اسمارٹ پی ایم آن لائن ۔۔۔۔ سجاد عاصم

اینکر: ہیلو

گل خان: ہیلو

اسمارٹ پی ایم: ہیلو

گل خان: آپکی دو آوازیں کیوں ہیں؟

اینکر: کونسی دو آوازیں؟

گل خان: آپ کون ہو؟ میں نے اسمارٹ پی ایم صاحب کو فون کیا ہے۔

اسمارٹ پی ایم: میں اسمارٹ پی ایم ہی بول رہا ہوں۔

اینکر: جی یہ اسمارٹ پی ایم بات کر رہے ہیں۔ بتائیے آپ کو ان سے کیا کام ہے؟

گل خان: کیوں پی ایم صاحب سے ڈائیریکٹ بات نہیں ہو سکتی کہ آپ پیغام پہنچا رہے ہو؟

اسمارٹ پی ایم: ہوسکتی ہے۔ آپ گھبرائیں نہیں۔ ہم نے آپ جیسے عام لوگوں کیلئے یہ انقلابی سلسلہ شروع کیا ہے۔ بتائیں آپ کو کیا کہنا ہے؟

گل خان: پہلی بات تو یہ ہے کہ میرے خیال میں اس انقلابی سلسلے کو آگے بڑھانے کیلئے آپ کو اس اینکر کی ضرورت ہی نہیں۔ خوامخواہ کی تنخواہ لے رہا ہے۔

اسمارٹ پی ایم: ٹھیک ہے میں اس بات کا نوٹس لے رہا ہوں۔ ہم اس معاملے کو سلجھانے کیلیئے 11 افراد پر مشتمل ایک کمیشن بنائیں گے، انشااللہ یہ مسئلہ خوش اسلوبی سے حل ہوگا۔ اور اس میں کسی قسم کی کرپشن کی اجازت نہیں ہوگی۔

گل خان: ہے؟ نوٹس لینگے؟ پھر تو رہنے دے، اینکر بھائی آپ اپنا کام کرتے رہیئے۔۔

اینکر: ہاہاہاہا! اب بتاو گل خان آپ نے فون کیوں کیا تھا؟

گل خان: اینکر بھائی اور پی ایم صاحب! جس دن سے ہماری بجلی کا بل آیا ہے اس دن سے ہماری راتوں کی نیند حرام ہو گئی ہے۔

اسمارٹ پی ایم: مجھے لگتا ہے یہ کوئی خطرناک بیماری ہے۔ آپ فکر نہ کریں، اپنا علاج کرائیں۔ اب تو ہم نے صحت کارڈ بھی ایشو کر دیا ہے جس سے آپ 8 لاکھ تک کی بیماری کا علاج مفت کرا سکتے ہو۔ (اینکر سے) اسے جلد از جلد صحت کارڈ مہیا کرنے کا انتظام کرو۔

گل خان: نہیں میرے کہنے کا مطلب ہے۔۔۔۔

اینکر: اسمارٹ پی ایم کے کہنے کا مطلب ہے۔۔۔۔

گل خان: بھائی میں سمجھ گیا، آپ نہیں سمجھیں میری بات۔ میں کہ رہا تھا کہ میری بجلی کا بل 20 ہزار آیا ہے۔ میں غریب آدمی کیسے دونگا اتنے پیسے؟

اسمارٹ پی ایم: دیکھیں، بجلی کی جو صورتحال ہے وہ تو سب کو پتہ ہے۔ پچھلی حکومتوں نے بجلی چوری کر کر کے بجلی کی مصنوعی قلت پیدا کی ہے۔ جس کی وجہ سے ہمیں بجلی مہنگی مل رہی ہے۔ آپ فکر نہ کریں، NAB اس چوری کو بے نقاب کرنے والی ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے 50 لاکھ ڈالر ایک برٹش کمپنی کو بھی دیئے ہیں تاکہ وہ پتہ لگا سکے کہ بجلی کی یہ چوری کیسے ہوئی ہے۔ انشااللہ بہت جلد پتہ چل جائیگا، کسی کو NRO نہیں ملے گا۔

گل خان: ہیں؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا آپ کیا کہہ رہے ہو؟

اینکر: اسمارٹ پی ایم کے کہنے کا مطلب ہے ۔۔۔۔۔

گل خان: اینکر بھائی خدا کیلئے آپ تھوڑی دیر خاموش بیٹھیں۔ پی ایم صاحب میں کہنا چاہ رہا تھا کہ کیا یہ ممکن نہیں کہ بجلی سستی ہو؟ جس دن سے آپ پی ایم بنے ہیں بجلی روز بروز مہنگی ہوتی جا رہی ہے۔

اسمارٹ پی ایم: دیکھیں، پچھلی حکومتوں نے IMF اور ورلڈ بینک سے جی بھر بھر کے قرضے لیئے ہیں اور اگر اس سے پہلے کی بات کریں تو معلوم ہوگا کہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے کیسے برصغیر کے عالم اسلام کو لوٹا۔ اس سے ہماری دل شکنی بھی ہوئی لیکن مغربی ممالک کو ہماری دل شکنی کا کبھی احساس بھی نہیں ہوا۔ ہم اس تکلیف کی آواز بن کر پوری دنیا میں گونجیں گے۔ سب کو اسکا احساس دلائیں گے۔

اینکر: (اسمارٹ پی ایم سے)، پی ایم صاحب عالم اسلام کو آپ پر فخر ہے۔ آپ کے بارے میں علامہ اقبال نے ایک شعر کہا تھا کہ۔۔۔

گل خان: ہیلو، میری بات کا تو آپ نے جواب ہی نہیں دیا۔ اچھا چھوڑیں سستی بجلی کو۔ اسمارٹ پی ایم صاحب کیا آپ میرے اس مہینے کی بل ادا کردیں گے، اگلے مہینے سے میں بجلی کا استعمال بالکل کم کر دونگا۔

اسمارٹ پی ایم: ہم جس مشکل وقت سے گزر رہے ہیں، بل تو آپ کو ہر صورت دینا پڑے گا۔ اگر آپ کو مالی مسائل درپیش ہیں تو آپ ہمارے ‘کامیاب نوجوان’ جیسے اسکیم سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

گل خان: نہیں اٹھا سکتا، میری عمر پچاس سال ہے۔

اسمارٹ پی ایم: اچھا کوئی بات نہیں۔ آپ جیسے لوگوں کیلئے ہم ‘ناکام بوڑھے’ کے نام سے ایک اسکیم شروع کریں گے۔ (اینکر سے) اسکیم کا نام یاد رکھنا اور مشیروں کو بتا دینا۔

اینکر: کیا وژن پایا ہے آپ نے سر! اسمارٹ پی ایم: وہ تو ہے۔ (گل خان سے) دیکھیں، ہم سے پہلے کرپٹ لیڈروں کے دور میں کوئی بھی بل دینے کو تیار نہیں تھا، بلکہ ہم نے خود اپنی ایک تقریر میں لوگوں کو منع کیا تھا بل جمع کرانے سے۔ لیکن وہ تو لٹیروں اور کرپٹوں کا دور تھا، اب ماشااللہ ایک نیک، ایماندار اور اسمارٹ لیڈر آپکا پی ایم ہے، جس سے آپکی روولنگ ایلیٹ بھی گھبرا گئی ہے۔

گل خان: لیکن روولنگ ایلیٹ کے سربراہ تو آپ خود ہیں۔ خیر چھوڑیں، بل بھی آپ نہ دیں، بس یہ بتائیں کہ بجلی کی لائن کٹوانے کا پروسیجر کیا ہے؟

اسمارٹ پی ایم: پروسیجر کا تو مجھے علم نہیں، میں اپنے قابل مشاوروں سے پتہ کرا لونگا لیکن لائن آپ نہیں کاٹ سکتے کیونکہ اس لائن کو بچھانے کیلئے ہم نے کافی محنت کی ہے، ہم سے پہلے کرپٹ حکمرانوں نے۔۔۔ ٹوٹ ۔۔۔ ٹوٹ ۔۔۔ ٹوٹ ۔۔

اینکر: میرے خیال میں گل خان سے ہمارا رابطہ منقطہ ہوگیا۔ اب بڑھتے ہیں اپنے اگلے کالر کی طرف۔۔۔ جی ہیلو۔۔۔

سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *