قسمت ۔۔۔ عارف چنگیزی

قسمت کیا ہوتی ہے؟ اس سوال کا جواب پیچیدہ ہے۔ پیچیدہ اس لئے کیونکہ اس سے متعلق لوگوں کی رائے مختلف ہوتی ہے۔ دنیا میں دو قسم کے لوگ موجود ہیں۔ ایک وہ جو ہمیشہ قسمت کے منتظر رہتے ہیں کہ کب قسمت آکر ان کی زندگی آسان کردے ، ان کی مشکلات ختم کردے یا ان کے مسائل حل کردے۔ اور دوسرے وہ لوگ جو اپنی زندگی خود آسان بناتے ہیں ، اپنی مشکلات اپنی قوت بازو سے کم کرتے ہیں اور اپنے مسائل عقلمندانہ انداز میں حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
دنیا میں پہلے قسم کے لوگ زیادہ پائے جاتے ہیں۔ وہ ہر چیز کو قسمت کا دیا ہوا سمجھتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس اچھی نوکری ہے ، اچھا بنگلہ یا اچھی گاڑی ہے تو اسے اس کی قسمت سمجھتے ہیں۔ وہ اس کے پیچھے اس کی محنت اور کاوشوں کو بالکل نظر انداز کردیتے ہیں کیونکہ وہ قسمت کو محنت پر زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں اگر قسمت اس کا ساتھ نہ دے تو وہ اچھی نوکری حاصل نہیں کرسکتا، نہ ہی اچھی گاڑی یا بنگلہ خرید سکتا ہے۔ قسمت اس کے ساتھ ہے اسی لئے وہ ان سب چیزوں کا مالک بنا ہے۔
خصوصا” شادی بیاہ میں لوگ قسمت کا رونا زیادہ روتے ہیں۔ حالانکہ رشتہ طے کرنے سے پہلے استخارہ بھی کرتے ہیں۔ پھر بھی قسمت کو کوستے ہیں کہ ہماری قسمت میں ایسی بہو یا داماد لکھا تھا۔ حالانکہ استخارے میں مولوی یہاں تک کہہ دیتا ہے کہ ان کی جوڑی بی بی حواء اور حضرت آدم جیسی ہے مگر پھر بھی دو تین مہینے بعد دونوں میں طلاق ہوگئی۔ طلاق کے بعد کہتے ہیں قسمت میں یہی لکھا تھا۔ حالانکہ معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا ٹھنڈے دماغ سے حل ہوسکتا ہے مگر نہیں کرتے کیونکہ ان کے دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی ہے کہ یہی ہماری قسمت ہے۔
ایسی لڑکیاں بھی ہیں جن کیلئے رشتے آتے ہیں تو وہ یہ کہہ انکار کردیتی ہیں کہ “لڑکے کی شکل اچھی نہیں ، اس کے پاس اچھی نوکری نہیں، اس کا گھر کچا ہے، اس کا کاروبار اچھا نہیں، صرف ایک پرائیوٹ اسکول ٹیچر ہے ، وہ رکشہ ڈرائیور ہے یا وہ نمازی نہیں ” بھلے ہی لڑکے میں ہزاروں خوبیاں کیوں نہ ہوں مگر وہ اس کی اچھائیوں کو نظر انداز کرکے اور اس کی شخصیت میں کوئی ایک برائی نکال کر اس سے رشتہ بنانے سے انکار کردیتی ہیں اور مستقبل میں جب ان کے سوچ کے مطابق شوہر نہ ملے یا کوئی ایسا شوہر ملے جس میں ہزار برائیاں اور ایک خوبی ہو تو کہتے ہیں یہی ہماری قسمت میں لکھا تھا۔
بہت سے والدین ابھی تک یہ قبول کرنے پر آمادہ نہیں کہ ان کی بیٹی بھی کسی کو پسند کرسکتی ہے۔ حالانکہ پسند کرکے شرعی انداز میں نئی زندگی شروع کرنے میں حرج ہی کیا ہے؟ ایسے ہی ایک واقعہ میں ایک لڑکی نے ایک لڑکا پسند کیا۔ دونوں کچھ دنوں تک آپس میں باتیں کرتے رہے۔ جب ایک دوسرے کو کافی حد تک سمجھنے لگے تب لڑکے نے رشتہ کیلئے اپنے والدین کو لڑکی کے گھر بھیجا، جس پر پہلے تو لڑکی کے گھر والوں نے یہ کہہ کر لڑکی کو خوب ڈانٹا کہ تمہاری یہ ہمت کہ تم نے خود ہی اپنے لئے لڑکا پسند کرلیا! پھر لڑکے کے بارے میں معلومات کرنے پر جب اس کی کوئی اور برائی سامنے نہ آئی تو اس بات پر اسے اپنی بیٹی دینے سے انکار کردیا کہ وہ پرچون کی دکان چلاتا ہے اور اس کے پاس اچھی نوکری نہیں۔ ایک سال بعد اس لڑکی کی شادی کسی اور لڑکے سے کروائی گئی جس کے پاس اچھی نوکری تھی۔ شادی کے ایک سال بعد لڑکی نے پھر اس لڑکے کو فون کرکے بتایا کہ میرے شوہر اور اس کے گھر والے مجھے بات بات پر مارتے ہیں میں عنقریب طلاق لےلونگی، جس پر اس لڑکے نے کہا اس میں، میں کیا کرسکتا ہوں!؟ تم نے اور تمہارے والدین نے تمہاری قسمت اسی طرح بنائی ہے۔
ہر کوئی اپنی کامیابی یا ناکامی کا خود ذمہ دار ہے۔ اگر کوئی کامیاب ہے تو وہ قسمت کی وجہ سے نہیں اور اگر کوئی ناکام ہے تو بھی اس کی وجہ اس کی قسمت نہیں بلکہ یہ سب اس کی اپنی عقل، سوچ اور فیصلوں کی وجہ سے ہے۔ جو لوگ صحیح وقت میں عقل کا استعمال کرکے صحیح فیصلہ کرتے ہیں وہ کامیاب ہوجاتے ہیں، ورنہ ناکام رہتے ہیں۔ چاہے مقصد نوکری کا حصول ہو، گاڑی یا بنگلہ خریدنا ہو یا پھر رشتہ بنانا۔ ان سب باتوں کا انحصار قسمت پر نہیں بلکہ صحیح فیصلوں پر ہوتا ہے۔۔

عارف چنگیزی

عارف چنگیزی

قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے فارغ التحصیل عارف چنگیزی گزشتہ کئی سالوں سے درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *