دھرنے کی تاریخ اور ہزارہ کمیونٹی کے دھرنے … سجاد عاصم

دھرنا ایک قسم کا احتجاج ہے، جس میں احتجاج کرنے والے ایک جگہ بیٹھ جاتے ہیں اور کسی خاص مطالبے پر اصرار کرتے ہیں۔ عموما دھرنا دینے والوں کا احتجاج اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک انکا مطالبہ منظور نہیں کیا جاتا۔ دھرنے کا مطالبہ عموما عملی نوعیت کا ہوتا ہے، تاریخ میں اسکا استعمال اس مقصد کیلئے ہوتا رہا ہے کہ کسی خاص عمل کو روکا جائے یا اس کی جانب متعلقہ حکام کی توجہ مبذول کی جائے۔ اس کے علاوہ دھرنا دینے کی جگہ کا تعین بھی اہم ہوتا ہے، عموما ایسی جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جس سے روز مرہ کی زندگی میں کوئی خلل پڑے اور لوگوں اور حکام کی توجہ مبذول ہو۔
کیلیفورنیا یونیورسٹی میں سوشیالوجی کے پروفیسر ڈیوڈ میئر کے مطابق 1900 کی دہائی کے اوائل میں، انڈسٹریل ورکرز آف دی ورلڈ نامی ایک ٹریڈ یونین نے کاروبار بند رکھنے اور اپنے کارکنوں کی حفاظت اور مزدور یکجہتی کے اظہار کے لئے دھرنوں کا آغاز کیا۔ یونائیٹڈ آٹو ورکرز نے 1930 کی دہائی میں انڈسٹریل ورکرز آف دی ورلڈ کے دھرنوں سے رہنمائی لی اور بڑی فیکٹریوں کو کام روکنے پر مجبور کردیا۔ 1937 میں انکے دھرنے کی وجہ سے جنرل موٹرز کو انکے مطالبات ماننے پڑے۔ لیکن امریکہ میں جن دھرنوں کو تاریخی طور پر کافی اہمیت حاصل ہیں وہ گرینزبورو کے دھرنے ہیں۔
گرینزبورو کا پہلا دھرنا شہری حقوق کی پامالی کے خلاف احتجاج تھا جو جنوری 1960 میں اسوقت شروع ہوا جب چار افریقی امریکی طلباء نے شمالی کیرولائنا کے شہر گرینزبورو میں وولورتھ کے ایک لنچ کاؤنٹر، جو صرف سفید فام امریکیوں کیلئے مختص تھا، پر دھرنا دیا تھا اور جب کاونٹر پر موجود ملازموں نے انہیں لنچ دینے سے انکار کیا تو وہ احتجاجی طور پر کاونٹر بند ہونے تک دھرنا دیکر بیٹھے رہے ۔ اگلے دن یہی چار دوست چند اور سیاہ فام امریکیوں کے ساتھ کاونٹر پر گئے اور دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ جلد ہی دھرنے نے ایک تحریک کی شکل اختیار کی جو ہر گزرتے دن کے ساتھ تمام جنوبی امریکی شہروں میں زور پکڑتی گئی۔ اگرچہ بہت سارے مظاہرین کوغلط سلوک کرنے یا امن کو خراب کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا، اور ان پر پولیس نے تشدد بھی کیا، لیکن ان کے اقدامات نے فوری اور دیرپا اثر ڈالا۔ مارچ کے آخر تک یہ تحریک 13 ریاستوں کے 55 شہروں میں پھیل چکی تھی اور کئی سفید فام امریکی بھی اس تحریک سے جڑ چکے تھے۔ اس تحریک کے اثر سے وولورتھ اور دیگر اداروں کو اپنی پالیسیاں تبدیل کرنی پڑیں۔
اگر امریکہ کے ان تاریخی دھرنوں پر غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ ان کے کامیاب ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کے عملی مقاصد یا مطالبات تھے۔ ان کے مطالبات بہت واضح اور ٹھوس نوعیت کے تھے۔ ان دھرنوں کی ایک اور خاص بات یہ تھی کہ یہ خالصتا سول تھے اور انہیں کسی مذہبی یا سیاسی پارٹی کی پشت پناہی حاصل نہیں تھی۔
اگر پاکستان میں دھرنوں کی تاریخ پر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ یہاں دو قسم کے دھرنے عام رہے ہیں۔ پہلی قسم کے دھرنوں میں مطالبات سیاسی اور مذہبی نوعیت کے رہے ہیں۔ سیاسی مطالبات میں عموما حکومت کو گرانے کی کوشش سر فہرست رہی ہے، اس قسم کے دھرنوں میں مذہبی جماعتیں بھی شریک ہوتی رہی ہیں۔ 2013، 2014 میں علامہ طاہرالقادری اور عمران خان کے 126 دن کے دھرنے اسی قسم کے دھرنوں کی مثالیں ہیں۔ اسکے علاوہ اس قسم کے دھرنوں میں مذہبی مطالبات بھی عام رہے ہیں، جیسے علامہ خادم رضوی کے 2017 اور 2020 کے دھرنے جو انتخابی فارم میں تبدیلی، توہین مذہب اور گستاخانہ خاکوں کے خلاف فیض آباد میں دیئے گئے۔
پاکستان میں دوسری قسم کے دھرنے سول مطالبات کے لیے ہوئے ہیں۔ اس قسم کے دھرنے عموما طالب علموں اور غیر سیاسی گروہوں نے شروع کیے ہیں۔ ان کی مثال ہمیں 1960 کی دہائی میں طالب علموں کے دھرنوں میں ملتی ہیں جو انہوں نے اپنے حقوق کے لیے شروع کیے۔ اسکے علاوہ پشتون تحفظ موومنٹ کا اسلام آباد میں دھرنا اور 2020 میں سرکاری ملازمین، خصوصا لیڈی ہیلتھ ورکرز کے اسلام آباد میں دھرنے، سب کے سب اپنی پیدائش کے وقت سول نوعیت کے دھرنے تھے۔ لیکن یہ دھرنے آگے چل کر کسی نہ کسی صورت سیاسی گروہوں اور مقاصد کی نظر ہوگئے۔ مثلا 1960 کے دھرنوں کو زوالفقارعلی بھٹو نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا، پشتون تحفظ موومنٹ، موومنٹ کے دو نمائندوں کے پارلیمنٹ میں آنے اور لروبر کے سیاسی نعروں کے بعد سول نہیں رہے، اور موجودہ سرکاری ملازمین کے دھرنے اگر جاری رہتے ہیں تو بعیدالقیاس نہیں کہ انہیں پی ڈی ایم کے نمائندے استعمال کر کے حکومت پر دباو ڈالیں۔ ان دھرنوں کا اسطرح سے اپنی بنیادی خاصیت کھو کر سیاسی پارٹیوں کے مطالبات کے رنگ میں ڈھل جانا کئی وجوہات کی بنا پر ہیں، لیکن جو وجہ سب سے زیادہ اہم ہے وہ پاکستانی عوام کا اپنے سول حقوق سے آگاہ نہ ہونا اور پاکستان میں سول سوسائٹی کا فعال نہ ہونا ہے۔
اب آتے ہیں پاکستان میں ہزارہ کمیونٹی کے دھرنوں کی طرف: کوئٹہ بلوچستان میں تقریبا 22 سال سے جاری ہزارہ برادری کی نسل کشی (جس میں تقریبا 3000 لوگ شہید اور زخمی ہوئے ہیں) کے خلاف کئی دھرنے دیئے گئے ہیں۔ (ان دھرنوں میں بھوک ہڑتالی کیمپ بھی شامل ہیں، لیکن ان پر اس مضمون میں بحث نہیں ہوگی کیونکہ انکی نوعیت اور تاریخ الگ ہے)۔ ہزارہ کمیونٹی کے دھرنوں میں نمایاں 2013 کے اوائل میں دیئے گئے دھرنے تھے۔ جب جنوری اور فروری میں علمدار روڑ اور ہزارہ ٹاون میں خطرناک دھماکوں کی وجہ سے تقریبا 226 لوگ شہید ہوئے تو لوگ شہداء کی لاشیں سامنے رکھ کر شدید سردی میں دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ لیکن جلد ہی دھرنوں کی رہنمائی مذہبی گروہ نے لے لی۔ دھرنے کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ بلوچستان کو صوبائی حکومت سے نجات دلائی جائے جو نہ صرف امن نافذکرنے میں ناکام ہوگئی تھی بلکہ لواحقین کی اشکبار آنکھوں کو تمسخر کا نشانہ بنا رہی تھی۔ مطالبہ مان لیا گیا اور بلوچستان میں گورنر راج قائم ہوا۔ لیکن ہزارہ نسل کشی جاری رہی۔
پاکستان میں دھرنوں کی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ دھرنوں کو سیاسی مقاصد کیلئے ہمیشہ استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہ سیاسی مقاصد فقط ملک کے اندر اسٹیک ہولڈرز کے نہیں تھے بلکہ بیرونی ممالک سے اسٹیک ہولڈرز کے مقاصد بھی ان میں شامل رہے ہیں۔ 2013 کے دھرنے بھی اس اثر سے نہیں بچ سکے اور دھرنوں کے بعد آشکار ہونے والے حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ دھرنے کو لیڈ کرنے والے مذہبی گروہ نے ان دھرنوں کو اپنے سیاسی عزائم کے لیے کیسے استعمال کیا۔ مثلا 2013 کے ان دھرنوں کے بعد مجلس وحدت المسلمین (MWM) کے بلوچستان ونگ کی بنیادیں مضبوط کی گئیں۔ جس نے جولائی 2013 کے الیکشن میں حصہ لیا اور بلوچستان سے صوبائی اسمبلی کی ایک سیٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی۔ اور2013 کے دھرنوں کے بارے میں پاکستان کے اسوقت کے وزیر داخلہ رحمان ملک نے اپنے ایک حالیہ مقالے میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ دھرنے کو ختم کرنے کیلئے وہ ایمرجنسی بنیادوں پر ایران گئے اور ایران کے سپریم لیڈر سمیت ایرانی صدر احمدی نژاد اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی، اور ان تینوں رہنماؤں سے استدعا کی کہ وہ پاکستان میں شیعہ لیڈرشپ سے بات کرکے انہیں دھرنا ختم کرنے پر راضی کریں۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ انہوں نے ان کی بات مان لی اور جب اگلے دن وہ پاکستان آئے تو کوئٹہ کا دورہ کیا جہاں انکی ملاقات دھرنا لیڈرشپ سے ہوئی جنھوں نے بعد میں دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا۔
اسکے علاوہ چند دھرنوں میں سینیئر ہزارہ سیاسی لیڈر طاہر خان ہزارہ کا کردار بھی بحث لائق ہے۔ اپریل 2019 میں ہزار گنجی کے واقعے کے بعد جس میں 10 ہزارہ سبزی فروش شہید ہوئے، طاہر خان ہزارہ مغربی بائی پاس پر دھرنا دیکر بیٹھ گئے۔ انکے مطالبات ٹھوس نوعیت کے نہیں تھے کیونکہ شاید ان کا مقصد کسی خاص مطالبے کا حصول نہیں تھا بلکہ وہ دھرنے کو استعمال کرکے اپنا سیاسی نظریہ پھیلانے میں زیادہ پرجوش نظر آئے۔ بقول ان کے
“ہزارہ برادری کا قتل عام ریاست کی اپنی کارستانی ہے، اور ریاست اور اس کے سیکیورٹی ادارے فقط ایک خاص طبقے کے مفادات کی حفاظت کرتے ہیں” اس لیے ان کو بے نقاب کرنا ہی دراصل ایک مقصد ہے، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنے سے سوشلسٹ انقلاب کی راہ ہموار ہوگی، اور تمام مسائل کا حل اسی نظام میں پوشیدہ ہے۔ باوجود اس نظریے کے انھوں نے 2018 کے انتخابات میں حصہ لیا اور صوبائی اسمبلی کی سیٹ جیتنے کی حتی الامکان کوشش کی۔
اس کے بعد جنوری 2021 میں مچھ میں 10 ہزارہ کانکنوں کو بیدردی سے گلا کاٹ کر شہید کیا گیا جس کے بعد MWM نے مغربی بائی پاس پر دھرنا دیا۔ دھرنے کو موثر بنانے کیلئے شہدا کی لاشوں کو بھی دھرنے کی جگہ منتقل کیا گیا اور 6 دن تک لوگ دھرنا دیتے رہے۔ دھرنے کے مطالبات پہلے دن سے طے شدہ نہیں تھے اور آہستہ آہستہ سامنے آنے لگے۔ دھرنے کا سب سے اہم مطالبہ یہ تھا کہ وزیراعظم عمران خان دھرنا دینے والوں کے پاس آئیں اور انہیں یقین دلائیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔ لیکن عمران خان نے اپنی ایک تقریر میں یہ کہا کہ وہ اس دھرنے سے “بلیک میل” نہیں ہوں گے۔ ان کے اس بیان سے ہزارہ کمیونٹی کی کافی دل شکنی ہوئی۔ اور کمیونٹی کے زیادہ تر لوگ جو MWM کی موجودگی کی وجہ سے دھرنے کا حصہ نہیں تھے وہ بھی اس کی حمایت کرنے لگے اور وہ بھی اصرار کرنے لگے کہ عمران خان دھرنے میں آئیں۔ لیکن دھرنے کے چھٹے روز ایران سے آیت اللہ مکارم شیرازی کا بیان سامنے آیا کہ لواحقین کو شہدا کی لاشوں کا احترام کرتے ہوئے انہیں دفنانا چاہیے۔ شاید اسی بیان کا اثر تھا کہ MWM کی لیڈرشپ، اپنے مطالبے کے برعکس اور بغیر وزیر اعظم کے کوئٹہ پہنچے لاشوں کو دفنانے پر راضی ہوگئی۔ MWM کے اس قدم سے دھرنے نے جو سپورٹ وزیر اعظم عمران خان کے بیان کے بعد حاصل کی تھی وہ بھی ختم ہوگئی۔ دوسری جانب دھرنے کے باقی جو مطالبات تھے وہ تقریبا مان لیے گئے۔
اس دھرنے کی سب سے بڑی خامی اس کا شروع دن سے کوئی ٹھوس مطالبہ نہ ہونا تھا۔ دھرنا دینے سے پہلے دھرنا لیڈرشپ کو ہوم ورک کر لینا چاہیے تھا کہ وہ دھرنا کیوں دے رہے ہیں۔ لیکن یہاں دھرنے کے کئی دن بعد مطالبات سامنے آئے اور ان میں سے کچھ ایسے تھے جن کا واقعے سے براہ راست تعلق ہی نہیں تھا۔ اس لیے دھرنے کے اسٹیج سے کئی ایسے میسج گئے جو شاید لوگوں کی توجہ اصل مسئلے سے ہٹانے اور ہزارہ کمیونٹی کے لئے بلوچستان میں مزید مشکلات پیدا کرنے کا موجب بنے۔
دوسری اہم بات جو اس دھرنے میں دیکھی گئی وہ دھرنے کا ایک مستقل اسٹیج تھا جس پر مختلف الخیال لوگ آکر تقریر کرتے اور اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے، لیکن ساتھ میں وہ اپنے بیانیے کا پرچار بھی کرتے جن میں کئی سیاسی اور مذہبی نوعیت کے بیانیے تھے جن کا شہدا اور ان کے لواحقین کے مطالبات سے کوئی براہ راست تعلق نہیں تھا۔ اور یہ سب باتیں مسلسل میڈیا پر ٹیلی کاسٹ بھی ہوتی رہیں۔ جس سے شہدا کے لواحقین کو اپنا درد اور اپنے مطالبات پوری پاکستانی عوام کے سامنے صحیح طریقے سے پیش کرنے میں مشکل پیش آئی۔
اگر ہم اوپرپیش کیے گیے تمام حقائق اور مشاہدات کا خلاصہ کرنا چاہیں تو ہم کہ سکتے ہیں کہ دھرنے کی تاریخ سول مطالبات کے حصول کے لئے امریکہ میں شروع ہوئی، لیکن پاکستان میں دھرنے عموما سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے استعمال ہوئے ہیں۔ ہزارہ کمیونٹی کے دھرنے بھی اسی نوعیت کے دھرنے رہے ہیں۔ اس لیے ان دھرنوں کے مطالبات اور ان دھرنوں کے اسٹیج کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا گیا ہے۔ اگر یہ سیاسی مقاصد شہداء کے لواحقین اور ہزارہ کمیونٹی کے حقوق کی حفاظت کرتے تو کوئی مشکل نہیں ہوتی، بلکہ اسطرح کی سیاست کی اسوقت اشد ضرورت بھی ہے، لیکن جیسے اوپر بیان کیا گیا ہے کہ یہ مقاصد سیاسی جماعت اور گروہ کے اپنے مفادات یا بیرونی اسٹیک ہولڈرز کیلئے استعمال ہوئے ہیں، اس لیے یہ ہزارہ کمیونٹی کو محفوظ کرنے کی بجائے انہیں مزید مشکلات میں دھکیل سکتے ہیں۔ اس لیے ہزارہ کمیونٹی کے لوگوں، خصوصا نوجوانوں کو سیاسی طور پر زیادہ ہوشیار ہونے کی ضرورت ہے، انہیں اپنے حقوق سے آگہی اور ان کی حفاظت کے لئے اسٹینڈ لینے کی ضرورت ہے۔ ان کی جان کی حفاظت ان کا بنیادی شہری حق ہے اور اس کےلئے وہ دھرنے دے سکتے ہیں، جن میں کسی مذہبی سیاسی جماعت اور سیاسی گروہ کا ہونا لازمی نہیں۔ اوپر بیان کی گئی امریکی دھرنوں کی تاریخ سے بھی یہ بات آشکار ہے۔ اسکے علاوہ بنیادی شہری حقوق پر اسٹینڈ لینے سے ہزارہ کمیونٹی پورے پاکستانی عوام کو اپنی طرف متوجہ کر سکتی ہے جو پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ہم سے جڑے ہوئے ہیں۔ حتی کہ اس بنیاد پر اسٹینڈ لینے سے بین الاقوامی طور پر بھی ہمیں پزیرائی مل سکتی ہے۔
 ٭انگریزی میں یہ مقالہ مندرجہ ذیل لنک پر دستیاب ہے
سجاد عاصم

سجاد عاصم

سجاد عاصم بین الاقوامی تعلقات میں پی ایچ ڈی اسکالر ہیں۔ سیاست، ادب اور سائنس سے شغف رکھتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *