بلاسفیمی ۔۔۔ طلاء چنگیزی

جمعہ کی نماز جیسے ہی ختم ہوئی، کاظمی صاحب نے سلام پھیر کر اپنے اردگرد ایسی نظریں دوڑائیں جیسے کسی آشنا چہرے کو ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوں۔ پھر مایوسی کے عالم میں کپڑے جھاڑ کر اٹھ بیٹھے اور مسجد کی سیڑھیاں اترتے ہوئے باہر نکل آئے۔ ابھی رستے میں ہی تھے کہ موبائیل فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ دوسری جانب ان کا بیٹا فرخ تھا ۔۔۔۔۔ جو ان کے گھر کام کاج کے لیے آنے والی ملازمہ اور اس کے خاوند کے آج دوبارہ کام پر نہ آنے کی شکایت کررہا تھا۔
 
“اچھا تو وہ دونوں مردود آج پھر کام پر نہیں آئے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کا تو میں کچھ کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن تم آج جمعہ پڑھنے مسجد کیوں نہیں آئے تھے”
 
کاظمی صاحب قدرے تیز لہجے میں پوچھنے لگے۔
 
“پاپا ۔۔۔۔۔۔ وہ دراصل ایک بہت ضروری کام پڑ گیا تھا”
فرخ نے جھٹ سے بہانہ بنایا ۔
 
“جمعے کی نماز سے بھی زیادہ کوئی ضروری اور اہم کام ہوسکتا ہے۔۔۔؟ خیر تم گھر پہنچو میں رستے میں ہوں ۔۔۔۔۔ آتا ہی ہوں”
یہ کہتے ہوئے کاظمی صاحب نے غصے سے فون بند کردیا اور اپنی خشخشی داڑھی پر باتھ پھیر کر کچھ سوچنے لگا۔
کاظمی صاحب عمر کے لحاظ سے ۵۸ کے پیٹے میں تھے، اپنا چھوٹا موٹا کاروبار تھا، جس سے اچھا خاصا کما لیتے تھے۔ فرخ ان کا اکلوتا بیٹا تھا۔ کالج سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ڈگری لی ہوئی تھی لیکن کاروبار میں والد کا باتھ بٹانے کی بجائے سارا دن اپنے دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے میٍں وقت گزارتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ یا کہ پھر والد کے منع کرنے کے باوجود سوشل میڈیا پر “انقلاب” کی نوید سنا کر دنیا کو بدلنے کی تگ و دو میں رہتا تھا۔ مذہبی رسومات سے اس کا دور دور تک بھی کوئی واسطہ نہیں تھا اور معاشرے میں اخلاقی انحطاط کو مذہبی رجحانات اور سماج کے دوہرے معیار سے جوڑتا تھا۔ سوشل میڈیا پر کبھی کبھار اسی بارے میں اپنے خیالات کا کھل کر اظہار بھی کرتا تھا جس سے محلے کے کچھ لوگ ناخوش تھے۔ کئی مرتبہ اسی سلسلے میں کاظمی صاحب سے ان لوگوں نے شکایت بھی لگائی تھی لیکں پھر ان کے خاندانی مرتبے، مذہبی رجحانات اور مقامی مسجد کے امام سے تعلقات کے باعث وہ چپ ہو کر بیٹھ جاتے تھے۔
پہلے پہل سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک اڈھائی سال پہلے کاظمی صاحب کی بیوی پر فالج کا حملہ ہوا اور وہ چلنے پھرنے سے معذور ہوگئیں۔ ان کی دیکھ بھال اور گھر کے دوسرے کام کاج کے لیے انہوں نے ایک مقامی مسیحی میاں بیوی کی خدمات حاصل کر لیں۔۔۔۔۔ یوسف اور اس کی بیوی سونیا ان کے گھر کے پاس ہی کچی آبادی میں رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لہذا آنے جانے میں آسانی رہتی تھی۔ دونوں کی نئی نئی شادی ہوئی تھی لیکن وقت کے پابند اور محنتی تھے۔ کسی کو شکایت کا موقع نہیں دیتے تھے۔
کاظمی صاحب نے جیب سے موبائیل نکال کر یوسف مسیح کا نمبر ڈائل کیا۔ تھوڑے سے توقف کے بعد یوسف نے کال اٹینڈ کی ۔ کاظمی صاحب نے غصے سے کام پر نہ آنے کی وجہ پوچھی تو یوسف نے جھجکتے ہوئے جواب دیا کہ انہوں نے کام چھوڑ دیا ہے اور وہ کام پر دوبارہ نہیں آئیں گے، اس لیے وہ کوئی اور نوکر ڈھونڈ لیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سنتے ہی کاظمی صاحب کا پارہ چڑھ گیا اور غصے سے کام چھوڑنے کی وجہ پوچھنے لگے، ساتھ ہی کہنے لگے کہ اتنے مختصر وقت میں وہ کہاں سے نیا نوکر ڈھونڈ سکتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور انہیں دوبارہ کام پر آنے کی تاکید کرنے لگے۔ اس پر یوسف کہنے لگا کہ وہ تو آسکتا ہے لیکن اسکی بیوی سونیا نہیں آسکتی۔۔۔۔۔۔۔ اس پر کاظمی صاحب پوچھنے لگے کہ وہ کیوں؟
یوسف کہنے لگا کہ سونیا کہتی ہیں کہ وہ دوبارہ کسی بھی صورت آپ کے گھر کام نہیں کرے گی کیونکہ آپ نے پچھلے دنوں اپنے گھر میں اس کے ساتھ دست درازی کی کوشش کی تھی۔
یہ سنتے ہی کاظمی صاحب چلتے چلتے رک گیے اور اردگرد دیکھنے کے بعد چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہنے لگے۔
“یہ سب بکواس اور جھوٹ ہے۔ وہ گھٹیا اور ذلیل عورت مجھ پر الزام لگا رہی ہے۔۔۔۔۔ خبردار جو اس سے آگے کچھ کہا۔۔۔ تم نے سمجھا کیا ہے ۔۔۔ تمھاری گندی زبان گدی سے کھینچ کر باہر نکال لونگا۔ تم جیسے غلیظ لوگوٍں کی جرات کیسے ہوئی مجھ پر الزام لگانے کی۔۔۔۔”
یوسف روکھے انداز میں کہنے لگا۔
“کچھ بھی ہو ۔۔۔ کاظمی صاحب آپ کوئی اور ملازم رکھ لیں ہم اپ کے گھر کام نہیں کر سکتے”
کچھ توقف کے بعد کاظمی صا حب دھمکی آمیز لہجے میٍں کہنے لگے۔
“تم دونوں دفع ہوجاو۔۔۔ ہمیں تمہاری کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔ لیکن خبردار اگر کسی سے اس بارے میں کچھ کہا ۔۔۔۔۔۔۔۔ ورنہ مسجد کے امام صاحب کو کہہ کر تم دونوں کو توہین مذہب یا بلاسفیمی کے کیس میں اندر۔۔۔۔ یا کہ پھر اس دنیا سے ہی پار کروادونگا۔”
اس پر یوسف روہانسے لہجے میں کہنے لگا۔
ٍ”حضور ہم تو کبھی ایسی حرکت کا سوچ بھی نہیں سکتے”
“لیکن تمھاری بات کا اعتبار کون کرے گاٍ؟”
کاظمی صاحب معنی خیز انداز میں کہنے لگے۔
موقع کی نزاکت جانچ کر یوسف معافیاں مانگنے پر اتر آیا اور قسمیں کھا کھا کر انہیں یقین دلانے لگا کہ وہ کسی کو اس بارے میں کچھ نہیں بتائے گا۔
تسلی ہونے پر کاظمی صاحب نے فون بند کر دیا اور گھر کی راہ لی۔ گلی کا موڑ مڑتے ہی جیسے ہی اس نے آگے دیکھا تو خلاف توقع لوگوں کا نعرے لگاتا ایک جم غفیر نظر آیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس نے ایک شخص کو اپنی طرف متوجہ کر کے تعجب سے اس بھیڑ بھاڑ کا مقصد پوچھا۔۔۔۔ اس پر وہ کندھا اچکا کرکہنے لگا۔
“آج ایک مردود کو توہین مزہب پر کسی عاشق رسول نے گولیاں مار کر واصل جہنم کردیا ہے”
اسی اثنا میں کسی نے نعرہ بلند کیا۔
دوسرے فرقے سے تعلق رکھنے کے باوجود کاظمی صاحب نے اپنی مخصوص گرجدار اواز میں مجمع کے ساتھ نعرے کا بھر پور جواب دیا۔۔۔۔ پھر شدت جزبات سے کانپتے لہجے میں اسی شخص سے دوبارہ گویا ہوا۔
“کون تھا وہ مردود جس نے یہ جسارت کی تھی؟”
“پتہ نہیں میں تو نہیں جانتا۔۔۔ کہتے ہیں کہ کوئی فرخ کاظمی نام کا گستاخ لڑکا تھا”
یہ کہتے ہی اس شخص نے اپنے گلے کی پوری طاقت سے دوبارہ ایک نعرہ بلند کیا۔
لیکن ۔۔۔۔اس مرتبہ مجمع کا ساتھ دینے والوں میں کاظمی صاحب کی گرجدار آواز شامل نہیں تھی۔
طلاء چنگیزی

طلاء چنگیزی

طلاء چنگیزی انگلینڈ کے شہر آکسفورڈ میں رہتے ہیں۔ سننے اور پڑھنے سے شغف رکھتے ہیں اور کوئی اچھوتا خیال ذہن میں آئے تو نظم یانثر میں ڈھال لیتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *