ہزارہ قوم کا قبول اسلام اور شیعہ بننے کا عمل ۔۔۔ فدا گلزاری

حصہ اول
ہزارہ قوم کا قبول اسلام اور پھر شیعہ مکتب فکر میں داخلے کا عمل ایک ایسا سوال ہے جو ہزارہ تاریخ پر کام کرنے والے محققین کے لئے ہمیشہ سے متنازعہ رہا ہے۔ اگرچہ ان متنازعہ آراء کو لے کر ہم کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے قابل تو نہیں ہونگے مگر ان معلومات سے ہمیں یہ سمجھنے میں مدد ضرور ملے گی کہ ہزارہ کا قبول اسلام اور پھر شیعہ مذہب قبول کرنے کا عمل کسی ایک واقعے کی مرہون منت نہیں ہے بلکہ صدیوں پر محیط طویل سلسلہ اس کے پیچھے کار فرما رہا ہے۔
موجودہ افغانستان کے اطراف میں اگرچہ اسلام کے پھیلنے کا عمل ساتویں صدی میں شروع ہو چکا تھا تا ہم ہزارہ نشین علاقوں میں اس کے پھیلنے کے بارے میں متضاد شواہد ملتے ہیں۔ دراصل اس خطے میں مسلمانوں کی آمد کا سلسلہ عربوں کے ہاتھوں فارس کی ساسانی سلطنت کی شکست کے بعد شروع ہوتا ہے۔ یحیٰی بیضا کا کہنا ہے کہ چھ سو تنتالیس صدی عیسوی میں عربوں نے ساسانیوں کو شکست دینے کے بعد مشرق کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی مگر ان کو غوریوں کی طرف سے شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ عربوں کے مسلسل حملوں کے باعث بالاخر غوریوں کے لیڈر مہاوی سوری نے معتبرین کا ایک گروپ تشکیل دیا اور انہیں کوفہ بھیجا تا کہ مسلمانوں کے خلیفہ علی ابن ابی طالب (656 تا 661) سے ان کے مذہب کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ بیضا لکھتے ہیں کہ ان معتبرین نے علی ابن ابی طالب کے ہاتھوں اسلام قبول کیا اور اس طرح انہوں نے نہ صرف اپنی خودمختاری کو تحفظ فراہم کیا بلکہ ایک طرح سے خراسان میں علی ابن ابی طالب کی حمایت کا آغاز بھی ہوا۔
سید عسکر موسوی کے مطابق فارس اور خراسان میں اصل شیعہ اولاد علی تھے جنہیں سادات علوی یا عرف عام میں “سید” کہا جاتا ہے۔ بنو اُمیّہ اور بنو عباس کے خوف سے سادات علوی جان بچا کر بھاگتے پھر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ سادات علوی منگولوں سے کافی پہلے ہزارستان پہنچ چکے تھے۔ ان کی آمد کا سلسلہ غالباً امام رضا(شیعوں کے آٹھویں امام) کی طوس (موجودہ مشہد) میں موجودگی کے بعد شروع ہوا۔ امام رضا کو عباسی خلیفہ ہارون رشید نے طوس آنے کی دعوت دی تھی تا کہ انہیں اقتدار میں شریک کیا جا سکے۔ مگر ان کے وہاں پہنچتے ہی انہیں قتل کر دیا گیا جس کے باعث ان کے پیروکاروں کو جان بچا کر بھاگنا پڑا۔ اور غالباً یہی وہ موقع تھا جب سادات علوی یعنی سیدوں نے ہزارہ نشین علاقوں میں چھپ کر اپنی جان بچائی۔
بیضا اور موسوی کے برعکس کورین سیاح ہوئی چاو نے اپنے سفر نامے میں بامیان کی ایک الگ تصویر کشی کی ہے۔ ہوئی چاو نے آٹھ سو ستائیس میں بامیان کا دورہ کیا اور بتاتے ہیں کہ اس وقت بدھ ازم بامیان اور اس کے گرد و نواح میں اپنے عروج پر تھی اور ایک بدھسٹ بادشاہ وسیع اختیارات کا مالک تھا۔
مندرجہ بالا معلومات کی حقیقت کچھ بھی ہو مگر اس سے یہ بات اخذ کی جا سکتی ہے کہ بامیان میں موجود بند امیر کی تعمیر کا علی ابن ابی طالب سے منسوب کیا جانا ایک خیالی تصور ہے اور حقیقت یہ ہے کہ حضرت علی نے خراسان میں کبھی قدم رکھا ہی نہیں تھا۔
یونیسکو سے تعلق رکھنے والے محققین کے مطابق مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بنی اُمیّہ کے دور میں کئی بار غور کی سرحدوں تک پہنچا مگر یہ خطہ مسلمانوں کی دسترس سے محفوظ رہا۔ اگرچہ غور فارس سے زیادہ دور نہیں تھا اس کے باوجود اسلام اور اس کے ثقافتی اداروں کو غور پر مسلط ہونے کے لئے ایک لمبا عرصہ لگا۔ تقریباً دسویں صدی کے اواخر تک غور کی آبادی غیر مسلموں پر مشتمل تھی اور اسلام کی سرحدوں کے اندر سب سے بڑی غیر مسلم آبادی تھی۔ غالباً دسویں یا گیارہویں صدی میں کرامیہ کے نام سے سخت گیر سنیوں کی تحریک کا آغاز ہوا جس کا مرکز نیشا پور (ایران) میں تھا۔ اس تحریک نے غور کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس طرح غوریوں کا بادشاہ اس سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا۔ غوری بادشاہ نے پہلے شافی مگر بعد میں حنفی مکتب فکر کو اپنایا۔ خالد احمد نظامی رقمطراز ہیں کہ غوریوں کے قبول اسلام کی ہیّت کچھ اس طرح سے تھی کہ لوگوں کے نام اسلامی تھے مگر ان کی طرز زندگی غیر مسلموں جیسی تھی۔
غوریوں کے قبول اسلام کے بعد اسماعیلی شیعوں نے ان کی فوجی فتوحات میں بہت بڑا کردار ادا کیا۔ خراسان میں اسماعیلیوں کی ایک چھوٹی سی سلطنت (1009 تا 1215) تھی۔ بیضا کہتے ہیں کہ اسماعیلی شیعوں کا سب سے منظم گروہ تھا، جنہوں نے خراسان میں شیعہ ازم کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا۔ ہزارستان میں اسماعیلی تحریک کا سب سے پہلا مشن غیاث کی سرکردگی میں شروع ہوا۔ غیاث فارس کے شہر رے سے اس وقت فرار ہوا جب ایک سنی عالم نے عوام کو اس کے خلاف اُکسایا۔ غیاث نے جاتے وقت اپنی تمام ذمہ داریاں مشہور عالم دین اور فلسفی الرازی کے سپرد کردیں اور خود مرو (موجودہ بالا مرغاب) سے تبلیغ کے ایک نئے سلسلے کی شروعات کیں۔ غیاث نے خراسان کو اسماعیلیوں کا مضبوط گڑھ بنایا جب وہ المروازی کو اپنا پیروکار بنانے میں کامیاب ہوا۔ المروازی ایک طاقتور شخص تھا جس کے زیر تسلط میمنہ، غور، تالیقان، غرجستان اور ہرات جیسے علاقے آتے تھے۔ بیضا کے مطابق ہزارہ اور تاجک کا شمار ان گروہوں میں ہوتا ہے جنہوں نے سب سے پہلے اسماعیلی شیعوں کے نظریے کو قبول کیا۔
بوسورتھ تذکرہ کرتے ہیں کہ گیارہویں صدی کے پہلے عشرے میں سید شیعوں کا ایک چھوٹا سا گروہ خراسان میں موجود تھا۔ وہ بتاتے ہیں کہ اسماعیلیوں کے علاوہ شیعہ ایک غیر منظم اور منتشر فرقہ تھا۔ ان میں بارہ امامی جعفری شیعہ قدامت پرست تھے اور ان میں انقلاب لانے والی کوئی خصوصیات نہیں تھیں۔ ان میں ایسے رویے کا پایا جانا غالباً اس وقت کی سیاسی صورتحال تھی کیونکہ ان کے اطراف میں طاہری، سامانی اور غزنوی سلطنتیں تھیں جو کہ تمام سخت گیر سنی مکتب فکر سے تعلق رکھتی تھیں۔ بوسورتھ کے بقول فارسیوں نے اپنی شناخت اور قومی وقار کے تحفظ کی خاطر شیعہ ازم کو اپنا ہتھیار بنایا اور لوگوں کو شیعہ مذہب اختیار کرنے کے لئے ہر ممکن کوششیں شروع کیں۔ ان میں کچھ ایسے شیعہ بھی تھے جو معتدل تھے اور سنی حکمرانوں کے ماتحت رہ کر سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لیتے تھے۔ سلطان محمود غزنوی کے دربار میں سید شیعہ بھی تھے جن سے محمود غزنوی سفارتکاری کا کام لیتے تھے۔
کچھ تاریخ دانوں کا ماننا ہے کہ ہزارہ نے شیعہ مذہب فارس کے لوگوں کی وجہ سے قبول کی اور صفوی بادشاہ شاہ عباس نے اس سلسلے میں اہم کردار ادا کیا۔ جبکہ کچھ سمجھتے ہیں کہ صفوی سلطنت کے بانی شاہ اسماعیل (1501 تا 1524) نے ہزارہ کو شیعہ مذہب قبول کروایا۔ تیمور خانوف البتہ اس نظریے سے متفق نظر نہیں آتے اور عرض کرتے ہیں کہ صفوی سلطنت کے وجود میں آنے سے پہلے ہی ہزارہ شیعہ مذہب قبول کر چکے تھے۔ ہزارہ اس وقت خود مختار تھے اور کسی کے ماتحت نہیں تھے۔ تاریخ میں ہزارہ اور صفویوں کے غیر دوستانہ مراسم کی معلومات نہیں ملتیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ دونوں اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے تھے۔
فدا گلزاری

فدا گلزاری

فدا گلزاری ایک ریسرچر اور کتاب The Harazas کے مصنف ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *