مسافر … نواز خان سنجرانی

جب ہم اپنے ماں باپ کی زندگی میں آئے تو سب نے بڑی خوشیاں منائیں ۔ کسی نے تحفے دئیے تو کسی نے مٹھائیاں بانٹیں۔ ہماری زندگی کا ایک ایک دن گنا جارہاتھا ۔ پھر زندگی کے دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدلتے گئے اور ہم نے بولنا اور چلنا بھی شروع کردیا ۔ تھوڑے بڑے ہوگئے تو سکول جانے لگے۔ قد بڑھتے بڑھتے امی اور ابو کے قد کےبرابر ہوگیا۔ ہم جوان ہوئے تو ہماری شادی ہوگئی ۔ پھرہم ماں باپ بن گئے اور ہمارے والدین دادا دادی اور نانا نانی ۔
یوں زندگی کا سفر طے ہوتا گیا۔ ہم جوان ہوتے گئے اور ہمارے والدین بوڑھے اور ان کا جسم جھکنے لگا ۔ وہ بیمار ہونے لگے اور پھر وہ ہمیں چھوڑ کر چلے گئے
اگلی باری ہماری ہے اور ایک دن ہم بھی یونہی اپنے بچوں کو چھوڑ کر چلے جائیں گے۔
گویا زندگی ایک سفر ہے اور ہم مسافر۔ کچھ دیر مسافر ساتھ ساتھ ہوتے ہیں پھر باری باری اپنی منزل کو پہنچتے جاتے ہیں۔ زندگی کا سفر چلتا رہتا ہے اور مسافر بدلتے رہتے ہیں۔ لیکن ہم نادانی میں سفر کوہی منزل سمجھ بیٹھتے ہیں۔
دیکھیے تو سہی!
ہم نے سفر کے دوران بڑے بڑے گھر بنائے ۔ جائیدادیں جمع کیں۔ سلطنت و اقتدار کے لئے ظلم کئے۔ لیکن ایک دن ان سب کو چھوڑ کر ہمیں چلے جانا ہے۔ ہماری مثال اس مسافر کی سی ہے جو دو دن سفر پر نکلے لیکن ساتھ سامان دو سال کا باندھ لے۔ زندگی کی ناپائیداری کو اللہ کے رسول ﷺ نے ایک بڑی خوبصورت نصیحت کے ساتھ سمجھا کر سمندر کو کوزے میں بند کر دیا۔
“کُن فی اُلدنیا کاَنک غریبُ اوعابرسبیل”
“دنیا میں ایسے رہو جیسے کہ اجنبی ہو یا ایک مسافر” (صحیح بخاری 6461)
بچپن جوانی ادھیڑ عمر اور بڑھاپا یہ سب سفر کے گزرتے اسٹیشن ہیں جو مسافر کو بتاتے رہتے ہیں کہ آخری اسٹیشن بس آنے ہی والا ہے۔ ان گذرتے اسٹیشنوں سے ہم یہ دھوکہ نہ کھائیں کہ ابھی بڑا سفر باقی ہے ۔ سفر بڑا قلیل ہے۔
بس زندگی ایک دھوکہ ہے۔  یہاں کوئی کسی کا نہیں ہے ہر کوئی کسی نہ کسی کو دھوکہ دے رہا ہے۔ پیار کے نام پہ دھوکہ، شادی کے نام پہ دھوکہ، کاروبار کے نام پر دھوکہ۔ یہاں سچے لوگ بہت ہی کم ملتے ہیں اور جو ملتے ہیں انکی قدر نہیں ہوتی۔ بہت کچھ کرنے کے بعد وہ سچے لوگ بھی دل برداشتہ ہو کر گوشہ نشین ہوتے ہیں۔
جو قلیل زاد راہ کے ساتھ منزل کے حصوں میں کوشاں رہے، جس کا حصول اللہ کی خالص بندگی اور رسول ﷺ کی مکمل اتباع میں ہے۔
نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی کا تعلق ضلع چاغی سے ہے۔ پیشے کے لحاظ سے بینکر ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ "تاریخ چاغی " کے نام سے ان کی نئی کتاب جلد شائع ہونے والی ہے۔ ان کی تحریریں جنگ اخبار میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *