٹکھٹاؤ تو آواز آتی ہے، یہ تو ذاتی مسئلہ ہے ہم کوئی دخل نہیں دے سکتے۔ اصل میں قانون کے رکھوالے بھی تو وہی غیرت مند مرد ہی ہوتے ہیں۔ ان میں بھی اتنی ہی غیرت ہوتی ہے جتنی اس قاتل میں۔ وہ صرف اپنی غیرت کا رکھوالا ہے وہ مرد انسانوں کا رکھوالا ہے لاچار عورتوں کا نہیں۔ ان کی نفسیات ایسی بنی ہے کہ انہوں نے کسی عورت کو کبھی انسان سمجھا ہی نہیں کہ وہ اس کی حفاظت کرتے۔

یہ ہے ہمارے سماج کا وہ گدلا عکس، جس نے عورت کو فقط بے قدر عورت ہی سمجھا ہے۔ کبھی اسے وہ اہمیت نہیں دی  جس کی وہ حقدار ہے، بلکہ سرزد ہر خطا میں خطاوار اسے ٹھہرایا جاتا ہے۔ بچے نے غلطی کی تو سزا اسے ملی، کھانا اچھا نہیں بنا تو اٹھا کر اسی کے منہ پر مار دیا۔ خاندان کے مردوں کی اجازت کے بغیر ایک قدم باہر نہیں نکالنا، کیونکہ تمہارے اس عمل سے ان کی غیرتیں جاگ جائیں گی۔

ہر گھر میں بیویوں کو یہ تاکید کی جاتی ہے کہ بیٹیوں کو اپنے ہی نقش قدم پر چلانا، انہیں بھی برداشت کرنا اور چپ رہنا سکھانا اور ہر ایک کو ہر قدم پر یہ یاد دلانا کہ تم ایک عورت ہو۔ اور ہاں؛ ہر بیٹے کو یہ سکھانا کہ وہ ایک طاقتور انسان ہے، وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ وہ اپنی ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کو مار بھی سکتا ہے، کیونکہ وہ ایک غیرت مند انسان ہے۔ عورت کو محض ایک کھلونا سمجھا جانا، یہ ہے ہمارے سماج کی گھناؤنی حقیقت جو صدیوں سے چلی آ رہی ہے۔

آخر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ بحیثیت مرد میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہمارے معاشرے کی خواتین پر مسلط جبر(جس کا ذکر تحریر میں بار بار کرتا رہا ہوں) کے پیچھے کئی اسباب موجود ہیں۔ خواتین جبر کی بہت ساری پرتوں کے نیچے دبی ہوئی ہیں اور اس جبر کی طبقاتی اور قومی شکل بھی موجود ہے۔ یعنی: اگر آپ محنت کش طبقے کی عورت ہیں تو پھر استعماریت کی ان تمام شکلوں سے لبریشن یکساں ضروری ہے۔ لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ سب سے زیادہ جس جبر پہ ہماری قومی قیادت نے خاموشی اختیار کی ہے وہ خواتین پر خود مردوں کے ہاتھوں جبر کا شکار ہونا ہے۔ کمیونسٹ کہتے ہیں کہ: طبقاتی نظام کے خاتمے سے پدر شاہی کا خاتمہ ہوگا، جبکہ اس کے برعکس قوم پرست بضد ہیں کہ یہ آزادی کے بعد کا مسئلہ ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ Intersectional Politicsہی اس نظریاتی مسئلے کا حل ہے، جس میں عورت کے سوال اور نظریاتی مسئلے کا حل موجود ہے۔ جہاں عورت کے سوال اور پدر سری استحصالی نظام کی بات آ جائے، وہاں ہماری اوّلین ترجیح عورت کا سوال ہونا چاہیے۔

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی کا تعلق ضلع چاغی سے ہے۔ پیشے کے لحاظ سے بینکر ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ "تاریخ چاغی " کے نام سے ان کی نئی کتاب جلد شائع ہونے والی ہے۔ ان کی تحریریں جنگ اخبار میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *