دادی ۔۔۔ محمد امان

دھوپ کھڑکی کے ذریعے کمرے میں داخل ہوچکی تھی جس کی وجہ سے کمرہ ایک حد تک گرم ہوچکا تھا۔ کمرے میں تمام چیزیں سلیقے سے رکھی ہوئی تھیں۔ کمرے کے ایک طرف دیوار کے ساتھ لکڑی سے بنی ایک بڑی الماری تھی جو شیشے کی طرح چمک رہی تھی۔  دوسری طرف دیوار پر تین فریم شدہ تصاویر آویزاں تھیں جن میں سے ایک میں ایک عمر رسیدہ اور باقی دو میں نسبتاً جوان مردوں کے چہرے قید تھے۔  وہ کمبل ہٹا کر اٹھ گئی اور تکیے کے قریب رکھے موبائل کو اٹھا کر کمرے کے اس حصے میں بیٹھ گئی جہاں دھوپ پڑ رہی تھی۔  زندگی کے تجربات نے اس کی کمر جھکا دی تھی اور بڑھاپے کی وجہ سے اس کے چہرے پر گہری لکیریں منقش  ہوچکی تھیں۔ اس نے اپنے انگوٹھے کے لمس سے موبائل کے سکرین کو دو تین بار دبایا۔ سکرین پر کچھ نام نظر آئے اور ہر نام کے ساتھ بائیں جانب چھوٹے چھوٹے دائروں میں تصاویر۔ سکرین پر موجود تصاویر میں ان دو جوان مردوں کی تصاویر بھی تھیں جو اس کمرے کی دیوار پر آویزاں تھیں۔ اس نے ان میں سے ایک تصویر پر انگوٹھی دبائی اور پھر ٹیلی فون کے نشان کو دبا دیا۔ سکرین پر وہی  تصویر بڑی ہوکر نمودار ہوئی اور سکرین پر انگریزی میں کچھ لکھا ہوا نظر آیا۔ کچھ سکینڈز  تک وہی تصویر سکرین پر نظر آتی رہی پھر وہ سکرین بند ہوگئی۔ اس کے بعد اس نے ایک بچے کی تصویر پر انگوٹھی دبائی۔ وہ تصویر انہی انگریزی الفاظ کے ساتھ کچھ لمحوں تک سکرین پر موجود رہی۔

“یہ لوگ فون کا جواب کیوں نہیں دے رہے؟ ان کی طبیعت تو صحیح ہوگی؟”

  وہ دل ہی دل میں سوچتی رہی۔

“چلو جمال سے پوچھتی ہوں۔”

پھر اس نے  دوسرے جوان کی تصویر پر انگوٹھی دبائی اور ٹیلی فون کے نشان کو دبا دیا لیکن دوسری جانب سے پھر کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔ پھر اس نے ایک چھوٹی بچی کی تصویر پر انگوٹھی دبائی۔  کچھ لمحوں بعد سکرین پر ایک جوان خاتون نمودار ہوئی۔

“السلام علیکم امی!”

“وعلیکم سلام! فون کیوں نہیں اٹھا رہے ہیں سب؟ سب ٹھیک تو ہیں؟  دانیال کو بھی فون کیا تھا۔ صائمہ کو بھی۔ اور جمال کو بھی لیکن مجال ہو کہ کسی نے جواب دیا ہو۔”

  اس نے ایک ہی سانس میں کئی  جملے ادا کئے۔

“امی! جمال کام سے ابھی تک واپس نہیں آیا ہے اسی لئے اس نے فون نہیں اٹھایا ہوگا۔ ابھی آتا ہی ہوگا۔ دانیال اور صائمہ سو رہے ہوں گے۔ اس وقت جرمنی میں چھ یا سات بج رہے ہیں  اور آپ شاید بھول گئے ہیں کہ آج اتوار ہے اور وہ لوگ اتوار کے دن دیر تک سوتے ہیں۔”

  دوسری جانب موجود خاتون نے امی کے سوالوں کا جواب دیا اور ساتھ ہی ایک چھوٹی بچی نظر آئی۔ وہی بچی جس کی تصویر سکرین پر موجود تھی۔

“سلام دادی”

  بچی نے اس کو سلام کیا۔

“وعلیکم سلام میری جان۔ کیسی ہو دادی کی جان؟ دادی تمہارے صدقے جائے۔ کہاں تھے تم؟ دادی نے تمہیں اتنا یاد کیا۔”

  وہ چھوٹی بچی سے پیار کرنے لگی۔

“میں تو پورا دن گھر پر تھی آج۔” 

 چھوٹی بچی نے جواب دیا۔

“کیوں! آج میری جان سکول نہیں گئی؟”

نہیں دادی آج تو سکول کی چھٹی ہے۔

“تو پھر آج دادی کی جان نے پورا دن کیا کیا؟”

“کچھ بھی نہیں۔ ٹی وی دیکھا۔ اور ہاں! ٹی وی سے ایکسرسائز سیکھا۔”

“ایکسرسائز؟؟؟”

“ہاں دادی! آپ کو دکھاؤں؟”

ون ٹو تھری فور۔۔۔ ون ٹو تھری فور۔۔۔

  بچی کرتب دکھانے لگی۔

“واہ واہ میری جان۔ صدقے جاؤں۔ تم نے واقعی بہت ساری چیزیں سیکھ لی ہیں۔” 

 دادی نے بچی کی بلائیں لیتے ہوئے کہا۔

دادی اور پوتی دیر تک فون پر باتیں کرتی رہیں۔

کچھ دیر بعد جمال سکرین پر نمودار ہوا۔

“سلام امی!”

“وعلیکم سلام!”

“سوری امی آپ نے فون کیا تھا لیکن اس وقت میں گاڑی چلا رہا تھا اس لئے فون کا جواب نہیں دے سکا۔ ابھی ابھی گھر پہنچا ہوں۔”

“آج تو اتوار ہے۔ اتوار کو بھی کام پر جاتے ہو؟”

“کیا کروں امی؟ جب سے شازیہ اور عادلہ یہاں آئے ہیں ہمارا خرچہ بڑھ گیا ہے۔ اور آسٹریلیا میں گھریلو  اخراجات  پورا کرنا آسان نہیں اس لئے اتوار کو بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ آپ سنائیں آپ کیسے ہیں؟”

“ٹھیک ہوں! اس نے غیر مطمئن لہجے میں کہا۔”

“کھانا ٹھیک سے کھاتے ہیں نا آپ؟” اس کے بیٹے نے اس سے پوچھا۔

“جتنا کھا سکتی ہوں کھا لیتی ہوں۔ تمہارے ابا کے جانے کے بعد۔۔۔”

وہ اپنا جملہ مکمل نہ کرسکی۔

کچھ دیر تک دونوں جانب خاموشی رہی۔

“۔۔۔ اور جب سے شازیہ اور عادلہ یہاں سے گئے ہیں تو گھر سنسان ہوگیا ہے۔”

اس نے اپنے آنسو بڑی مشکل سے روک رکھے تھے۔

“امی آپ ہمارے پاس کیوں نہیں آجاتے؟ عادلہ ہر وقت دادی دادی کرتی رہتی ہے۔  اسے بھی ساتھی مل جائے گی اور آپ کی تنہائی بھی دور ہوجائے گی۔”

“میرا اُس ملک میں کیا کام؟ نہ مجھے وہاں کی زبان آتی ہے اور نہ ہی وہاں کے لوگوں سے کوئی آشنائی ہے۔ وہاں آکر کیا کروں گی؟”

“ہم جو یہاں ہیں۔ میں، شازیہ اور آپ کی عادلہ۔ ویسے بھی آپ ہر وقت گھر میں ہی ہوتی ہیں تو یہاں آکر بھی آپ گھر پر وقت گزار سکتی ہیں۔ کب تک یوں اکیلی رہیں گی؟”

“جب تک کہ سانسیں چل رہی ہیں۔ میں اس گھر کو کیسے چھوڑ سکتی ہوں؟ جہاں میرے بچے پیدا ہوئے۔ جہاں تم لوگوں کی شادیاں ہوئیں۔ جہاں تمہارے بچے پیدا ہوئے۔”

“لیکن امی۔۔۔ ” جمال ہر روز کی طرح اسے قائل کرنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔

“اور پھر تمہارے ابا۔ تمہارے ابا کی قبر بھی تو یہی ہے۔ ہفتے میں ایک بار ان کی قبر پر جا کر سکون تو ملتا ہے۔ تم لوگ  بھی تو واپس آسکتے ہوں۔”  وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہ پاسکی۔

جمال کچھ کہنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اسے وہ الفاظ ڈھونڈنے میں مشکل پیش آرہی تھی جن سے اس کی ماں کو تسلی مل سکے۔

“امی! میرے لئے اب  واپس آنا ناممکن ہے۔ ” جمال نے اپنی صفائی پیش کی۔  “آپ سلیمہ  اور سلمان کو اپنے پاس کیوں بُلا نہیں لیتیں۔ ویسے بھی سلمان کا اچھا خاصا کاروبار کوئٹہ میں ہے تو ان کیلئے کوئٹہ منتقل ہونا اتنا مشکل بھی نہیں۔”

اس کی آنکھوں سے آنسو مسلسل رواں تھے۔

” سلمان کو؟”

“جی ہاں! آخر وہ بھی تو غیر نہیں۔ آپ کا داماد ہے۔ یا دانیال سے کہیئے۔ اس کیلئے تو آنا آسان ہے۔ میری مجبوریوں کو سمجھنے کی کوشش کیجیئے۔”

“مجبوری؟ آخر ایسی کیا مجبوری ہوسکتی ہے کہ انسان اپنے باپ کے جنازے کو بھی کندھا نہ دے سکے۔ دانیال تو کم از کم اپنے باپ کی تدفین میں شریک ہوا تھا۔” اس نے اپنے آنسو روک کر جمال سے کہا اور اپنی انگوٹھی کے لمس سے سرخ بٹن دبا کر کال بند کردی۔

کال بند کرکے وہ دیر تک روتی رہی۔ جب اس کا دل ہلکا ہوا تو وہ اٹھ کر کمرے سے باہر نکلنے لگی۔ باہر فاطمہ صحن کو صاف کر رہی تھی۔

فاطمہ اس کی ہمسائی تھی۔  وہ  اس کی بہو شازیہ کے محلے میں رہتی تھی۔ شازیہ نے اپنے جانے سے پہلے فاطمہ کو گھر کے کام کاج کیلئے رکھا تھا اور شازیہ کے جانے کے بعد وہ اپنے خاوند اور ایک دس سالہ بیٹے اور ایک سات سالہ بیٹی کے ساتھ اسی گھر کے ایک کمرے میں رہنے لگی تھی۔ گھر کی صفائی کرنا۔ کپڑے دھونا۔ اور کھانا پکانا سب فاطمہ کی ذمہ داری تھی۔ اس کا خاوند صبح مزدوری کرنے نکلتا اور شام کو گھر لوٹ آتا جبکہ اس کا بیٹا اور بیٹی صبح سکول جاتے تھے اور شام کو اکثر گھر میں ہی ہوتے تھے۔

وہ کمرے سے باہر نکلی تو فاطمہ نے اس کو سلام کیا۔

“سلام خالہ۔ میں نے آپ کیلئے ناشتہ بنا کر باورچی خانے میں رکھ لیا ہے۔”

وہ شکریہ ادا کرکے باورچی خانے میں چلی گئی۔ باورچی خانہ نسبتاً گرم تھا ۔ وہ باورچی خانے کے ایک کونے میں بیٹھ گئی۔  اس نے تھرماس کا ڈھکن کھولتے ہوئے ایک کپ میں چائے ڈالی اور پلیٹ میں رکھی ہوئی آملیٹ کی طرف دیکھنے لگی۔ اس کی بھوک مٹ چکی تھی۔ وہ چائے کی پیالی ہاتھ میں لئے دیر تک وہاں بیٹھی رہی۔ صحن سے فاطمہ اور اس کے بیٹے کی آوازیں آرہی تھیں۔ کچھ دیر بعد اس کے موبائل کی گھنٹی بجی۔ اس نے موبائل اٹھایا تو سکرین پر اسی جوان کی تصویر نمودار ہوئی  جس کو صبح اٹھتے ہی اس نے فون کیا تھا۔ اس نے نیلے رنگ کے بٹن پر انگوٹھی دبائی۔ سکرین پر اس کا بیٹا دانیال موجود تھا۔

“صبح بخیر امی!”

“چشت بخیر بیٹا!”  اس نے اپنے بیٹے پر طنز کیا۔

دانیال کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی۔

“امی یہاں ابھی صرف دس بج چکے ہیں اور آج چھٹی ہے تو ہم نے کہا کہ چھٹی کا فائدہ اٹھایا جائے اسی لئے ابھی ابھی جاگے ہیں۔ امی آپ کو پیسے مل گئے نا؟”

“جی بیٹا۔ اتنے زیادہ پیسے بھیجنے کی کیا ضرورت تھی۔ میں اکیلی اتنے  پیسوں کا کیا کروں گی؟”

“اپنے پاس رکھیئے۔ کسی دن ضرورت پڑ جائے گی۔ امی آپ کھانا تو ٹھیک سے کھاتے ہیں نا؟”

“اکیلے انسان کو کھانا ہضم ہوسکتا ہے بھلا۔” وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی لیکن اس نے اپنے بیٹے کو خوش کرنے کیلئے جھوٹ بول دیا “جی بیٹا۔ جی بھر کر کھانا کھاتی ہوں۔”

دانیال اپنے کمرے سے اٹھ کر باہر کی طرف چلا  گیا جہاں صائمہ ناشتہ بنا رہی تھی اور ساتھ ہی ایک چھوٹا بچہ کھڑا تھا۔ دانیال نے موبائل صائمہ کی طرف گھما دیا۔ صائمہ نے اس کو سلام کیا لیکن چھوٹا بچہ شرما کر صائمہ کے پیچھے چھپ گیا۔

“ارے!!! یہ اپنی دادی سے شرما رہا ہے۔ مہدی بیٹے کیسے ہو! شرما کیوں رہے ہوں۔ اپنی دادی سے بھی بھلا کوئی شرماتا ہے۔ چلو آؤ شاباش۔ ” اس نے چھوٹے بچے سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنی امی کے پیچھے ہی چھپا کھڑا رہا۔

“مہدی! مہدی! یہاں آؤ۔ ” دانیال نے چھوٹے بچے کو ہاتھ سے کھینچنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا۔

“چھوڑئیے امی! یہ نالائق ہمیشہ ایسے ہی کرتا ہے۔ ہمارے سامنے تو بڑا شیر بنا پھرتا ہے لیکن آپ کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہے۔”

“آپ سنائیے۔ آپ کیسے ہیں؟ جمال اور شازیہ سے بات ہوئی۔”

“جی ہاں۔ تم لوگوں نے فون کا جواب نہیں دیا اسی لئے مجھے ان کو فون کرنا پڑا  ورنہ اب جمال سے بات کرنے کا دل ہی نہیں کرتا۔ اس کے وہی بہانے۔”

” میری بھی اس سے بہت عرصے سے بات نہیں ہوئی۔ خیر امی چھوڑیئے ان باتوں کو۔ سُنا ہے وہاں سردیاں شروع ہوگئی ہیں۔ ” دانیال نے اس سے پوچھا۔

“ہاں بیٹا۔ دن کو دھوپ ہونے کی وجہ سے اتنی سردی نہیں ہوتی لیکن رات کو کافی سردی ہوجاتی ہے۔”

“تو آج ہی فاطمہ سے کہہ کر اپنے کمرے میں ہیٹر کا انتظام کروالے۔ خدا نخواستہ کہیں بیمار نہ ہوجائیں۔” دانیال نے فکرمندی سے کہا۔

“جی بیٹا۔ آج ہی فاطمہ سے کہہ دوں گی۔”

پھر اس کے بعد ماں بیٹے  فون پر باتیں کرتے رہے۔ صائمہ نے ناشتہ بنا کر دانیال کو بلایا  تو دانیال  ناشتہ کرنے چلا گیا اور امی کو خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔

اس نے  فاطمہ کو بلایا اور اسے اپنے کمرے میں ہیٹر رکھوانے کا کہا۔ فاطمہ نے اس کے کمرے میں ہیٹر رکھا۔ رات کو جب کمرہ سرد ہوا تو اس نے ہیٹر جلایا۔ اگلی صبح اذان کے بعد جب فاطمہ نے اس کے دروازے پر دستک دی تو دوسری جانب سے کوئی آواز نہیں آئی۔ فاطمہ نے دروازہ کھولا تو شدید قسم کی بو نے اس کے ہوش اڑا دئیے۔ فاطمہ نے موقع کی نزاکت کو سجھتے ہوئےاندر جا کر گیس کا ہینڈل گھمایا اور اس کی جانب بڑھ کر اسے اٹھانے لگی  لیکن تب تک اس کی روح پرواز کرچکی تھی۔

محمد امان

محمد امان

محمد امان درس و تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *