دوہرا معیار ۔۔۔ راحیلہ بتول

*
یہی کوئی چند ہفتے قبل لاہور کے ایک مینٹل ہسپتال کے اندر واقعہ چرچ کی ویڈیو سوشل میڈیا پہ وائرل ہوئی جس میں چند مسلمان نرسوں نے چرچ کو یرغمال بنا کر وہاں ایک محفل میلاد منعقد کی۔ ویڈیو میں تمام مسلمان خواتین عشق رسول سے سرشار،زور زور سے نعت رسول مقبول پڑھتے اور اپنے کارنامے کی فلم بینی کرتے ہوئے دیکھی جا سکتیں ہیں۔جبکہ دوسرے کونے میں ڈری ،سہمی مسیحی نرسیں اپنی عبادت گاہ کی بے حرمتی کا تماشادیکھتی،نظر آرہیں ہیں۔بس ختم کیا!!؟
ارے کہاں!پکچر تو ابھی باقی ہے میرے دوست۔ویڈیو کو مزید دلچسپ بناتے ہوئے ہماری مسلمان بہنیں(خدانانخواستہ)مسیحی نرسوں کو اپنا مذہب تبدیل کرنے کی تبلیغ کم،دھمکی زیادہ دیتے ہوئے دیکھائی دیتی ہیں جسے قبول نہ کرنے کی صورت میں ان پر توہین رسالت کا پرچہ کروانے کی دھمکی بھی واضح الفاظ میں دی جاتی ہیں۔
خیر ویڈیو وائرل ہونے کے بعد ہر خاص و عام نے اپنے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور یوں اس مجموعی ردعمل نے بحثیت قوم ہمارے منافقانہ رویوں، دوغلے اصولوں اور دوہرے میعاروں پر سے پردہ ہٹا دیا۔مٹھی بھرلبرل طبقے کے علاوہ، کہ جنھوں نے اس عمل کی شدید تنقید کیں، باقی قوم تو ایسے چپ رہی جیسے انھیں کسی سانپ نے سونگھ لیا ہو۔نہ تو ٹوئٹیر پر کوئی ٹرینڈ چلا اور نہ ہی فیس بک پہ کوئی کہرام مچا.
مزید برآں یہی خاموشی حکام بالا پر بھی چھائی رہی۔ تمام نرسوں کے چہرے واضح طور پر نظر آنے کے باوجود نہ تو کوئی گرفتاری عمل میں آئی اور نہ ہی کوئی پوچھ گچھ ہوئی۔ مجھے کہہ لینے دیجیے، دل ہی دل میں سارے مسلمان بھائی اپنی بہنوں کی بہادری اور مذہب پروری کے قائل ہو گئے ہوں گے اسی لیے تو، کیا غلط ہوا؟ کہاں انسانی حقوق پامال ہوئے؟ کب اندھی تقلید اور ضعیف الاعتقادی ہمارے اعصاب پہ اتنا سوار ہوگئی کہ ہم صحیح اور غلط کی تمیز ہی بھول گئے ، کچھ پتہ نہیں چلا۔
انہونی تو تب ہوتی اگر دیگر واقعات کے برعکس یہ واقعہ ہمیں جھنجھوڑنے اور بیدار کرنے میں کامیاب ہو جاتا۔ مگر افسوس ہماری بے حسی نے ایک بار پھر پاکستان کی ساکھ پوری دنیا میں خراب کر دی ۔ہمیشہ کی طرح اس پروپگینڈے کو ہوا دینے میں ہمارے روایتی حریف بھارت نے بھی کوئی کسر نہ اٹھا رکھی جو خود مذہبی عدم برداشت اور انتہا پسندی میں کوئی ثانی نہیں رکھتا۔الغرض رحمتہ اللعالمین کی امت انسانیت کے لیے سراپا زحمت اور ملک کے لیے شرمندگی اور ندامت کا ساماں ہو گئی۔
 
اب دل تھام کے دیکھیےتصویر کا دوسرا رخ ، جہاں مسجد اقصی یعنی قبیلہ اول میں اسرائیلی فورسز نے روزہ داروں اور نمازیوں پہ براہ راست کاروائی کیں جس میں لگ بھگ 300 نمازی زخمی ہوئے جن میں بچے ، بوڑھے اور عورتیں بھی شامل ہیں۔اس حملے کے بعد فلسطینی حکام اور اسرائیلی فورسز کے درمیان پہلے سے چلے درشت حالات مزید کشیدہ ہوگئے اور تابڑ توڑ حملوں میں کئی فلسطینوں کی شہادت کی بھی اطلاعات ہیں۔
یقینا اس دلخراش واقعہ کی جتنی سخت الفاظ میں مذمت کی جائے کم ہے۔دنیا کا کوئی مذہب، کوئی دھرم ایسے نہتے اور مظلوم لوگوں پر ظلم کا درس نہیں دیتا۔ پرمذہب اور اخلاقیات سے ماوارہ، یہودیوں کے اس مکروہ فعل نےایک بار پھر انکے تمام مذموم اور ناپاک مقاصد کو پوری دنیا پہ تو آشکار کر دیا ہے۔ مگر طاقت کے سر چشمے اب بھی اندھے ،گونگے اور بہرے بنے بیٹھے ہیں۔او آئی سی بھی بے بس گھوڑے کی مانندبس یہاں وہاں دم ہلا رہی ہے۔
حیرت انگیز طور پر اس سارے تنازعے میں ہمارےپاکستانی مسلمانوں کا ردعمل تو دیدنی تھا۔یہاں مسجد اقصی پر حملے کی ویڈیو وائرل ہونے کی دیر تھی کہ سارے سچے مسلمان غم و غصہ سے آگ بگولہ ہونے لگے ۔ قریب تھا کہ ایمان کا آتش فشاں پھٹ پڑتا اور یہ عاشقان رسول ہاتھوں میں ڈنڈے اور لاٹھیاں اٹھائے بیت المقدس کی طرف لانگ مارچ شروع کر دیتے۔ بس پھر کیا ، توڑ پھوڑ اور جلاو گھیراو سے اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بج جانی تھی۔
دراصل معاملہ یہ ہے کہ اپنا کیا ہوا تو ہم پاکستانی بہت جلدی بھول جاتے ہیں۔ وہ ایک چرچ کے اندرزبردستی گھس کر،اسکی حرمت اور تقدس کو پاوں تلے کچل کر،تمام مسیحی بھائیوں کی دل آزادی کر کر، جو تمغہ سینوں پہ سجایا تھا، اسے توہم کسی خاطر میں نہیں لاتے۔ پر جو یہودیوں نے کیا وہ تو انتہائی درد ناک اور ناقابل معافی جرم ہے۔اب چونکہ ہم مسلمان ہیں، تو ہمارا غلط بھی باجواز اور صحیح پریہودیوں کا ہرفعل عین غلط۔
لیکن اگر غیر جانبدار ہو کر، انسانیت کے تمام رموز و اوقاف کو ملحوظ خاطر رکھ کر سوچا جائے تو دونوں عمل میں کوئی خاص فرق نہیں تھا۔ دونوں نے ایک عبادت گاہ کے اندر گھس کر اسکی توہین کی۔ پر حسب توفیق چاہے ربڑ چڑی اسٹیل کی گولیوں سے مارے جائیں یا توہین رسالت کے قانون سے ،بات تو ایک ہی ہے۔

راحیلہ بتول

راحیلہ بتول شعبے کے لحاظ سے ایک بینکر ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *