پیار کسے کہتے ہیں؟ ۔۔۔ نواز خان سنجرانی

پیار ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے مطلب مفہوم کی طرح خود بھی بہت خوبصورت ہے یہ ایک مقدس ترین احساس کا نام ہے۔  میں اپنے سن شعور سے لے کر آج تک اس بارے میں سوچتاسمجھتا رہا۔  ہمیں ایک اسوہ کمال عطاء کیا گیا اور ہمارے لیے لازم ٹھہرا کہ ہم اپنے تمام افکار و نظریات ان کی ذات پاک سے حاصل کریں۔  مگر ہم نے اس مرکز سے انحراف کیا اور اپنی زندگی کی اقدارغیروں سے سیکھنا شروع کردیں۔  دنیا کی اس گلوبل ولیج ٹیکنالوجی نے ہمارا تشخص تباہ کردیا مگر قصور ٹیکنالوجی کا نہیں ہماری اپنی غربت فکر کا ہے۔  ہمارے معاشرے میں پیار جیسے مقدس جذبے کی بڑی ناقدری اور توہین کی جاچکی ہے۔ اس کا مطلب اور مہفوم یکسر بدل گیا ہے۔  کیونکہ ہم نے پیار یا محبت جیسے جذبات کا مفہوم ٹی وی، سوشل میڈیا  اور دیگر ذرائع ابلاغ سے اخذ کیا ہے، جو تمام تر فساد کی جڑ ہے۔ کیونکہ ان کی سوچ مادیت سے شروع ہوکر مادیت پر ختم ہوجاتی ہے۔ پیار مکمل طور پر ایک الہامی جذبہ ہے۔ اگر کوئی کسی سے سچا پیار کرتا ہو وہ جو بھی کام کرے گا اسلام کے پاکیزہ دائرہ کار میں رہ کر کرے گا۔ وہ سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم  پر عمل کرے گا۔  نکاح جیسا خوبصورت اور پاکیزہ رشتہ قائم کرے گا جس سے وہ دونوں اللہ پاک کی رحمت اور فضل کے حقدار بنیں گے-

جو کسی سے سچا پیار کرتا ہے وہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا-

تصوف کی کتابیں سے مجھے ایک حکایت ملی کہ ایک شخص نے ایک خوبصورت عورت کو دیکھا تو اس کے پیچھے چل پڑا۔ اس عورت نے پوچھا کہ میرا پیچھا کیوں کررہے ہو تو اس شخص نے کہا کہ مجھے تم سے پیار ہوگیا ہے۔  عورت نے کہا کہ پیچھے میری بہن آرہی ہیں وہ مجھ سے زیادہ خوبصورت ہے۔  اس شخص نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا اس عورت  نے اس شخص  پر لعنت بھیجی اور کہا تم پیار کرنے والے نہیں بلکہ اپنے خواہش کے پجاری ہو۔  اولیاء کے مطابق اگر وہ سچا پیار کرنے والا ہوتا تو اس  سے ہزار درجے خوبصورت اور  خوب سیرت عورت کی طرف بھی آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتا۔

پسند کی شادی یا لو میرج کو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ اسلام کی تاریخ  میں پہلی لو میرج تو سیدہ طیبہ طاہرہ خدیجہ سلام اللہ علیہا نے کی تھی انہوں نے ہمارے آقا صلی علیہ والہ وسلم کو انکے اعلی کردار اور اخلاق کی بنیاد پر پسند فرمایا اور نکاح کا پیغام بھجوادیا ۔

لوگ کہتے ہیں کہ مرد عورت کو پیار دیتا ہے لیکن عزت نہیں ۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا کیونکہ پیار اس وقت ہوسکتا ہے جب آپ کے دل میں کسی کے لیے بے پناہ عزت واحترام ہو۔  پیار اور عزت دونوں لازم و ملزوم ہیں۔  پیار اور عزت کا رشتہ روح اور جسم جیسا ہے۔  پیار ایک خوبصورت جسم ہے اور عزت اسکی روح ہے عزت کے  بغیر پیار ایک مردہ جسم ہی ہوتا ہے جس کو جلد از جلد دفن کردینا ہی بہتر ہے۔  پیار تو نام ہی ہے بے انتہا ادب اور عزت کا۔جہاں پیار ہوتا ہے وہاں لامحدود عزت و تکریم ہوتی ہے۔  اگر سچا پیار ہو انسان دوسرے انسان کو تمام تر خامیوں اور کوتاہیوں سمیت قبول کرتا ہے۔  کیونکہ سچا پیار ذات سے ہوتا ہے۔  انسان اگر کوتاہیوں سے پاک ہوجائے تو فرشتہ نہ بن جائے!؟ ۔

میں صرف سوچ اور نظریے کی بات کررہا ہو ں۔ اگر کوئی کسی سے سچا پیار کرتا ہے تو بس اس کی نیت صاف اور طبیعت کے اندر خلوص ہونا چاہیے۔  مگر پیار میں صبر کرنا سب سے اہم چیز ہوتی ہے۔  وہ بھی حد سے زیادہ اور اسی صبر میں پیار کی خوبصورتی ہے.

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی کا تعلق ضلع چاغی سے ہے۔ پیشے کے لحاظ سے بینکر ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ "تاریخ چاغی " کے نام سے ان کی نئی کتاب جلد شائع ہونے والی ہے۔ ان کی تحریریں جنگ اخبار میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *