عہد ساز شخصیت، میر آف چاغی میر مدد خان سنجرانی

حاجی میر مدد خان سنجرانی ضلع چاغی کے افغان سرحدی علاقہ صالحہ کاریز میں 12 اگست1956ء کو خان آف چاغی خان صاحب، خان یعقوب خان کے بھتیجے میر شاہ نواز خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ سخاوت اور مہمان نوازی، غریب اور مسکینوں کی مدد کرنا میر صاحب کو وراثت میں اپنے والی میر شاہ نواز خان اور دادا خان صاحب یعقوب خان سے ملا ہے۔ سنجرانی قبیلے میں میر صاحب کا تعلق خان فیملی سے ہے۔ انہوں نے چھ سال کی عمر میں دالبندین آکر ابتدائی تعلیم حاصل کی، اور 1983ء کو دالبندین ہی میں دوران میٹرک میر صاحب نے سیاست میں دلچسپی لینا شروع کی۔ یہی وجہ ہے کہ میر صاحب نے سیاست میں اپنا ایک مقام بنایا۔ بعد ازاں کوئٹہ آ کر سائنس کالج میں Fsc پری میڈیکل کے شعبے میں داخلہ لیا۔

میر صاحب کا شمار بی ایس او کے بانیوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے جب سیاست میں قدم رکھا، تو اس وقت نواب اکبر بگٹی، عطاء اللہ مینگل، نواب غوث بخش بزنجو، نواب خیر بخش مری اور میر گل خان نصیر جیسے بڑے نام سیاست کے میدان میں پہلے سے براجمان تھے۔ میر صاحب نے اپنی تعلیم جاری رکھی، یہاں تک کہ بلوچستان یونیورسٹی سےB.A اور بعد میں M.A کیا اور اسی دوران سیاست میں بھی سرگرم عمل رہے۔ BSO پلیٹ فارم میں ان کے سیاسی رفقا میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، ایوب جتک، حبیب جالب، خان عبدالکریم خان، مہیم خان بلوچ، اسلم کرد، میر امان اللہ نوتیزئی اور سینیٹر سردار فتح محمد حسنی وغیرہ جیسے بڑے نام شامل تھے۔ 1970ء میں گل خان نصیر، میر خیر بخش مری، عطاء اللہ مینگل اور ہمایوں کرد چاغی کے دورے پر آئے، تو میر صاحب (جو اس وقتBSO کے مرکزی سینٹرل کمیٹی کے ممبر اور ضلعی صدر بھی تھے) نے یقین دہانی کرائی کہ ہم نیب کے امیدوار میر گل خان نصیر کو چاغی کی سیٹ پر کامیاب کرائیں گے، جس کے مقابلے پر پاکستان پیپلز پارٹی کے میر نبی بخش زہری تھے۔ میر صاحب کی کوششوں اور سپورٹ کی وجہ سے میر گل خان نصیر نے میر نبی بخش زہری کو شکست دے دی۔

میر صاحب کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی ہے کہ بلوچ معاشرہ قبائلی تنازعات سے دور رہے اور اسی وجہ سے ضلع چاغی میں جتنے قبائلی تنازعات ہوئے میر صاحب نے انہیں نہایت خوش اسلوبی اور احسن طریقے سے حل کیا ہے۔ میر صاحب قبائلی تنازعات حل کرنے میں ہمیشہ پیش پیش رہے اور فریقین کی توقعات کے مطابق فیصلے کرتے رہے۔ میر صاحب نے بطور تحصیلدار بھی فرائض انجام دیئے، علاقائی سطح پر ضلع چاغی میں ریکارڈ توڑ کام کیے۔ جن میں ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کے دور میں سب تحصیل چاغی کو تحصیل کا درجہ اور تحصیل چاغی کے بجلی کے کھمبوں کے لئے فنڈز کی منظوری شامل ہے۔ دالبندین میں انٹرکالج کا قیام اور بعداً ڈاکٹر عبدالمالک کے دور حکومت میں اسے ڈگری کا درجہ دلوانا بھی میر صاحب کی کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے۔ میر صاحب نے ہڑتالوں اور احتجاجوں میں بھرپور حصہ لیا۔ جب نیب کی حکومت ہٹائی گئی اور گورنر راج نافذ کیا گیا، تو نواب اکبر بگٹی کو گورنر بنایا گیا اور BSO کے تمام کارکنوں کو جیل میں ڈال دیا گیا، جن میں میر صاحب بھی شامل تھے۔ پہلے دالبندین جیل اور بعد میں ہدہ جیل کوئٹہ میں رہے۔  اس وقت ان کا ایک ہی نعرہ تھا: ”آمریت کے تین نشان؛ بھٹو، بگٹی، ٹکا خان۔“

حکومت کی جانب سے میر صاحب اور ان کے BSO کے ساتھیوں کو اس وقت کے وفاقی وزیر تعلیم اور صوبائی وزیر تعلیم نے میڈیکل سیٹ اور دیگر بہت سی مراعات دینے کی پیشکش کی۔ مگر میر صاحب نے BSO اور اپنی شفاف سیاست سے دغا بازی نہیں کی اور ساری پیشکشیں ٹھکرا دیں۔ کیونکہ میر صاحب سیاست کے پکے اور اصول پرست ہیں۔ میر صاحب مائنز کے کاروبار سے وابستہ رہنے کے ساتھ ساتھ نیشنل پارٹی کے سینئر رہنما اور ضلعی سینئر نائب صدر نیشنل پارٹی اور ضلعی صدر مائنزایسوسی ایشن اور بلوچ جرگہ کمیٹی کے ممبر بھی ہے۔

گورنر راج دور میں BSO کے کنونشن کے لئے کراچی جا رہے تھے کے راستے میں انہیں گرفتار کرکے لاڑکانہ جیل میں ڈال گیا۔ میر صاحب نے میدان سیاست میں جیلوں کی صعوبتیں بھی برداشت کیں، مگر اپنے اصولوں پر ڈٹے رہے۔ میر صاحب کی نرم مزاجی، غریبوں سے ہمدردی، دین دوستی اور نیک بندگی جیسے اوصاف کی دیکھا دیکھی، میر صاحب کے بیٹے بھی والد کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ میر صاحب کے چھ(6) بیٹے ہیں سب سے بڑے بیٹے کا نام خان میر یعقوب خان ہے، جو آئی ٹی یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہے اور ساتھ ہی والد صاحب کے بزنس کو بھی دیکھ اور سنبھال رہے ہیں۔ دوسرا بیٹا میر صدام حسین سنجرانی جیالوجسٹ ہیں اور تیسرا بیٹا پرنس جہانزیب سنجرانی والد صاحب کے کاروبار سے وابستہ ہے۔

”ہماری دعا ہے، کہ اللہ تعالیٰ میر صاحب کو صحت اور عمر دراز عطا فرمائے، تاکہ وہ چاغی کے عوام کی مزید خدمت کر سکیں …………آمین!“

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی

نواز خان سنجرانی کا تعلق ضلع چاغی سے ہے۔ پیشے کے لحاظ سے بینکر ہیں۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔ "تاریخ چاغی " کے نام سے ان کی نئی کتاب جلد شائع ہونے والی ہے۔ ان کی تحریریں جنگ اخبار میں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *